هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

مغربی میڈیاکی یلغاراورعالم اسلام

محمدفاروق چوہان

Wednesday, January 27, 2010, 18:07

گذشتہ دودہائیوںسے پاکستان سمیت عالم اسلام پرالیکٹرانک میڈیاکی یلغارہے۔ مغربی ممالک کی طرح نجی سطح پرٹی وی چینلزکے سیلاب نے معاشرتی واخلاقی اقدارکوبدل کررکھ دیاہے۔پرنٹ میڈیامیںاخبارات ورسائل کی حد تک روزافزوںترقی کاعمل جاری رہالیکن نجی ٹی وی چینلزکی بھرمارنے اسلامی ثقافت پرگہری ضرب لگائی ہے۔ مغرب کا عریاںکلچرجوکہ دودہائیاںقبل امریکہ اوریورپ کی سطح پران ممالک میںپروان چڑھ رہاتھا۔

اسلامی ممالک کوبھی مغربی کلچرمیںرنگنے کیلئے انہی خطوط پرڈال دیاگیا۔ مغربی میڈیاکے پاس زبردست ترقی یافتہ ٹیکنالوجی ہے۔ خلیجی جنگ کوپہلی ٹی وی جنگ کہاجاتاہے۔ مغربی میڈیانے جدیدٹیکنالوجی کے زورپرخلیجی جنگ جیت کریہ ثابت کردیاہے کہ اسلحہ کی ٹیکنالوجی کوجدیدمیڈیاکے ساتھ زیادہ مؤثراور نتیجہ خیزبنایاجاسکتاہے۔ خلیجی جنگ دنیابھرمیںبراہ راست میدان جنگ سے دکھائی گئی۔ میڈیاکی اس جنگ میںCNN، وائس آف امریکہ، بی بی سی، مونٹے کارلو(فرانس) اوراسرائیلی ٹی وی شامل تھے۔ لیکن ان سب میںCNNکاکردارسب سے نمایاںرہا۔ CNNکاپنٹاگون سے خصوصی معاہدہ تھا اوراسے غیرمعمولی سہولتیںاوربے شماروسائل فراہم کیے گئے۔ خلیجی جنگ کی طرح افغانستان اورعراق پرامریکی قبضے کے دوران جدیدمغربی میڈیاکابھرپور استعمال کیاجارہاہے۔ عراق اورافغانستان میںہونے والاامریکی ظلم وتشدددنیاکے سامنے پوری طرح نہیںآسکا۔ مغربی میڈیاافغانستان اورعراق میں حقائق کودانستہ سامنے نہیںلارہا۔ اس وقت افغانستان اورعراق میںاتحادی افواج بری طرح شکست کھاچکی ہیں۔ امریکہ افغانستان وعراق سے نکلنے کیلئے پرتول رہاہے۔ مغربی میڈیاامریکہ سمیت مغربی ممالک کی اقوام کواصل صورتحال سے آگاہ نہیںکررہا۔ مغربی میڈیاافغانستان اورعراق میںجھوٹ کوسچ ثابت کرنے کی کوششوںمیںمصروف ہے۔

مغربی میڈیاکی جدیدٹیکنالوجی کے جواب میںاگرچہ عالم اسلام میںاسی طرح پیش قدمی نہیںہوسکی۔ لیکن سعودی عرب، کویت، قطر اورترکی نے میڈیاکے میدان سے فائدہ اٹھایاہے۔ سعودی عرب نے حج کے شعائرکوCNN، BBCسمیت ایک سوبیس ممالک تک نشرکرنے کا1992ء میں معاہدہ کرکے ایک قابل تحسین اقدام کیاتھا۔ سعودی عرب، کویت، قطراورترکی میںانٹرنیٹ اورٹی وی چینلزکے ذریعہ اسلام کی دعوت پوری دنیامیںاحسن اندازمیںپیش کی جارہی ہے۔ ترکی میںاچھے ٹی وی پروگرامات کی تیاری کی جارہی ہے۔ ترکی کے پروگرامات کواسلامی ممالک میںخاصی مقبولیت حاصل ہے۔ قطربھی ٹی وی چینلزکے میدان میںترقی کرچکاہے۔ اس کاایک فضائی چینل اسلام کے آفاقی پیغام کیلئے وقف کیاگیاہے۔ اسلامی ممالک میںجدید میڈیاٹیکنالوجی سے ابھی تک خاطرخواہ استفادہ نہیںکیاجاسکا۔ اس کی جانب مناسب پیش رفت کی ضرورت ہے۔ ابھی تک یہ کام اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

