بے نظیر اور کشمیر!
صریر خالد سرینگرSaturday, December 26, 2009, 18:25
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بٹھو کو قتل ہوئے دو سال کا عرصہ گذر گیا ہے۔دو سال قبل 27دسمبر کو انہیں ایک دھماکے میں ہلاک کیا گیا تھا جو کہ برصغیر میں ایک بڑا اور غیر معمولی واقعہ تھا۔بے نظیر کی موت کے چند دن بعد ہی معروف کشمیری صحافی اور قلمکار صریر خالد نے مندرجہ ذیل تحریر رقم کی جسکی اہمیت آج بھی باقی ہے۔قارئین کی دلچسپی کے لئے اس تحریر کو دوہرایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(القمر آن لائن)
بے بی ،پنکی،بے نظیریا پاکستان کی سابق وزیر اعظم ،اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔27دسمبر کو پاکستان کے لیاقت باغ میں خونین تاریخ دہرائی گئی،ایک دھماکہ ہوا اور بے نظیر بٹھو ماری گئیں۔یہ واقعہ افسوسناک تھا،کسی بھی انسان کو اس طرح بے رحمی سے مارا جائے تو اس پر افسوس کیا جا نا چاہئے اور پھر جب بات ایک ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی سربراہ کے قتل کی ہو تو معاملہ اور بھی زیادہ مذموم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں اس واقعہ کو لیکر غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی اور پھر ہنگامہ آرائی کا ایک ایسا خونین سلسلہ شروع ہوا کہ جو کئی دنوں تک جاری رہا،کئی لوگ مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوگئے جبکہ اربوں روپے کی سرکاری و نجی املاک بھی تباہ ہوگئی۔کشمیر میں تاہم اس طرح کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیاحالانکہ کشمیری مسلمان نہایت ہی جذباتی ثابت ہوتے رہے ہیں۔مسلم دنیا میں کہیں بھی کوئی معمولی واقعہ بھی پیش آئے تو جموں و کشمیر کے مسلمان بھر پور انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کرتے رہے ہیں اور پھر بات جب پاکستان کی یا اس سے متعلق ہو تو کشمیری مسلمانوں کے لئے معاملہ اور بھی جذباتی ہو جاتا ہے۔خود بے نظیر بٹھو کے والد ذولفقار علی بٹھو کی موت پر کشمیر میں جو خونین رد عمل سامنے آیا تھا اسکے نشان آج دہائیاں گزرنے کے بعد بھی باقی ہیں۔سینئر بٹھو کو جب پھانسی دی گئی تو کشمیر میں آگ و آہن اور تباہی کا ایک ایسا سلسلہ دیکھنے کو ملا تھا کہ جو کئی ہفتوں تک تھم نہیں سکا۔اس واقعہ کے ردعمل میں جماعت اسلامی کے سینکڑوں ارکان کے گھر جلائے گئے تھے اور کروڑوں روپے کی انکی املاک کو تباہ کیا گیا تھا۔پھر بٹھو کو تختہ¿ دار پر چڑھانے والے مرحوم ضیاءالحق کی حادثاتی موت پر بھی کشمیریوں نے زبردست ردعمل ظاہر کیا اور آج اس واقعہ کے برسوں بعد بھی 17اگست کو انکا دن منایا جاتا ہے۔مگر اس سب کے برعکس بے نظیر بٹھو کی موت پر یہاں اس طرح کا کوئی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا جس سے ایک طرف کشمیری مسلمانوںکی سوچ میں آئی اس مثبت تبدیلی کا پتہ ملتا ہے کہ انہوںنے ہر بات پر تالی بجانے کی عادت چھوڑ دی ہے وہیں اس تبدیلی سے یہ بات بھی صاف ہوتی ہے کہ کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ جذباتی وابستگی تو رکھتے ہیں لیکن ہر اُس پاکستانی کے ساتھ نہیں کہ جو محض نسلی اعتبار سے پاکستانی ہو۔
