هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

متصادم ادارے اور متزلزل معیشت کب تک؟

شاہین اختر

Sunday, January 31, 2010, 15:07

یہ امر کسی وضاحت کا محتاج نہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی میں وکلا کی ملک گیر تحریک نے بنیادی کردار ادا کیا اور ملک بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے بھی اس تحریک میں وکلا کا بھرپور ساتھ دیا۔ آزاد عدلیہ کی بحالی سے بلاشبہ عوام کی توقعات بھی پوری ہو رہی ہیں اور عام آدمی کے لئے اعلیٰ عدالتوں کی سطح پر انصاف کا حصول یقینی بنایا جارہا ہے۔ اب ایڈہاک ججوں کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت کو بھیجی جانے والی سفارشات کو تسلیم نہ کرنے کے باعث ایک تنازع پیدا ہو گیا ہے اور اس سے محاذ آرائی کا تاثر تقویت پکڑ رہا ہے۔ اب وکلا کی طرف سے سڑکوں پر آنے کے عندیہ کے حوالے سے ملک میں تصادم کی فضا پیدا ہونے کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کو درپیش چینلجز معروضی حقائق اور حالات و واقعات کا تقاضا یہ ہے کہ وکلا کی تحریک کسی طرح بھی اداروں کے درمیان تصادم کا باعث نہ بنے۔ وکلا حضرات کا شمار ملک کے دانشورطبقے میں ہوتا ہے وہ یقینا زمینی حقائق اور ملک کو اندرونی اور بیرونی ہر دو محاذوں پر درپیش خطرات کو نظرانداز نہیں کریں گے۔ ملک کو اس وقت ایک طرف دہشت گردی اور عسکرت پسندی نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو دوسری طرف بجلی و گیس کے بحران اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اٹھنے والے بھاری اخراجات، ہزاروں صنعتی اداروں کی بندش نے قومی معیشت کو متزلزل کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ حالات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ نہ صرف تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں بلکہ حکومت بھی اس امر پر غور کرے کہ ہم محاذ آرائی اور تصادم کے متحمل ہو بھی سکتے ہیں یانہیں یہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ملک میں پیدا ہونے والے تنائو کی کیفیت اور کشمکش اتنہائی باعث ِ تشویش ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وسیع تر مشاورت کے لئے تمام مقتدرسیاسی قوتیں اور اپوزیشن جماعتیں سرجوڑ کر بیٹھیں اور قومی و ملکی مفادات کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے معاملات کو اس طرح طے کریں کہ کسی بھی متعلقہ ادارے کے اختیارات پر زد نہ پڑے اور پھر اجتماعی طور پر کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایاجائے۔ اس وقت یہ خدشہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ ہم تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ ہمارے دشمن پہلے ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ پاکستان کے مختلف اداروں کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کب سر اٹھاتی ہے اور نسلی، لسانی ، گروہی اور سیاسی بنیادوں پر عوام کب آپس میں ٹکراتے ہیں۔ وہ اپنے مذموم عزائم کے حوالے سے ایسی کوششوں میں بھی مصروف ہیں جن کا مقصد ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد کی تارپود کو بکھیر کر ہمیں انتشار و افتراق کی بھٹی میں جھونک کر ہماری آزادی، سلامتی اور خودمختاری پر شب خون مارنا ہے۔ صوبہ سرحد اوربالخصوص قبائلی علاقوں میں جنگ کی جو کیفیت پیدا ہوچکی ہے ان میں ہمارے ان دشمنوں کا کردار پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے جس سے ہمیں عسکری اور اقتصادی ہر دو محاذوں پر شدید مشکلات، مصائب اور نقصانات کا سامنا ہے۔ پاک فوج، پولیس اور کئی دوسرے اداروں کی طرف سے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف زبردست اقدامات کا عمل جاری ہے۔ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کی بڑی تعداد نے اس کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ تمام تر اقدامات کے باوجود ابھی تک دہشت گردی اور عسکریت پسندی پر پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا بلکہ خود کش حملہ آوروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اوربڑی تعداد میں بے گناہ شہری ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر نجی و سرکاری املاک کو بھی زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال نے قومی معیشت پر سخت ناخوشگوار اثرات مرتب کئے ہیں۔ شہریوں میں جان و مال کے عدم تحفظ کے احساس میں ہونے والے اضافے اور امن وامان کی دگرگوں صورتحال کے باعث نہ صرف سرمایہ کاری رک گئی ہے بلکہ ملک سے سرمائے کے فرار کا عمل بھی تیز تر ہو گیا ہے۔ اس پر گرانی، بڑھتی ہوئی بیروزگاری، غربت و افلاس اور گیس و بجلی کے بحران نے عوام کے لئے اذیت ناک صورتحال پید ا کردی ہے لہٰذا تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک میں قومی یکجہتی اور اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا کرنے کے لئے اپنی تمام ذہنی و فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور حکومت بالخصوص اس بات کا اہتمام کرے کہ اس کا کوئی فیصلہ مختلف اداروں اور حلقوں کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بنے اور کوئی بھی تحریک شروع کرنے اور قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ حلقے اس امر کا بھی جائزہ لیں کہ ان کے اس فیصلے سے جمہوری اداروں اور مملکت کو تقویت ملے گی یا نقصان پہنچے گا۔ ابتلا و آزمائش کے یہ لمحات پوری قوم اوربالخصوص حکمرانوں کے لئے لمحہ ٔ فکریہ ہیں۔ انہیں کسی طورپر بھی نظرانداز اور فراموش کرنا ملکی سلامتی کیلئے زہر قاتل ثابت ہوگا۔
جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اداروں کے درمیان تصادم ہوگا اور فوج آجائے گی یہ ان کی بھول ہے۔ بعض نادان یہ سمجھ رہے ہیں کہ اداروں کے درمیان تصادم کی صورت میں ہم فوج کو بلا لیں گے تو اس طرح فوج کی واپسی کی توقع کرنے والے بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ فوج نے دہشت گردی کے خلاف زبردست کردار ادا کیا ہے۔ جمہوریت کوکمزور کرنے کی سوچ رکھنے والوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ منزل ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کی ہے۔ ہم 1973کے آئین کے تحت تمام اداروں کومضبوط کریں گے اور انہیں آئین کے مطابق چلائیں گے۔ ملتان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ عدلیہ اور انتظامیہ اپنا اپنا کردار ادا کرے گی۔ عوام کی طاقت بھی اہم رول ادا کرتی ہے اور یہ طاقت بھی جمہوریت کے حق میں ہے۔ اگر ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیارات میں رہتے ہوئے کام کرے تو پھر کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ بعد ازاں انہوں نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت حالت ِجنگ میں ہے اور ان حالات میں ہم نئے سرائیکی صوبے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس سے ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا۔ دریں اثنا وکلا کوآرڈی نیشن کونسل نے حکومت کو این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد کے لئے 13فروری کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے 28فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔وکلا کی تنظیمیں ملک گیر سطح پر جلسے منعقد کرکے حکومت کے خلاف اور عدلیہ کے حق میں قراردادیں منظور کریں گی۔ کونسل کے چیئرمین قاضی انور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کوئی بھی شخص آئین و قانون سے بالا تر نہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے چیف جسٹس کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے کے خلاف ہم 13فروری کے اجلاس میں آئندہ کی حکمت ِعملی وضع کریں گے۔ ہم اداروں کے درمیان تصادم کے حق میں نہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ضرورت پڑی تو ہم عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لئے سڑکوں پر آئیں گے اور کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی۔

شاہین اختر کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1