دسمبر93ء میںایک فرنچ رسالہ لے موندڈپلومیٹ نے ایک مضمون شائع کیاجس میںیہ واضح طورپرلکھاگیاکہ ”اسلام کے خلاف جنگ صرف فوجی میدان میںنہیںہوگی بلکہ ثقافتی اورتہذیبی میدان میںبھی معرکہ آرائی ہوگی”۔ امریکی فلم مرکزہالی ووڈکویہودیوںکاقلعہ اوراسلام مخالف سازشوںکا مرکزگرداناجاتاہے۔ ایک صدی سے زائدیہاںفلموںکے ذریعہ اسلام اورمسلمانوںکے خلاف نفرت وکدورت، بغض وکینہ پوری دنیامیںپھیلائی جارہی ہے۔ بیسویںصدی کی آخری دودہائیوںمیںہالی ووڈنے مسلم دشمنی پرمبنی فلم ”ڈیلٹافورس” ، ”انتقام”، ”آسمان کی چوری”، ورلڈٹریڈسنٹرکے تجرباتی ڈرامہ اسٹیج کرنے کیلئے1992ء میں”حقیقی جھوٹ” اور”حصار” وغیرہ شامل ہیںان فلموںمیںاسلام اورمسلمانوںکاتشخص بری طرح مجروح کیاگیاہے۔ مسلمانوںکوامن دشمن اوردہشت گردبناکرپیش کیاگیاہے۔ نائن الیون کے بعدامریکہ اورمغربی ممالک نے اسلحہ ٹیکنالوجی کے ساتھ جدیدمیڈیاٹیکنالوجی کاسہارالے کراسلام اورمسلمانوںکے خلاف پراپیگنڈہ مہم بڑی تیزی کے ساتھ شروع کردی ہے۔ امریکہ عالم اسلام کے وسائل، معدنیات اورتیل پرقبضے کاخواہاںہے افغانستان اورعراق پرقبضہ اورنائن الیون کاخودساختہ ڈرامہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ عالم اسلام پرامریکی جارحیت اورمغربی میڈیاکابے بنیاد اورمن گھڑت پراپیگنڈہ چہاراطراف سے امتِ مسلمہ کے گردگھیراتنگ کرنے کیلئے کیاجارہاہے۔

مسلم نوجوان نسل بالخصوص خواتین کے سیرت وکردارکی تعمیراوراسلامی کلچرسے روشناس کرانے کیلئے ٹی وی چینلزپراچھے پروگرامات کی تیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ خواتین نے چونکہ نئی نسل کی آبیاری کرنی ہے۔ لہٰذابچوںاورخواتین کیلئے اسلامی تاریخ وثقافت پرمبنی پروگرامات ٹی وی چینلزسے نشرکیے جائیں۔ ایک سروے کے مطابق بچے کارٹونزبہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ اس وقت کیبل پربچے انڈین کارٹون نیٹ ورکCNاور دوسرے غیرملکی چینلزپرکارٹونزسے لطف اندوزہوتے ہیں۔ ان چینلزپرکارٹونزکے ذریعے ہندی ومغربی کلچرعام کیاجارہاہے۔ معصوم بچوںکے ذہنوںکو پراگندہ کیاجارہاہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ بچوںکی نفسیات کوپیش نظررکھ کراسلامی تہذیب وثقافت پرمشتمل کارٹونزبنائے جائیںجن سے بچوںکی اسلامی تاریخ اورکلچرمیںدلچسپی بڑھے۔ بچوںکیلئے کارٹونزاوراصلاحی بامقصدپروگرامات تیارکیے جاسکتے ہیں۔ مغربی ممالک میںاظہاررائے کامطلب یا میڈیاکی آزادی کے معنی مادرپدرآزادمیڈیاہے۔ آج دیگراسلامی ممالک کی طرح پاکستان میںبھی میڈیاکی ترقی کے نام پریہی کام ہورہاہے۔ 100ٹی وی چینلزکونجی سطح پرحکومت پاکستان لائسنس دے چکی ہے۔ ابھی مزیدپچاس چینلزکولائسنس دئیے جا رہے ہیں۔ ٹی وی چینلزکی طرح ایف ایم ریڈیوزکی بھی دوڑلگی ہوئی ہے۔ بڑی تعدادمیںپاکستان کے مختلف شہروںمیںایف ایم ریڈیوزکام کررہے ہیں۔

