هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

فرانس میں برقعے پر پابندی کی سفارش

نامہ نگار القمرآن لائن

Tuesday, January 26, 2010, 22:47

فرانس کی ایک پارلیمنٹری کمیٹی نے اسلامی نقاب استعمال والی عورتوں پر جزوی پابندی کی سفارش کی ہے۔

دو سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے ہسپتالوں، سکولوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نقاب استعمال کرنے پر پابندی تجویز کی ہے۔

صدر نکولائی سرکوزی کے جانب سے مسلمانوں کے طریقے سے چہرے کو ڈھانپنے کے لیے نقاب ڈالنے پر تنقید کے بعد سے فرانس میں برقعہ پہننے اور چہرے کو ڈھانپنے پر بحث جاری ہے۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک میں انیس سو خواتین ایسی ہیں جو چہرے پر مکمل نقاب ڈالتی ہیں۔

پارلیمانی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ایسی نمایاں علامت کے مظہر کا ذریعہ بنتا ہے جو کمیٹی کے الفاظ میں ’کٹر مذہبیت‘ کا اظہار کرتی ہو تو اسے رہائشی کارڈ اور شہریت سے محروم کردیا جانا چاہیے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس دستاویز کے اجرا کے بعد ایک بل کا مسودہ تیار کیا جائے گا اور جسے بحث کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

اب تک اس بارے میں کیے جانے والے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فرانسیسیوں کی اکثریت نقاب پر مکمل پابندی کے حق میں ہے۔

فرانس میں پارلیمانی ارکان کا کہنا ہے کہ فی الحال پابندیوں کو محدود ہونا چاہیے۔

پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ فی الحال پابندی سرکاری عمارتوں کے اندر ہونی چاہیے اور اگر کوئی اس کے خلاف ورزی کرے تو اسے مطلوبہ سہولت فراہم نہ کی جائے مثلاً جس میں حکومت کی جانب سے جانے والی وہ رعایتیں بھی شامل ہیں جنہیں سٹیٹ بینیفٹ کہا جاتا ہے۔

فرانس میں سرڈھانپنے اور پردے کے لیے مسلمان خواتین اور لڑکیں مختلف طرح کے سکارف اور نقاب لیتی ہیں جن میں کچھ مکمل برقعہ بھی پہنتی ہیں۔

نقاب میں بالعموم آنکھوں کو کھلا رکھا جاتا ہے اور سرکو ڈھانپنے کے لیے الگ حجاب استعمال کیا جاتا ہے جب کے برقعے میں سر سے پاؤں تک سب ڈھکا ہوتا ہے تاہم آنکھوں پر ایک ایسی باریک جالی پڑی ہوتی ہے جس کے ذریعے دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔

فرانس میں سیاسی جماعتیں اس پابندی پر بٹی ہوئی ہیں۔

نامہ نگار القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1