یورپ میں حجاب ،نقاب کا مقدمہ ؟
شیخ عبدالمجید جرمنیMonday, February 1, 2010, 13:52
پردہ اُن اسلامی تعلیمات میں سے ایک ہے جنہیں خصوصاََ مغربی ممالک میں اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ مشرقی ممالک میں بعض کم فہم مسلمان اس بارہ میں افراط سے کام لیتے ہیں اور بسا اوقات پردہ کے نام پر عورتوں کو معروف انسانی حقوق سے محروم کر دیتے ہیں ‘ یُوں خود دوسروں ( بالخصوص مغربی دنیا) کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔جبکہ ماضی میں عورتوں کے حقوق سب سے زیادہ مغربی عیسائی دنیا میں غصب کئے گئے ۔اس لئے وہاں یہ ردعمل بھی عورتوں میں اتنی شدت سے ظاہر ہوا ہے اور پھر مغربی عورتوں نے ہرجہت اور ہر لحاظ سے مردو ں کے برابر ہونے کے جنون کا رنگ اختیار کر لیا ۔
مغربی دنیا میں صدیوں سے چھینے گئے بعض حقوق تو عورتوں کو یہاں تک مل گئے ہیں لیکن بالخصوص مغربی عورت کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی ۔ مردوں نے عورتوں کے حقوق کی بحالی اور آزادی کی آڑ میں خود اپنی تسکین اور خاص طور جنسی لذات کے حصول کیلئے انہیں معاشرہ میں مرد کا تسکین کا کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ایک طرف تو عورت کے نیم عریاں اشتہار کے ذریعہ تجارت چمکائی جاتی ہے دوسری طرف اسے مختلف ذرائع سے جنسی عیاشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ گویا پہلے بھی یہاں عورت ہی پس رہی تھی اور اب بھی اسی کی عزت اور ناموس تار تار ہے ۔
فرانس میں سیاسی اکابریں کے ذریعہ برقعہ اور نقاب پر جو شور اُٹھا ہے۔اس کی گونج برطانیہ میں بھی سُنائی دے رہی ہے ۔فرانس کی دیکھا دیکھی برطانیہ میں بھی برقع کی پابندی کا مطالبہ سر اُٹھا رہا ہے ۔دراصل یہ اسلام اور اسلامی مذہبی اقدار کے خلاف مغربی دنیا کی یہ گہری سازش ہے ۔ایسے ہرموقعہ پر مغربی میڈیا اسلامی تعلیمات کو نا قابل عمل اور فرسودگی کی علامت قرار دینے کے لئے میڈیا پروپیگنڈا سرگرم عمل نظر آتا ہے ۔برطانیہ کی بعض اخبار اور مسلم مخالف تنظیموں کی طرف سے اسلامی حجاب کے بارے میں شور مچایا جا رہا ہے ۔ ان کہنا ہے کہ برقع اور نقاب برطانوی ثقافت کے خلاف اور اس کی توہین ہے ۔اور اسلامی پردہ مسلم خواتین پر ظلم و استبداد ہے ۔یعنی ان کے نزدیک برقعہ خواتین پر ظلم و استبداد کی علامت ہے ۔مگر با پردہ خوا تین کا کہنا یہ ہے کہ ہم خود کو پردہ میں محفوظ اور آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔گویا یورپی یکطرفہ پروپیکنڈا اسلام کے خلاف ہے کہ پردہ عورت پر زبر د ستی مسلط کرد یا گیا ہے۔جبکہ مسلم خواتین جو پرد ے کی حقیقت اور مقصد کو سمجھتی ہیں کہ پردہ عورت کی عزت اور عصمت کے تقدس کی حفاظت کے لئے ہے ،پردہ ان خطرات کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے جن سے عورت کی عزت و عصمت پر حرف آ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں نا محرم مرد اور عورت کے آزادانہ میل جول اور بے راہ روی تعلقات کی سختی سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔سورة نور میں فرمایا اور مومن عورتوں کو کہہ دے( کہ وہ نامحرموں کے سامنے) اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہو۔اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں۔ ” اسلامی پردہ میں مرد عورت کو نہ صرف بد نظری سے روکا گیا بلکہ اسے تمام مناظر کو دیکھنے اور جسمانی قرب بلکہ لمس تک سے منع کیا گیا جس کے نتیجہ میں مرد عورت کے منہ زور جذبات بر انگیختہ ہو جاویں جن پر قابو پانا عام انسان کے بس میں نہ ہو۔پردہ کی تعلیم جنسی بے راہ روی کے رستہ کی دیوار ہے ۔ایک بات طہ ہے کہ اسلام آزادانہ میل جول اور مخلوط سوسائیٹی کی اجازت نہیں دے سکتا کہ ایسی مخلوط سوسائیٹی میں عورت کو کھلونا سمجھ کر اس کا استحصال کیا جائے اور وہ مرد کی ہوس کا نشانہ بنتی رہے۔اسلام عورت کے متعلق ایسا توہین آمیز طرز عمل روا رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ جبکہ اسلامی پردہ جیسی حسین تعلیم کو اس نام نہادآزادی کی راہ میں ایک رکاوٹ خیال کر کے اہل مغرب کی طرف سے ا عتراضات کئے جاتے ہیں ۔دراصل یہی تعلیم فحشاء کا واحد علاج اور معاشرہ میں پاکدامنی کے قیام کی ضمانت ہے۔ جبکہ پاکدامنی کے حفاظتی نظام کے تحت اختیار کی جانے والی تدابیر میں سے عموماً لباس کے پردہ کو ہی ا عتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور غیر مسلم اکثریت والے یورپی معاشرہ میں خصوصاً مسلمان عورتوں کے سر کے کپڑے کو ایک قسم کا اسلامی نشان سمجھا جاتا ہے۔اس امر میںتو قطعاََ کوئی شک نہیں کہ گھر سے باہر کی زندگی میں لباس کے پردہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔لیکن اسلامی تعلیمات کی رو سے عورت کا حیاء دار لباس پہننا اور سر ڈھانکنا بنیادی طورپر عصمت کی حفاظت کے لئے ایک تدبیر ہے نہ کہ عیسائیوں کی صلیب کی طرح اسلام کا کوئی نشان ۔ جبکہ آزاد منش مغربی عورت سرعام اپنے برہنہ لباس میں مردوں کے سامنے اپنی جنسی اعضا کی نمائش کرنا چاہتی ہے ۔ بہر حال یہ مسلمانوں کی خوش بختی ہے کہ حیادار لباس صرف ان سے مخصوص ہو کر ان کی پہچان بن چکا ہے۔
یورپی سیاستدانوں اسلامی اقدار اور ثقافت سے اس لئے خوف ذدہ ہیں کہ انہیں مستقبل میں یورپ میں اسلام کے عروج کاخطرہ نظر آرہا ہے۔ اس خطرہ کو انہوں نے بھانپ لیا ہے ۔اس کے پیش نظر یہ مسلم خواتین اور مسلمانوں کی اسلامی اقدار اور ثقافتی نشانات کے مٹانے کے د رپہ ہیں۔ انہوں نے اسلام کے خلاف وسیع پروپیگنڈا کا محاز قائم کیا ہوا ہے ۔ اور قانون بنائے جا رہے ہیں ۔جبکہ ایک سیکولر ریاست کے قانون کے مطابق نہ کسی مذہب کی ثقافت یا اس کی اقدار قابل اعتراض ٹھہرتی ہیں اور نہ ہی وہ سیکولر ریاست میںکسی مذہب کی ثقافت اس کے قانون کی زد میں آسکتی ہیں ۔ جو بھی چاہیے سیکولر ریاست کے قانون کے مطابق اپنی ثقافت اپنی اقدار کے تحت یا جس طرح بھی زندگی گزارنا چاہیے زندگی گزار ے ۔مگر اسلام دشمنی میں یورپ اپنے سیکولر ریاست نظریات کو تیاگ رہے ہیں ۔ حجاب نقاب پر پابندی کے لئے قانون بنائے جا رہے ہیں۔ کیونکہ اسلامی ثقافت اور اس کی اقدار یورپی سیاستدانوں کی تعصب کی آنکھ میں کھٹک رہی ہیں اور قانون کی زد میں آرہی ہیں ۔ ؟بقول حکومت فرانس اسلامی سکارف یا حجاب ان کی اقدار کے خلاف ہیں ۔