میڈیاکی اہمیت ، افادیت اورترقی سے انکارممکن نہیںہے۔ پاکستان میںپرنٹ والیکٹرانک میڈیانے بتدریج ترقی کاسفرطے کیاہے۔ آج میڈیاکی آزادی کے جہاںثمرات معاشرے تک پہنچے ہیںوہاںیہ بات اہم اورتوجہ طلب ہے کہ پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکی حدودوقیودکاتعین ضروری ہے۔ ان حدودوقیودکوحکومتیںمتعین نہ کریںبلکہ میڈیاکے اداروںکے ذمہ داران ازخوداپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق طے کریں۔ اگرپاکستانی میڈیاکابغور جائزہ لیاجائے توپرنٹ میڈیاکی نسبت الیکٹرانک میڈیاٹھوس پالیسی پرقائم دکھائی نہیںدیتاجس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گذشتہ دس پندرہ سالوں میںپاکستان کے اندرٹی وی چینلزکی نشریات بڑی تیزی سے شروع ہوئی ہیںلیکن نجی سطح پرچلنے والے چینلز آج تک پاکستان کے نظریاتی کلچر کے مطابق واضح اورمشترکہ لائحہ عمل اختیارنہیںکرسکے۔

پاکستانی الیکٹرانک میڈیامیںمغربی وہندوؤانہ کلچرپوری طرح چھاچکاہے۔ بڑے ٹی وی چینلزفحاشی وعریانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میںلگے ہوئے ہیں۔ نتیجتاًٹاک شوز، ڈراموں، فلموںاورتفریح کے دیگرپروگراموں میںکہیںبھی ہمارااپناکلچرنظرنہیںآتا۔ ہماری نظریاتی شناخت ختم ہوتی جارہی ہے۔ مغربی کلچراورہندوؤانہ ثقافت پاکستانی معاشرے پراپنی گرفت مضبوط کرچکی ہے۔ انڈین اورمغربی ممالک کے چینلزممنوع ہونے کے باوجود پاکستان میںکیبل پردکھائے جارہے ہیں۔ انڈیاکے سٹارٹی وی چینلزکوکیبل آپریٹرزکھلے عام دکھارہے ہیں۔ حکومت پاکستان ان چینلزپر پابندی لگاچکی ہے لیکن اس پابندی پرکہیںعملدرآمدنہیںہے۔ ٹی وی چینلزپرچلنے والے فحش اوربیہودہ اشتہارات بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ان اشتہارات میںعورت کوعریاںپیش کرکے خواتین کی تذلیل کی جاتی ہے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ ہمارامیڈیامکمل طورپرمغرب کی نقالی کرتاہے۔ مغربی میڈیانے عورت کو”کھلونا” بنادیاہے جبکہ اسلامی تہذیب عورت کوعزت کامقام دیتی ہے۔ پاکستان میںایسے ادارے موجودہیںجوعورت کو”شوپیس” بنائے بغیراپنی اشیائ(Products)کو کامیابی سے چلارہے ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک کے ٹی وی چینلزکواسلامی تہذیب وثقافت کوفروغ دیناچاہئے۔ مغرب کے نقشِ قدم پرچل کراپنی تہذیب وثقافت کواہمیت نہ دینادانشمندی نہیںہے۔

