ترکی: غیرت کے نام پر 16سالہ لڑکی زندہ درگور
Friday, February 5, 2010, 16:40
ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک سولہ سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر بعض لڑکوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کے الزام میں اس کے خاندان نے زندہ درگور کر دیا ہے.
ترکی کی سرکاری اناطولیہ نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے صوبہ ادیمان کے قصبے کہتہ میں چالیس دن کے بعد سولہ سالہ لڑکی مدین میمی کی ایک گڑھے سے لاش برآمد کر لی ہے. اسے دو میٹر چوڑے گڑھے میں ہاتھ باندھ کر زندہ درگور کیا گیا تھا اور اس پر بیٹھنے کی حالت میں مٹی ڈال دی گئی تھی.
فورینزک ماہرین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ قبر کشائی کے بعد لڑکی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور اس کے پھیپھڑوں اور معدے میں مٹی کی کافی مقدار موجود تھی جس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اسے زندہ دفن کیا گیا تھا.
ایک ماہر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ”پوسٹ مارٹم کے نتائج بہت ہی خوفناک ہیں.لڑکی کے خون میں کسی نشہ آور چیز یا زہر کے آثار نہیں ملے اور جب اسے دفن کیا گیا تو وہ زندہ اور مکمل طور پر ہوش میں تھی”.
پولیس نے مدین کے باپ اور دادا کو اسے قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور انہیں جیل بھجوا دیا گیا ہے.
لڑکی کے والد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا خاندان مقتولہ کے اپنے مرد دوستوں کے ساتھ مراسم سے ناخوش تھا.
واضح رہے کہ ترکی کے کرد آبادی والے جنوب مشرقی علاقے میں عزت کے نام پر قتل کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور وہاں خاندانی عزت کو داٶ پر لگانے والی عورت کو ٹھکانے لگانے کے لئے متعلقہ خاندان کی ایک کونسل ایک مرد کو نامزد کرتی ہے لیکن وہاں غیر مردوں سے ناجائز مراسم کے علاوہ بھی کسی غیر مرد سے بات چیت کرنے یا راہ ورسم پیدا کرنے والی لڑکیوں یا عورتوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے.
نامہ نگار القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین
- کوئٹہ: القدس جلوس میں دھماکے سے 46افراد ہلاک - September 3rd, 2010
- Charlie bit my finger – again ! - September 3rd, 2010
- News Beat 2nd September 2010 - September 3rd, 2010
- Hasb-e-Haal 2nd September 2010 - September 3rd, 2010
- Live With Khalid Butt 2nd September 2010 - September 3rd, 2010
پرنٹ کریں

