هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

بھارت کی چین کیخلاف جنگ جوئی

شمائلہ جاوید

Saturday, February 27, 2010, 15:18

بھارت کے چند پالیسی سازوں کے خیال میں ”چین کی طرف سے جارحانہ رویے کے اجراء کے پیچھے حالیہ معاشی بحران میں مغربی ممالک کی معیشتیں کو پہنچنے والا نقصان اور چین کا معاشی استحکام ایک اہم عنصر ہے۔ چین اس معاشی بحران کے نتیجے میں مضبوط حیثیت میں اُبھرا ہے۔ اروندھتی گھوش جو اقوام متحدہ کے لئے بھارت کے سابق سفیر ہیں اور بھارت امریکہ نیو کلیئر معاہدے کے مذاکرات میں بھی شامل رہے ہیں کا کہنا ہے کہ چین کی معاشی طاقت ہی اصل وجہ ہے جس کے باعث چین بھارت کو آنکھیں دکھا رہا ہے”۔1978ء میں جب سے چین نے معاشی اصلاحات کا آغاز کیا ہے اس کی معاشی ترقی کی شرح تقریباً دس فیصد سالانہ ہے اور اس وقت چین کی جی ڈی پی گزشتہ تین دہائیوں کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ ہے۔

لیکن حیرت کی بات ہے کہ بھارت جہاں گزشتہ دنوں 2010-11ء کا خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا

بھارت نے اپنے جنگی بجٹ میں ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔ 26 فروری کو یہ خبر کسی کے لئے بھی حیران کن نہیں تھی کہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 24 فیصد اضافہ کردیا ہے جو کہ 56 ارب روپے بنتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے سچ کہا ہے کہ ”بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافے سے خطے کا امن متاثر ہوگا”۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا کھلا مظاہرہ کرنے والے بدمعاش بھارت کے جنگی بجٹ میں 56 ارب روپے کے اضافے سے اس کے جارحانہ عزائم کی کھلی عکاسی ہوتی ہے۔

بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی طرف سے یہ بیان کہ ”بھارت پاکستان اور چین کیخلاف 96 گھنٹوں میں جنگ کرکے کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور بھارتی فوج نے بیک وقت پاکستان اور چین کیخلاف جنگ کرنے کی تیاری مکمل اور صلاحیت حاصل کرلی ہے”۔ امریکیوں کی شہ اور تھپکی پر پاکستان کا ازلی دشمن بھارت چین کیخلاف جنگی تیاریوں اور محاذ آرائیوں کا طویل سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے۔ بھارت کے ایک حاضر سروس آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی دھمکیوں کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پا جانا چاہئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر بھارت چین کیخلاف جنگی مہم جوئی کرے تو پاکستان کو بلاتاخیر بھارت پر حملہ کردینا چاہئے۔ یہی بھارت کے پاکستان چین دشمن عزائم کا عملی توڑ ہوگا ورنہ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ مسلسل پاکستان اور چین کی سلامتی کے لئے خطرہ بنا رہے گا کیونکہ پاکستان کا اسلامی تشخص، ایٹمی طاقت اور چین سے پاکستان کی دوستی ہمیشہ بھارت امریکہ کو کھٹکتی رہتی ہے اور رہے گی۔

1965ء میں جب بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو اس وقت پاکستان کے بہت سے دوستوں نے ہماری مدد کی مگر پاکستان کے حمایتیوں میں چین کی آواز سب سے توانا اور بلند تھی۔ ایک تو پاکستان کو اس کی اخلاقی حمایت حاصل رہی دوسرے اس نے سکم میں اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت کو دھمکی بھی دی۔ چین کی اس کھلم کھلا حمایت سے مشرق اور مغرب کے ممالک گھبرا گئے۔ ان کا خیال تھا کہ چین جنگ میں کود پڑے گا اور ایشیا میں ایک بڑی جنگ شروع ہو جائے گی۔ ایک تو انہیں اس جنگ کی اہمیت کا علم ہوا دوسرے اسے بڑھنے سے روکنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت کا احساس ہوا۔ چین کی اس روش سے اس وقت کے سوویت یونین نے بھی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر دبائو بڑھانے سے اجتناب کیا اور اس حمایت کا ایک نتیجہ اور بھی نکلا۔ فائر بندی پاکستان کی مرضی کے مطابق ہوئی یا یوں کہنا چاہئے کہ ان شرائط کے مطابق ہوئی جو پاکستان کے قابل قبول تھیں۔ پاکستان کے لئے قابل قبول شرائط کے مطابق فائر بندی اس حمایت کا بلاواسطہ نتیجہ تھا۔

”یس ٹو چین نو ٹو امریکہ” بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں پاک چین دوستی کا بنیادی محور و مرکز ثابت ہوگا۔ اس بات کا انکشاف پاکستان کے مفکر اور مدبر سیاستدان مشاہد حسین سید نے گزشتہ دنوں پاک چین انسٹیٹیوٹ کی چین کے نئے سال کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں اس وقت کیا جب وقفہ سوالات کے دوران امریکہ اور چین کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے واضح سمت کے تعین کی بات کی گئی تو مشاہد حسین سید جو کہ پاک چین انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین بھی ہیں نے واضح کیا کہ اگر کڑا وقت آیا تو پاکستان امریکہ کو چھوڑ دیگا مگر چین کے ساتھ واضح انداز میں کھڑا ہو جائیگا۔ بالکل اسی طرح جس طرح 1965ء میں امریکہ کی طرف سے تمام تر دبائو کے باوجود صدر ایوب خان چین کے ساتھ چلے گئے تھے ویسے بھی امریکہ اور چین کی دوستی کے حوالے سے پاکستان کے عوام کے جذبات کو پیش نظر رکھا جائے تو اس زمینی حقیقت اور عوامی سروے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان کے 98 فیصد عوام چین کے حق میں اور امریکہ کے مخالف ہیں۔

پاک چین انسٹیٹیوٹ کی تقریب میں ہی چین میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر نے جنرل دیپک کپور کی چین کو جنگ کی دھمکی پر مسکرا کر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”چین کے مقابل بھارت کی حیثیت ہانگ کانگ سے زیادہ نہیں ہے لہٰذا جنرل دیپک کپور کی چین کو دھمکی سے چین کے دوست پاکستانیوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں”۔

پاک چین دوستی کی ایک عوامی جھلک پاک چین انسٹیٹیوٹ کی اس تقریب میں بھی نظر آئی یہاں نشستیں کم پڑ جانے کی وجہ سے مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد فرش پر ہی بیٹھ کر بڑے انہماک کے ساتھ علاقائی تناظر میں چین کے کردار سے متعلق مقررین کی تقاریر سنتی رہی۔

شمائلہ جاوید کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1