هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

ماروی میمن کا بھارتی آبی جارحیت کی جائے پیمائش ہیڈ مرالہ پر خطاب

صالیحہ ناصر بٹ

Monday, February 8, 2010, 22:02

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کی مرکزی اور متحرک عوامی رہنماء ماروی میمن بھارتی آبی جارحیت کے مقام پیمائش ہیڈ مرالہ سے ملحقہ زیریں مقام پر عوامی ریلی کے شرکاء سے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کچھ یوں مخاطب تھیں ”بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کشمیر سے نکلنے والے دریائوں کا پانی ہی پاکستان کو بنجر بننے سے روک سکتا ہے کیونکہ پانی کو زمین میں وہی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو انسانی جسم میں خون کو۔ بھارتی حکمرانوں کے توسیع پسندانہ عزائم اور اس علاقے میں بالادستی کی خواہش بے تاب ہی کا یہ شاخسانہ ہے کہ وہ کشمیر پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے کے لئے ایک طرف پاکستان پر مداخلت کاری کے بے جا الزامات لگا رہا ہے تو دوسری طرف کشمیر سے پاکستان کی جانب آنے والے دریائو پر فر خا بیراج، بگلیہاڑ ڈیم، نیلم بیراج اور اس نوع کے قریباً 62 ڈیم بنا کر پورے پاکستان کو ایک صحرا میں تبدیل کرنے کے ناپاک خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے ہی کی خلاف ورزی نہیں مسلمہ بین الاقوامی آداب کے بھی منافی ہے”۔

بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں دریائے چناب کے پانی کی بندش سے پاکستان کی قومی سلامتی اور غذائی سلامتی کس طرح متاثر ہورہی ہے؟۔ آبی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کس طرح بنجر اور ریگستان بن جائیگا؟۔ ہیڈ مرالہ سے نیچے دریائے چناب دریا نہیں ایک وسیع تر بنجر و ریگستان کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے جہاں کہیں کہیں پانی کے جوہڑ نما ذخیرے یہ گواہی دے رہے ہیں کہ دریائے چناب میں پانی بھی رواں دواں ہوا کرتا تھا۔ ہیڈ مرالہ پر بھارت کی طرف سے بگلیہاڑ ڈیم کو بھرنے کے موقع پر مختلف دنوں کی پیمائش کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کا دو لاکھ کیوسک پانی چوری کیا جاچکا ہے جو آج تک واپس نہیں کیا گیا۔ بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پانی کی کمی پاکستان کے لئے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے جھگڑے اور عوام میں خوراک کی قلت کے نتیجے میں ملک کو امن و امان کی صورتحال سے دو چار کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مفکر، مدبر اور متحرک ماروی میمن حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو اپنی شعلہ بیانی سے مخاطب کرتے ہوئے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کر رہی تھیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارتی آبی جارحیت کے خاتمے تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کیونکہ بھارت نے یکطرفہ طور پر پاکستان کیخلاف دو طرفہ آبی جارحیت شروع کررکھی ہے۔ اس مقصد کے لئے مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے دریائوں پر ڈیم اور نئے ڈیموں کے منصوبے بنا کر اور دریائے کابل پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں معاونت کی آڑ میں دریائے سندھ کا پانی بھی روکنے کی سازش کررہا ہے۔

ماروی میمن جب ہیڈ مرالہ میں گجرات سے شروع ہوکر ہیڈ مرالہ پہنچنے والی ایک بھرپور عوامی ریلی سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر پُرجوش انداز میں مخاطب تھیں تو بارانِ رحمت کے قطرے گرنے شروع ہو گئے جس پر شرکاء ریلی نے ماروی میمن کی آمد کو باعث رحمت قرار دیا اور انکشاف کیا کہ دو سال سے بارش نہیں ہوئی جبکہ بھارت کی طرف سے دریائے چناب پر پانی روکے جانے کے نتیجے میں کسانوں کے لئے گزربسر زراعت بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی ہے۔