ٰٰٓٓایسا نہیں ہے کہ بے نظیر کی اندوہناک موت کا کشمیریوں کو صدمہ نہیں ہوا،انسانیت کے ناطے یہاں کے لوگوں نے مقتولہ کی موت پر افسوس ضرور کیا ،لیکن ایسا کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا کہ جس سے یہ لگتا کہ کشمیریوں نے پی پی پی لیڈر کی موت کو اپنا، یا مسلمانانِ عالم کا نقصان مان لیا ہو۔چناچہ بے نظیر بٹھو کی افسوسناک موت پر جموں و کشمیر کے قد آور آزادی پسند اور پاکستان نواز لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے ہڑتال کی کال بھی دی تھی، اسے وہ پزیرائی نہ ملی کہ جو سید گیلانی کی ایسی اپیلوں کو ملتی رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب سید گیلانی نے کسی بھی واقعہ پر احتجاج کرنے یا کسی معاملے کو لیکر اظہارِ یکجہتی کرنے کے لئے ہڑتال کی کال دی تو مسلمانانِ کشمیر نے انہیں مایوس نہ کیا لیکن بے نظیر بٹھو کی موت کے حوالے سے انکی ہڑتالی کال کو بُری طرح نظر انداز کیا گیا۔سید گیلانی کو ہڑتال کی اپیل کرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی،اس بحث میں الجھے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ کشمیری عوا م نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اشخاص کی نہیں بلکہ موقف کی حمائت کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو قوموں کو سرفراز کرانے میں سب سے اہم کردار کی حامل ہوتی ہے۔ کشمیری عوام کی ایک بد قسمتی یہ رہی ہے کہ وہ جذبات میں اس قدر بہہ جاتے ہیںکہ بیشتر اوقات وہ اپنے دوست اور دشمن کے ساتھ مساوی برتاو¿ کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس طرح ابہام کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اور کسی بھی معاملے کو لیکر منزل پر پہنچنا ناممکن بن جاتا ہے۔تاہم پاکستان کی سابق وزیر اعظم کے قتل پر جس طرح کا محتاط ردعمل کشمیریوں نے ظاہر کیا ہے اس سے سوچ اور اپروچ میں ایک مثبت تبدیلی کا پتہ ملتا ہے۔تاہم یہ بات دعوتِ فکر لئے ہے کہ آخر ذولفقار علی بٹھو مرحوم کی موت پر بستیوں کی بستیاں اجاڑنے والے کشمیریوں نے مرحوم لیڈر کی لاڈلی کی دہشت انگیز موت پر کوئی غیر معمولی رد عمل ظاہر کیوں نہیں کیا؟۔شائد اس لئے کہ محترمہ کی کشمیر پالسی اور تو اور خود اُنکے والد کی پالسی سے بھی متضاد تھی اور ایک ایسی قوم کہ جس نے اپنا سب کچھ کسی کاز کے لئے قربان کیا ہو ایسے کسی لیڈر کی موت کو اپنا نقصان کیسے مان سکتی ہے کہ جس کے ذریئے ان قربانیوں کے رایئگاں ہونے کا اندیشہ ہو۔
