هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

مشرف کا مشن کشمیر،ریکارڈ کہیں نہیں

مدیر القمرآن لائن

Monday, February 8, 2010, 2:51

(اخبارِ کشمیر نیوز)

ایک ایسے وقت پر کہ جب بھارت اور پاکستان کے مابین معطل شدہ مذاکراتی عمل بحال ہونے جا رہا ہے پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ صدر مشرف نے مسئلہ کشمیرپر ،بھارت کے ساتھ ،جو بھی بات چیت کی تھی اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں ہے۔

پاکستان نے ،اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہ سابق صدر کے دورِ اقتدار میں مسئلہ کشمیر پر کوئی پیشرفت ہوئی تھی ، کہا ہے کہ بات چیت کے عمل کو وہیں سے آگے بڑھایا جانا چاہیئے کہ جہاں اس عمل کو جولائی دو ہزار آٹھ میں چھوڑا گیا تھا۔

اتوار کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سابقِ دورِ حکومت میں کشمیر کے مسئلے پر بھارت کے ساتھ ’’مبینہ بات چیت ‘‘اور اس تنازعے پر ہونے والی پیش رفت کا دفترِ خارجہ کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا’’اگر اس (کشمیر) معاملے پر خفیہ یا خاموش سفارت کاری کے کسی بھی طریقے کے ذریعے کوئی بھی پیش رفت ہوئی ہوتی تو اس کا ریکارڈ دفتر خارجہ کے پاس ضرور ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے“۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس صورت میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے شروع ہونا چاہئیے کہ جہاں سے یہ ٹوٹ گیا تھا۔

یاد رہے کہ لندن میں مبینہ طور پر خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے ڈیڑھ برس قبل اقتدار سے علٰیحدہ ہونے کے بعد متعدد بار دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ ہونے والی خاموش سفارت کاری کے ذریعے دونوں ملک مسئلہ کشمیر پر ان کی (صدر مشرف کی) پیش کردہ بعض تجاویز پر اتفاق رائے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔

گزشتہ دنوں مشرف کے وزیرِ خارجہ رہ چکے خورشید محمود قصوری نے بھی اسی نوعیت کا دعویٰ کیا تھا۔

صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی ’’کشمیر پالسی‘‘ سے بہت حد تک انحراف کر کے مسئلہ کشمیر کے حل کے بطور ایک چار نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا جسکی پاکستان اور کشمیر میں کئی حلقوں نے مخالفت کی تھی۔ان حلقوں کا الزام تھا کہ مشرف کشمیر پر بھارت کے ساتھ ’’کچھ لے کچھ دے‘‘ والا ’’حل‘‘ نکالنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دفترِ خارجہ یا پاکستانی عوام اس نوعیت کی کسی تجویز یا اس پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ نہیں ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے دو طرفہ مذاکرات کے علاوہ رابطوں کے متعدد غیر سرکاری طریقے بھی عملائے جاتے رہے ہیں لیکن خفیہ، خاموش، نجی، عوامی سطح پر اور بیک چینل کے نام سے ہونے والی ان تمام کوششوں کو بھی دونوں ملکوں کی خارجہ وزارتوں کی پشت پناہی حاصل رہی ہے اور مذاکرات کے ان سبھی اقدامات کا ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جاتا رہا ہے۔

اسی بنا پر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پاکستانی وزیرخارجہ یہ کہتے ہیں کہ ایسی سفارت کاری کا ریکارڈ نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لندن میں رہائش پذیر سابق صدر اور ان کے وزیرخارجہ کے دعوؤں کی در اصل نفی کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا اگر کشمیر پر تجاویز پر بات ہوئی بھی ہے تو وہ ’’بعض افراد کا ذاتی فعل‘‘ ہو سکتا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خاموش سفارت کار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ’’یہ بھی حقیقت ہے کہ مسائل صرف باضابطہ مذاکرات ہی کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے ان کی حکومت دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔’’اب بھارتی حکومت پر بھی مقامی طور پر دباؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ انہیں بھی پاکستان کے ساتھ بات نہ کرنے کے اپنی روش تبدیل کرنا پڑ رہی ہے‘‘۔

واضح رہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد پہلی بار پاکستان کو مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی ہوئی ہے اور امید ہے کہ یہ عمل ماہِ رواں کے آخر پر شروع ہو سکتا ہے۔

مدیر القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1