دنیابھرمیںکرنٹ افیئرزکے پروگراموںکوناظرین کی بڑی تعداددیکھتی ہے۔ پاکستان کے اندرحالات حاضرہ کے پروگرامات کی خاصی مقبولیت ہے۔ چونکہ آج تک الیکٹرانک میڈیاکاقبلہ درست نہیںکیاجاسکالہٰذاہنوزیہ مسئلہ موجودہے کہ ”ٹاک شوز” میںپاکستانیت اوراسلامی تشخص کی جھلک نظرنہیںآتی۔ ”ٹاک شوز” میںاینکرپرسنزاہم قومی ایشوزنیوکلیئرپاور، مسئلہ کشمیر، پاکستان کی نظریاتی شناخت اورقومی وحدت پرپوری طرح یکسونظر نہیںآتے۔ ملکی وقومی مفادات کوبالائے طاق رکھ کر”ٹاک شوز” میںقوم کوپریشان(Confuse)اورعدم یکسوکرنے کاعمل جاری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ٹی وی چینلزمیںپالیسی میکرز، پروڈیوسرزاوراینکرپرسنزکی ملکی وقومی معاملات سے ناآگاہی اوراحساس ذمہ داری نہ ہونا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ امریکہ ، یورپ اوربھارت کاالیکٹرانک میڈیاتواپنے قومی مفادات کی نگہبانی کافریضہ سرانجام دیتاہے لیکن ہمارے ٹی وی چینلزقومی اوردینی سوچ سے عاری ہے پاکستان میںنوائے وقت گروپ کا ٹی وی چینل ”وقت ٹی وی” وہ واحدچینل ہے جوپاکستان اوراسلامی اقدارکے حوالے سے کسی حدتک اپنا کرداراداکررہا ہے بقیہ جتنے چینلزموجودہیںان کی پالیسی میںملکی وقومی مفادکواہمیت نہیںدی جاتی۔ حالانکہ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلز پاکستانی واسلامی ثقافت وکلچرکوفروغ دیں۔ میڈیاکاکام عوام کوشعوردیناہے۔ ہر ملک کا میڈیا اپنے ملکی وقومی مفادات کے تابع ہوتاہے۔ میڈیامعاشرے کو معلومات دینے کے ساتھ ساتھ تعلیم وتربیت(To Educate)دینے کیلئے اہم کرداراداکرتاہے۔ مقام حیرت ہے کہ پاکستان سمیت58اسلامی ممالک کامیڈیااپنے نظریاتی تشخص سے خالی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ پرنٹ میڈیاکی طرح الیکٹرانک میڈیابھی ایک ایسا میڈیم (Medium)ہے جودنیابھرمیںاسلام کی ترجمانی کافریضہ سرانجام دے سکتاہے۔ اسلامی ممالک میںٹی وی چینلزکے گذشتہ دودہائیوںکے سیلاب میں یہ کام نہیںہوسکا۔ آج CNNاورBBCعالمی سطح پراپنی پالیسیوںاورکلچرکو عام کرنے میںمصروف عمل ہیںلیکن اسلامی دنیاکاکوئی ایساچینل جس کے ذریعے دین اسلام کی مکمل تصویرپیش کی جاسکے منظرعام پرموجودنہیںہے۔ Peaceٹی وی کسی حدتک اسلامی کلچرکوفروغ دینے اوردین کے پیغام کوعام کرنے کیلئے کام کررہاہے۔ علامہ اقبال، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، امام حسن البنا اورسیّدقطب شہیدنے جس طرح20ویںصدی میںاسلام کے چہرے سے گرداتارکر اسے ایک مکمل نظام حیات کے طورپرلوگوںکے سامنے پیش کیا۔ آج ضرورت اس امرکی ہے کہ موجودہ دورمیںجوکہ بلاشبہ میڈیاکی ترقی اوراس کے بڑھتے ہوئے اثرات کادورہے ہمیںپرنٹ بالخصوص الیکٹرانک میڈیاکے ذریعے اسلام کاحقیقی تشخص دنیاکے سامنے پیش کرناہے اوراس کے ایسے تصورات جو یہودونصاریٰ اورہنودنے میڈیاکے ذریعے قائم کررکھے ہیں۔ ان بے بنیاداورمن گھڑت تصورات کوزائل کرکے پوری انسانیت کو اسلام کے اصل تصوراور پیغام سے روشناس کراناہے۔ مغربی این جی اووزنے اسلامی ممالک کے مقبول عام ٹی وی چینلزکوفنڈنگ کرکے پٹری سے اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے اوریہ عمل پوری اسلامی دنیامیںجاری ہے۔ پاکستان میںاس نسخہ کوآزمایاگیاہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے نام نہادحقوق نسواںبل کے نام پرمغربی این جی اووزکی فنڈنگ سے باقاعدہ مہم چلائی۔ ٹی وی چینل کی اس مہم کے ذریعے پاکستانی رائے عامہ کوہموارکرنے کی کوشش کی گئی۔ لوگوں کومنظم پلاننگ کے تحت انتشارواضطراب کاشکارکیاگیا۔ الیکٹرانک میڈیاکے ذریعے معاشرے کے دماغوںپرقابوپانے کے بعداپنی مرضی کابل پارلیمنٹ سے پاس کروالیاگیا۔ اس طرح کی کئی مثالیںہیںجس کے ذریعے عالم اسلام کواپنے اصل کلچراور شناخت سے دورکیاجا رہاہے۔

