کراچی، ممبئی اور کشمیر۔۔۔!
Wednesday, February 17, 2010, 8:32
(گوہر گیلانی،جرمنی)
اگر کراچی میں عمران خان کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا تو ممبئی میں راہل گاندھی ’از ناٹ ویلکم‘۔ ایک شہر میں متحدہ قومی موومنٹ کی ’لاٹھی‘ کا زور ہے تو دوسرے میں شیو سینا کی ’تلوار‘ کی دھار تیز ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی اور ممبئی میں یہ سب کچھ سیاست کی آڑ میں کیا جاتا ہے۔ ان دو بڑے اور اہم شہروں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ نہ صرف یہ شہر اپنے اپنے ملکوں کے لئے اقتصادی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ ان شہروں میں لسانی بنیادوں پر سیاست کا بھی خاصا اثر ہے۔
لسانی بنیادوں پر جھگڑے، تفریق اور سیاست کافی عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ یوں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اس پرانی بات میں ہی اصل بات چھپی ہے!
بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ’جے مہاراشٹر‘ کا نعرہ اتنی شدت اختیار کر چکا ہےکہ اب ’جے ہند‘ بولنے والے قوم پرستوں کو بھی یوں لگنے لگا ہےکہ شیو سینا جیسی تنظیمیں اپنے جذباتی نعروں اور سخت گیر موقف سے ’انڈین نیشنلزم‘ کو ہی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال سچن تندولکر کا وہ بیان ہے کہ انہیں مراٹھی ہونے پر فخر تو ہے مگر سب سے پہلے وہ ایک ہندوستانی ہیں اور یہ کہ ممبئی پورے بھارت کا ہے۔
اگر بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں شیو سینا کی ’ہٹ دھرم‘ سیاست کا اثر ہے تو پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں ’ایم کیو ایم‘ کا موقف اتنا سخت ہےکہ ملک کو سن 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ کا اعزاز دلانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عمران خان کو ہی اس شہر میں آنے کی اجازت نہیں۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
بھارت میں ابھی حال ہی میں شدت پسند ہندو تنظیم شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے ممبئی کے تمام سنیما گھروں کے مالکان کو شاہ رخ خان کی نئی فلم ’مائی نیم از خان‘ دکھانے سے خبر دار کیا تھا۔ بال ٹھاکرے کے بیٹے اُدے ٹھاکرے نے اپنے والد کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اس دھمکی کی وجہ آخر تھی کیا؟ کچھ زیادہ خاص نہیں!
لاکھوں کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والے بالی وُڈ سپر سٹار شاہ رخ خان نے ایک ٹیلی وژن شو میں بس اتنا کہہ دیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی کرکٹ کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بہت اچھا کھیلتے ہیں۔ شاہ رخ کے منہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کی تعریف، بھلا یہ ہو کیسے سکتا ہے!
شیو سینا کو پاکستانی کھلاڑیوں کے حق میں شاہ رخ کے منہ سے نکلے ہوئے یہ چند جملے پسند نہیں آئے۔ شاہ رخ کی غلطی صرف اتنی تھی کہ انہوں نے یہ حقائق بیان کئے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی چیمپیئن ہے، اس کے چند کھلاڑی دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور اسی لئے انہیں انڈین پریمیئر لیگ IPL کے تیسرے ایڈیشن کی نیلامی کے دوران خریدا جانا چاہیے تھا۔ بالی وُڈ سپر سٹار شاہ رُخ خود انڈین پریمیئر لیگ میں ایک ٹیم ’کولکتہ نائٹ رائیڈرز‘ کے شریک مالک بھی ہیں۔
بس پھر کیا تھا؟ شاہ رخ کی یہ سچی باتیں شیو سینا کے گلے سے نہیں اتریں۔ شیو سینا نے فوراً دھمکی دی کہ ان کی نئی فلم ’مائی نیم از خان‘ ممبئی میں تب تک ریلیز نہیں ہوسکتی جب تک کہ یہ بالی وُڈ سٹار اپنے الفاظ واپس نہیں لیتے اور معافی نہیں مانگتے۔ شیو سینا کے نزدیک شاہ رخ نے ایک ایسے ملک کے کھلاڑیوں کی تعریف کی، جو مبینہ طور پر اپنی سرزمین سے دہشت گرد بھیج کر بھارت پر حملے کرواتا ہے۔
