هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

میں صرف ایک ماں ہوں

مدیر القمرآن لائن

Saturday, March 6, 2010, 14:50

(انجینئر رشید)

میں نہ ہندنواز ہوں نہ ہندمخالف، میرا تعلق حریت ع سے ہے نہ حریت گ سے، مجھے نہ اٹانومی سے غرض ہے اور نہ سیلف رول سے۔

میں نہ دیہاتی عورت ہوں نہ شہرکی شہزادی، میرے لئے ہند پاک مذاکرات بھی بے معنی ہیں اور 26جنوری یا 15اگست کا جشن یا یوم سیاہ بھی، مجھے نہ عمر صاحب کے روزگار پیکیج میں دلچسپی ہے اور نہ ڈل کوبچانے فکر، میں نے کبھی سرحد کی خونی لکیر دیکھی ہے اور نہ عمر صاحب کا گپکار کا بنگلہ۔

نہ مجھے محبوبہ جی اور ان کے والد محترم کی کشمیر نوازی کے دعووں سے دلچسپی ہے اور نہ ہی ممہ کنہ جیسے قاتل، بدنام زمانہ شخص کو پدم شری دینے سے کوئی کوفت ہوتی ہے۔ نہ میں کوئی دوراندیش دانشور ہوں اور نہ کوئی تنگ نظر یا سنگ دل انسان میں۔۔۔۔ ہاں میں فقط ایک ماں ہوں۔ شہید زاہد فاروق کی ماں، ایک بے بس ماں جس کا لخت جگر اس سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا گیا ہے۔ میرے لئے اب دنیا کی ہر نعمت، ہر سکھ، ہر دکھ اور ہر واردات بالکل بے معنی ہے۔

مجھے گیلانی ،عمر فاروق، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی ، یوسف تاریگامی یا کسی اور کی ہمدردی نہیں چاہئے۔ مجھے میرے سوالوں کا جواب چاہئے۔ ماں کیا ہوتی ہے ، آپ نہیں جانتے، ماں کی ممتا کے آگے دنیا کی ہر چیز بہت ہی حقیر ہوتی ہے۔ اسے نہ جنت اور جہنم کی زیادہ فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس تیز رفتار وای دنیا کے حالات و واقعات کے متعلق سوچنے کی کچھ زیادہ فرصت۔ ماں نہ شیعہ ہوتی ہے اور نہ سنی ، ماں نہ اعتدال پسند ہوتی ہے اور نہ انتہا پسند، ماں صرف ماں ہوتی ہے ، اسے کوئی دوسرا نام دینا اس کی ممتا کی توہین ہوگی۔

کیا آپ میں سے کوئی آج مجھے یہ بتانے کی جسارت کرسکتا ہے کہ اب میری دوننھی اور معصوم بچیوں کے ہاتھوں میں مہندی کون لگائے گا۔ ان کی ڈولی کو کندھا کون دے گا، مجھے اور میرے شریک حیات کے بڑھاپے کا سہارا کون بنے گا۔

بیٹیاں تو پرائیوں کے گھروں کی امانت ہوتی ہیں، مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب میرا لخت جگر زاہد تین سال پہلے اپنی بہنوں کے ساتھ جھگڑا تھا۔ اس دن جب آسمان بالکل صاف تھا اور شام کے وقت ہمارے غریب خانے کے برآمدے پر میرے تینوں لخت جگر خوبصورت چاند کی طرف دیکھ کر ایک دوسرے کو کچھ سمجھانے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ تب میں نے غور سے انہیں پتہ لگے بغیر دروازے کے پیچھے چھپ کر ان کی باتیں اور نوک جھونک سنی۔ بھیا ہم ایک دن تمہارے لئے اس چاند جیسی دلہن لائیں گے، پھر ابو اور اماں خوشی کے مارے جھومیں گے۔ ناچیں گے اور پورا محلہ ہماری پری جیسی بہو کے استقبال کیلئے پوری رات رقص کرے گا اور ۔۔۔ زاہد نے بات کاٹ کر کہا پگلی پہلے تو مجھے چاند جیسی اپنی بہنوں کے ہاتھوں میں مہندی لگانی ہے۔ انہیں کالج کیا یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوانے کیلئے ازحد درجہ محنت کرتا ہے۔ تینوں بھائی بہن ایک دوسرے کا منہ اپنے ہاتھ سے بند کرنے کی بھی کوشش کررہے تھے کہ میں نے انہیں آواز دیکر ٹوکا اور کہا کہ ابو کھانے کیلئے تیار ہیں، آجاو اور کھانا کھاو۔