حالانکہ بے نظیر بٹھو کی،جلا وطنی سے،وطن واپسی پر اُنکی انتخابی ریلیوں میں جو نعرے لگائے جا رہے تھے اُن میں ایک نعرہ یہ بھی تھا”کشمیر کی تقدیر ،بے نظیر،بے نظیر“،تاہم اُنکی کشمیر پالسی با الکل ”مختلف“تھی۔اس نعرے پر بعض لوگ یہ طنزیہ تبصرہ بھی کرتے ہیں کہ محترمہ بٹھو واقعی کشمیریوں کی تقدیر لکھنا چاہتی تھی،مگر شائد اسی طرح کہ جس طرح انہوں نے پنجاب کے سکھوں کی ”تقدیر“لکھی تھی۔بے نظیر بٹھو پہلی بار پاکستان کیوزیر اعظم بنیں تو انکی کشمیر پالسی میں پاکستان کی روایتی پالسی کے مقابلے میں ”انفرادیت“پائی گئی۔انہوں نے نہ صرف بھارت کے ساتھ کئی معاملات میں زبردست اشتراک بڑھایا بلکہ اسکی کئی پریشانیوں کو بھی دور کردیا۔بے نظیر صاحبہ کی بھارت کے تئیں نرم روی اور غیر ضروری دوستی اس حد تک تھی کہ خود پاکستان میںاس پر باتیں ہوئیں اور کئی لوگوں نے محترمہ پر الزامات بھی لگائے۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ خود پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں اس قدربے چینی بڑ گئی تھی کہ وقت کے وزیر خارجہ مستعفی ہونے کو تیار ہوگئے۔
بے نظیر صاحبہ کی یہ کشمیر پالسی تب کی ہے کہ جب پاکستان میں کشمیر کے خلاف کوئی اقدام کرنا تو دور کچھ بولنا بھی جرم عظیم تصور ہوتا تھا حالانکہ اب دریاو¿ں میں کافی پانی بہہ چکا ہے اور کشمیر کو کبھی اپنی شہ رگ کہنے والے اس ملک کے حکمرانوںکی، اس شہ رگ کے تئیں ،پالسی بہت بدل چکی ہے۔بے نظیر بٹھو کے وہ بیان اب بھی موجود ہیں کہ جو انہوں نے مختلف مواقع پراور ممالک میں دئے،ان بیانات سے صاف تھا کہ وہ کشمیریوں کی موجودہ جدوجہد کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔پھر انکی جلا وطنی کے دوران میں انکا کئی بار بھارت کے دوروں پر آنا بھی چہ معنی دارد تھا۔چناچہ مقتولہ تب بھی بھارت کے دوروں پر آئیں کہ جب دونوں ممالک کے تعلقات میں زبردست تلخی تھی۔ایک طرف پاکستان کشمیر کو لیکر بھارت کے ساتھ مختلف محاذوں پر جنگ لڑ رہا تھا تو دوسری جانب سابق وزیر اعظم نئی دلی کے دورے کرتی تھیں۔پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی سرپرست اور سابق وزیر اعظم یونہی کسی ملک کا بار بار دورہ نہیں کریں گی بلکہ وہ ضرور کچھ لینے آئیں گی اور بدلے میں” کچھ دینے “کا وعدہ کرکے جائیں گی۔ظاہر ہے کہ وہ اقتدار میں آجاتیں،بلکہ تقریباََ لائی ہی جا چکی تھیں،تو انکی بھارت کے ساتھ ”قربت“مزید بڑ ھ جاتی۔ہمسائیگی میں تعلقات کو بہتر بنانا کوئی بُری بات نہیں ہے لیکن کہیں یہ قربت تحریکِ کشمیر کو خالصتانی تحریک کے انجام کو نہ پہنچا دے،یہ خدشہپاکستان اور جموں و کشمیر میں کئی لوگوں کے اذہان پر ہتھوڑے مار رہا تھا۔پھر جب محترمہ نے بھارت کے ایک معتبر رسالے کے ساتھ اپنے آخری انٹرویو میں خالصتانی تحریک کے حوالے سے اپنے ”کارناموں“کا خود ہی اشتہار دیا تو کئی لوگوں کے خدشات یقین میں بدل گئے۔