هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

امریکہ زرداری کی سرپرستی نہیں کرے گا

محمد ہارون عباس قمر

Thursday, December 24, 2009, 10:17

barack_obama[1]امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ نے متعدد نئے زمینی حقائق اور تبدیل شدہ صورتحال کے پیش نظر صدر آصف علی زرداری کی حکومت کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھانے اور لاتعلقی کا رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ واشنگٹن پی پی پی اور دیگر اداروں کے درمیان ٹکرا کی کوششوں کا حصہ نہ بنے

اس بات کا ایک واضح اظہار امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری پی جے کرالی نے بطور ترجمان بریفنگ دیتے ہوئے کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے تجربہ کار ترجمان اور صدر بل کلنٹن کے دور میں وہائٹ ہاس میں نیشنل سیکورٹی کونسل میں خدمات انجام دینے والے پی جے کرالی کی پاکستان کی صورتحال پر اس قدر واضح اور تفصیلی ریمارکس سے یہ واضح ہو تا ہے کہ حال ہی میں واشنگٹن میں پاک امریکا دفاعی مشاورتی گروپ کے انتہائی اہم اجلاس، این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے،امریکی سی آئی اے کے سربراہ لیوون پینٹا، وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن ، امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف، فوجی سنٹرل کمان کے سربراہ اور افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ کے حال ہی میں پاکستان کے دوروں کے نتیجے میں اوباما انتظامیہ نے اس امر کی ضرورت محسوس کی ہے کہ جس قدر تیزی سے صدر زرداری کی حکومت اور صدارت پر سے اخلاقی، سیاسی اور صدارتی گرفت کمزور ہورہی ہے اس کے باعث امریکی مفادات کے تمام تر نا زک تقاضوں کے باوجود امریکا کیلئے فی الوقت یہ ضروری ہے کہ وہ صدر زرداری کی سرپرستی کی بجائے پاکستان کے داخلی بحران میں غیر جانبداری کا اعلانیہ اظہار کرے تاکہ عوا م، عدلیہ،میڈیا، عسکری قیادت سے پی پی پی کے ٹکرا کی کسی کوشش کا حصہ نہ بناجائے۔

امریکیوں کو یہ بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ جس ڈیل کے تحت بے نظیر کی شہادت کے بعد آصف زرداری صدر بنے تھے وہ اس ڈیل کے تحت امریکا سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں۔ اگر وہ اس بحران میں سے ایک بے اختیار علامتی سربراہ مملکت کے طور پر بچ بھی جاتے ہیں تو ان کی عملی افادیت صفر ہوجائیگی۔

محمد ہارون عباس قمر کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1