مجھے کیا معلوم تھا کہ موت کے سوداگر ایک دن ہمارے ان سارے ارمانوں کا اس بے رحمی ، بزدلی اور بے شرمی کے ساتھ خون کریں گے۔ میں اپنے زاہد کی شادی کا جشن تو دیکھ نہ سکی لیکن آپ نے مجھے اس کی لاش کا ماتم کروایا۔ میری بیٹیاں اپنے بھائی کی طرف سے ان کی ڈولی کو کندھا دینے کا انتظار کررہی تھیں لیکن تم نے ۔۔۔ ہاں تم سب نے انہیں بھائی کے تابوت کو کندھا دینے کیلئے مجبور کیا۔ ہم اپنی دلہن کا استقبال تو کرنہ سکے لیکن زاہد کے جنازے کا قہر آپ نے ہمیں تحفہ میں دیا۔

دائیں سے وامق ، زاہد ،عنایت خان

میرے محلے کے بہو بیٹیاں زاہد کی شادی کا رقص تو منا نہ سکیں لیکن تم قاتلوں اور ضمیر فروشوں نے انہیںماتم کا رقص کرنے کیلئے مجبور کیا۔ تم نے ہمارے خوابوں، ارمانوں، امنگوں اور خواہشوں کا بالکل الٹ کردیا۔ کیا تمہارے پاس میرے ان سوالات کا کوئی بھی جواب ہے۔ مجھے اتنا تو بتایئے کہ میرے زاہد نے آپ کا کیا بگاڑا تھا۔ وہ تو بس اس دن بھی حسب عادت کرکٹ کھیلنے نکلا تھا۔ وہ تو ایک غریب باپ کے دل کا ٹکڑا تھا۔ اس کے پاس نہ آپ کے شہزادوں کی طرح کھیلنے کیلئے کوئی کمپیوٹر تھا اور نہ ہی کوئی گالف کلب۔ وہ ڈراونامنظر میں کیسے بھلا سکتی ہوں جب اس دن اپنی کتابوں کا بستہ بند کرنے کے بعد گھر سے نکلا اور صحن میں اپنا منہ میری طرف کرکے بے خبری کے عالم میں ہاتھ ہلا ہلا کر پیچھے کی طرف چل رہا تھا اور پھر ۔۔۔ پھر مجھے آواز ماری۔ ماں ۔۔۔ میں جارہا ہوں۔ میرے دوست میرا انتظار کررہے ہیں، دودن سے نہیں کھیلا ہوں، شام کو مجھے کیا کھلاو گی۔

میرا دل کانپ رہا تھا ،میں نے آواز دی ،میرا بیٹا ذرا سنبھل کے رہنا۔ جلد ہی گھرآنا۔ ا سے جلدی واپس آنے کیلئے میں نے اس سے کہا۔ آج میں نے شام کے وقت تمہارے لئے کچھ خاص پکایا ہے۔ زاہد نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا، ماں آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں، پولیس والے تو پتھرمارنے والوں سے لڑتے ہیں میں نے کبھی ہاتھ میں پتھر نہیں اٹھایا۔ یہ کہتے کہتے وہ گیا اور چلا چلا کر کہہ رہا تھا ، ماں میں گیا اور آیا۔ میں دور تک زاہد کی طرف دیکھتی رہی ، یہاں تک کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور پھر۔۔۔ پھر کیا ،وہ واپس گھر آیا لیکن لاش بن کر۔ بس میری دنیا تو برباد ہوہی گئی۔

کوئی تم سوداگروں میں سے کیوں میرے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ تم خاموش کیوں ہو۔ تمہاری زبان سے جھوٹی تسلیوں اور ہمدردیوں کے علاوہ کوئی سچی بات نکلتی کیوں نہیں۔ میرا سکون چھین کر اگر تم خوشی سے جینے کی سوچ رہے ہو تو یہ تمہاری بھول ہے۔ ہم معصوم شہید وں کی مائیں تمہارا جینا حرام کردیں گی۔ تم سب ہمارے لخت جگر وں کی لاشوں کے ٹکڑوں سے اپنا سالن تیار کرواتے ہو۔

