وزیرداخلہ کی احتساب عدالت میں طلبی
سرفراز احمد عباسیTuesday, December 22, 2009, 10:31
احتساب عدالت راولپنڈی کے (ڈیوٹی ) جج محمد طارق عباسی نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کی جانب سے دائر ضمانتی مچلکہ جمع کروانے کی درخواست مسترد
کردی ہے جبکہ رحمن ملک کے وکیل کے دلائل کے بعد انہیں ہدایت کی کہ اگر رحمن ملک اور شریک ملزم محمد سجاد حیدر ضمانت پر تھے تو اس آرڈر کی نقل عدالت کو فراہم کی جائے، عدالت نے آئندہ سماعت دو جنوری مقرر کرتے ہوئے رحمن ملک اور محمد سجاد حیدر کو اصالتاً طلب کرلیا ۔ پیر کے روز احتساب عدالت میں وفاقی وزیر کی جانب سے ان کے وکیل امجد اقبال قریشی ایڈووکیٹ جبکہ نیب کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل طارق محمود جہانگیری پیش ہوئے، امجد اقبال قریشی نے موقف اختیارکیا کہ رحمن ملک کی جانب سے ریفرنس نمبر 91 اور 92 میں بیل بانڈز جمع کروانے کیلئے سی آر پی سی کی دفعہ 91 کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی، عدالت اس پر اجازت دے کہ وہ بیل بانڈزداخل کرسکیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رحمن ملک ان دونوں ریفرنسوں میں اسپیشل جج سینٹرل راولپنڈی کی عدالت سے ضمانت پر تھے جس کے بعد حالات کے پیش نظر انہیں ملک سے باہر جانا پڑا، ان کے خلاف ریفرنسز این آر او کے زمرے میں نہیں آتے جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ ان دونوں ریفرنسز میں نیب آرڈیننس کی سیکشن 31-Aکے تحت ان دونوں ملزمان کوتین تین سال کی سزا سنائی گئی تھی اور قبل ازیں انہیں اشتہاری بھی قرار دیا گیا تھا جس پر عدالت نے سوال کیا کہ ان دونوں ریفرنسوں میں اگررحمن ملک اور شریک ملزم ضمانت پر ہیں تو ضمانت کے وہ آرڈر کہاں ہیں ؟ اسے عدالت میں پیش کریں۔ نیب آرڈیننس کے تحت انہیں سزا ہوئی تھی اور آپ بیل بانڈز کی درخواست دے رہے ہیں، پہلے ضمانت کے وہ آرڈر عدالت کو دکھائیں، امجد اقبال قریشی نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت کو اس سزا کو ختم کروانے کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ضمانت کے آرڈر عدالت میں پیش کریں جبکہ رحمن ملک اور محمد سجاد حیدر از خود عدالت میں پیش ہوں ۔
سرفراز احمد عباسی کے تازہ ترین مضامین
- اسلام آباد،مسافر طیارہ تباہ - July 28th, 2010
- یوم مئی:پاکستان میں مزدورکی کم سے کم اُجرت 7ہزار - May 1st, 2010
- این آراو مردہ باد - January 25th, 2010
- این آر او کا تفصیلی فیصلہ جاری - January 19th, 2010
- ارکان پارلیمنٹ کی ہالبروک سے بچوں کے ویزوں کی درخواست - January 17th, 2010
پرنٹ کریں


