هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

بھارتی آبی جارحیت اور قومی یکجہتی کے تقاضے

شاہین اختر

Friday, February 19, 2010, 14:21

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

موجودہ قومی و بین الاقوامی حالات، خطے کی صورتحال، اندرون ملک بعض حصوں میں جنگ جیسی کیفیت اور دہشت گردی کی وارداتیں پوری قوم سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ زیادہ بالغ نظری کا مظاہرہ کرے۔ عوام جن مسائل کا سامنا کررہے ہیں، ان کا پوری طرح احساس و ادراک نہ صرف سیاسی قائدین کی ذمہ داری ہے بلکہ تمام صاحبان فکر کو اپنے اپنے دائروں میں ان پر سنجیدگی سے غور و خوض کرکے ۔تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔ معیشت کی کمزوری، بجلی کے فقدان، مہنگائی کے سیلاب اور بیروزگاری سے نیم جان غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات بڑھتے بڑھتے ناقابل برداشت حدوں تک پہنچنے لگی ہیں۔ پانی کا مسئلہ بھی اب سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ بھارت نے چناب اور جہلم دریائوں پر 70سے زائد ڈیم بناکر اور دریائے سندھ کا پانی سرنگ کے ذریعے چوری کرکے لاکھوں ایکڑ اراضی کو زرعی پیداوار سے محروم کردیا ہے۔ وطن عزیز کے لہلہاتے کھیتوں کو صحرا میں تبدیل کرنے کا یہ منصوبہ 18کروڑ پاکستانیوں کی شہ رگ پر خنجررکھنے کے مترادف ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے زیاہ اتحاد، زیادہ یک جہتی اور زیادہ ہم آہنگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے دکھوں، پریشانیوں اور مصائب کے ازالے کے لئے مربوط اور جامع کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اس مرحلے پر مزید مسائل پیدا کرکے قوم کی مشکلات میں اضافہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے درمیان تین گھنٹے سے زیادہ طویل ملاقات کے نتائج ملک کے مفاد میں بہت حوصلہ افزا رہے ہیں۔ ملاقات کے بعد وزیراعظم نے جو اعلان کیا اس کے مطابق 13فروری کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کی جگہ نئے نوٹیفکیشن نے لی ہے جس کے تحت جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ میں بھیج دیا گیا ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو عدالت عظمیٰ میں ایڈہاک جج مقرر کیا گیا ہے اور جسٹس خواجہ شریف لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رہیں گے۔ اعلیٰ عدالیہ میں ججوں کی خالی اسامیاں فوری طور پر پوری کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ مذکورہ ملاقات کے نتیجے میں آگے چل کر اہم مقدمات میں آنے والی ممکنہ رکاوٹوں کو دور کرنا آسان ہوگا اور آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ ملک بھر میں اس کا خیرمقدم کیا جائے گا کہ سیاسی قیادت نے تدبر کا مظاہرہ کیا۔ اپنے موقف کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اسی طرح جناب چیف جسٹس کی طرف سے بھی ملک کے عین مفاد میں ایسی کشادہ دلی کا ملک کا مظاہرہ کیا گیا۔ جسے بعض حلقوں نے ناپسندیدہ قرار دیا لیکن ملک کی اکثریت نے اس کو دلی طور پر سراہاہے۔

پچھلے کئی روز کے واقعات اور قانونی نکات پر نئی بحث چھڑنے کے بعد بلاشبہ ملک میں کشیدگی کی ایک ایسی کیفیت کا تاثر ملتا رہا ہے جس کے باعث کئی حلقے موجودہ نظام اور جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں اندیشے محسوس کررہے تھے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث و تکرار اور ہنگامے کی فضا، سڑکوں پر وکلا کے گروپوں کا آمنے سامنے نظر آنا، حکمراں پیپلزپارٹی اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی ریلیاں اور رہنمائوں کے پتلے جلانے کے واقعات سے عام لوگوں کی معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہورہی تھی۔ اس منظرنامے میں جب وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بدھ کی رات بغیر اطلاع کے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے ریٹائرڈ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے میں پہنچے تو اس سے سب ہی کو ایک خوشگوار کیفیت کا احساس ہوا۔ صحافیوں سے گفتگو میں بدھ کے روز تین بجے عوام کو خوشخبری سنانے والی بات، کھانے کے لئے چیف جسٹس کی میز پر بیٹھنا اور ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک دوستانہ انداز میں تقریب میں وزیر اعظم کی موجودگی کو حکومت کے دو کلیدی اداروں کے درمیان پیدا شدہ خلیج کو پاٹنے میں پہل کاری کے طور پر دیکھا گیا اور یہ تاثر نمایاں ہوا کہ انتظامیہ عوام کے اس اضطراب کو محسوس کررہی ہے جو پچھلے کئی روز کے معاملات کے باعث ان کے اعصاب اور عام کاروباری زندگی پر بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم کی طرف سے ججوں کی بحالی سے متعلق ان کے پیر کے بیان کے بارے میں وضاحت سامنے آچکی تھی اور وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو ٹیلیفون پر گفتگو میں لاہور ہائیکورٹ سے ان کے نااہلی کی درخواست مسترد ہونے پر مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ججوں کی تعیناتی کے مسئلے پر پیدا شدہ بحران جلد خوش اسلوبی سے حل کرنے کی یقین دہانی بھی کراچکے تھے۔ وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے عشائیے میں جاکر اور عزت مآب چیف جسٹس نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کرکے اچھی مثال قائم کی ہے اور صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ جناب گیلانی کا کہنا تھا کہ ”جہاں غلطی ہوتی ہے وہاں اس کی اصلاح بھی ہوسکتی ہے”۔

قوم کی بھی یہی خواہش ہے کہ جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرے، قومی ادارے ٹکرائو سے بچتے ہوئے اپنے اپنے دائروں میں رہ کر کام کریں اور جمہوری روایات مستحکم ہوں۔ ہم ان کالموں میں گزشتہ روز بھی اس ضرورت کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ سیاسی قائدین آپس میں سرجوڑ کر بیٹھیں اور قوم کو درپیش آئینی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر پوری دل سوزی کے ساتھ مشاورت کریں۔ جب ملک میں جمہوری نظام موجود ہو اور عوام کی منتخب پارلیمینٹ کام کررہی ہوتو سارے معاملات پارلیمینٹ میں زیر بحث لائے جاتے ہیں۔ سڑکوں پر ریلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں نے اچھا کیا کہ اپنی اپنی ریلیاں منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح کارکنوںکے درمیان تصادم کاخطرہ ٹل گیا۔

شاہین اختر کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1