تمہاری عالی شان گاڑیوں میں زاہد، وامق اور عنایت جیسے ہزاروں معصوم شہیدوں کا خون جل رہا ہے۔ ان ننھی لاشوں کے صدقے تم میں سے کوئی نئی دلی کو بلیک میل کرتا ہے تو کوئی اسلام آباد کو۔ کسی وردی پوش سرکاری دہشت گرد کو کسی کا خون ناحق کرنے کے عوض ترقی ملتی ہے تو کسی کو شہید کے نام پر سرحد پار سے شہید فنڈ۔ کاش کوئی مجھے صرف اتنا تو بتادے جب میرے زاہد کو قاتل اور سفاک درندے نے گولی سے بھون ڈالا تو وہ کیسے ماں ماں کہہ کر چلا رہا تھا۔

کاش میں اپنے زاہد کو ایک بار پانی کی ایک بوند پلاسکتی۔ کاش میں ایک بار زاہد کے زمین پر منہ کے بل گرنے سے پہلے اسکو اپنی گود میں لے لیتی۔ کاش اس کی ننھی منھی بہنیں اسے ایک بار گلے لگتیں۔ کاش زاہد کے بدنصیب باپ کو یہ پتہ ہوتا کہ آج اس کے بیٹے کی زندگی کا آخری دن ہے۔ کاش مجھے یہ پتہ ہوتا کہ گھر سے کرکٹ کھیلنے کیلئے نکلنے کے بعد وہ کبھی مجھے ماں کہہ کر نہیں پکارے گا۔کاش میں اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی، اس کا بار بار بوسہ لیتی، ا سے بار بارگلے سے لگاتی، اس کی کتابوں کا بستہ اس کی پیٹھ پر ایک بار صرف ایک بار سجاتی، اس کی باہوں میں باہیں ڈال کر ایک تصویر اٹھوالیتی ۔

اس سے اس کی فرمائش کے مطابق ایک نیا بیٹ خرید کر دے دیتی، اس کے ہاتھوں اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں میں مہندی لگانے کی حسرت پوری کرتی۔ کاش میں۔۔۔ کاش کیا۔۔۔ اب تو میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ اب تو میں بے بس ہوں، بے آسرا ہوں ، بے کس ہوں، میں تو اپنے زاہد کیلئے اپنے مکان کی اوپری منزل سے اس کی راہیں دیکھوں گی۔ میں تو کبھی کوہ مارں جاکر اسے شہر کی گلیوں میں تلاش کروں گی، میرا زاہد تو اتنا ضدی نہیں کہ مجھے اس طرح بے بسی کے عالم میں چھوڑ کر جائے۔ وہ تو وفاکا پیکر ہے۔ اور پھر بھی تو اس نے دیکھا ہی کیا تھا۔ وہ تو کرکٹ کے کھیل کا شیدائیءتھانہ کہ تمہاری طرح انسانی خون اور لاشوں کے گندے کھیل کا تاجر۔

میں تو پگلی ہوں، وہ کبھی رات کے وقت بھی لوٹ کر آسکتا ہے۔ وہ تو ابھی بس کل کا بچہ ہے کیسے اتنی لمبی عمر قبر میں گزارے گا، وہ مجھ سے روٹھا بھی نہیں ہے، زاہد میرے زاہد ایک بار تو میرے سامنے آ۔ اچھا اگر تو خواب میں مجھ سے ملے گا تو میں تجھے ڈھیر ساری چیزیں دوں گی۔ میرے زاہد مجھے معلوم ہے کہ تجھ سے میری آنکھوں کے آنسووں کا ایک بھی قطرہ دیکھا نہیں جاسکتاہے۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں آج کے بعد آنسووں کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دوں گی۔ لیکن زاہد میرے زاہد تمہاری ننھی منھی دو بہنوں کو کیا سمجھاوں، تمہارے بعد تو ایک زندہ لاش بن کے رہ گئے ہیں۔ آپ پھر بھی ایک احسان مجھ کر سکتے ہےں۔ خدا کے واسطے مجھ سے اور میری جیسی سینکروں ماوں سے ہمدردی کرنا چھوڑ دیجئے۔ ہماری بے بسی کا مذاق اٹھانا بند کردیجے۔

