هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

پاکستانی خواتین میں نشے کی عادت میں اضافہ

نامہ نگار القمرآن لائن

Tuesday, March 9, 2010, 10:30

پاکستان میں خواتین بڑی تعداد میں نشے کی عادت میں مبتلا ہو رہی ہیں جبکہ ملک کے اندر اس بگڑتی ہوئی صورت حال کا باعث بننے والے سماجی عوامل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جا رہا۔

منشیات کی لت میں مبتلا ہونے کا آغاز اسکول کی عمر سے ہی ہو سکتا ہے۔ ایک نجی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم لڑکیاں ریسٹ روم میں ایک خاتون صحافی کی موجودگی کے دوران چرس پی رہی تھیں۔ لاہور میں خواتین کے ایک کالج کی پرنسپل نے منشیات رکھنے اور تعلیمی درسگاہ کے احاطے کے اندر انہیں استعمال کرنے پر طالبات کے ایک گروپ کو کالج سے نکال دیا۔

پاکستانی کی ایک صحافی آمنہ ناصر جمال کے مطابق لاہور کے میو اسپتال میں تعینات ایک کلینیکل سائیکالوجسٹ تسنیم نذیر نے بتایا کہ خواتین میں منشیات کی لت میں مبتلا ہونے کے مسئلے کو ان کے سماجی تربیت کے مختلف پہلوؤں مثلاً نسل پرستی، جنس پرستی اور غربت سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور خواتین کے نشے کی عادت میں مبتلا ہونے کو سمجھنے کے لئے ان پر غور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوعمر لڑکیاں وزن گھٹانے، ذہنی تناؤ یا بوریت کو دور کرنے، اپنے مزاج کو بہتر بنانے، جنسی پابندیوں میں کمی لانے، یاسیت کا دوائیوں سے خود علاج کرنے اور اعتماد میں اضافہ کرنے کے لئے منشیات کا سہارا لے سکتی ہیں۔ شراب نوشی اور منشیات کے مسائل کا علاج کرانے کی خواہش مند خواتین کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد، بچپن کے ناخوشگوار واقعات اور منشیات کے استعمال کا آپس میں تعلق ہے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے جسمانی، ذہنی اور مالی بدسلوکی سے تنگ آکر منشیات میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

بیالیس سالہ خاتون نے اپنی نشے کی عادت کے بارے میں کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ اس وقت مجھے اس چیز کا احساس کیوں نہ ہوا لیکن میں اس سلوک کی بھی مستحق نہیں تھی جو میرے شوہر نے میرے ساتھ روا رکھا

منشیات بحالی مرکز چلانے والی ایک کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر محمودہ آفتاب نے بتایا کہ نشے میں مبتلا بہت سی خواتین منشیات بحالی پروگراموں میں شرکت سے انکار کر دیتی ہیں۔ منشیات پر انحصار اور اس لت میں مبتلا ہونے سے وابستہ شرمندگی اور بدنامی کے باعث وہ بیرونی علاج کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ ثقافتی وجوہات کی بناء پر بحالی مراکز میں علاج کی غرض سے قیام نہیں کر سکتیں اور وہاں صرف ادویات اور مشورے کی خاطر جاتی ہیں۔

تسلیم نذیر نے تجویز دی کہ اس مسئلے کے علاج کے لئے جن چیزوں پر قابو پانا ضروری ہے ان میں تشدد اور جنسی زیادتی، غیر محفوظ گھر، بے روزگاری، جنسی کرداروں کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تصورات، صحت کی دیکھ بھال اور بچوں کی دیکھ بھال کا فقدان شامل ہیں اور یہ تمام عوامل یاسیت اور ناامیدی کا سبب بنتے ہیں جن کے باعث خواتین میں منشیات کے استعمال کا رجحان زور پکڑتا ہے۔

انسداد منشیات فورس پنجاب کے فورس کمانڈر بریگیڈیر سجاد احمد بخشی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اگرچہ خواتین میں منشیات کے استعمال سے متعلق معلومات کم دستیاب ہیں لیکن نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں منشیات کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے نوجوانوں کی حالت قابل رحم ہے۔ لوگوں میں منشیات کے استعمال کے خطرات اور اس عادت سے بچنے کے لئے شعور بیدار کرنے کی کافی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بخشی نے کہا کہ خواتین، بالخصوص مراعت یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیاں، منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض خواتین کو اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ منشیات استعمال کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر کوئی دوائی تجویز کرتے ہیں اور بعض لاپروا مریض اس کے ضمنی اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ دافع درد یا مسکن ادویات کی خریداری پر کوئی پابندی نہیں۔

بہت سی خواتین کئی ماہ یا کئی سالوں تک ایسی ادویات استعمال کرتی رہتی ہیں اور پھر ان کی عادی ہو جاتی ہیں۔

بحالی مرکز میں زیر علاج ایک خاتون حاجرہ، جن کا نام ان کی شناخت خفیہ رکھنے کے لئے تبدیل کر دیا گیا ہے، نے بتایا کہ ہم علاج کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس آئے تھے۔ ڈاکٹر نے یہ ادویات تجویز کی تھیں جنہیں میں پرسکون نیند اور پریشانیاں دور کرنے کے لئے استعمال کرتی تھی۔ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات زہر ہیں۔

بخشی نے کہا کہ انسداد منشیات فورس نے آٹھ سرکاری اسپتالوں میں وارڈ قائم کیے ہیں جہاں مفت علاج کیا جاتا ہے۔ لیکن بیشتر مریضوں کو منشیات کی لت میں مبتلا ہونے سے قبل یا بعد میں یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ مدد کے لئے کہاں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

بخشی کا کہنا تھا کہ خواتین کے پاس ضروری علم اور صلاحیتیں ہونی چاہئیں تاکہ وہ اس مسئلے، بالخصوص امتناع منشیات، کا مثبت طاقت سے مقابلہ کر سکیں۔ وقت کا یہ تقاضا ہے کہ معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہمارے معاشرے سے منشیات کے خاتمے کے لئے متحد ہو کر کوششیں کریں۔

انہوں نے تجویز دی کہ منشیات کے مکمل خاتمے کے لئے، منظم تعلیم اور معاشرے کی مسلسل حمایت کی موجودگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر انداز اور ذہانت سے شعور بیدار کرنے کے پروگراموں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس طرح معاشرے کے ہر فرد کے لئے بہتر اور زیادہ خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

اس معاملے پر تشویش ظاہر کرنے والے بعض مبصرین کے مطابق، منشیات کی لت سے متعلق معاشرے کی سوچ میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمودہ نے کہا کہ خواتین کے علاج کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر قابو پانا ضروری ہے کیونکہ بہت سے پروگرام مردوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کیے گئے ہیں جو خواتین کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ خواتین کی علاج تک رسائی اور اس میں شمولیت کی راہ میں حائل موجودہ رکاوٹوں پر قابو پانے کے پروگرام تیار کیے جائیں۔

نامہ نگار القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1