هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

تشدد کے خلاف مسلم خواتین کا جہاد

مہناز ایم آفریدی

Sunday, March 7, 2010, 8:29

8مارچ کو منایا جانے والا عورتوں کا عالمی دن صنفی عدمِ مساوات کے خلاف خواتین کی کوششوں کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تشدد اور عدمِ مساوات سے ساری دنیا کی عورتیں متاثر ہوتی ہیں۔ ان میں مسلم معاشروں میں رہنے والی خواتین بھی شامل ہیں جو غیر مسلم عورتوں کی طرح اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔

مسلم اکثریت والے ملکوں مثلا پاکستان میں آتے جاتے رہنے سے میں نے دیکھا کہ وہاں کی خواتین انسانی حقوق اور اقتصادی نمو کے لئے کتنا زبردست کام کر رہی ہیں۔ ان ممالک میں خواقتین مختلف کمپنیاں، عافیت خانے اور کاروباری ادارے چلارہی ہیں اور اس طرح مغربی ذرائع ابلاغ میں مسلم خواتین کے بارے میں پسماندہ، ناخواندہ اور سماجی طور پر محروم ہونے کے تصور کو درست کر رہی ہیں۔

مثال کے طور پر 2005 میں آنے والے زلزلے کے بعد بشری اسلم نے اسلام آباد میں کم عمر لڑکیوں کے لئے ایک یتیم خانہ کھولا جس میں45 بچیوں کے لئے تعلیم، رہنمائی، مشاورت اور بین العقائد سرگرمیوں کی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ اسی طرح کا ایک متاثر کن کام پاکستان میں قائم انسانی وسائل کی مشاورتی کمپنی ‘فلکرم’ کی سربراہ رخسانہ اصغر نے بھی کیا جس میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو ملازمتوں کے لئے درکار قابلیتوں کی تربیت کے لئے وظائف دیے جاتے ہیں۔

مغرب میں لوگ مسلم دنیا کے طول وعرض میں ہونے والی انتہائی مثبت سرگرمیوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ مثلا مراکش، مصر اور ترکی میں خواتین کو مذہبی رہنما بننے کی تربیت دی جا رہی ہیں جنہیں “مرشدات” کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کی ذمہ داریوں میں عورتوں اور بچوں کو روحانی معاملات میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

عوام کی سطح پر خواتین کی اسلامی سرگرمی ‘سماجی انصاف کی تحریک روحانیت اور مساوات’ (وائز) جو ایک عالمی معاشرتی نیٹ ورک بھی ہے، جیسی تحریکوں کا مقصد بھی مسلم دنیا میں عورتوں کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ وائز کا ایک پراجیکٹ “تشدد کے خلاف جہاد” ہے جس کا مقصد مسلم دنیا کے اندر اور باقی ساری دنیا میں بھی عورتوں کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ کرنا ہے۔

وائز کی بنیاد اس نظریے پر قائم ہے کہ “تشدد ایک ایسا انسانی رجحان ہے جو ہرطرح کی ثقافتوں اور مذہبی کمیونٹیز میں پایا جاتا ہے۔ اس وقت یہ لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں میں بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت کی طرح موجود ہے اور ان تمام معاشروں کو مذہبی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی کرنے سے روک رہا ہے۔ ساری دنیا میں تشدد مسلم عورتوں کی اپنے خاندانوں، کمیونٹیز اور اقوام میں آگے بڑھنے کی صلاحیت کو تباہ کر رہا ہے۔”

