بڑھتی ہوئی مہنگائی، پھیلتی ہوئی عوامی مایوسی؟
نائلہ جوزف دیالMonday, February 8, 2010, 21:54
ابھی چند روز پہلے پبلک اور سرکاری ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے پر عوام سراپا احتجاج تھے بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ مالکان مسافروں سے منہ مانگے کرائے وصول کرتے رہے، جس سے ان کی مشکلات میں زبردست اضافہ ہوا اور وہ سراپا احتجاج نظر آتے تھے۔ پٹرول پمپس مالکان کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافے کا عندیہ دیدیا ہے، اس طرح گرانی کا اٹھنے والا یہ طوفان غریب عوام کی کمر ہمت توڑ کر رکھ دے گا۔ ان کی پریشانیوں میں ہونے والا اضافہ انہیں حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ کاش متعلقہ وزارت محکمے اور حکمران جماعت عوام کو ریلیف دینے اور گرانی سے نجات دلانے کے لئے بھی کوئی نتیجہ خیز اقدام کرتی۔ حکمرانوں کے اس قسم کے فیصلے اور عوامی مفادات سے متصادم اقدام اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ آگے بڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر راہ فرار اور پسپائی اختیار کئے ہوئے ہیں جس نے عوام کے اعتماد کو متزلزل کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر حکومت عوام کو وعدوں اور یقین دہانیوں کے سراب سے باہر نکالنا چاہتی ہے اور خود بھی پسپائی اور راہ فرار کی بجائے آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہے تو تمام سیاسی و مذہبی قوتوں، عوامی حلقوں، ماہرین معاشیات و اقتصادیات سے وسیع تر مشاورت کے بعد ایک ایسی موثر اور جامع پالیسی وضع کرنا ہوگی جو فی الحقیقت عوام کی محرومیوں اور مایوسیوں کا ازالہ کرتے ہوئے انہیں صحیح معنوں میں آزادی کی نعمتوں اور برکتوں سے بہرہ ور کر سکے۔ اس پالیسی پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ اسے نتیجہ خیز بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
پریشان حال، مایوس، غریب و نادار عوام کو ایک اور جھٹکا، پٹرول اور مہنگا، نتیجے میں سب ضروری چیزیں اورگراں۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 6.10روپے فی لٹر ایچ او بی سی کی قیمت 7.41روپے فی لٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.32روپے فی لٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2.97روپے فی لٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 3.33روپے کے اضافے کے ساتھ نئی قیمتوں کا اطلاق اتوار کی رات ہی ہوگیا تھا، ساتھ ہی ملک بھر کے بڑے بڑے شہروں کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور ملتان اور فیصل آباد سمیت متعدد شہروں میں پٹرول پمپس بند کر دیئے گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اکثر پٹرول پمپس مالکان نے رات 12بجے کے فوراً بعد نئی قیمتوں پر پٹرول کی فروخت شروع کر دی جبکہ اتوار کی شام سے ہی اکثر پٹرول پمپوں پر ڈیزل کی فروخت بند کر دی گئی تھی جس سے بسوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس لحاظ سے قطعی بلاجواز ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ایک ماہ کے دوران سات ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی جنوری 2010ء کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کافی اتار چڑھائو دیکھا گیا اور ایک ماہ کے دوران خام تیل کی قیمت 12فیصد کم ہو چکی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوراً بعد ٹرانسپورٹرز، رکشائوں اور سکول وینز والوں نے بھی کرائے بڑھانے کا عندیہ دے دیا ہے جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے اسے غریب عوام پر گرانی کا ڈرون حملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے اشارے پر غریب مکائو ایجنڈے پر عمل پیرا ہے گزشتہ دو سال کے دوران مہنگائی کا گراف گزشتہ 60سال سے بھی تجاوز کر گیا۔