ناموس رسالت ۖکاتحفظ سیرت رسولۖ سے
ممتاز حیدرThursday, February 4, 2010, 18:26
ناروے کے ملعون اخبار نے امت مسلمہ کے جذبات کومجروح کرنے کے لیے گستاخانہ توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کردیے۔ خاکوں کا دوبارہ شائع ہونا امت مسلمہ اور خصوصاً مسلم حکمرانوں کے منہ پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے۔ ”آفٹن پوسٹن” اخبار کی ملعون ایڈیٹر خاکوں کی اشاعت کے بعدمسلمانوں کے جذبات کومزید اشتعال دلانے کے لیے ”جوکیا صحیح کیا” کے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اگر پہلی مرتبہ خاکے شائع ہونے کے بعد مسلمان ممالک ڈنمارک اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ سخت رویہ رکھتے۔ تجارتی وسفارتی تعلقات منقطع کیے جاتے۔ مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جاتا توآج شاید ان کودوبارہ گستاخی کی ہمت نہ ہوتی۔ وہ تو مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور مسلمان ان کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
یہودونصاری کی اسلام دشمنی صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ مذکورہ خاکے آزادی صحافت کااظہار نہیں بلکہ اسلام دشمنی کاثبوت اور کھلی دہشت گردی ہیں۔ مغرب تواسلام کومٹانے پر تلا ہوا ہے مگراسلام کے محافظ حقیقتاً اسلام کادفاع نہیں کرپارہے۔ بابری مسجد کی شہادت، قرآن مجید کی توہین، بیت اللہ کی توہین، ناروے ودیگر مغربی ممالک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر اگرامت مسلمہ کے حکمران بیدار ہوتے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا تو ناروے کو ہرگز سہ بار توہین رسالت کی جرات نہ ہوتی۔ بابری مسجد کی شہادت سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت تک امت مسلمہ کاہرفرد خون کے آنسو رو رہا ہے مگرکوئی کردار ادا نہیں کررہا۔
ماضی میں بھی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں معروف دینی تنظیم جماعة الدعوة نے تحریک حرمت رسول کے پلیٹ فارم پر تمام دینی وسیاسی جماعتوں کو جمع کیا اور پھر اس پلیٹ فارم سے ملک بھر کے تمام شہروں میں حرمت رسول کانفرنسوں کا انعقاد کرواکر اْمت مسلمہ کے غیور مسلمانوں کو بیدار کرنے کا فریضہ ادا کیا۔ تحریک حرمت رسول کے ذمہ داران کاقوم کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کرنا اور مضبوط وواضح لائحہ عمل اختیار کرنا اور خاکوں کی اشاعت کے خلاف تحریک حرمت رسول کے کنونیر مولانا امیرحمزہ کا حکومتی اراکین کوخطوط لکھنا کہ ایسے تمام ممالک سے جہاں گستاخانہ خاکے شائع کیے گئے سفارتی وتجارتی رابطے منقطع کیے جائیں، ایک عظیم جدوجہد ہے جس کی ملک بھر میں کوئی نظیر نہیں ملتی نارویجن اخبار میں دوبارہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد بھی جماعة الدعوہ پاکستان نے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم تحریک حرمت رسول پر جمع کیا اور گستاخ اخبار کی گستاخ ایڈیٹر کے چیلنج کا جواب دینے کے لئے ملک بھر میں تحفظ ناموس رسالت تحریک شروع کر دی لاہور پریس کلب کے باہر ہزاروں شمع رسالت کے پروانوں کا جلسہ،مال روڈ مسجد شہدا میں ملک بھر کی اٹھارہ دینی و سیاسی جماعتوں کا احتجاجی جلسہ،تلہ گنگ،چکوال،فیصل آباد،پشاور،ملتان،کراچی،حیدر آباد،کوئیٹہ ،سرگودھا،قصور،گجرات،راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہروں میں تحریک حرمت رسول کے احتجاجی جلسے اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ناموس رسالت پر جانیں قربان کرنے والے آج بھی زندہ و تابندہ ہیں
