هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

امریکہ:جنوبی ایشیاء میں کٹھ پتلیوںکی تثلیث

لیفٹیننٹ کرنل(ر) عبدالرزاق

Tuesday, March 9, 2010, 16:30

مانہ طالب علمی میں ہمارے سکول میں کٹھ پتلیوں کے تماشے کا بندوبست ہوتا تھا۔ سکول کے سارے بچے نہایت اشتیاق سے دیکھتے اور انگشت بہ دندان رہتے کہ یہ پتلیاں کس طرح چلتے اور ناچتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ پتلیاں بول بھی لیتے ہیں۔ آج کل انڈیا’ پاکستان اور افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک بھیانک پتلی تماشہ ہے۔ امریکہ نے انڈیا’ پاکستان اور افغانستان کے ڈور اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے ہیں۔ ان ملکوں کے رہنماو ¿ں کو پتلیوں کی طرح نچاتے ہیں اور اپنے مطلب کے مطابق حرکت میں لاتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ رہنما بول بھی لیتے ہیں لیکن خالص امریکی مفادات کو بڑھاوا دینے کیلئے ہی بولتے ہیں۔ یاد رہے کہ جب امریکہ نومبر 2001 میں افغانستان پر چڑھ دوڑا اور قبضہ بھی کیا تو انہوں نے انڈیا کے پتلیوں کے تاروں کو جنبش دی۔ یوں انڈیا نے بھی دسمبر 2001ء میں اپنی ساری فوجی قوت (ماسوائے کشمیر میں موجود فوجیوں کے) پاکستان کی سرحدوں پر جمع کیا۔ جواب میں پاکستان نے بھی اپنی فوج کو مشرقی سرحدوں پر لاکر انڈیا کے مقابل صف آرا ہوئے۔

امریکی تھنک ٹینک کی فلسفیانہ سوچ نے پاکستان کو انڈیا کے مقابل Engageکرکے افغانستان میں پاکستان کی مداخلت کا راستہ روک لیا۔ یہ ان کی خام خیالی تھی کہ وہ سمجھ بیٹھے کہ اب پاکستان Contain ہوا اور افغانستان کو باآسانی فتح کر لیں گے۔ حالانکہ پاکستان بننے سے نصف صدی پہلے برطانیہ نے بھی افغانستان پر حملے کئے تھے مگر وہاں موجود اپنے سارے فوجی قتل کروانے کے بعد برطانیہ پر واضح ہوا کہ افغانستان پر حملہ تو کیا جا سکتا ہے مگر دنیا کی کوئی طاقت افغانستان کو فتح نہیں کر سکتا۔ 2004ئ تک افغانستان میں انڈیا اور اسرائیل کا وجود نہیں تھا۔ 2004ئ میں امریکہ نے انڈین آرمی کو افغانستان میں اپنے فوج کے ساتھ شامل کیا۔

امریکی پالیسی سازوں کو یہ امید تھی کہ دھیرے دھیرے انڈیا کے ایک لاکھ فوج کو افغانستان میں پہنچا کر خود باحفاظت اپنے ملک واپس جائیں گے۔ جیساکہ فرانس نے ویتنام میں ایسی ترکیب کی تھی تو امریکہ فرانس کے مدد میں وہاں آکر پھنس کر رہ گئے اور اپنے 58000 فوجی قتل اور ایک لاکھ کے قریب فوجی زخمی کروانے کے بعد ویتنام میں ذلت آمیز شکست کھا کر اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ امریکہ یہ بھول گیا کہ انڈیا اپنے طویل المیعاد مفاد حاصل کرنے کیلئے کٹھ پتلی بنا کر باور کراتا ہے کہ وہ بدھو ہیں۔ 1963ئ میں بھی انڈیا نے امریکہ کا کٹھ پتلی بن کر چین کے ساتھ سرحدی چھیڑ چھاڑ کی تھی اور چین کے ردعمل کے آگے دم دبا کر بھاگ گئے۔ اس چھوٹے سے کٹھ پتلی ڈرامے کو انڈیا ابھی تک کیش کروا رہا ہے۔

