هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

NROپر حکومت کی خصوصی مشاورت

عتیق الرحمان

Friday, January 22, 2010, 17:09

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پرشفاف انداز میں عمل درآمد کے لیے جمعہ کے روز اپنے قانونی ماہرین سے مشاورت کی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم گیلانی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں اٹارنی جنرل انور منصور خان اور قانون وانصاف ڈویژن کے سیکرٹری بھی موجود تھے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مابین اہم ملاقات ہوئی ہے۔

ایوان صدر میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیر اعظم نے صدر کو این آراو پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے قانونی ماہرین کی آرا سے آگاہ کیا ۔
ملاقات کےد وران سپریم کورٹ میں نئے جج کے تقرر کے معاملے پر بھی غور کیا گیا جبکہ ملک کی سیاسی اور سیکیورٹی کی صورت حال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اس سے پہلے صدر کی جانب سے اتحادی پارٹیوں کے سربراہوں کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیاجس میں ڈاکٹر فاروق ستار اور اسفند یار ولی نے شرکت کی جبکہ مولانا فضل الرحمان ظہرانے میں شریک نہیں ہوئے ۔
صدر نے پارٹی سربراہوں کو نئی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اعتماد میں لیا ۔

حکمران جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور معروف قانون دان اعتزاز احسن نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آراو پر سپریم کورٹ کے 17 رکنی بنچ کے فیصلے پر عمل درآمد کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے خلاف محض نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے سے اس پر عمل درآمد معطل نہیں ہوسکتا۔

این آر او کے خلاف فیصلے پر عمل درآمد کے لیے عدالت عظمٰی کی طرف سے فوج کو طلب کیے جانے کے سوال کے بارے میں اعتزار احسن نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہوگی کیوں کہ اُن کے بقول یہ معاملہ امن وامان کوبرقرار رکھنے کا نہیں ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور اُنھوں نے متبنہ کیا کہ عدالتوں کے ساتھ محاذ آرائی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ یہ این آر او پر عدلیہ کا فیصلہ ایک حساس معاملہ ہے اور حکومت اس کا جائزہ لے کر اس پر عمل درآمد کرے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت احتساب کے لیے ایک ایسا ادارہ بل متعارف کرانے جا رہی ہے کہ جسے کوئی حکومت بھی سیاسی بنیاد پر استعمال نہ کرسکے گی۔

واضح رہے کہ این آر او کو عدالت عظمیٰ کے 17 رکنی بنچ نے تقریباً ایک ماہ قبل کالعدم قرار دے دیا تھا اور رواں ہفتے 287 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ سابق فوجی صدرپرویز مشرف کے دور میں قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت آٹھ ہزار سے زائد افراد کے خلاف 1986ء سے 1999ء کے درمیان قائم ہونے والے بدعنوانی اوردیگر مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ان میں صدر آصف علی زرداری سمیت حکمران جماعت وزرا ء کے علاوہ پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت کے خود ساختہ جلاوطن لیڈر الطاف حسین اور اُن کے جماعت کے اہم اراکین بھی شامل تھے تاہم اس متنازع قانون کے خلاف عدالت عظمیٰ فیصلے کے اب ان تمام افراد کے خلاف مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں۔

عتیق الرحمان کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1