اور ان کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔ مگر جب ان کے لباس کا معاملہ آتا ہے تو یہ جیسے چاہیں کپڑے پہنیں یا نہ پہنیں ‘ بازاروں میں ۔۔ ننگے پھریں ۔ ان پر کوئی قدغن نہیں ۔ بلکہ ان کی عورتیں تو سرعام اپنی جنسی اعضا کی نمائش سے مردوں سے داد چاہتی ہیں۔مگر ان کی سرعام بے حیائی بے راہ روی اور بدکاری پر کوئی قدغن نہیں مگر یہ اسلامی اقدار جو معاشرہ کو نقصان پہنچانے کے برعکس انتہائی مفید ہیں مگر ان اقدار پر قدغنیں لگانے میں یہ اپنے قانون کو حرکت میں لا رہے ہیں۔ بلکہ برطانیہ کی ایک سیاسی جماعت ”u.kانڈیپنڈنٹ” کے پارٹی کے راہنما ں لاڈ پیئرسن نے کہا ہے کہ نقاب پر پابندی کا یہ مطالبہ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہمارا صرف اتنا کہنا ہے کہ برقعہ اورنقاب کے مخالفین کا استدلال ہے کہ برطانیہ میں روبرو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کا کلچر ہے (گویا ان کے نزدیک آواز کی بجائے مشرقی عورت کا آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا ‘ان کی تہذیب کی تقلید کرنا ضروری ہے )اور اگر کوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو نہیں کرتا تو اسے قابل بھروسہ نہیں سمجھا جاتا۔ان کا کہنا ہے کہ برقعہ اور نقاب بر طانوی ثقافت کی ہتک اور توہین ہے”۔
دراصل ان کو مسلمان اقلیتوں سے بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ اپنے میزبان ملک کے اطوار اور طریقوں کو اپناتے نہیں تاکہ وہ نئی سوسائیٹی میں آسانی سے قبول کئے جا سکیں۔خواہ قبول ہونے کا مطلب یہ ہو کہ وہ اپنی بعض یا تمام اقدار روایات اور مذہبی اعتقادات کو خیر باد کہہ دیں جبکہ مسلمانوں کا مغرب میں مقیم ایک بڑا طبقہ،اپنی اقدار کے معیار کو محفوظ کرنے اور دنیا کا اسلامی زاویہ نگاہ محفوظ کرنے پر تلا ہوا ہے ۔
بلاشبہ یورپ میں مقیم مسلمان چاہتے ہیں کہ ان کو (بحیثیت) انسان پسند کیا جائے ،وہ گھل مل جانا چاہتے ہیں اور (زندگی میں) کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتے ہیں ۔لیکن ان تمام باتوں سے بڑ ھ کر وہ مسلمان رہنا پسند کرتے ہیں۔یہ وہ دکھتی رگ ہے جومغربی عیسائیوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچاتی ہے ۔وہ مسلمانوں کے روحانی اقدار سے دلی لگاؤ کو جو آج کل مغرب میں نہ ہونے کے برابر ہے ‘ ایک گہری حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دراصل کلچر کے بہت زیادہ اختلاف کے باوجود (سیکولر نظریات کی حقیقی روح کے مطابق یعنی مذہب میں دخل اندازی کے بغیر) اور عام سوجھ بوجھ اور ہمدردی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم کلچرل اختلافات کو قبول کرتے ہوئے پر امن شہریوں کے طور پر زندگی بسر کرنا سیکھیں۔
شیخ عبدالمجید جرمنی کے تازہ ترین مضامین
- رقص اقتدار ،بھٹو عروج، زوال ؟ - July 23rd, 2010
- جعلی ڈگری ہولڈر، میڈیا مذمت؟ - July 20th, 2010
- حصول آزادی ' قائداعظم' مسلمان کون؟ - July 4th, 2010
- ''نو فلائی زو ن '' عذابوں کی دستک ؟ - June 27th, 2010
- مسلم کی تعریف ' اقلیتیں غیر محفوظ ؟ - June 22nd, 2010
پرنٹ کریں