یوں دسمبر 2001ء میں انڈیا نے کٹھ پتلی بن کر اور پھر 2004ئ میں امریکہ کو افغانستان میں ایک لاکھ فوج تعینات کرنے کی امید دلا کر انڈیا نے اپنے ملک کو ایٹمی قوت منوا لیا اور امریکہ کے ساتھ سول نیو کلیائی معاہدہ کرکے طویل مدت کے مفادات حاصل کئے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا نے انڈیا نے بھی نیٹ ورک قائم کرکے بلیک مارکیٹ سے مطلوبہ ساز و سامان حاصل کرکے اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا اور پھر مئی 1998ئکو ایٹمی دھماکہ بھی کیا۔ ایٹمی پھیلاو میں انڈیا بھی اتنا ہی گنہگار ہے جتنا کہ پاکستان کو سمجھا جاتا ہے۔
2008ئ میں جب شکست امریکہ کا مقدر بن گیا تو انہوں نے فرار کی تیاریاں شروع کیا۔ اب انڈیا کو کہا گیا کہ ایک لاکھ فوج افغانستان میں لاوتاکہ امریکہ کی جان خلاصی آسان ہو کیونکہ اب پاکستان میں جنرل (ر) پرویز مشرف تو رہا نہیں جو ان کے اشارے پر پاکستان کے سارے وسائل نچھاور کرے اور امریکی پسپائی آسان کرکے بننا اتنا بھی بدھو نہیں کہ اپنے قوم کو افغانستان کے دلدل میں پھنسا دے اب کے انڈیا نے 26 سے 29 نومبر 2008 میں ممبئی میں دہشت گردی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر پھر سے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے کر اور سرجیکل اسٹرائیک کی بھڑکیں مارتے ہوئے پاکستان کی سرحدوں پر اپنی فوج کو جمع کرکے یہ سوچنا شروع کیا کہ اب تو انڈیا کی مجبوری ہے وہ افغانستان میں فوج نہیں بھیج سکتا۔ دوسری طرف امریکی بدنیتی اور ان کی طرف سے پاکستان کے مغربی علاقہ جات میں شرپسندوں کی مالی اور مادی حوصلہ افزائی کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تو پاکستانی فوج کے کچھ ڈویڑن شرپسندوں کی سرکوبی میں مالا کنڈ ڈویڑن جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں بھیجنے پڑے جو خالصتاً انڈو امریکی حمایت یافتہ شرپسندوں کی سرکوبی کرتے رہے ،اس لئے امریکی مفادات کی آبیاری نہ ہو سکی۔

وقت تیزی سے گرتا رہا اور پاکستان کو توڑے اور ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ کرنے کا انڈو امریکی خواب بھی چکنا چور ہوا۔پاکستان فوج نے حب الوطنی کی بے مثال تاریخ رقم کی اور اعلیٰ فوجی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو اس Complex کرائسس سے نجات دلائی اور دنیا پر ثابت کیا کہ وہ دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور اپنے ملک اور آزادی کی حفاظت کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ NATO اور امریکہ پاکستان کیخلاف اپنے مکروہ عزائم میں نامراد ہوا۔ امریکہ انڈیا کو اپنا Strategic Partner کہتے تھکتا نہیں تھا مگر عین وقت پر انڈیا نے ہاتھ کھینچ لیا تب امریکہ کو احساس ہوا کہ پاکستان ہی ایک قابل بھروسہ ملک ہے جس کے بغیر افغانستان سے محفوظ اور آبرو مندانہ انخلا ئ ممکن نہیں۔

ایک بار پھر جوق در جوق امریکی عہدیدار انڈیا گئے اور دنیا کو پتلی تماشہ دکھایا۔ امریکی وزیر دفاع نے تو سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر انڈیا میں بیٹھے ہوئے انڈیا کی طرف سے پاکستان کو دھمکیاں بھی دیں۔ ان دھمکیوں کی حقیقتاً کوئی معنی نہیں تھے۔ یہ صرف انڈیا کے عوام کیلئے ایک سراب تھا کیونکہ اندرون خانہ طے کیا جا چکا تھا کہ انڈیا جلد از جلد پاکستان کے مشرقی سرحدوں سے اپنی فوجیں ہٹا لے تاکہ پاکستان پر دباو ڈال کر ان کی فوجیں افغانستان کی سرحدوں پر لگائے جائیں۔ یوں پاکستان اپنی وہ سرحدیں سیل کرکے جہاں سے امریکہ پر طالبان کا حملہ متوقع ہے، امریکی مفادات کی جنگ لڑتا رہے۔

