هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے سیلف رول مکمل فارمولہ

مدیر القمرآن لائن

Friday, December 25, 2009, 0:54

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

thumbnail11 پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جسٹس صغیر ورکنگ گروپ کی رپورٹ وزیر اعظم کے بجائے وزیر اعلیٰ کو پیش کرنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں ریاست کے آبی وسائل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے جن کا کئی دہائیوں سے استحصال کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق نئی دلی سے سرینگر لوٹنے کے فوراً بعد ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ریاست کے مرکز کے ساتھ تعلقات سے متعلق جسٹس صغیر کی سربراہی والے ورکنگ گروپ نے جو رپورٹ پیش کی ہے،اس میں پی ڈی پی کی طرف سے سیلف رول کے حوالے سے پیش کی گئی بعض اہم تجاویز کو نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حیرانگی کا مقام یہ ہے کہ ورکنگ گروپ کی رپورٹ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بجائے ریاستی وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا”حالانکہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں لیکن اس پیش رفت سے پورے عمل کی اعتباریت کم ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں سیلف رول کے قیام کے لئے ریاست کا اقتصادی طور پر خود کفیل ہونا ضروری ہے لیکن بد قسمتی سے ورکنگ گروپ کی سفارشات میں ان اہم موضوعات پر بات نہیں کی گئی ہے۔

پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ انکی پارٹی نے کشمیر مسئلہ کے مستقل حل کے لئے سیلف رول کا جو خاکہ پیش کیا ہے،اس میں مسئلہ کے تمام داخلی اور بیرونی پہلوﺅں کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ۔انہوں ے کہا کہ سیلف رول میں کشمیر کے دونوں حصوں کے لئے آر پار مشترکہ کونسل اور میکنزم مرتب کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن جسٹس صغیر رپورٹ میں اس معاملے پر کوئی رائے زنی نہیں کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے بتایا”ایک اہم چیز کا ذکر رپورٹ میں شامل نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ ریاست کے آبی وسائل کی صورتحال کیا رہے گی“۔انہوں نے بتایا کہ این ایچ پی سی کی طرف سے جموں کشمیر کے آبی وسائل کا استحصال کیا جارہا ہے اور پی ڈی پی نے سیلف رول تجاویز میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ آبی وسائل کے بارے میں مرکزی حکومت کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی جائے تاکہ انکے فوائد نہ صرف ریاستی عوام کو حاصل ہوں بلکہ لوگوں کو درپیش مسائل کا بھی ازالہ کیا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے ذخائر پر سرینڈر کا خاتمہ کیا جانا چاہئے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے آبی وسائل ریاست کو ہی سونپ دئے جائیں۔ذرائع کے مطابق پی ڈی پی صدر نے جسٹس صغیر رپورٹ کو اس بات کے لئے بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس میں سیلف رول کو نیشنل کانفرنس کے اٹانومی فارمولے سے ملتا جلتا بتایا گیا ہے۔ا ن کا کہنا تھا سیلف رول اٹانومی سے کہیں زیادہ ہے اور ورکنگ گروپ نے اسے یکسر مسترد نہیں کیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پی ڈی پی نے سیلف رول کا دستاویز ورکنگ گروپ کو پیش نہیںکیا ہے؟محبوبہ مفتی نے بتایا”ہم نے پہلے ہی سیلف رول کی کاپی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو پیش کی ہے اور یہ دستاویز مذکورہ ورکنگ گروپ کے سامنے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ بقول انکے اس ورکنگ گروپ کوکشمیر کے بڑے مسئلے کے ساتھ ڈیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔وزیر اعظم کی طرف سے تشکیل دئے گئے ورکنگ گروپوں کی سفارشات کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے بتایا کہ 4گروپ پہلے ہی اپنی سفارشات پیش کرچکے ہیں اور انکی رپورٹ بھی دھول چاٹ رہی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم ڈاکٹر ن موہن سنگھ سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو مجموعی حیثیت سے دیکھیں تاکہ تمام مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔ان کا کہنا تھا”اگر ہمیں مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کرکے خون خرابہ ختم کرنا ہے تو مسئلہ کے بیرونی معاملات پر بات کرنے کی ضرورت ہے جن کا بہترین حل سیلف رول میں فراہم کیا گیا ہے“۔

مدیر القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1