هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

تم کوہماری عمرلگ جائے۔۔۔!

مدیر القمرآن لائن

Friday, February 26, 2010, 19:33

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

(مشتاق فریدی)

دیہات وشہر کی دوسری لڑکیوں کی طرح ایک دہقان کی دختر بلند اختر ہادیہ بھی بے شماراَرمان لئے یونیورسٹی میں حصول علم کے لئے آگئی ۔ ہادیہ اسم باسمیٰ تھی، اس کادل و دماغ ہدایت کے نور سے دُھلا ہوا تھا ،اس کی رفتار وگفتار ،اس کے فکر وخیال سے حلاوت وپاکیزگی کی کرنیں چھن چھن کر آتی تھیں ، اس کا سراپا عفت وحیاداری کا مہکتا ہوا پیکر لگتا تھا ، یہ کم آمیز کم گو،راست گو ۔غرض یہ کہ ہر لحاظ سے نیک خُو۔لگتا تھاکہ اس نے رابعہ بصری(رح) سے فیضانِ نور حاصل کیاہے ۔ ان صفات عالیہ کی وجہ سے یونیورسٹی بھر میں اسے قابل رشک طرہ امتیاز حاصل تھا۔ پرنسپل ،پروفیسر ہی نہیں بلکہ کلاس فیلوز بھی ہادیہ کا بے حد احترام کرتے ۔

نماز کا وقت آتا تو یہ چپکے سے کلاس روم سے نکل کر کانفرنس ہال کے پیچھے درختوں کی اوٹ میں جاکر فرض نماز پڑھ لیتی اور کوشش کرتی کہ نماز پڑھنے کا راز افشاءنہ ہوجائے کیونکہ ریاسے اس قدر ڈرتی تھی جیسے سانپ سے ۔ ماہ وسال خیر وخوبی سے گذرتے رہے ، فائنل ائیرمیں پہنچتے ہی یونیورسٹی میں نووارد اکرام کو اپنی طرف مائل ہوتے محسوس کیا۔ اکرام بھی دیندارگھرانے کا چشم وچراغ تھا ، اس کا مزاج سمندرکی طرح گہرا مگر خاموش ، ذہانت وفطانت میں لاجواب ، اس کی پاکیزہ سیرت کی خوشبو دورسے ہی مشامِ جاں کو فرحت بخشتی ۔ چہرے پرکمال کی سنجیدگی ، آنکھیں ہروقت جھکی ہوئیں ۔ یوں لگتا تھاکہ عضِ بصر کی آیت مبارکہ پر وہ بالفعل عامل ہے ۔ ہادیہ بھی اس کی پرکشش شخصیت کے پرتَو سے متاترہوئی لیکن جونہی اکرام کا خیال غیر شعوری طور ذہن میں آجاتا تو یہ خیال کو فوراً جھٹک دیتی اور خالی الذہن ہوکر اپنی منزلِ مقصود کی طرح رواں دواں ہوتی ۔ اس کے سامنے اس وقت زندگی ایک بڑا چیلنج تھی ،جس کو سرکرنا اس کی ترجیحات میں سرفہرست تھا ۔ وہ کبھی کبھی خودکلامی میں کہہ اٹھتی ع ابھی….امتحان اور بھی ہیں ۔

چونکہ جوانی اپنے فطری تقاضوں ،بشری احساسات پر رقصاں ہوتی ہے ۔ متاثر کن واقعات سے اعراض کرتے ہوئے اوراحتیاط برتنے کے باوجودبھی انسان کے نازک جذبات میں غیر شعوری طور ارتعاش کی لہریں اُٹھ ہی جاتی ہیں ۔