فروری 2010ئ میں اچانک پتلی تماشہ شروع ہوا۔ یہ وہ تماشہ ہے جو امریکی صدر بش نے 1990ئ میں Gulf War شروع کرنے سے پہلے کیا تھا۔ عرب دنیا کو عراق کیخلاف جنگ کے معاملے میں چپ کرانے کیلئے فلسطین کے مسئلہ کے حل کا لالی پاپ دکھایا گیا تھا مگر بیس برس گزرنے کے بعد فلسطین کا مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ البتہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اب کے امریکہ نے اچانک انڈیا کے تاروں کو جنبش دی۔ انڈیا اب کہنے لگا کہ ممبئی حملہ میں انڈین شہری ملوث ہیں۔ رابرٹ گیٹس نے انڈیا میں دورے کے دوران جو گیدڑ بھبھکیاں دی تھیں ان اصلیت اب ظاہر ہو رہی ہے۔

پاکستان کے مشرقی سرحدوں سے انڈین آرمی ہٹانے کیلئے جواز بھی بن گیا اور اچانک پاکستان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کی دعوت بھی انڈیا کی طرف سے آئی۔ 25فروری کو مذاکرات کا ڈر امہ ہواتاکہ انڈیا جلد ہی میں اپنی فوجیں پاکستان کی سرحدوں سے واپس بلا سکے۔ امریکہ کے اس نئے کٹھ پتلی تماشہ نے پاکستان کو کشمیر کے مسئلہ اور آبی مسائل کے حل کیلئے پراْمید کیا۔ مگر عین توقع کے مطابق اس میں کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہوئی بلکہ ایک لالی پاپ بن کر رہے گیا۔ پاکستان کو مزید مطمئن کرنے کیلئے امریکہ نے وعدہ کیا کہ 2011ئ میں پاکستان کو امریکہ کی طرف سے تین بلین ڈاٹر کی امداد ملے گی۔ امریکی سینٹر جان مکین کے فلسفہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ سٹک اینڈ کیرٹ کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کا دستور رہا ہے کہ جب وہ کسی علاقہ سے انخلائ کرتے ہیں تو اس علاقہ یا قرب و جوار کے ملک میں ایک مستحکم اور فعال جاسوس نیٹ ورک قائم کرتے ہیں۔ افغانستان کے علاقہ جبل السراج میں امریکی جاسوسی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ طالبان کے کامیاب ایکشن اور امریکی جاسوسوں کے قتال کے بعد یہ جگہ امریکہ کیلئے غیر محفوظ ہوا۔

افغانستان سے نیٹو اور امریکی انخلائ کے بعد تو یہاں پر رہ کر کام کرنا ان کیلئے ناممکن بن گیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے اسلام آباد میں سینکڑوں ایکڑر میں حاصل کرنے کے بعد یہاں پر ایک بہت بڑا جاسوس نیٹ ورک مستحکم کرنے کا حکم شروع کیا تاکہ روس اور چین کے Under Belly میں رہ کر ان کیخلاف کارروائی کر سکیں اور پاکستان کو بھی دائمی طور اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں۔چین نے بھی اس کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا اور پاکستان میں چین کا اڈہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حکومت کو چاہئے کہ امریکہ کو پاکستان میں اور وہ بھی اسلام آباد میں ایسی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہ دے تاکہ پاکستان بین الاقوامی رسہ کشی سے محفوظ رہ سکے۔ امریکیوں کا دستور رہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنا مطلب نکالنے کے بعد پاکستان کو ایک اندھیرے گڑھے میں دھکیل دیتے ہیں جس سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو گہری تباہی سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ وہ امریکہ کے مفاد جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ اس طرح اس کے معاشی وسائل محفوظ رہیں گے وہ امریکی وعدہ کردہ امداد سے کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستانی عوام اپنی عسکری اور سیاسی قیادت سے توقع کرتے ہیںکہ وہ پاکستان کو امریکی گھناونی چال میں پھنسنے سے بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1