چین کاامریکہ سے فوجی تعلقات معطل کرنے کا اعلان
Sunday, January 31, 2010, 9:50
امریکہ نے تائیوان کو F/16 لڑاکا طیاروں سمیت 6.4 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین اسلحہ فروخت کرنے کافیصلہ کیاہے جبکہ اس تازہ پیش رفت کے بعدچین نے واشنگٹن کے ساتھ فوجی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تائیوان کو اسلحہ دینے والی امریکی فرمز پر پابندی کا فیصلہ کیاہے۔
امریکہ کے اس اقدام سے چین اورامریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی ڈیفنس سیکورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق تائیوان کی درخواست پر اسے 60 یو ایچ 60 ایم بائیک باک ہیلی کاپٹر، 114 پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیبلٹی 3 اینٹی میزائل اور دیگر دفاعی نظام فروخت کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔امریکہ تائیوان کو 12 ایڈوانسڈ ہارپون میزائل بھی فروخت کرے گا۔
تائیوان کو فروخت کئے جانے والے اسلحہ میں سمندر سے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے 2 جہاز بھی شامل ہوں گے۔دوسری جانب چین نے اوباما انتظامیہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے اعلان کے بعد امریکہ کے ساتھ فوجی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔
وزارت دفاع نے شدید ردعمل پر مشتمل اپنے بیان میں تائیوان کو امریکہ کی جانب سے مجوزہ طور پر ہتھیاروں کی فروخت کی شدید مذمت کی ہے۔وزارت نے کہاہے کہ امریکہ کے ساتھ شیڈول کے باہمی فوجی دوروں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ امریکہ کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ امریکہ کے اس فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔
امریکی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ اس اقدام سے واشنگٹن ، بیجنگ دو طرفہ تعلقات بری طرح متاثر ہونگے ۔ چین کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی سفیر جان ہنٹر مین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ تینوں فریقین کے درمیان تعلقات کو خراب کرسکتا ہے ،خصوصاً 17 اگست کو امریکہ نے جو یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی طویل المدتی پالیسی پر عمل نہیں کریگا اور وہ بتدریج تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت میں کمی لانے پر غور کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس فیصلے سے ہمارے دو طرفہ تعلقات یقیناً بری طرح متاثر ہونگے اور مستقبل کے لئے ان تعلقات میں بہتری کابھی کوئی امکان پیدا نہیں ہوگا ۔چین کی جانب سے مزید کہاگیاہے کہ واشنگٹن کے ساتھ فوجی وفود کے تبادلے اور سیکورٹی مذاکرات بھی معطل کردی جائے گی ۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عالمی اور خطی ایشوز پر تعاون بہت بڑی حد تک متاثر ہوگا اور چین تائیوان کے ساتھ اسلحہ فروخت میں ملوث امریکی کمپنیوں پر عائد متعلقہ پابندیوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ امریکہ سے واپس لوٹنے والے تائیوان کے صدر ماینگ ژو نے کہاہے کہ اسلحہ ڈیل کے نتیجے میں چین کے ساتھ تعلقات مزید بڑھانے میں مدد ملے گی اور تائیوان خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرے گا ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کوجوہری سرگرمیوں سے باز رکھنے کیلئے عالمی برادری کی طرف سے اْس پر نئی پابندیاں لگانے کی حمایت کرے۔
انہوں نےپیرس میں صحافیوں کو بتایا کہ چین اس وقت شدید دباوٴ میں آئے گا جب اْسے اِس حقیقت کا اندازہ ہوگا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کے ہونے سے خلیج فارس کے علاقے پر کس قدر منفی اثرات ہونگے۔ہلیری کلنٹن نے خدشہ ظاہر کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی ایرانی کوششوں سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے اور خبردار کیا کہ اسرائیل کو بھی اپنی بقا سے متعلق خطرات لاحق ہو سکتے ہیں
امریکی وزیر خارجہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ چین ایران پر مزید پابندیوں کا حامی نہیں کیونکہ ایران چین کو تیل فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے لیکن انھوں نے کہا کہ ایران کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگنے سے تیل کی یہ سپلائی بھی مشکل میں پڑ سکتی ہے۔
نامہ نگار القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین
- Wake Up Youths Care for Pakistan - March 15th, 2010
- Wake Up Youths Care for Pakistan - March 15th, 2010
- Jawab Deyh 14th March 2010 - March 15th, 2010
- Sawal Yeh Hai 14th March 2010 - March 15th, 2010
- Front Line 14th March 2010 - March 15th, 2010


