هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

دریائے چناب پر بھارتی برسار ڈیم

نائلہ جوزف دیال

Friday, February 26, 2010, 12:20

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں دریائے چناب پر ایک بڑا ڈیم بنانے کے لئے سروے کیلئے پیشکشیں طلب کی جا رہی ہیں۔ برسار ڈیم کے نام سے تجویز کئے جانے والے اس ڈیم سے جہاں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی اور پاکستان کو ملنے والے پانی میں مزید کمی ہو جائے گی وہاں پاکستان میں زراعت کیلئے پانی کی دستیابی کا مسئلہ اور زیادہ سنگین شکل اختیار کر جائے گا۔

نئی دہلی میں منعقدہ پاک بھارت مذاکرات میں پاکستان نے پانی کا مسئلہ سیکرٹریوں کی سطح پر اٹھا کر درست اقدام کیا ہے کیونکہ بھارتی آبی جارحیت کے آگے بند نہ باندھا گیا تو پھر پاکستان پیاسا، کھیت ویران اور کسان اُجڑ جائیں گے۔

جب سے پاکستان ایٹمی ریاست بنا ہے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت جانتا ہے کہ اب پاکستان کو روایتی یا ایٹمی جنگ سے زیر نہیں کرسکتا لیکن پاکستان کے وجود کو آج تک تسلیم نہ کرنے والے بھارت نے پاکستان کیخلاف گزشتہ کئی برسوں سے آبی جارحیت شروع کررکھی ہے۔ اس مقصد کے لئے دریائے چناب اور جہلم کے پانی کی بندش کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ بھارتی آبی جارحیت کا اصل ہدف پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرکے خوراک کی خودمختاری سے محروم کرکے ایتھوپیا جیسی صورتحال سے دو چار کرنا ہے۔ بھارت پہلے ہی دریائے چناب سے پاکستان کے حصے کا 2 ہزار کیوسک پانی چوری کرچکا ہے اور اب دریائے چناب سے پمپس کے ذریعے پانی کی مزید چوری کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ بھارتی آبی جارحیت اور پانی چوری روکنے کے لئے بروقت ٹھوس اور مطلوبہ اقدامات نہ کئے گئے اور حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو بھارت سے پاکستان کی طرف دریائے چناب کے پانی کے بہائو میں ساڑھے تین لاکھ ایکڑ فٹ مزیدکمی واقع ہوسکتی ہے۔ برصغیر میں کئی ممالک کے پانی کے وسائل بہت حد تک آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے دریائوں کا رخ یا تو بھارت سے نکل رہا ہے یا بھارت سے ہوکر بنگلہ دیش اور پاکستان میں آرہا ہے۔

نیپال اور بھارت کے درمیان پانی کا رابطہ ہے اور پھر بھارت سے جو دریا نکلتے ہیں وہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں آرہے ہیں۔ بھارت نے پانی کے مستقبل کو بھانپتے ہوئے کئی منصوبے بنائے ہیں جن میں سے ایک گریٹر واٹر لنک ہے جو کئی دریائوں کو آپس میں کینال کے ذریعے ملا کر ان کی سمت اور بہائو کو تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا سب سے زیادہ بُرا اثر بنگلہ دیش پر پڑتا ہے۔ بھارت کا دوسرا منصوبہ 2014 تک 40 سے زیادہ ڈیم بنا کر پانی کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ ہے جو مختلف مقامات پر بنائے جائیں گے۔ اس میں بھارت ان دریائوں کے پانیوں پر بھی ڈیم بنا رہا ہے جن پر بین الاقوامی معاہدوں کے لحاظ سے اس کے پاس حق نہیں ہے متذکرہ چالیس ڈیموں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھارت کا غیر قانونی طور پر دریائے چناب اور جہلم کے 90فیصد پانی پر قبضہ ہو جائیگا جو کہ سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہوگا۔کشن گنگا ڈیم کی تعمیر بھی تیزی سے کی جارہی ہے جس کے تحت تو دریائے جہلم کا رخ ہی موڑا جارہا ہے حالانکہ سندھ طاس اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت دریا کا اس طرح رخ موڑنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں۔

ویسے تو بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرناہر مہذب ملک کے لئے لازمی ہوتا ہے اور ان کی پاسداری نہ کرنا ایک غیر اخلاقی و غیر مہذب اقدام ہے۔ ان معاہدوں کی ضمانت ورلڈ بینک نے دی تھی جس نے پاکستان کو سرمایہ بطور قرض اس لئے فراہم کیا تھا کہ معاہدے کے اثرات کو کم کیا جاسکے کیونکہ معاہدے کے تحت بھارت کو دیئے جانے والے دریائوں کی وجہ سے پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہوسکتا تھا اس لئے اسے قرض دیا گیا تاکہ وہ اپنا نہری نظام بہتر کرسکے اور یہ ایک ضمانت تھی۔ باقی کے دریائوں پر پاکستان کا حق بھارت نے تسلیم کیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے بہائو کو کم کرنے کی کوشش نہیں کریگا۔ یہ حکومت پاکستان کی ایک بہت بڑی سیاسی اور سفارتی ناکامی ہے کہ بھارت بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی مخالفت کررہا ہے جن معاہدوں کے گواہ ورلڈ بینک اور دیگر بڑے ممالک ہیں مگر پاکستان ان معاہدوں کو موثر بنانے میں اور بھارت کو روکنے میں ناکام ہے۔ بھارت کی مختلف حکومتوں نے پانی کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے یا تو ان دریائوں کا راستہ بدلنے کی کوشش کی ہے یا پھر اس نے ایسے منصوبے بنانے کی کوشش کی ہے جس سے پاکستان بنجر بن جائیگا۔ پاک بھارت سیکرٹری سطح کے مذاکرات کے بعد بھارت نے آبی تنازع سندھ طاس معاہدے کے تحت حل کرنے کی بات کی ہے مگر کمشنر سندھ طاس جماعت علی شاہ کا کردار و کارکردگی سوالیہ نشان ہے جو کہ پوری پاکستانی قیادت اور حکومت کی طرف سے بھارتی آبی جارحیت کو تباہ کن قرار دینے کے باوجود اس کو اتنا بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس مسئلے کے حل کے لئے آج تک کئی دفعہ بھارت آنے جانے کے باوجود قوم کو کوئی اچھی خبر دے سکیں ہیں۔

پانی کے مسئلے پر سب سے متحرک اور فعال کردار ادا کرنے والی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن بھی سندھ طاس کے پاکستانی کمشنر جماعت علی شاہ کے کردار و کارکردگی کو سوالیہ نشان سمجھتی ہیں جبکہ قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے خوراک و زراعت کے چیئرمین جاوید اقبال وڑائچ بھی جماعت علی شاہ کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے جو کہ بھارتی آبی جارحیت کی سنگینی کا پورا احساس و ادراک رکھتے ہوئے اس مسئلے پر جنگ کی بات اور تیاری پر بھی یقین رکھتے ہیں۔

نائلہ جوزف دیال کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
نائلہ جوزف دیال ایک سیاسی جماعت پاکستان پروگریسو پارٹی کی سربراہ ہیں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1