تحریک حرمت رسول نے حکمرانوں کو تحفظ حرمت رسول کے مسئلہ پر بیدار کرنے کے لئے پنجاب اسمبلی کے سپیکر و اراکین تک اپنا پیغام پہنچایا تحریک حرمت رسول کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ نے پنجاب اسمبلی میں سپیکرپنجاب اسمبلی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نارویجن اخبار نے توہین آمیز خاکے شائع کرکے پوری امت مسلہ کی غیرت کوکھلا چیلنج کیاہے پاکستانی عوام ناروے کی مذہبی وصحافتی دہشت گردی پرسراپا احتجاج ہیں لیکن حکومت کی طرف سے وہ ردعمل نظرنہیں آرہاجوآناچاہئے ہم قوم کا پیغام آپ کے پاس لیکر آئے ہیں کہ آپ ملت اسلامیہ کے غم وغصہ کواسمبلی کے فلورپر پیش کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کاحق اداکریں اورگستاخان رسول کوسخت جواب دیاجائے سپیکرپنجاب اسمبلی رانا محمداقبال نے کہا کہ توہین آمیزخاکوں کی اشاعت کے مسئلہ پر ہم ضرور آواز بلند کریں گے نبی اکرم ۖ کی حرمت سے بڑھ کرایک مسلمان کے نزدیک اورکوئی چیز نہیں ہو سکتی اللہ کے فضل وکرم سے وہ وقت آنے والا ہے جب مسلمان پوری دنیا کی قیادت کریں گے اس موقع پر انہوں نے یہ شعربھی پڑھاکہ
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کاشجاعت کا
لیاجائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا
سپیکر پنجاب اسمبلی رانامحمداقبال نے کہا کہ غیرمسلم ممالک میں موجود مسلمان اسلام پرزیادہ عمل کرتے ہیں سپیکرپنجاب اسمبلی رانا محمداقبال اورراناثناء اللہ نے انکی اس بات سے اتفاق کیا اورکہا کہ دین میں کوئی جبرنہیں ہے مسلمان کسی نبی کی شان مین گستاخی کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے ایسی مذموم حرکتیں کفار کی جانب سے ہی کی جارہی ہیں۔
قومی اسمبلی کی طرف سے بھی توہین آمیزخاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف قرارداد ایک مستحسن قدم ہے لیکن محض قراردادوں سے کام نہیں چلے گا حکومت کوعملی اقدام کرتے ہوئے ناروے کے سفیر کوملک بدر کرنا چاہئے اورپاکستان میں موجود ناروے کی کمپنیوں کوبھی بندکردیاجائے توہین رسالت کے مسئلہ پراو آئی سے کاکردار انتہائی حوصلہ شکن اوربے حسی پر مبنی ہے، اگر یہ ادارہ مسلمانوں کے اجتماعی مسائل پرکوئی موئثر کردارادا نہیں کرسکتا تو اسے ختم کردیاجائے ناروے کے اخبار کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت اورسوئٹرزلینڈ میں مساجد کے میناروں کی تعمیر پرپابندی کے مسئلہ پر مسلم حکمرانوں کی بے حسی افسوسناک ہے رسول معظم ۖ کی حرمت کاتحفظ اپوزیشن یاحکومت نہیں سب مسلمانوں کامشترکہ مسئلہ ہے گستاخ رسول پرمجرمانہ خاموشی اختیار کرنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے
نبی اکرم ۖ کی حرمت کاتحفظ ہرمسلمان کے ایمان کاحصہ ہے اس مسئلہ پرمسلمانوں کے جذبات آج بھی وہی ہیں جوقرون اولیٰ کے دورمیں مسلمانوں کے تھے تحفظ حرمت رسول ۖ کے حوالے سے کوئی بھی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کیاجائے گاپاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں توہین رسالت کے التوء پربے حسی کا مظاہرہ نہ کریں اوراقتدار کی سیاست سے باہر نکل کرحرمت رسالت کے اہم مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کریںاقوام متحدہ کی طرف سے ناروے کی مذہبی وصحافی دہشت گردی پرخاموشی سے مسلم حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیں مسلم ممالک اپنی الگ اقوام متحدہ بنائیں
مسلمانوں کے دین اسلام پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے ناروے اور ڈنمارک جیسے ملکوں کو گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی جرأت ہوئی گستاخان رسول کو بزور بازو نہ روکا گیا تووہ نبی اکرم ۖ کی شان اقدس میں گستاخیاں کرتے رہیں گے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پرمسلم حکمرانوں کی خاموشی اللہ کے عذاب کودعوت دینے کے مترداف ہے توہین رسالت کے واقعات پرمجرمانہ خاموشی کامظاہرہ کرنے والے حکمران وسیاستدان اپنے ایمان کی فکریں حکمران خوفزدہ ہیں کہ اس مسئلہ پرغیرت وحمیت کامظاہرہ کیا تو واشنگٹن کوکیا جواب دیں گے وہ اللہ کوراضی کرنے کی بجائے امریکہ ویورپ کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں نبی اکرم ۖ کی حرمت کاتحفظ ہرمسلمان کے ایمان کاحصہ ہے مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن نبی اکرم ۖ کی شان اقدس میں گستاخی کوکسی صورت برداشت نہیں کرسکتاحکمران تحفظ حرمت رسول کیلئے آگے بڑھیں ایٹم