گوکہ بے نظیر بٹھو کے پنجاب کی جنگجوئیت کے حوالے سے پہلے ہی بہت کچھ،بشمولِ یہ کہ انہوں نے وہاں کے جنگجو لیڈروں کے نام و پتہ تک بھارت کو دئے تھے اور انکی گرفتاری یا موت میں مدد کی تھی،کہا جا رہا تھا تاہم کئی لوگ اس سب کو الزام تراشی اور قیاس آرائی کا نام دیتے تھے۔تاہم محترمہ کا اپنا انٹرویو اس حوالے سے تمام شکوک وشبہات کو دور کرتا ہے اور مذکورہ بالا ”الزام تراشی“کو حقیقت ثابت کرتا ہے۔
بھارت کی جانب سے ان (بے نظیر)کی وعدہ وفائی کی صفت پر شک ظاہر کئے جانے سے دل ملول ہوئیں بے نظیر نے اس (بھارت)سے سوال کیا کہ کیا اسے محترمہ کی وہ ”خدمت“یاد نہیں ہے کہ جو انہوں نے خالصتان کی تحریک کو کچلنے کے لئے انجام دی ہے؟۔بے نظیر کے اپنے الفاظ میں”کیا لوگوںکی یاداشت اتنی جلدی مٹ جاتی ہے،کیا میں نے راجیو گاندھی کو دیا ہوا وعدہ وفا نہیں کیا ۔راجیو گاندھی نے مجھ سے سکھ جنگجوو¿ں کو کچلنے میں مدد مانگی تھی،ہمارے درمیان کیا باتیں ہوئیں کوئی نہیں جانتا ہے کہ یہ سب خلوت میں ہوا تھا لیکن کیا اُس ملاقات کا نتیجہ سکھوں کی جنگجوئیت کی شکل میں سامنے نہیں آیا، اس سب کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے اور کوئی یہ کس منھ سے کہہ سکتا ہے کہ میں نے وعدہ خلافی کی۔میں نے در اصل ایسا کوئی وعدہ نہیں دیا تھا کہ جسے میں نے پورا نہیں کیا ہو“۔محترمہ اسی انٹرویو میں کہتی ہیں کہ ان سبھی ”خدمات“کے عوض انہیں سیاچن سے (بھارت کی)پسپائی کا وعدہ دیا گیا تھا۔دنیا جانتی ہے کہ یہ وعدہ وفا نہیں ہوا یعنی آنجہانی راجیو گاندھی نے مفت میں ہی بے نظیر سے ”بے نظیر “خدمات حاصل کر لیں۔پاکستان کے کسی بھی لیڈر کے لئے یہ اتنا آسان نہیں ہو گا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ ویسے ہی وعدے کرے کہ جیسے محترمہ بے نظیر بٹھو نے ،خود بقول اُنکے،آنجہانی راجیو گاندھی کو دئے اور پھر اُنہیں ”ایمانداری“کے ساتھ وفا بھی کیا ۔البتہ ایسی کوششیں ضرور ہوسکتی ہیں اور پاکستان میں پاکستان کے” ہمسائیوں “کو ایسے کئی دوست مل سکتے ہیں جو شائد اپنے وعدے تو نہیں نبھا پائیں گے البتہ خود اسی طرح نظر انداز ہونگے ،کہ جس طرح سینئر بٹھو کی موت کو ایک ”یادگار “بنانے والے، کشمیریوں نے اُن(سینئر بٹھو)کی بے بی کو نظر انداز کر لیا۔
مضمون نگارکے ساتھ
E-mail:sareerkhalid@gmail.comپر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
صریر خالد سرینگر کے تازہ ترین مضامین
- بھارت کشمیریوں کو تنہا نہ سمجھے - March 26th, 2010
- پاکستانی حکومت کی” آئی ایس آئی“پرنہیں چلتی - March 26th, 2010
- وادی لوٹنےپرسیدگیلانی کاشانداراستقبال - March 12th, 2010
- بھارت کو اپنی ” پاکستان پالسی“ بدلنا ہوگی - March 8th, 2010
- سانحہ سوپور کے خلاف وادی میں ہڑتال - March 2nd, 2010
پرنٹ کریں