الیکٹرانک میڈیاکی ترقی سے جہاںاسلامی ممالک میںمغربی کلچرمسلط ہے وہاںیہ بات خوش آئندہے کہ عوام کے سیاسی شعورمیںاضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میںعدلیہ کی تحریک میںمیڈیاکاکرداربڑاجانداررہا۔ مشرف دورمیںجب دو بڑی پارٹیوںکے قائدین خودساختہ جلاوطن تھے۔ اس وقت نجی ٹی وی چینلزنے آمرانہ اقدامات کے خلاف بھرپور آوازاٹھائی اورعوام کواصل حقائق سے آگاہ کیا۔ اکتوبر2005ء کے قیامت خیززلزلہ میںبھی پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کاکردارمثالی رہا۔ اسلامی ممالک میںنجی سیکٹرمیںٹی وی چینلزسے عوام کوبروقت اوردرست معلومات سے آگاہی ہوئی ہے۔ حکومتوںکے کردار’ سرکاری اداروںکی کرپشن اوران کے احتساب کیلئے بھی میڈیاکاکردارقابل تحسین ہے۔

اسلامی ممالک کواپنی روایات، ثقافت اورنظریاتی اساس کے مطابق اپنی میڈیاپالیسی ترتیب دینی چاہئے۔ حالات حاضرہ کے پروگرامات ”ٹاک شوز”کوقومی ونظریاتی تقاضوںسے ہم آہنگ ہوناچاہئے۔ پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکومغرب کی اندھی تقلیداورنقالی نہیںکرنی چاہئے۔ ٹی وی ڈراموںمیںاسلامی تاریخ وثقافت کوپروان چڑھانا چاہئے۔ ماضی میںپاکستان ٹیلی ویژن پرنسیم حجازی کے ناولوںسے ماخوز”شاہین” اوردیگرڈرامے بے حدمقبول ہوئے تھے۔ آج بھی مثبت اورتعمیری تفریح کواسلامی ممالک میںفروغ دیاجاسکتاہے۔ تعمیری، اصلاحی، تاریخی اورمعلوماتی پروگراموںکوتیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فلم کے میدان میںایران نے خاصی ترقی کی ہے۔ ایرانی فلموںمیںبے حیائی (Vulgarity)نہیںہوتی۔ ایرانی فلموںنے آسکرایوارڈتک حاصل کیاہے۔ ایسی فلمیںجواصلاح وتطہیرکافریضہ سرانجام دیںاورجن کے ذریعے اسلامی معاشرے میںتعلیم وتربیت کاعمل بڑھ سکے ان کومسلم ممالک میںرواج دینے کی ضرورت ہے۔ بامقصداورتاریخی موضوعات پرفلمیںبن سکتی ہیں۔ اب وقت آگیاہے کہ سبق آموزاوراصلاحی فلمیں تیارکرکے مسلم نوجوان نسل کارشتہ اس کے ماضی کے ساتھ جوڑاجائے۔

الیکٹرانک میڈیاکی ترقی کے عمل نے یہ ثابت کردیاہے کہ فلم، ٹی وی ”شجرممنوعہ” نہیںہیںاسلامی دنیاکوان کا مثبت اورتعمیری استعمال کرکے پوری عالم انسانیت کواسلام کاآفاقی پیغام دیناچاہئے۔ مغرب نے فلم اورٹی وی کوفحاشی و عریانی کی شکل دے دی ہے۔ مسلم دنیااس کاصحیح اوربہتراستعمال کر کے اس تاثرکوغلط ثابت کرسکتی ہے بلکہ عالم اسلام کامیڈیا پوری دنیاکیلئے مثالی بھی بن سکتاہے۔

