شیخ رشید کے انتخابی دفتر پر حملہ، تین ہلاک
Monday, February 8, 2010, 19:12
![Sheikh_Rasheed_Ahmed-02[1]](http://alqamar.info/2010/uploads/2010/02/Sheikh_Rasheed_Ahmed-021-226x143.jpg)
راولپنڈی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نامعلوم افراد کے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے جبکہ فائرنگ کے باعث ان کے چار محافظ ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ۔
شیخ رشید کو طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔ ایم ایس ڈی ایچ کیو کے مطابق شیخ رشید کو گولی نہیں لگی بلکہ وہ زمین پر گرنے کے باعث زخمی ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55 میں اپنے مرکزی دفتر واقع محمدی چوک خیابان سرسید میں الیکشن میٹنگ کے بعد قریب ہی کارنر میٹنگ میں خطاب کرنے کے لیے جا رہے تھے ۔
ان کے ہمراہ ان کے کارکنان بھی تھے کہ اس دوران 4 مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی ۔ عینی شاہدین کے مطابق چاروں مسلح افراد کی فائرنگ سے بھگڈر مچ گئی جس سے شیخ رشید احمد کے 3 محافظ ارشاد عرف شاد‘ انوار عرفی انواری اور جاوید موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ شیخ رشید احمد بھگدڑ کے دوران ٹانگ پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ ان کے کارکن الیاس عباسی اور پی ایس محمد حسن بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈی ایچ کیو کے ایم ایس نے بتایا کہ شیخ رشید احمد کے پاؤں پر چوٹ لگی ہے جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوئے ہیں ا وران کی حالت خطرے سے باہر ہے جاںبحق ہونے والے 3 افراد کی لاشیں ہولی فیملی ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔
عوامی مسلم لیگ کے کارکنان بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور مسلم لیگ(ن) ‘ نوازشریف ‘ شہباز شریف ‘ چوہدری نثار علی خان ‘ حنیف عباسی اور شکیل اعوان کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔
کارکنان نے ٹائر جلا کر سڑک ا ور چوک بلاک کردئیے جبکہ سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور ان کے بھائی راجہ ناصر ‘ پیپلزپارٹی راولپنڈی کے صدر عامر فدا پراچہ اور پوٹھوار ٹاؤن کے ناظم حامد نواز راجہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اس موقع پر جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے بھی شدید احتجاج کیا ۔ فوری طور پر پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔شیخ رشید کے پی اے جاوید قریشی کے مطابق حلقہ این اے 55 کے انتخابی دفتر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس سے شیخ رشید کے پاؤں پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ ان کے چار محافظ جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
فائرنگ سے انتخابی دفتر کے باہر کھڑی متعدد گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے شیخ رشید پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ کہ رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کمشنر راولپنڈی کو واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف ‘ چاروں صوبائی وزرائے اعلی ‘ چاروں صوبائی گورنرز سمیت جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن ‘ قاضی حسین احمد ‘ عمران خان ‘ الطاف ‘ ڈاکٹرفاروق ستار‘ جاوہد یاشمی ‘چوہدری شجاعت حسین‘ مشاہد حسین سید ‘ چوہدری پرویز الہی اور دیگر رہنماؤں نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے
و فاقی وزیر رحمن ملک نے قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملے کی مکمل تحقیقات کر کے ایوان کو پیش کی جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ شیخ رشید پر 6:15 پر اس وقت ہوا جب وہ انتخابی جلسے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جس میں چار افراد موقع پر جاں بحق جبکہ شیخ رشید سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور اس حوالے سے وفاق صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ملکی ایجنسیوں پر ایسے الزامات نہیں لگائے جانے چاہیں
شیخ رشید احمد
پاکستانی سیاستدان۔ سابق وزیر ثقافت ۔ وزیر ریلوے۔ وزیر اطلاعات و نشریات۔ 1950ء میں روالپنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ سیاست کے میدان میں طالب علمی کے زمانے ہی میں قدم رکھ دیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں جب صدر ایوب کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پھر جب گورڈن کالج میں داخلہ لیا تو کالج کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ 1992ء مں ایم اے سیاسیات کرنے کے بعد تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی ۔ لیکن جلد ہی ان سے علیحدہ ہو گئے۔ 1984ء میں بلدیاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ محمد خان جونیجو کے عہد میں آزاد پارلیمانی گروپ کے سب سے فعال رکن تھے جس کے سربراہ فخر امام تھے۔ 1988ء کے عام انتخابات میں اپنی شعلہ بیانی اور پر زور عوامی خطابات کے بل پر پیپلز پارٹی کے امیدوار جنرل ٹکا خان کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1990 سے 1993ء اور پھر 1997ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔ محمد نواز شریف کے پہلے دور میں شیخ رشید صاحب کو پہلے مشیر اطلاعات و نشریات ، پھر وزیر صنعت و حرفت مع اضافی چارج سیاحت و ثقافت مقرر ہوئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسمبلی اور اسمبلی سے باہر ان کی بلند بانگ تنقید کو روکنے کے لیے ان کی لال حویلی میں ایک عدد کلاشنکوف رکھنے کے جرم میں جیل بھیج دیا ۔ چند ماہ کی قانونی کاروائی کے بعد رہائی پائی۔ 1997ء کے الیکشن میں کامیاب ہو کر میاں نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر شامل رہے۔ سن دو ہزار دو میں پرویز مشرف کی چھتری تلے ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے بعد میں مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پہلے وزیر اطلاعات اور پھر وزیر ریلوے بنے۔ پرویز مشرف کے مداحوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ سن 2008ء کے الیکشن میں جناب مخدوم جاوید ہاشمی کے ہاتھوں شرمناک شکست کھائی۔ جس کے بعد مسلم لیگ ق سے علیحدہ ہو کر عوامی مسلم لیگ نام کی ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی۔ آج کل سیاست میں ایک دفعہ پھر سرگرم ہیں اور پنڈی سے ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ان کا عوامی انداز ، سکینڈلز ، لال حویلی اور سیاسی پیشن گوئیاں ہیں۔
عتیق الرحمان کے تازہ ترین مضامین
- بلوچستان: بم دھماکے سے 4 افراد ہلاک، 10 زخمی - January 28th, 2010
- شازیہ قتل کیس: چوہدری نعیم ایڈووکیٹ کا تین روزہ ریمانڈ - January 26th, 2010
- پاکستان کو دوسرے ون ڈے میں بھی شکست - January 24th, 2010
- NROپر حکومت کی خصوصی مشاورت - January 22nd, 2010
- اداکارہ آسن بے روزگار ہو گئیں - January 22nd, 2010


