خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات
ممتاز حیدرMonday, February 1, 2010, 13:41
عورت خواہ بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے روپ میں ہو کے بغیر انسانی معاشرہ نامکمل ہے۔ اسلام میں عورت کو انتہائی بلند مقام دیا گیا ہے۔ بیٹی ہے تو والدین کے لئے رحمت، ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی ہے۔ وہ پاکستان جہاں عورت دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئی اب عورت ہی قومی اسمبلی کی سپیکر ہے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اس کی 33 فیصد نمائندگی ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ نے بھی میدان سیاست میں خوب نام کمایا اور رعنا لیاقت علی کو گورنر سندھ کے اعلیٰ مرتبہ پر بھی فائز کیا گیا۔ عورت نے ثابت کیا کہ مرد کی طرح عورت بھی کسی طور پر کم اہمیت کی حامل نہیں ہے مگر اس کے باوجود ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کے نعرے پر حاصل کئے گئے اس ملک میں یہ صنف نازک اپنے بنیادی فرائض کے معاملے میں ہمیشہ نظر انداز کی گئی۔ اکثر دیہاتی اور قبائلی نظام میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور جاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ ونی اور کاروکاری جیسی قبیح رسم، گینگ ریپ، زنا بالجبر، جبری مشقت، مار پیٹ، بچیوں کی مرضی کے خلاف شادی، عزت کے نام پر قتل، وراثت سے محرومی اور سوا بتیس روپے حق مہر جیسے غیر عادلانہ، غیر منصفانہ، ظالمانہ اقدامات اور جاہلانہ رسم و رواج سے اسلام اور پاکستان کی عالمی سطح پر جنگ ہنسائی ہو رہی ہے جبکہ شریعت اسلامیہ اور شرعی قوانین سے ان رسوم و رواج کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ شعائر اسلامی کے سراسر خلاف اور اسلام کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کے مترادف ہے۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم عورت فائونڈیشن نے صوبہ پنجاب کی سطح پر عورتوں پر تشدد کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یکم جولائی سے 31 دسمبر 2009 کے دوران پنجاب میں عورتوں پر ہونے والے تشدد کی دوسری ششماہی کی تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے جس میں میں عورتوں پر ہونے والے مختلف جرائم میں سے24اقسام کے جرائم کا تجزیہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں تشدد کے واقعات، وجوہات، ایف آئی آر کی نوعیت، مظلوم عورت کے ساتھ جرم کرنے والے کے رشتہ کے لحاظ سے اعداد و شماراور معلومات مرتب کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں اس آخری چھ ماہ میںعورتوں پر تشدد کے2655 واقعات رونما ہوئے۔رپورٹ میں اغوائ، جنسی زیادتی انفرادی/اجتماعی، قتل، خود کشی، گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کو دیکھا گیا ہیسب سے زیادہ واقعات 30%اغوائ، اس کے بعد18%قتل کے اس میں 126واقعات غیرت کے نام پر قتل کے بھی شامل ہیں،14%جنسی زیادتی ، اور7% خود کشی کے واقعات رونماہوئے۔جبکہ اغواء کے797واقعات،جنسی زیادتی انفرادی/اجتماعی کے 374،قتل کے359،خودکشی کے195،مار پیٹ (گھر سے باہر)کے130،غیرت کے نام پر قتل کے126،اقدام خودکشی کے121،زخمی(گھر سے باہر)کے106،جنسی طور پر ہراساں /بے عزتی کے98،مار پیٹ (گھر کے اندر)کے43،ہراساں کرنا کے43،زخمی(گھر کے اندر)کے38،خرید و فروخت کے28،اقدام قتل کے24،تیزاب کے21،جان سے مارنے کی دھمکی کے21،حبس بے جاء کے14،زبردستی کی شادی کے12،جلانا کے9،ونی کے7،کالا کالی کے6،جنسی زیادتی (محرم افراد کی)کے5،چھوٹی عمر کی شادی کے3،وٹہ سٹہ کی شادی کے3 واقعات پیش آئے ہیں۔
پنجاب بھر میں ایف آئی آر کے حوالے سے تشدد کے 79%فیصد واقعات رجسٹرڈہوئے اور 17%فیصد واقعات کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔52%فیصد کیسز شہروں میں اور 48%کیسز دیہاتوں میں واقع ہوئے۔ٹوٹل 2655واقعات میں سے 2106واقعات کی ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ 100واقعات کی کہیں بھی کوئی ایف آر درج نہیں کی گئی جبکہ 499واقعات کے متعلق ایف آئی آر درج ہونے یا نہ ہونے کی معلومات نہ مل سکیں
دوسری ششماہی میں12 ایسے اضلاع سامنے آئے جہاں خواتین پر تشدد کے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔جیسا کہ لاہور15% واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر، فیصل آباد12% دوسرے نمبر پر،اورسرگودھا7% واقعات کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔لاہور میں404،فیصل آبادمیں322،سرگودھا میں191،راولپنڈی میں162،