بم ،میزائل ٹیکنالوجی ہمارے پاس ہے کفار کی غلامی سے نکل کر انہیں جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہئے زرداری جئے بھٹو کے نعرے مارتے ہیں بھٹونے شاہ فیصل کے ساتھ ملکرمسلمانوں کو اکٹھاکرنے کی کوشش کی تھی حکمران بھی مکہ مکرمہ میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلاکر اس بات کااعلان کریں کہ آئندہ کسی نے نبی اکرم ۖ کی شان میں گستاخی کی تو ساراعالم اسلام مل کر اسکے خلاف کارروائی کرے گا صدرزرداری کہتے ہیںمیں موت کے پیچھے بھاگتاہوں انہیں مرنے کااتناہی شوق ہے توحرمت رسولۖ کاپرچم تھام کر میدان میں نکل آئیں قوم کا جمع کیاہواپیسہ سوئٹرزلینڈ کے بنکوں سے نکلوا کرحرمت رسول کیلئے وقف کردیں تمہارا اقتدار بھی بچ جائے گا وگرنہ اس کا بچنا ممکن نظرنہیں آتا
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے دنیابھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ یورپ اور دنیا بھر کے اسلام دشمن ممالک کواس بات کا تجربہ ہوچکا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کو اس طرح مجروح کرنے کا نتیجہ کبھی خوشگوار نہیں ہوسکتا۔ عالم کفر کویہ معلوم ہونا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت وعزت پر مرمٹنا اور اپنی جان دینا ہر مسلمان باعث سعادت سمجھتا ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تمام رشتوں اور پوری دنیا سے عزیز اور محبوب نہ ہوجائیں۔ سچی بات تویہ ہے کہ مسلمان کی تمام متاع ہی ناموس رسالت سے وابستہ ہے۔
وہ لوگ جو انسانی حقوق جمہوریت اور انسانیت کے بڑے دعوے دار تھے۔ جن کادعویٰ تھا وہ کسی مذہب اور عقیدے سے وابستگی کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ سب کا احترام ان کا شیوہ ہے، وہ کہاں ہیں؟ اب اس تہذیبی جنگ نے ان کے مکروہ چہرے سے نقاب الٹ دی ہے اور ان کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے آلودہ ہیں۔ چغلی، جھوٹ، حسد ودیگر گناہوں سے تو توبہ ہوسکتی ہے مگرشاتم رسول کاجرم ناقابل معافی گناہ، اس پر امت کااجماع اور اسلام کی تعلیمات کی روسے ایسا شخص واجب القتل ہے۔
بابری مسجد کی شہادت سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت تک پاکستان بھر میں احتجاجی جلسے، مظاہرے ریلیاں نکالی گئیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا مگر کیا یہ ریلیاں اور جلسے ان گستاخوں کو انجام تک پہنچاسکتی ہیں؟ نعرے لگاکر ”حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے”، ”ناروے، ڈنمارک، کفار کاایک علاج الجہاد الجہاد” ودیگر نعرے، کفن پوش مظاہرے، تحفظ ناموس رسالت کے لیے ریلیاں ناموس رسالت پرجان لٹانے کاعزم بہت ہی مبارک لیکن اب عمل کے میدان میں بھی اْترنے کا وقت ہے۔اسلامی تہذیب، دین اسلام، سیرت رسول کو اپناکر ہی ان گستاخانِ رسول کو منہ توڑ جواب دیا جاسکتا ہے۔ ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں تم جتنی گستاخیاں کرلو ہم سیرت رسول پرعمل پیرا اور دین نبی کے شیدائی ہیں جوگستاخی برداشت نہیں کرسکتے۔ موجودہ صورتحال میں ہمارے تمام نعرے کھوکھلے ہوں گے۔ مغرب ہرگز ان نعروں سے خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ مغرب امت مسلمہ کے کردار سے خوفزدہ ہے۔ وہ ان شعائر سے خوفزدہ ہے جو داڑھی ونقاب کی شکل میں ہیں۔ آج بھی سیرت رسول کو اپناکر تکبیر کا نعرہ بلندکرنے سے مغرب کے ایوانوں میں زلزلہ آسکتا ہے اور اگرآج امت مسلمہ نے اپنے آپ کو سیرت رسول میں نہ ڈھالا تو ان کی گستاخیاں مزید بڑھتی جائیں گی اور پھرہمارے نعرے صدا بصحرا ثابت ہوںگے۔
ممتاز حیدر کے تازہ ترین مضامین
- خواتین کے حقو ق کا عالمی دن اور عافیہ - March 7th, 2010
- پاکستانی پولیس ،انسانی حقوق کی پامالیاں ، پاکستان136ویں نمبر پر - March 6th, 2010
- پاکستانی جیلوں میں انسانی حقوق کی پامالیاں - February 3rd, 2010
- خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات - February 1st, 2010
- صدر کا دورہ تلہ گنگ۔۔آپ کیا کہتے ہیں - January 27th, 2010