6 فروری کو وائز نے عورتوں کا ختنہ کرنے کی رسم کے خلاف ایکشن کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔ یہ رسم افریقہ میں بہت عام ہے۔ چونکہ اس رسم کا شکار ہونے والی لڑکیوں کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں تھا اس لئے عیسائی پادری اور مسلمان شیوخ سبھی اس کی مذمت کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہو گئے۔ عورتوں پر تشدد کے خلاف جہاد کے پیغام کو مزید دور تک پھیلانے کے لئے وائز نے غزہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم سماجی ترقی کی مصری ایسوسی ایشن (ای اے ایس ڈی) کے ساتھ بھی اشتراکِ کار کیا ہے جس کا مقصد مذکورہ رسم کے خلاف مذہبی تعلیم دینے کے علاوہ نسوانی ختنہ کرنے والوں کو مالی ترغیبات اور متبادل اقتصادی مواقع فراہم کرنا ہے۔

مثال کے طور پر 2008 میں تنظیم کے ارکان نے مصر میں نسوانی ختنہ کرنے والے ایک حجام امین حسین سے رابطہ کیا جو غیر قانونی طور پر یہ کام کرتا تھا (مصر نے 1996 میں اس رسم پر پابندی عائد کر دی تھی)۔ امیر حسین کو جب نسوانی ختنہ کے غیر اسلامی اور خواتین کے لئے نقصان دہ ہونے کے بارے میں تعلیم دی گئی تو وہ یہ کام ترک کرنے پر رضامند ہوگیا۔ تنظیم کی طرف سے امین حسین کو مالی معاونت اور کاروباری سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔

امین حسین کو نسوانی ختنہ کا کام چھوڑے ہوئے ایک سال گزر گیا ہے اور اب وہ بڑے فخر کے ساتھ لوگوں کو اپنی دکان میں آویزاں کیا ہوا الازہر یونیورسٹی کا فتوی دکھاتا ہے جس میں عورتوں کے جنسی اعضا کاٹنے کی رسم کو غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

وائز گھریلو تشدد کی روک تھام اور خاتمے کے لئے بھی کام کرتی ہے جس کے بارے میں ہالی ووڈ کی فلموں اور مغربی ذرائع ابلاغ کے پھیلائے ہوئے تاثر کی وجہ سے مغرب کے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ مسلم کمیونٹیز میں یہ رجحان نہ صرف بہت زیادہ پایا جاتا ہے بلکہ اسے جائز بھی سمجھا جاتا ہے۔

بہت سے مسلمان بھی غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اسلام گھریلو تشدد کی اجازت دیتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو ثقافتی رواجوں، قبائلی رسومات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق مذہبی تفاسیر کے بارے میں علم نہ رکھنے کا نتیجہ ہے۔

وائز اپنے ارکان اور ان کی تنظیموں کے توسط سے گھریلو تشدد کے خلاف آگہی پیدا کرنے اور بدسلوکی کا نشانہ بننے والی عورتوں کو مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال وائز کی رکن اور ماہرِ نفسیات عنبرین عجائب ہیں جو پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی تنظیم ‘بیداری’ کے ساتھ منسلک ہیں اور صنفی بنیادوں پر تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کو نفسیاتی مشورے دیتی ہیں۔

یہ مسلم دنیا میں خواتین کی طرف سے نسوانی ختنہ اور گھریلو تشدد کی بنیاد بننے والی صنفی عدمِ مساوات کو کم کرنے کے لئے کی گئی چند پرعزم سرگرمیاں ہیں اور یہ عمل ہنوز جاری ہے۔ اگرچہ وائز جیسے بہت سے اداروں نے خواتین کو منفی طور پر متاثر کرنے والے ان مسائل کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کی کوششیں اور ان کے سدِباب کے لئے حقیقی اور عملی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی اس ضمن میں مزید بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مسلمان عورت کو مرد کے برابر مقام دلانے کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔

مہناز ایم آفریدی کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
مہناز ایم آفریدی ( www.mehnazafridi.com ) پی ایچ ڈی ہیں اور یہودیت اور اسلام کے مضامین پڑھاتی ہیں۔ وہ تمام مذاہب کی عورتوں کے انسانی حقوق کے لئے کام کرتی ہیں اور یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان امن اور بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہیں۔

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1