ہادیہ اور اکرام دونوں اپنے کاموں میں مگن اپنے اپنے راستو ں پر انہماک سے قدم بڑھائے جارہے تھے مگر ایک دوسرے کے سائے بارہا آپس میں اتصال کی صورت اختیار کرہی لیتے ۔ اسی دھیمی دھیمی جذبات کی آنچ سے مستقبل کوروشن کرنے کے خیال سے دونوں محوسفر رہے ۔ فائنل امتحانات دونوں نے بھرپورتیاری اور مکمل اعتماد کے ساتھ دیا۔امتحانات سے فارغ ہوکر دونوں کوفراغت نصیب ہوئی اور اب مستقبل کونئے آب وتاب سے جِلا دینے کے منصوبہ اپنی اپنی جگہ ترتیب دیتے رہے ۔

اِس احساس سے کہ زیادہ دیر خاموشی اختیارکرنے سے کف افسوس نہ ملنا پڑے ، اکرام نے اپنی بہن کی سہیلی سے دل کا ماجرابیان کیا۔ شیرین نے حسنِ انتخاب پر مبارک باددی اور کہاکہ ایسی لڑکی پر حوریں بھی نازکرتی ہیں اور ہفتہ کے بعد موقعہ پاکر ہادیہ سے اکرام کی بات کی۔ ہادیہ سن کر شرم وحیاءسے چھوئی موئی کی طر ح سمٹ کے رہ گئی ۔ نورِ تقدیس میں ڈوبا ہوا اس کا چہرہ گلنار کی طرح سرخ ہوگیا ، اس کی دوشیزگی نے خوشگوار پندارسے انگڑائی لی ۔ قریباً آدھ گھنٹہ سکوت اختیار کرنے کے بعد ہادیہ نے دبی زبان میں حامی بھرلی اور کہا امی جان سے بات کرنا ۔

شیریں کو یوں محسوس ہواکہ اس نے ہمالیہ کی اُونچی چوٹی جست لگاکر سر کرلی ہے ۔ آکر اکرام اور اس کی بہن کو اپنی کامرانی بتائی ۔دوسرے دن ہادیہ کی امی سے بڑے اعتماد کے ساتھ رشتے کی بات کی ۔ بیگم خان نے سنتے ہی تلخ لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ، شیریں میں اکرام کو اچھی طرح جانتی ہوں ۔ایسا شریف اورمثالی نیک جوان چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتاہے مگر اس کی والدہ کا حال تو تم جانتی ہو ۔ اب تک تین بیٹوں کی شادیاں کیں ، ہر ایک بہو نے روتے روتے الگ گھر بسایا ۔ ہربہو کے ساتھ اس نے چڑیل جیسا سلوک کیا ، آپ کو معلوم ہی ہے کہ کوئی بھی بہو خالی ہاتھ نہ آئی ، ہر ایک نے کم از کم چار پانچ لاکھ کا جہیز ساتھ لایا ۔میں اپنی پیاری بیٹی کو جان بوجھ کر جہنم میں کیسے دھکیل سکتی ہوں؟مانا کہ کل اکرام بھی الگ گھر بسا لے گا لیکن اسے ماں نہ معلوم کیا کیا بدعادے گی جس کا خمیازہ میری لاڈلی ہادیہ کو بھی بھگتنا پڑے گا ۔

بیگم خان کی یہ تلخی بھری باتیں سن کر شیریں مایوس ہوکر اُٹھی اور دوسرے دن موقعہ پاکر ہادیہ کو بڑے تاسف کے ساتھ اپنے ڈائیلاگ پروسس سے آگاہ کیا۔ ہادیہ نے سن کر یہ محسوس کیا کہ جیسے یہ سیڑھی کے آخری زینے پر پہنچ ہی رہی تھی کہ کسی نے اس کے پیروں سے سیڑھی کھینچ لی۔ بقول شاعر