مغرب نے دنیابھرکی معیشت اورمیڈیا(ذرائع ابلاغ)پراپناقبضہ جمارکھاہے اس کے پیچھے یہودیوں (Jews)کی سازشیںکارفرماہیں۔ معیشت اورمیڈیادونوںایسے اہم میدان ہیںجہاںمسلم دنیاکومناسب پیش رفت کی ضرورت ہے۔ مصرسمیت کئی اسلامی ممالک کے ٹی وی چینلزاور اخبارات مغرب کے زیراثرہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ جن ایشوزکواٹھاتے ہیںمسلم ممالک کے میڈیاکے ادارے بغیرسوچے سمجھے ان ایشوزکونمایاں (High Light)کرتے ہیں۔ اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ مہم مغربی میڈیاکامستقل موضوع ہے۔ کبھی مغربی ممالک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع کئے جاتے ہیںاورکبھی ہالینڈمیںقرآن اوراسلامی شعائرکے خلاف فلم فتنہ بنائی جاتی ہے۔ مغربی میڈیاوقتاًفوقتاًمسلمانوںکو”دہشت گرد”، ”جہادی” اور”بنیادپرست” ثابت کرنے کیلئے اپنی مہم چلائے رکھتاہے۔ ہمارا پرنٹ والیکٹرانک میڈیامن وعن ان بے بنیادرپورٹوںکی کوریج کرتاہے۔ مسلم دنیاکے اکثرممالک کایہی حال ہے۔ سوائے سعودی عرب کے جہاںچندفحش اوربیہودہ چینلزپرسرکاری سنسرشپ عائدہے۔ مغربی ممالک کے چینلز مسلم ممالک میںبھی رائے عامہ پراثراندازہورہے ہیں۔

یہ مسلم حکومتوںاوراداروںکاکام ہے کہ وہ مغربی میڈیاکی یلغارکامقابلہ کرنے کیلئے جامع پالیسی تشکیل دیں۔ عالم اسلام کے حکمرانوںکی بے حسی کایہ عالم ہے کہ اس اہم مسئلہ سے ابھی تک پہلوتہی برتی گئی ہے۔ آج میڈیاکے محاذ پرسرجوڑکربیٹھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم تنظیموںاوراسلامی تحریکوںکو میڈیاکے میدان میںسرگرم عمل ہوناچاہئے۔ میڈیاکو ابھرتاہواچیلنج سمجھ کر اس سے استفادہ کیاجاسکتاہے۔ مسلم تنظیموں، اداروں اورافرادکواپنی سطح پرایسے افرادتیارکرنے چاہئیں جو میڈیاٹیکنالوجی کوسمجھ سکیںاورکچھ کرگزرنے کاجذبہ رکھتے ہوں۔ نجی سطح پرٹی وی چینلزکیلئے اچھے پروگرامات تیارکرنے کیلئے بڑے شہروںمیں”پروڈکشن ہاؤس” بنائے جائیں۔ مغرب کی عالم اسلام کے خلاف الیکٹرانک میڈیاپرمہم کا ”ڈاکیومنٹری”دستاویزی فلم کے ذریعے مناسب جواب دیاجائے۔ نائن الیون کے بعدمغرب کے اسلام مخالف پراپیگنڈے میںخاصی شدت آگئی ہے۔ موجودہ حالات کاتقاضاہے کہ اسلام کااصل تصور اورحقیقی پیغام”ڈاکیومنٹریز” تیارکرکے پوری دنیاتک پہنچایاجائے۔ انٹرنیٹ پرYoutubeویب سائٹ پرہزاروںڈاکیومنٹریزموجودہیں۔ ڈاکیومنٹریزٹی وی چینلز، کیبل نیٹ ورک پرچلائی جاسکتی ہیں۔ ”Youtube”اوردیگرویب سائٹس پراسلامی نقطہ نظر کونمایاںکیاجاسکتاہے۔ اسلام کی دعوت عام کرنے کیلئے انٹرنیٹ اورٹی وی چینلزسے بھرپوراستفادہ کیاجاسکتاہے۔

مغرب کاہمیشہ یہ وطیرہ رہاہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے جذبات کوجانچنے(Test)کیلئے پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میںایشوزاٹھاتارہتاہے۔ اسلامی شعائرکی توہین کی جاتی ہے مسلم دنیامیںاحتجاجی مظاہروںکے ذریعے توردِعمل دنیاکے سامنے آجاتاہے لیکن اس کامیڈیاٹیکنالوجی میںجواب نہیں دیاجاتا۔ مسلم دنیاکوالیکٹرانک میڈیااورانٹرنیٹ پراسلامی تشخص کوعام کرنے اورمغربی پراپیگنڈے کامؤثر جواب دینے کیلئے اپنے دائرہ کاراورکاوشوںکو مؤثراورمنظم اندازمیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اسلامی ممالک اورمغرب میںموجودمسلم تنظیمیںاورتحریکیںبڑے محدوددائرے میںمیڈیاکاکام کررہی ہیں۔ جس سطح پرمغرب نے میڈیاسے کام لیاہے۔ مغربی ایجنڈہ دنیاپرمسلط کرنے کیلئے میڈیاخاصاکارگرثابت ہواہے۔مسلم تنظیموں، اداروں افراداورتحریکوںکیلئے موجودہ منظرنامے میںبے حدضروری ہے کہ میڈیاکے ”وژن” کوسمجھیں۔ میڈیا کامناسب بجٹ مختص کریں۔ الیکٹرانک میڈیابالخصوص ٹی وی چینلزکوہدف بناکرکام کیاجائے۔ ”پروڈکشن ہاؤس”کے ذریعے اینکرپرسنزاورپروڈیوسرزکی ٹریننگ کابندوبست کیاجائے۔ آئندہ دس سال کامنظرنامہ سامنے رکھاجائے تومسلم دنیامیں الیکٹرانک میڈیامیںایسے افرادبڑی تعدادمیںدستیاب ہوسکیںگے جوقومی ودینی سوچ اورنظریاتی شناخت کے حامل ہوںگے۔