یہ امر بطور خاص باعث تشویش ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ غریب عوام کو دینے کی بجائے ان پر گرانی کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے اور اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا گراف بلند ہونے سے غریب عوام کی کمر ہمت ٹوٹ کر رہ جائے گی وہ ایک اذیت ناک صورتحال کا شکار ہو کر غربت و افلاس اور قوت خرید ختم ہونے کے باعث خودکشیوں پر مجبور ہو جائیں گے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بیشی کے حوالے سے یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ نہ صرف عوام کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والی کمی کے فائدے سے محروم رکھا گیا بلکہ کئی مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کرکے ان کی غربت کا مذاق اڑایا گیا پھر قیمتوں میں کمی بیشی کرتے ہوئے ڈالر اور روپے کی قیمتوں میں مناسبت کو بھی نظرانداز کیا جاتا رہا۔ پٹرول کمپنیوں کے مالکان کی مجلس مشاورت میں صارفین اور حکومت کو بھی کوئی نمائندگی حاصل نہیں۔ حکومتی اقدام سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں درپیش مالی مشکلات اور خسارے کا ازالہ ایسے ہی ذرائع سے کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کے دبائو کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ ہرگز کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں بلکہ اقتصادی شعبوں میں عوامی مفادات پر مبنی منصوبہ بندی کے قطعی فقدان کو اجاگر کرتا ہے۔ ملک کا غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی گرانی، بے روزگاری گیس و بجلی کے بحران، زائد بلوں کے اجراء ،بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور جان و مال کے عدم تحفظ کے باعث شدید محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ وہ جب دوسرے ملکوں خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک میں حکومتوں کی طرف سے عوام کو فراہم کی گئی سہولتوں اور مراعات کا ذکر سنتے اور پڑھتے ہیں تو ان کی تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں۔ سیاست، سیاستدانوں اور اپنے مستقبل پر ان کا اعتماد متزلزل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اور محاذ آرائی نے ان سے زندہ رہنے کا حوصلہ بھی چھین لیا ہے۔ یہ صورتحال جہاں سابقہ حکومتوں کی طرف سے عوام کی ضروریات اور مستقبل کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کے فقدان اور ملک میں موجود معدنی وسائل سے استفادہ نہ کرنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے وہاں موجودہ حکومت کی بے حسی اور عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں سے انحراف پر بھی دلالت کرتی ہے۔ دو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کو ورثے میں ملنے والے بحران کا نام دینا عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ آج تک ہوا اور سورج کی روشنی کے علاوہ تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر سے بجلی پیدا کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ گیس اور تیل کے معدنی وسائل کی دریافت کے لئے ماہرین طبقات الارض کی صلاحیتوں سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا حالانکہ بلوچستان، سرحد اور سندھ کے علاوہ پنجاب میں بھی گیس اور تیل کے ذخائر کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ ایندھن کا متبادل تلاش کرنے اور پٹرول کے استعمال میں کمی کے لئے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ محض پٹرولیم مصنوعات گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو ہی حکمرانوں نے معمول بنا رکھا ہے اور یہ حکومتی ذرائع آمدن میں اضافے کے لئے ان کا آخری حربہ ہے۔ کئی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے وعدے کئے گئے لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھائو کے حوالے سے بھی یہ تمام وعدے سراب ثابت ہوئے بلکہ موجودہ حکومتی اقدام کے حوالے سے ماضی میں بھی کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کی بجائے غریب عوام پر مزید بوجھ ڈال کر ان سے زندہ رہنے کا حوصلہ چھیننے کی کوشش کی گئی۔ اپنے ان اقدامات پر کسی بھی حکومت کو کبھی ندامت کا احساس تک نہیں ہوا۔
نائلہ جوزف دیال کے تازہ ترین مضامین
- اُٹھ کھڑے ہونگے عوام اور لیں گے انتقام - June 25th, 2010
- کشمیر کشمیریوں کا ہے - June 14th, 2010
- امریکی پالیسی میں تبدیلی - May 30th, 2010
- غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا - May 14th, 2010
- امریکہ سے وفاداری کے حلف بردار فیصل شہزاد کا نزلہ پاکستان پر کیوں؟ - May 11th, 2010
پرنٹ کریں


