پانی زندگی ہے
شمائلہ جاویدSunday, March 14, 2010, 14:50
پانی زندگی ہے اور دریا پانی کا بہت بڑا ذریعہ۔ 14مارچ دنیا بھر میں دریائوں کی آگاہی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دفعہ 14 مارچ دریائوں کے بچائو کے عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے۔ پاکستانی دریا اپنی بقاء کے خطرے سے دو چار ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ٹھٹھہ اور بدین کی 20 لاکھ ایکڑ اراضی سمندر بُرد ہو چکی ہے لیکن سب سے زیادہ قابل ذکر اور باعث تشویش بات یہ ہے کہ پاکستانی دریائوں کی زندگی کو حقیقی خطرہ بھارتی آبی جارحیت سے لاحق ہو چکا ہے۔ پانی چور بھارت نے دریائے چناب اور دریائے جہلم کے پانی پر ڈاکہ مار کر اس حد تک پانی کم کردیا ہے کہ دریائے چناب میں ریت اڑتی نظر آتی ہے جبکہ دریائے جہلم نالے کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان ڈائریکٹر جنرل سائوتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ نے پوری ملی غیرت کے ساتھ بھارت کو آبی جارحیت روک کر پاکستان کا دریائی پانی چوری کرنے کا سلسلہ بند کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے پانی چور بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”بھارت یاد رکھے کہ آبی جارحیت میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو پاکستان کا ا یٹمی ڈاکٹرائن صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں ہے، اقتصادی ناکہ بندی ، معاشی تباہی اور خشک سالی بھی پاکستان کے استحکام اور سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے تمام تر توجہ مغربی سرحدوں پر مرکوز کررکھی ہے لہذا پاکستان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے لیکن پاکستان کی ایٹمی ڈاکٹرائن معاشی، سیاسی عدم استحکام اور سرزمین پر قبضے سمیت چار نکات پر مشتمل ہے جو کہ صرف روایتی ہی نہیں ہے کیونکہ پاکستان دشمن کی طرف سے کسی بھی انداز میں اگر خطرناک حد تک عدم استحکام کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات براہ راست ایٹمی صلاحیت اور ایٹمی حملے میں پہل کے آپسن جیسے معاملات پر پڑینگے۔ ایٹمی صلاحیت کے استعمال کے وقت کا تعین اور فیصلے کا تعلق محض سرحدی اور روایتی جنگ سے نہیں ہے۔ ایٹمی تھریش ہولڈ وہ مقام فکر ہے جب آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت کا استعمال کرنا ہے یا نہیں؟۔ بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں اگر ایک طرف پاکستان کے دریا خشک ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ کولڈ اسٹارٹ شروع کرتے ہیں تو پاکستان کو پھر اپنی سلامتی کے لئے سب کچھ کر گزرنے کا حق حاصل ہوگا۔ بھارت کو یہ غلط فہمی تھی کہ اگر وہ لاہور وغیرہ میں سرجیکل سٹرائیک کرتے ہیں تو یہ پاکستان کے ایٹمی تھریش ہولڈ تک نہیں جائیگا اور پاکستان کوئی جوابی اور موثر کارروائی نہیں کریگا۔ پاکستان کو دشمن جس طریقے سے بھی عدم استحکام سے دو چار کریگا ایسی صورت میں پاکستان اپنی سلامتی کے لئے ایٹمی صلاحیت کے تھریش ہولڈ کے قریب ضرور جائیگا۔ بھارتی آبی جارحیت پاکستان کی معیشت کی کمر توڑ دیگی جس کی زد میں پاکستان کی غذائی سلامتی ہی نہیں قومی سلامتی بھی آ جائیگی۔ ایٹمی ڈاکٹرائن کو مبہم اسی لئے رکھا جاتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو جب بھی اور جس بھی انداز میں خطرہ ہو تو پھر ایسے سارے معاملات کو ایٹمی ڈاکٹرائن کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے معاملے میں ہماری ڈاکٹرائن روایتی جنگ تک ہر گز محدود نہیں ہے کیونکہ برصغیر میں ایک روایتی ایٹمی ڈیٹرنٹ نہیں ہے”۔
جاوید اقبال وڑائچ ممبر قومی اسمبلی پی پی پی ، چیئرمین مجلس قائمہ خوراک و زراعت قومی اسمبلی کا بھی کہنا ہے کہ پانی کا مسئلہ پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے، بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے سے باز نہیں آتاتو آبی جارحیت کیخلاف پاکستان کو جنگ کی دھمکی اور تیاری بھی مکمل کرلینی چاہئے۔ جنوبی پنجاب میں تو اب بھی یہ حالت ہے کہ انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پینے پر مجبور ہیں مگر پانی ہی نہ رہا تو لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائینگے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کہاں ہجرت کرکے جائیں گے۔اسی لئے میں یہ کہتا ہوں کہ بھارتی آبی جارحیت نے پاکستان کو صرف خوراک کی سلامتی نہیں بلکہ قومی سلامتی سے دو چار کردیا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ پانی کے مسئلے پر ہمیں بھارت سے جنگ بھی کرنی پڑے تو کرنی چاہئے کیونکہ پاکستان کے حصے کا پانی کسی طرح بھی بھارت کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہم بھارت سے پانی کی بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ دوسری بات جو سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ہمیں ایف این سی ایوارڈ کی طرح قومی اتفاق رائے کرکے کالا باغ ڈیم ضرور بنانا چاہئے۔ کالا باغ ڈیم بن گیا تو ہمارے پاس اتنا پانی ہوگا کہ کسی صوبے کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا مگر جب دریائوں میں پانی ہی نہیں ہے اور نہ ہوگا تو پھر پانی کی تقسیم کیوں اور کیسے ہوگی؟۔ اس لئے حب الوطنی اور قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کو این ایف سی ایوارڈ کی طرح اتفاق رائے سے ضرور بنایا جائے تاکہ پانی کی قلت کے نتیجے میں صوبوں میں لڑائی اور ملک میں خانہ جنگی کی بجائے پانی سے فراوانی ہو اور زمین سے مکین کا رشتہ بھی برقرار رہے۔ بہرحال پاکستان کے سندھ طاس کمشنر جماعت علی شاہ کا آبی تنازع کے حل کے حوالے سے اب تک کردار اور کارکردگی میری نظر میں سوالیہ نشان ہے۔
شمائلہ جاوید کے تازہ ترین مضامین
- لندن سکول آف اکنامکس کے آئی ایس آئی پر بے بنیاد الزامات - June 15th, 2010
- پاک چین تعلقات ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال - May 26th, 2010
- امریکا''را'' کی آنکھ سے پاکستان کو دیکھنا بند کرے - May 11th, 2010
- پاکستانی بیکنی طالبات کے دنیائے نفسیات و اقتصادیات میں کمالات - April 29th, 2010
- سول ایٹمی پروگرام تک رسائی - April 19th, 2010
پرنٹ کریں


