وزیرستان آپریشن، معیشت بحران کا شکار
سرفراز احمد عباسیThursday, December 17, 2009, 23:14
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان آپریشن اور جی ایچ کیو پر حملے سمیت ملک میں امن و امان کی حالیہ خراب صورت حال کے باعث ملکی معیشت ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔ چینی کی قیمتیں بڑھانے سے افراط زر کا ہدف بڑھا کر 11.5 مقرر کر دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس آج یہاں کمیٹی کی چیئر پرسن فوزیہ وہاب کی صدارت میں ہوا ۔اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو ملک کی معاشی صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک کی معیشت کو امن و امان کی موجودہ صورت حال سے شدید خطرات ہیں اس لئے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے امن و امان کو بہتر کیا جائے کیونکہ اس کے بعد ہی ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاروں کو اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران صنعتی پیداوار میں کچھ بہتری آئی تھی مگر اب گیس کی قلت ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آئی ڈی پیز اور مالاکنڈ کی بحالی کے لئے 50 ارب روپے بجٹ میں مختص کر دئیے تھے جو کافی تھے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے نتائج بہتر ہیں تو ہمیں اس کا انتظار کر لینا چاہیے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے رقومات پاکستان بھیجنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔جس نے بیرون ادائیگیوں میں توازن پیدا کر نے میں کافی مدد رہی ہے اور یہ رقم ماہانہ 75 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں جس کے باعث 9 ارب پاکستان آنے کا امکان ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ افراط زر کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم چینی کی قیمتیں بڑھنے سے ا س کی شرح ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے جون 2010 تک افراط زر کی شرح 11.5 فیصد مقرر کر نے کا معاہدہ کر رکھا ہے جبکہ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں اس کی شرح 10 فیصد سے کم کی سطح پر لانے کا اعلان کیا تھا۔ سٹیل ملز کے اور ریفائنریز کے مسائل کے باعث اس کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ دو ماہ کے دوران صنعتی شعبے کو گیس کی قلت سے بھی اس شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ معاشی بحران میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور اب اس میں کمی کے باعث پاکستان کی بر آمدات بڑھ سکتی ہیں اس کے لئے یورپی یونین اور امریکہ کی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنانا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا تھا کہ ملکی معیشت بہتری کی جانب آگے بڑھ رہی ہے مگر جنوبی وزیرستان آپریشن جی ایچ کیو پر حملے سمیت ملک کی امن و امان کی خراب صورت حال سے ایک بار پھر ملکی معیشت سے متاثر ہو رہی ہے ۔ جنوبی وزیرستان آپریشن کے باعث بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا کیونکہ اس کے لئے بجٹ میں واقع رقم مختص نہیں کی گئی تھی۔ وزارت خزانہ کے سیکرٹری سلمان صدیق نے بتایا کہ ملکی معیشت کو صرف کفایت شعاری اقدامات سے بہتر نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم محصولات میں اضافہ کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو غیر ضروری سبسڈی ختم کر نا ہو گی اور ان شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اس وقت تک ٹیکس ادا نہیں کر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی جگہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگایا جا رہا ہے اور اگر اس میں بھی استثنیٰ کی سہولت رکھی گئی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں زراعت پر ٹیکس عائد کر کے 18 سے 20 ارب روپے کے ٹیکس محصولات حاصل ہو سکیں گے ۔صوبوں کو بتا دیا گیا ہے کہ اب مالیاتی شعبے میں ان کا کر دار بڑھ گیا ہے جو ان کو ہر صورت میں کر دار ادا کر نا پڑے گا ۔ اجلاس کے دوران قرضوں کی معافی کی فہرست بھی ایجنڈے میں شامل تھی تاہم کمیٹی کے اراکین نے فہرست کی کاپیاں نہ ملنے پر اس کو موخر کر دیا ۔
کمیٹی نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ پر برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ پہلے اس کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کی چیئر پرسن نے سختی سے ہدایت جاری کی کہ آئندہ اجلاس میں قرضے معاف کر انے والوں کی کمپیوٹرائزڈ فہرست اراکین کو پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فہرست میں ایسے لوگوں کے نام بھی شامل ہیں جو بڑے بڑے معزز بنے ہوئے ہیں اور معاشرے میں ان کا بڑا نام ہے مگر انہوں نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔کمیٹی کی چیئر پرسن نے کہا کہ کمیٹی نے 1985 سے لے کر آج تک قرضے معاف کرانے والوں کے نام پیش کر نے کے لئے کہا تھا جبکہ یہ فہرست 1997 سے بعد کے لوگوں کی ہے۔
سرفراز احمد عباسی کے تازہ ترین مضامین
- اسلام آباد،مسافر طیارہ تباہ - July 28th, 2010
- یوم مئی:پاکستان میں مزدورکی کم سے کم اُجرت 7ہزار - May 1st, 2010
- این آراو مردہ باد - January 25th, 2010
- این آر او کا تفصیلی فیصلہ جاری - January 19th, 2010
- ارکان پارلیمنٹ کی ہالبروک سے بچوں کے ویزوں کی درخواست - January 17th, 2010
پرنٹ کریں