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند

دوچارہاتھ چاند لبِ بام رہ گیا

ہادیہ کے جذبات کو اس قدر ٹھیس پہنچی کہ اس نے کئی بار سوچاکہ اب مجھے زندہ رہنا چاہئے یا نہیں ۔ وہ حیران ہوگئی کہ ایک کے گناہوں کی سزا دوسرے کو بھی دی جاسکتی ہے؟ آخر ہماری تعلیم ،تہذیب وتربیت محض ایک سراب ہے ۔ اس کا موڈخراب ہوا اور مزاج میں تکدر ،ہفتہ بھر رہا۔ اس کے بعد اپنی ہم عمر خالہ جان سے کہا ، امی جان سے کہو مجھے کسی لفنگے کے پلے باندھنے کی نہ سوچے ، شادی کے بعد کے حالات سے میں خودنپٹا لوں گی ۔

شائستہ نے بڑی بہن بیگم خان سے کہا دیدی ہادیہ نے جو فیصلہ کیاہے اس کو دل سے قبول کرلو ۔ ایسا نہ ہو کہ ہادیہ کوئی انتہائی اقدام اٹھائے، جہاں تک اس کے انتخاب کا تعلق ہے اس میں کوئی بھی شخص کلام کرنے کی جرات ہی نہیں کرسکتا ہے ۔بیگم خان نے صبر وتحمل سے شائستہ کی باتیں سنیں …. مرحوم شوہر کے بڑے بھائی اوردیگر رشتہ داروں سے صلح مشورہ کیا ، سبھوں نے رشتہ پسند کیا اور دوسرے دن شائستہ کو بلاکر کہا ہادیہ کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے ہم نے رشتہ قبول کرلیا ہے۔ اب اکرام کے گھروالوں کو شادی کی تیاری کے لئے کہو۔

دومہینوں کے بعد نہایت سادگی سے شادی بخیر وعافیت انجام پائی …. ہادیہ نے نئے گھر میں قدم رکھتے ہی ہرچیز کا ژرف نگاہی سے جائزہ لیا ۔ ساس کے مزاج کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر خیر کھنگالنے لگی اور چند دنوں کے بعد ہی یہ حکمت عملی اختیار کی کہ بازار جاتی تو ڈھیر سارے گفٹ لے آتی اور ساس کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ رکھ دیتی ۔ کبھی قیمتی جوڑا لاکر ساس کے ہاتھ میں تھمادیتی ، اس کی ساس کو کھٹی اور نمکین چیزیں کھانے کا بہت شوق تھا ۔ بازار جاکر چُن چُن کر یہ چیزیں لے آتی اور قرینے سے ساس کے سامنے رکھتی اور اپنے مہندی بھرے ہاتھوں سے بڑے پیار سے کھلاتی ۔ کبھی آم کا گودا اور لیچی دودھ کے گلاس میں ڈال کر گاڑھا مشروب بنالیتی ۔ اس میں کاجو ،بادام کی گری کوٹ کوٹ کر ڈالتی اورکہتی اماں جان دیکھو تو ذرا کتنا ٹیسٹی شربت ہے ۔غرض یہ کہ ہادیہ بہو نہیں بلکہ خادمہ بن کر ساس کے سامنے رہتی ۔

کربھلا ، ہو بھلا کے مصداق بیگم خان ہادیہ کے اس روّیے سے اس قدر متاثر ہوگئی کہ اس پر جان چھڑکنے لگی اور محلے والے حیران ہوکر رہ گئے کہ ہادیہ نے ساس پرکیا جادوکیا کہ اس کی بلائیں لیتی رہتی ہے ۔بات بات پر کہتی ہادیہ بیٹی تمہارے صدقے جاوں، تمہیں میری عمر لگے ۔ شادی کے تین مہینے کے بعد اکرام اورہادیہ حج پرروانہ ہوئے ۔ بیگم جان نے الوداع کرتے ہوئے کہا

خداوندا انہیں کسی کی نظر نہ لگے

ان کوہماری عمر لگ جائے

نوٹ:مشتاق فریدی ایک معروف ادیب،صحافی،مقبول قلمکار و شاعر ہیں۔اخبارِ کشمیر کو انکی شفیق رفاقت حاصل ہونے کا فخریہ اعزاز حاصل ہے(ادارہ اخبارِ کشمیر)

مدیر القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1