بھارتی آبی جارحیت کے حوالے سے ماروی میمن نے حق سچ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں معاہدہ سندھ طاس طے پایا اس وقت یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ آج محسوس ہورہا ہے کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں تھا اس کی وجہ پانی کے وہ مسائل ہیں جو آئے دن دونوں ممالک کے درمیان سر اٹھاتے رہتے ہیں مثلاً سلال ڈیم، وولر بیراج اور بگلیہاڑ ڈیم وغیرہ۔ اس کے علاوہ بھارت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانستان حکومت کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ وہ دریائے کابل پر ایک ڈیم بنائے۔ بھارت کے تجویز کردہ ”کاما ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ” نامی اس منصوبے میں پاکستان کا ایم اے ایف 0.5 پانی استعمال ہوگا۔ بھارت نے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے افغانستان کو ہر قسم کی تکنیکی سہولت کے علاوہ مالی معاونت کا بھی یقین دلایا ہے۔ بھارت خود تو پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لئے ترسا رہا ہے لیکن اب وہ چاہتا ہے کہ مغرب کی جانب سے بھی پاکستان کا پانی روک دیا جائے تاکہ پاکستان ایک صحرا کی شکل اختیار کرجائے۔

بھارت دریائے سندھ پر بھی مزید تین ڈیم بنانے جارہا ہے اگر ان منصوبوں پر کام کیا گیا تو یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ ان ڈیموں کے نام ”نموبازگو، دمکھڑ اور چوٹک” ڈیم ہیں۔ نموباز گو ڈیم بھارت کے علاقے لیہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر بنایا جائے گا بلکہ اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ چوٹک ڈیم دریائے سورد پر بنایا جائیگا۔ اگر ان ڈیموں میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی یا قصداً زیادہ مقدار میں پانی چھوڑا گیا تو یہ نہ صرف ہمارے مجوزہ بھاشا ڈیم کے لئے خطرناک ہوگا بلکہ سکردو شہر ، سکردو ائرپورٹ اور قراقرم ہائی وے کو بھی بہا لے جائیگا۔

بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب اور جہلم پر چالیس ڈیم اور ان دریائوں کے معاون ندی نالوں پر بارہ ڈیموں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے جن میں چار بڑے ڈیم اور سولہ چھوٹے ڈیم آپریشنل ہوچکے ہیں جبکہ 32 ڈیموں پر تعمیراتی کام برق رفتاری سے جاری ہے اور 2012ء تک ان ڈیموں کی تعمیر بھی مکمل ہو جائے گی۔ اسی طرح بھارت نے پاکستان کی تمام تر تشویش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے رواں برس ہی یکم جنوری 2009ء سے دریائے سندھ پر کارگل کے نام سے دنیا کے تیسرے بڑے آبی ذخیرے کی تعمیر کا بھی آغاز کردیا ہے جبکہ ایک آبی سرنگ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جس کے ذریعے بھارت ان دنوں دریائے سندھ کا 45 فیصد پانی کھینچ رہا ہے۔ اسی طرح حکومت بھارت نے دریائے سندھ پر لداغ کے مقام پر مزید تین ڈیموں کی تعمیر کے لئے بھی پیپر ورک شروع کردیا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت دریائے سندھ کا ایک لاکھ کیوسک پانی روک کر اپنے استعمال میں لا رہا ہے جبکہ دریائے چناب اور جہلم کا بھی کم و بیش ستر ہزار کیوسک پانی بھارت ہڑپ کررہا ہے لیکن اس سنگین صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ابھی تک بھارتی آبی جارحیت، دریائو ں کا رخ موڑنے اور پاکستان کو غذائی قحط کا شکار کرنے کے جو عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ مقام افسوس ہے کہ حکومت پاکستان ابھی تک بھارتی آبی جارحیت روکنے کے لئے کوئی دو ٹوک موقف اور واضح پالیسی اختیار نہیں کرسکی حالانکہ بھارتی آبی جارحیت پاکستان غذائی سلامتی کے لئے ہی خطرہ نہیں بلکہ بی آر بی جیسی نہر کی دفاعی اہمیت اپنی جگہ ہے یہ نہر چلتی رہے تو اس کے نیچے ٹینکوں کو روکنے کے لئے بم رکھے جاتے ہیں جبکہ بھارت کی طرف سے پانی کی بندش کی صورت میں نہر خشک ہو گئی تو اس کی دفاعی اہمیت بھی ختم ہو جائیگی۔

صالیحہ ناصر بٹ کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1