گوجرانوالہ میں139،شیخوپورہ میں 123،قصور میں 116،ملتان میں104،سیالکوٹ میں103،جھنگ میں76،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 76،اوکاڑہ میں 73 واقعات ہوئے جن میں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا
تشدد کے 2655واقعات میں کل 3005افراد تشدد کا شکار ہوئے جن 2870خواتین وبچیاںاور135مرد و بچے شامل تھے۔اگر ان کی ازدواجی حیثیت کو دیکھا جائے تو 48%غیر شادی شدہ ، 40%شادی شدہ ، 2%بیوہ اور 1%خواتین طلاق یافتہ تھیں۔9%خواتین کے بارے میں ان کی شادی شدہ حیثیت کے بارے میں معلوم نہ ہوسکا۔تشدد کا شکارلڑکیوںمیں عمرکا تناسب اس طرح تھاکہ14%کی عمر1-18سال، 5%لڑکیوں کی عمریں19-36،اور 2%خواتین کی عمریں37سال سے زائد تھیں79%فیصد خواتین کی عمریں معلوم نہ ہوسکیں۔تشدد کا شکار ہونے والے افراد میں سے غیر شادی شدہ1444، شادی شدہ1200،بیوہ65،طلاق یافتہ33 جبکہ 265 کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا
رپورٹ میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ اغوا ء کے797 واقعات ہیں جن میں865 عورتیں اور لڑکیاں اور ان کے ساتھ25بچے بھی اغواء کیے گئے ۔اغواء کے ان واقعات میں سب سے زیادہ 59% جاننے والے لوگوں نے عورتوں کو اغواء کیااس کے بعدرشتہ دار، محلہ دار اور مقامی لوگ شامل تھے اور محرکات میںمرضی کی شادی ، بدلہ لینے کیلئے، مقدمہ بازی کی رنجش کی بناء پر، پراپرٹی اور رقم کی لین دین پر، اور بھلا پھسلا / ورغلا کر وغیرہ جیسے محرکات شامل تھے۔22% عورتوں کو اسلحہ کے زور پر، 17%لڑکیوں کو ورغلاکر اور11%کو طاقت کے زورپر اغواء کیا گیا۔379عورتوں اور لڑکیوں کو زنا با لجبر اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اس میں 5واقعات ایسے بھی ہیں جن گھر کے افراد نے اپنی ہی بچیوں کے ساتھ زیادتی کی۔ زنا با لجبر اور اجتماعی زیادتی کے واقعات میںقریبی جاننے والے، پڑوسی اورمقامی رہائشی لوگ شامل تھے ان کے علاوہ ڈاکٹر، شوہر کے بھائی، ڈاکو ، پولیس، سابقہ شوہر، وغیرہ شامل تھے۔ اور زیادہ کیسز میں محرکات جنسی خواہش کی تکمیل تھی۔زنا با لجبرکے واقعات میں10قریبی رشتہ دار ملزمان پائے گئے جبکہ زنا کے 6واقعات رشتہ نہ دینے کی وجہ سے اور 4واقعات صرف بدلہ لینے کی خاطر ہوئے۔
دوسری طرف صوبہ پنجاب میں معاشرتی زیادتیوں کا نشانہ بننے والی خواتین کو پناہ فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے دارالامانوں میں متاثرہ خواتین کی تعداد گنجائش سے دوگنی ہو نے کی وجہ سے محکمہ سوشل ویلفیئر اور متاثرہ خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صوبائی حکومت پنجاب میں ضلعی سطح پر کرائے کی عمارتوں میں قائم کیے گئے 26 دارالامانوں میں سے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران محض تین کی نئی سرکاری عمارتیں تعمیر کرانے میں کامیاب ہو سکی ہے۔حکومت پنجاب نے معاشرے میں عدم تحفظ کا شکار متاثرہ خواتین کو پناہ فراہم کرنے کے لیے رواں برس صوبہ کے 10 مختلف اضلاع میں کرائے کی عمارتوں میں قائم کیے گئے دارالامانوں کی سرکاری عمارتیں تعمیر کرانے کے لیے تقریباً 8 کروڑ 84 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کیے تھے تاہم تاحال صرف تین اضلاع میں دارالامان کی نئی عمارتیں مکمل تعمیر ہو سکی ہیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مختص فنڈز میں سے دارالامانوں کی تعمیر پر صرف دو کروڑ روپے خرچ کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے
صوبہ پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں میں خواتین کے ساتھ تشدد اور مظالم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، بعض اوقات حالات تھانے، کچہری تک پہنچتے ہیں اور متاثرہ خواتین کو اپنی زندگی بچانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ عدالتیں اپنے فیصلوں میں متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دارالامان داخل کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ صوبہ پنجاب کے دارالامانوں میں عدالتوں کی طرف سے بھیجی جانے والی خواتین اور بچوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ ہے۔ سرکاری افسران کے مطابق ہر دارالامان میں ایک وقت میں کم از کم 50 خواتین کو پناہ فراہم کی جا سکتی ہے لیکن صورتحال اس کے بر عکس ہے اور تقریباً ہر دارالامان میں اوسطاً 90 سے زیادہ خواتین رہائش پذیر رہتی ہیں۔ محکمہ سوشل ویلفیئر پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ کے کل34 دارالامانوں میں سال 2008ـ09ء کے دوران مجموعی طور پر 6616 خواتین اور 1871 بچے داخل کیے گئے۔ آٹھ ڈویڑنل دارالامانوں میں خواتین کی تعداد 2264 اور بچوں کی تعداد881 رہی جبکہ 26 ڈسٹرکٹ دارالامانوں میں4343 خواتین اور990 بچوں کو داخل کرایا گیا۔ سال2008ـ09ء کے دوران فیصل آباد کے دارالامان میں سب سے زیادہ یعنی 426 خواتین کو داخلہ دیا گیا جب کہ بہاول پور میں351 اور راولپنڈی میں 341 خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے داخل کیا گیا۔ اسی طرح راولپنڈی میں 159، فیصل آباد میں145 اور لاہور کے دارالامان میں150 بچوں کو داخل کیا گیا۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عورتوں کے خلاف جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہورہاہے جوکہ عورتوں کی ذہنی و جسمانی صحت، معاشی بد حالی اور دوسروں پر انحصار کا باعث بنتا ہے اور تشدد میں بتدریج اضافہ ان کی مسلسل معاشرتی نا برابری کا سبب بنتاجارہاہے اور یہ بحران اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہمار ی سول سوسائٹی کے نمائندے، معزز منتخب نمائندگان، متعلقہ محکموں، پولیس، محکمہ صحت، سماجی بہبود، وکلا اور میڈیاسے تعلق رکھنے والے فوری ایکشن لیکرکاروائی عمل میں لائیںاور ان بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنے کے لئے مثبت حکمت عملی اختیار کریںکیونکہ جس معاشرے میں عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔اگر چہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے گھروں میں خواتین ، بچوں اور دیگر اہل خانہ پر تشدد کے خلاف قانونی بل منظور کیا ، جس کے تحت گھریلو تشدد کرنے والے کو ایک اور دو سال تک قید اور دو لاکھ تک جرمانہ ہوگا جبکہ ایسے مقدمات کی سماعت تین دن میں شروع ہو کر ایک ماہ میں مکمل کی جائیگی، تاہم ضرورت اس پر عمل درآمدیقینی بنانے کی ہے۔ قومی اسمبلی سے ویمن پروٹیکشن بل پاس ہونے کے باوجود خواتین پرتشدد کے واقعات میں اضافہ افسوسناک امر ہے۔ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کے باعث عورتوں پر تشدد روز بروزبڑھ رہا ہے۔ خواتین کی تھوڑی بہت ترقی ان کی اپنی انفرادی کوششوں کا نتیجہ ہے ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے روک تھام کے لیے درجنوں تنظیمیں کام کر رہی ہیں لیکن ان کے فعال نہ ہونے کے باعث عورتوں کی مشکلات کم نہیں ہورہی ہیں۔تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین کا نفاذ انصاف کا فروغ اور مردوں اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے آگاہی اور تعلیم دینا اْس کی اہم ضرورت ہے۔
خواتین پر تشدد نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے ،اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے ستر فیصد خواتین تشدد کا شکار ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے 1981 میں ہرسال عورتوں پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن منا نے کی روایت ڈالی۔اقوام متحدہ نے باقاعدہ طور پر17 دسمبرسن 1999 کواعلان کیا تھا کہ 25 نومبرعورتوں پرتشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں اب بھی خواتین کو کسی نہ کسی طور تشدد کا سامنا ہے اور اکثر وہ اس کے خلاف کچھ کر بھی نہیںپاتیں۔
بلاشبہ معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق کی ادائیگی، ان کی کفالت اور ان کے مسائل کا خاتمہ حکومت کا اولین فرض ہے لہذا حکومت وقت اگر صحیح معنوں میں عوامی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر پاکستان سے ظلم و استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بالخصوص عورت پر ہونے والے مظالم کو ختم کرکے اس کے بنیادی حقوق کی ادائیگی کا سامان فراہم کر کے اسے اس کی عزت و ناموس کی پاسداری کی ضمانت دینا ہوگی تاکہ پاکستان سے تمام قبیح رسموں کا خاتمہ کرکے پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
ممتاز حیدر کے تازہ ترین مضامین
- APCNSکا اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور طلعت حسین کی رہائی کا مطالبہ - June 1st, 2010
- لوڈ شیڈنگ - April 13th, 2010
- خواتین کے حقو ق کا عالمی دن اور عافیہ - March 7th, 2010
- پاکستانی پولیس ،انسانی حقوق کی پامالیاں ، پاکستان136ویں نمبر پر - March 6th, 2010
- ناموس رسالت ۖکاتحفظ سیرت رسولۖ سے - February 4th, 2010
پرنٹ کریں



اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لکھ لکھ مارے ویں —آج لکھاں دھیان روندیاں تینوں وارث شاہ نو کہں