ایک لمحے کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ پاکستان کی سرزمین سے بھارت کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ شیو سینا بہار، اتر پردیش اور اپنے ہی ملک کی دیگر شمالی ریاستوں سے ممبئی کا رخ کرنے والوں پر جان لیوا حملے کیوں کرتی رہی ہے؟ کیا بہار اور اترپردیش کے باشندے بھی پاکستان کے حامی ہیں؟ کیا وہ بھی ممبئی پر حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل ہیں؟
’جے مہاراشٹر‘ کا نعرہ دینے والے شیو سینکوں کے نزدیک ممبئی مراٹھیوں کا ہے۔ یہاں لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہےکہ مراٹھی مہاراشٹر میں رہنے والے لوگوں کی مادری زبان ہے۔ شیو سینا کو آسٹریلوی کرکٹرز بھی پسند نہیں اور وہ کئی بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ ممبئی میں کھیلے جانے والے آئی پی ایل میچوں میں آسٹریلوی کرکٹرز کو شرکت کرنے سے زبر دستی روکا جائے گا۔
ممبئی میں یہ ہیں حال شیو سینا کے ’سینیکوں‘ کے۔ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ’ساتھیوں‘ کے حال بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ایک جگہ ’سینک‘ تو دوسری جگہ ’ساتھی‘۔ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاست بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ مخالف آوازوں یا قوتوں کو نہ تو سنا جا تا ہے اور نہ انہیں برداست کیا جاتا ہے۔ ان ’ساتھیوں‘ کو پختونوں سے بھی مسئلہ ہے اور پنجابیوں سے بھی۔ لسانی بنیادوں پر اس سخت گیر پالیسی اور حکمت عملی سے آخر کیا حاصل کیا جاتا ہے، سوائے سستی میڈیا پبلسٹی کے؟
ممبئی اور کراچی کا روگ اب آہستہ آہستہ کشمیر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ کشمیر میں سرگرم سخت گیر موقف کے حامل چند ایک مٹھی بھر سیاست دان اور دکان دار بہاریوں کی کشمیر آمد سے ناراض ہیں۔
لاکھوں کشمیری کولکتہ جا کر شال کا کاروبار تو کر سکتے ہیں، نئی دہلی جاکر ملازمتیں اور تجارت کر سکتے ہیں، بھارت کی دیگر ریاستوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں لیکن بہار اور راجستھان سے کشمیر کا رخ کرنے والا ایک غریب مزدور کشمیر نہیں آ سکتا؟ بھارت سے انصاف کا تقاضا کرنے والی کشمیری قوم کے سامنے ایک سوال یہ ہے کہ بہاریوں سے نفرت کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ’کشمیریت‘ پر ناز کرنے والے کشمیریوں کو یہ بات زیب نہیں دیتی۔۔۔
نوٹ: گوہر نذیر گیلانی ایک کشمیری صحافی ہیں اور گزشتہ چار برسوں سے جرمنی کے شہر بون میں مقیم ہیں، ڈوئچے ویلے (وائس آف جرمنی) اردو سروس کے ساتھ بطور ایڈیٹر منسلک ہیں۔”گوہر نے یہ کالم خاص اخبارِ کشمیر کے لیے لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارۂ اخبارِ کشمیر)
مدیر القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین
- مسلم لیگ ق کے تمام ممبران اسمبلی و سینیٹر اپنی تعلیمی اسناد مسلم لیگ ہاؤس میں جمع کروائیں ، چوہدری شجاعت حسین - July 12th, 2010
- فٹبال ورلڈ کپ ختم ، یوروگوائے کے ڈیاگوفورلان کو بہترین کھلاڑی اور جرمنی کے تھامس مولو کو گولڈن بوٹ ایوارڈ دیا گیا - July 12th, 2010
- پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ کل ( منگل ) سے شروع ہوگا - July 12th, 2010
- آرمی چیف جنرل کیانی سے امریکی سفیر پیٹرسن کی ملاقات - July 12th, 2010
- ایران جیسی نا معقول حکومت کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو - July 12th, 2010
پرنٹ کریں