اسلامی ممالک میںتنظیموںاوراداروںکو”میڈیاتھنک ٹینک” کاقیام عمل میںلاناچاہئے ایسے ”میڈیاتھنک ٹینک” جو مغرب سے ڈائیلاگ (Dialogue) کرسکیں۔ امریکہ اوریورپ کے ”میڈیاتھنک ٹینک” اسلام مخالف پراپیگنڈے میںپیش پیش ہیں۔ میڈیاتھنک ٹینک کے ذریعہ مغربی پراپیگنڈے کاتوڑکیاجاسکتاہے اورحالات وواقعات کی اصل تصویردنیاکے سامنے پیش کی جاسکتی ہے۔

مسلم دنیاکے میڈیامینجرز(Media Managers)اپنی سطح پرمحدوددائرے میںکام کررہے ہیں۔ مکمل (وژن) ادراک نہ ہونے اور مؤثرحکمتِ عملی سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات صحیح طورپرمرتب نہیںہو رہے۔ اسلامی ممالک کی مسلم تنظیموں، اداروںاورتحریکوںکے میڈیاسے متعلق افرادکے نیٹ ورک کومنظم اورمربوط کرنے کی اشدضرورت ہے۔ انٹرنیشنل میڈیاکانفرنس کاانعقادضروری ہے۔ اگرعالم اسلام کی ”میڈیاکانفرنس” ہرسال مختلف اسلامی ممالک میںہوتی رہے تووہ وقت دورنہیںجب میڈیاکے میدان میںہم سرخروہوںگے۔ دین اسلام کی فطرت یہی ہے کہ اس نے ہمیشہ وقت کے چیلنجوںکاسامناکیاہے۔ آج اس محاذپربھی مسلم دنیاکامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔ معیشت اورمیڈیاکے میدان میں امتِ مسلمہ پورے ادراک اورمناسب حکمتِ عملی سے آگے بڑھے تویہ اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

ایرانی انقلاب کے بارے کہاجاتاہے کہ وہ آڈیوکیسٹس کاانقلاب تھا۔ جسے آج کے دورمیںCD,sاور DVD,s سے تعبیرکیاجاسکتاہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیامیںالیکٹرانک میڈیااورانٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی پھیلنے سے مطالعہ کارجحان کم ہو گیاہے۔ اب لوگ ٹی وی چینلزاورانٹرنیٹ کے ذریعے معلومات اورتفریح حاصل کرلیتے ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیاکی یہ ضرورت ہے کہ CD,sکے ذریعے دنیابھرمیںاسلام کے حقیقی پیغام کوعام کریں۔ اسلامی تحریکوںکے پھلنے پھولنے اورایک بڑی تبدیلی کیلئے اب یہ لازمی ہوچکاہے کہ جدیدٹیکنالوجی(Latest tools) سے استفادہ کیاجائے۔ پاکستان میںتحریکِ اسلامی اورمسلم تنظیموںکوپروگرامات کی سی ڈیزکی تیاری کیلئے ”پروڈکشن ہاؤس” بنانے چاہئیں۔ اسی حوالے سے بہترین مثال (Peace TV)کی ہے۔ ڈاکٹرذاکرنائیک کے (Peace TV)پرنشر ہونے والے پروگرامات پاکستان سمیت دنیابھرمیںبڑے پیمانے پرپھیل چکے ہیں۔ امام خمینی مرحوم کا آڈیوکیسٹس کے ذریعے پیغام ایران کے کونے کونے میںپھیل جاتا تھا۔ موجودہ دورمیںCD,sکے ذریعہ اپنی دعوت اورپیغام کوباآسانی عام کیاجاسکتاہے۔ (Peace TV)کی طرح مختلف ممالک میںٹی وی چینلزکوقائم کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے چینلز جومعاشرے کی تعلیم وتربیت اورشعوروآگہی کوپروان چڑھاسکیں۔ موجودہ وقت کاتقاضااورحالات کی یہ اہم ترین ضرورت ہے۔ نجی سطح پرٹی وی چینلز نظریاتی سوچ رکھنے والے افرادپروفیشنل اندازمیںقائم کرسکتے ہیں۔

