هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

خلیج میں امریکی میزائل سسٹم کی تنصیب

نامہ نگار القمرآن لائن

Sunday, January 31, 2010, 16:18

ایران کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکا نے خلیج میں اپنا میزائل شکن پروگرام تیزی سے لانچ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ اس امر کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ہفتے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔

اخبار نے امریکی انتظامیہ کے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا خصوصی بحری جہاز ایرانی ساحل کی طرف بھجوا رہا ہے۔ قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں بھی انٹرسپٹر میزائل نصب کئے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام میں سلطنت آف عمان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عمان میں ابتک اینٹی میزائل سسٹم نصب نہیں کیا گیا ہے۔

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ عرب ممالک اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے بڑے پیمانے پر امریکی اسلحہ استعمال کر کے خود کو ایران کی فوجی تیاریوں کے مقابلے کے لئے تیار کر رہے ہیں۔

ایک اعلی امریکی عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ “ہمارا اصل مقصد ایرانیوں کو اپنے ہمسایوں پر حملہ آور ہونے سے باز رکھنا ہے۔” ہمارا دوسرا مقصد یہ ہے کہ عرب دنیا کو اس بات کا اطمینان دلایا جائے کہ انہیں اپنے دفاع کے لئے نیوکلئر اسلحہ کی ضرورت نہیں۔ اس کارروائی کا مقصد جزوی طور پر اسرائیل کو بھی ٹھنڈا کرنا ہے کہ وہ خطے میں کسی جارحانہ اقدام سے گریز کرے۔

ان کوششوں کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ایران پر عالمی پابندیوں کی صورت میں کسی فوجی مہم جوئی سے باز رکھا جا سکے۔ نیز اس نوعیت کے انتظام کیوجہ سے اسرائیل کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے باز رکھا جا سکے گا۔

جمعرات کے روز امریکی سینٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس میں صدر براک اوباما کو ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اختیار سونپا گیا ہے۔ ان پابندیوں میں ایٹمی ایندھن کی برآمد بھی شامل ہے۔ اس اقدام کے ذریعے تہران کو بین الاقوامی پابندیوں پر عملدآمد کے لئے مجبور کیا جائے گا۔

ایران کئی مہنیوں سے بین الاقوامی جوہری تواناَئی ادارے کی اس پیشکش کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے کہ اس کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یورنیم کی تیاری تہران سے باہر کرائی جا سکتی ہے تاکہ اس کے نیوکلئر پروگرام پر نظر رکھی جا سکے۔
واپس اوپر

نامہ نگار القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1