اگر آپ ہمارے ننھے مجھے شہیدوں کے نام پر اخباری بیانات کے ذریعہ اپنی تجارت کے اشتہار دینا نہ چھوڑیں تو ہمارے ان شہیدوں کے پاک روح کی قسم ،ہم تمہاری کالی کرتوتوں کا بھانڈہ برسر بازار پھوڑ دیں گے۔ ہم تم سب کا جینا حرام کردیں گے، تمہارے لئے یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ کوئی ہمارے زاہدوں، وامقوںاور عنایتوں کا خون کرکے امن قائم کرنے کے نام پر نئی دلی سے مالی مراعات حاصل کررہا ہے تو کوئی شہادت اور قربانیوں کا دعویٰ دار ہونے کے ناطے حوالہ کے ذریعے اپنے بنگلوں کے رنگ وروغن کا انتظام کرتا ہے۔ کیا خود کو بھارت نواز یا آزادی پسند کہلوانے والے بھگوڑے یہ ہمت کریں گے کہ گزشتہ 20برسوں کے دوران آپ نے امن قائم کرنے، آزادی یا الحاق پاکستان کے نام پر کس حد تک نئی دلی اور اسلام آباد کو لوٹ لیا ہے۔ کیاآپ میں سے کوئی بھی ایک اپنی جائیداد کا محاسبہ کروانے کو تیار ہے۔ جو خونی کھیل تم ایک دوسرے کو نیچا کرنے کیلئے کھیل رہے ہو آپ خود بھی جانتے ہیں کہ اسے کشمیر آزاد ہوگا اور نہ پاکستان بنے گااور نہ ہی یہاں لوگ ہندوستان کے سامنے ہاتھ اٹھا کر جینے کی بھیک مانگیں گے۔ تم سب اپنے اپنے آقاوں کو دھوکہ دے رہے ہو۔

نہ مجھے آپ میں سے کسی کی طرف سے سرکاری امداد چاہئے اور نہ ہی تحریکی تحفہ ۔ میں زاہد کی شہادت کا ماتم کرنے والے نوجوانوں ، ٹررانسپورٹروں ، تاجروں ، وکیلوں ، مزدوروں، اور ماوں بہنوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں لیکن ہاتھ جوڑ کر آپ کو التماس بھی کرتی ہوں کہ جوش سے زیادہ اب ہوش کی ضرورت ہے۔ ہم سب مظلوم ہیں، کسی ظالم وردی پوش پر پتھر پھینکنے سے پہلے دس بار سوچئے۔ جوش میں آکر کسی ماں کی گود خالی نہ کروائے۔

تم سب ایک دن خود اس آگ میں جل کر راکھ ہوجاوگے جس کا ایندھن آپ نے کبھی بنگرگنڈ ہندوارہ کے کرکٹ کھیلنے بچوں کو بنایا، تو کبھی دودھی پورہ راجوار کے نونہالوں کو اور پھر کبھی زاہد فاروق کو یا پھر وامق فاروق کو، اب مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں آپ بنگر گنڈ ، دودی پورہ، زاہد فاروق یا کسی اور کی زندگی کا چراغ بجھانے والوں کو قومی ہیرو نہ قرار دیں۔ مجھے اس کالی صبح کا انتظار ہے جب میرے زاہد کے قاتل کو آپ ممہ کنہ کی طرح پدم شری ایوارد سے نوازیں گے۔

آپ ایک بار ماں کی طرح ضرور سوچیں، اگر پھر بھی آپ کا دل پتھر جیسا ہی رہتا ہے تو میں یہ پیش گوئی کرتی ہوں کہ ایک ایسا طوفان ضرور آئے گا جو تمہاری جاہ و حشمت ، غرور اور تکبر کے علاوہ تم سب کو ایک شمشان گھاٹ میں پہنچادے گا۔ مجھے نہ بھارت نوازوں کی طرف سے تحقیقاتی عمل میں کوئی دلچسی ہے اور نہ ہی کسی تحریک نواز کی طرف سے اپنے زاہدکیلئے جنت میں اس کیلئے حوروں کے انتظام کا بھروسہ ہے۔ نہ ہی جنت کی حوریں میرے لئے وہ کام کرسکتی ہیں جوکہ میری بہو میرے لئے کرسکتی تھی۔ مجھے حوروں کی نہیں بہو کی ضرورت تھی۔ اگر کسی کو آپ میں سے جنت کی اتنی ہی تمنا ہے تو راستہ اتنا مشکل بھی نہیں۔ پھر بھی اگر آپ سب میرے لئے کوئی کام کرنے کے خواہش مند ہوں تو ہوسکے تو میرا زاہد مجھے لوٹادو، آپ کے جواب کی منتظر

فقط

زاہد فاروق کی ماں
(انجینئر رشید ایک معروف کالم نویس ہونے کے علاوہ حلقہ انتخاب لنگیٹ (ضلع کپوارہ) کےممبر اسمبلی ہیں)
(چٹان کے شکریہ کے ساتھ)

مدیر القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1