ڈرون حملے خوست سے کنٹرول کئے جاتے تھے
Saturday, January 2, 2010, 14:44
خوست میں خودکش حملے سے تباہ ہونے والے سی آئی اے سینٹر سے پاکستان میں ڈرون حملوں کی مانیٹرنگ کی جاتی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق سی آئی اے سینٹر پاکستان میں ڈرون حملوں کیلئے جاسوسی کا مرکز تھا۔ اسی جاسوسی کی بنیاد پر ٹارگٹ کا تعین کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف پاکستانی طالبان نے سی آئی اے خوست بیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ خود کش حملہ آور سی آئی اے کا اہلکار تھا اور اس نے خود کش حملہ آور بننے کیلئے ان سے رابطہ کیا تھا۔جنوبی وزیر ستان میں غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما قاری حسین نے کہا کہ سی آئی اے پر حملہ امریکی ڈرون حملوں کا انتقام ہے۔انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کے اس اہلکار کو طالبان کے خلاف حملے کیلئے تیار کیا تھا تاہم اس نے خود طالبان سے رابطہ کر کے کہاکہ وہ امریکہ کے خلاف خود کش حملہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ امریکی حکام نے غیر ملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ حملہ آورمخبر تھا اور اسے سی آئی اے کے بیس پر دعوت پر بلایا گیا تھا اسی لیے اسکی چیکنگ بھی نہیں کی گئی۔ گذشتہ روز سی آئی اے کے بیس پر حملے میں سی آئی اے بیس چیف سمیت سات اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
طاہر وسیم کے تازہ ترین مضامین
- کرشمہ کپور کی شادی کی سات سال پرانی وڈیو آن لائن جاری - August 14th, 2010
- پریانکا پنجابی لڑکے سے شادی کی خواشمند - July 21st, 2010
- طلاق کا شوقین اسرائیلی شخص12 بیوی کی تلاش میں - January 1st, 2010
- ایرانی حکومت نے 2 اپوزیشن رہنماؤں کو تہران سے نکال دیا - January 1st, 2010
- نیٹو فورسز کو تیل سپلائی کرنے والے آئل ٹینکرنذر آتش - January 1st, 2010
پرنٹ کریں