اس وقت مغربی ذرائع ابلاغ میںرائٹراورAFPکی طرزپرعالمی نیوزایجنسیاںموجودہیںجویکطرفہ خبریں مسلم دنیاکے خلاف چلاتی رہتی ہیں۔ ان ایجنسیوںکواسلامی ممالک کے پرنٹ والیکٹرانک میڈیابھی ہاتھوںہاتھ لیتے ہیںاور بغیرتصدیق کیے ان خبروںکومسلم دنیامیںپرنٹ والیکٹرانک میڈیامیںکوریج دی جاتی ہے۔

موجودہ صورتحال کاتقاضاہے کہ عالم اسلام کی AFPاوررائٹرزؤکی طرزپرعالمی نیوزایجنسی قائم کی جائے جو اسلامی ممالک اورمغربی ممالک کے ذرائع ابلاغ کوخبروںکی فراہمی کرسکے۔ رابطہ عالم اسلامی نے تین دہائیاںقبل ایک نیوزایجنسی قائم کی لیکن وہ عملاًغیرفعال ہے۔

اسلامی دنیامیںمیڈیاسے وابسطہ افرادکی ٹریننگ اورمسلم ممالک کے میڈیاکوعصرحاضرکے تقاضوںسے ہم آہنگ کرنے کیلئے ایسے معیاری ”میڈیاانسٹی ٹیوٹ”قائم کرنے کی ضرورت ہے جوجدیدمیڈیاٹیکنالوجی کے اس دورمیںایسے افرادتیارکرسکیںجواسلامی تہذیب وثقافت کوپروان چڑھانے میںاپناکرداراداکرسکیں۔

امریکہ اوریورپ میںالیکٹرانک میڈیاکے میدان میںجدیدٹیکنالوجی کااستعمال بڑھتاجارہاہے۔ اب توامریکہ اوریورپ میںشہروںکی سطح پرحکومت اوراین جی اووزکی سرپرستی میںپبلک براڈکاسٹنگ سنٹربنائے گئے ہیں۔ ان ٹریننگ سنٹرزمیںمیڈیاسے دلچسپی رکھنے والے افرادکواینکرپرسنز، پروڈیوسرز، سکرپٹ رائٹرزاورکیمرہ وایڈیٹنگ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس تناظرمیںپاکستان سمیت اسلامی ممالک میںبھی ایسے پبلک براڈکاسٹنگ سنٹرزکاقیام ضروری ہے۔ پاکستان میںیہ کام مسلم تنظیمیںاورادارے بخوبی کرسکتی ہیں۔ ہرسال ان ٹریننگ سنٹرزسے بہترین اینکرپرسنز، پروڈیوسراوردیگر باصلاحیت افرادتیارکیے جاسکتے ہیںجومسلم دنیامیںگہرے شعوروادراک سے کام کرسکیں۔

میڈیاٹیکنالوجی سے مسلم دنیاکونہیںگھبراناچاہئے۔21ویںصدی میںتہذیبوںکی جنگ میڈیاکے ذریعہ لڑی جاسکتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیاکے میدان میںپیش رفت کیلئے مؤثراورجامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اسلامی تحریکیں، میڈیاادارے اورمسلم تنظیمیںہرسطح پراس کیلئے بھرپورکرداراداکرسکتے ہیں۔ مسلم دنیاکوان خطوط پرمنظم اوراحسن اندازمیںاقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انشاء اﷲجب ہم پورے ادراک اور شعورکے ساتھ میڈیاکے محاذپرآگے بڑھیںگے تومسلم دنیابھی کامیابی وکامرانی کی طرف گامزن ہوگی۔ انشاء اﷲمستقبل اسلام کا ہے۔ ہمیںپوری توانائیوںکے ساتھ ہرمیدان میںآگے بڑھناہے۔ شاعرمشرق علامہ اقبال کے مطابق

”تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر”
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

محمدفاروق چوہان کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1