پاکستان کو ریگستان بنانے کی بھارتی سازش
نائلہ جوزف دیالSunday, March 14, 2010, 15:04
14 مارچ دریائوں کی آگاہی کے عالمی دن کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں دریائی پانی کے بچائو کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا جس وقت پاکستان میں دریائی پانی کے بچائو کا عالمی دن منایا جارہا تھا اس روز بھی منگلا ڈیم میں پانی کی سطح کئی دنوں سے ڈیڈ لیول پر برقرار تھی جبکہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے چند انچ اوپر رہ گئی تھی۔ اسی طرح دریائے جہلم میں بھی پانی کے بہائو میں کافی کمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان میں دریائوں کی بقاء موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ اسی کشمیر کی طرف سے پاکستان آنے والے تمام دریائوں جہلم، چناب کے سرچشموں پر کشن گنگا، بگلیہار، سوال کوٹ سمیت بہت سارے مقامات پر بھارت نے ڈیم مکمل یا بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے حصے کے پانی کو چوری کرنے کے لئے دریائوں پر ڈیم بنانے یا دریائوں کا رخ موڑنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ جس کا مقصد سرسبز و شاداب پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کردینے کی بھارتی سازش کی تکمیل ہے۔ پاکستان کو ریگستان میں تبدیل کردینے کی بھارتی سازش کے متعلق ملک احمد علی اولکھ وزیر زراعت پنجاب کا کہنا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت پاکستانی زراعت، زرعی بنیادوں پر استوار معیشت کو تباہ کرنے کی گھنائونی سازش ہے تاکہ پاکستان کو خوراک کی خودمختاری سے محروم اور خوراک کی سلامتی کے مسئلے سے دو چار کردیا جائے۔ اسی مقصد کے لئے خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو ایک خط لکھ کر بھارتی آبی جارحیت کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر علاقائی اور عالمی سطح پر اقدامات کرنے کو کہا ہے۔
بھارتی آبی جارحیت سے جہاں زراعت، لائیو سٹاک اور آبی وسائل کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں وہاں پانی کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں میں بھی مختلف آوازیں بلند ہوئی ہیں جو کہ عقل و دانش کے منافی حکمت عملی کی صورت میں داخلی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کے مطابق واٹر کمشنروں کااجلاس بے سود رہے مگر آج تک تو پاکستانی وفود بھارت سے بے مقصد اور لاحاصل مذاکرات کے بعد ہمیشہ خالی ہاتھ ہی پاکستان واپس آئے ہیں۔ آخر عالمی عدالت انصاف یا سندھ طاس معاہدے کے ثالث عالمی بینک کے پاس نہ جانے میں اتنی تاخیر روا رکھنے کا کیا جواز ہے۔ قوم کو حق سچ بتانے کی بجائے چھپانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔
اس وقت ایک کروڑ ایکڑ رقبے پر گندم کی فصل پانی کی کمی کا شکار ہے ۔ گزشتہ سال بھی دریائے چناب اور دریائے جہلم کا پانی بھارت کی طرف سے چوری کرنے سے ہمیں 35فیصد تک پانی کی کمی کا سامنا تھا جبکہ چاول کی فصل بھی بُری طرح متاثر ہوئی تھی تاہم گندم کی فصل اس لئے تباہی سے بچ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بروقت صحیح ضرورت کے مطابق سارے پاکستان کو بارانِ رحمت سے نوازا لیکن بھارتی آبی جارحیت کا تسلسل جاری ہے جس کے نتیجے میں ہماری خوراک کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ہمیں پہلے ہی کمی کا سامنا ہے لہٰذا حکومت کو بھارتی آبی جارحیت کا معاملہ سنجیدگی سے مکمل تیاری کے ساتھ عالمی فورموں پر اٹھانا ہوگا۔
زندہ رہنا اور زندگی کا تحفظ انسان کا وہ بنیادی حق ہے جس کو تحفظ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور سمیت تمام قوانین میں دیا گیا ہے۔ پانی زندگی ہے اور زندہ رہنے کے لئے پانی کو وہی اہمیت حاصل ہے جو انسانی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو ہے۔ انسان ہوں، زراعت یا حیوانات پانی کے بغیر کوئی زندہ نہیں رہ سکتا حتیٰ کہ پانی کے بغیر تو زمین بھی مردہ ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی قوانین کے تحت پانی کے قدرتی بہائو کے مطابق اس پانی کے استعمال کا حق تمام دنیا کے ممالک اور عوام کو دیا گیا ہے لیکن مذہبی بنیادوں پر سماجی تضادات کا شکار ہندوستان جس نے آج تک قیام پاکستان کو بھارت ماتا کی تقسیم سمجھ کر پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان کے پانی پر مسلسل ڈاکہ ڈال رہا ہے اور پانی کے حق پاکستان کو تلف کرنے کے لئے تمام عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے قبضے اور بالادستی کی نفسیات اور پالیسی کے تحت آبی جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے۔ بھارت نے عالمی سطح پر دفاعی اور سفارتی محاذ پر شکست کے بعد پاکستان کی زرخیز زمینوں کو بنجر زمین میں تبدیل کرنے کے لئے واٹر وار کا محاذ کھول دیا ہے۔ اربوں ڈالر کی لاگت سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریائوں کو بھارتی حدود میں بند کرنے کا بھیانک منصوبہ طے بھی پا گیا ہے۔ اگر ہنگامی بنیادوں پر بھارت کی اس آبی دہشت گردی کو روکنے کے لئے کوئی موثر پالیسی مرتب نہ کی گئی تو 2011ء تک پنجاب اور سندھ چولستان کا منظر پیش کرینگے۔
ماضی میں بھارت نے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کے خلاف دھمکی اور دھونس کی زبان استعمال کرنا شروع کردی تھی مگر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے یکے بعد دیگرے چھ ایٹمی دھماکے کرکے بھارت پر پاکستان کی ایٹمی قوت ہونے کا اعلانیہ اظہار کردیا جس کے بعد سے آج تک بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ پاکستان کو ایٹمی دھونس اور برتری کی نفسیاتی جنگ کے ذریعے زیردست نہیں کرسکتا کیونکہ پاکستانی قوم زبردست قوت مزاحمت رکھتی ہے مگر یہ جان لینے کے بعد کہ پاکستان پر فوجی جارحیت مسلط نہیں کی جا سکتی بھارت نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے آبی جارحیت کا آغاز ایک طے شدہ منظم منصوبہ کے تحت کررکھا ہے۔
بھارتی آبی جارحیت میں ایک نیا اضافہ جون 2009ء میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب بھارت نے دریائے جہلم کا پانی بند کردیا جس کا بنیادی ہدف نیلم ویلی پروجیکٹ کے لئے دستیاب پانی کی بندش ہے تاکہ آزاد کشمیر میں نیلم ویلی ہائیڈرو پروجیکٹ کو ناکام بنایا جاسکے۔ بھارتی دوہری آبی جارحیت کے تحت جہاں دریائے جہلم کے پانی کی بندش کی گئی ہے وہاں مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے ذریعے دریائے جہلم کے پانی کا رُخ ہی تبدیل کردیا جائیگا۔ حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت حقیقت یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔ دریا کا رخ تبدیل نہیں کرسکتا۔ پاکستان کے اعتراضات میں سب سے اہم نکتہ پانی کے رخ کی تبدیلی ہے۔ جھگڑا یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دریائے جہلم پر 330 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ایک منصوبہ شروع کرچکا ہے۔ یہ ڈیم مظفر آباد سے 160 کلو میٹر اوپر کی طرف واقع ہے۔ اس ڈیم کی بننے سے کشن گنگا دریا (جسے پاکستان میں دریائے نیلم کہا جاتا ہے) کا پانی ایک اور نالے میں جاگرے گا۔ نتیجتاً دریائے نیلم کا پانی کم ہو جائے گا جس کا نقصان پاکستان کو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ یہ منصوبہ معاہدہ سندھ طاس کی خلاف ورزی ہے۔ 2004ء میں پاکستان کے لاتعداد اعتراضات کی وجہ سے بھارت نے ڈیم کے ڈیزائن میں چند تبدیلیاں کیں لیکن پاکستان کے بنیادی اعتراضات دور نہیں کئے۔ بھارت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان نے نیلم ویلی منصوبہ بعد میں تشکیل دیا گیا جبکہ کشن گنگا ڈیم کا منصوبہ پہلے شروع کردیا گیا تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون سا منصوبہ پہلے شروع کیا گیا اور کون سا بعد میں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کشن گنگا ڈیم کا بننا معاہدہ سندھ طاس کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟۔
معاہدہ سندھ طاس کے مطابق بھارت میں جتنا پانی ذخیرہ کیا جائے گا اتنا ہی پانی چھوڑنا بھی پڑے گا۔ پانی کے رخ کی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کو گرمیوں میں 11 فیصد اور سردیوں میں 27 فیصد پانی سے محروم ہونا پڑے گا کیونکہ پانی کی اس کمی کی وجہ سے پاکستان کو نیلم جہلم پلانٹ پر 11 فیصد کم بجلی حاصل ہوگی۔ پاکستان میں ایکوسسٹم بُری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے فصلوں اور ماحولیات کا جو نقصان ہوگا وہ ناقابل تلافی ہے۔
بھارت چاہتا ہے کہ کشن گنگاڈیم کے مسئلے کو پاکستان اور بھارت صرف آپس میں حل کریں جبکہ پاکستان اس مسئلے میں کسی ثالثی کے کردار کو فوقیت دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی طے کیا جائے۔ بھارت کے اصرار پر پاکستان نے اس شرط پر اس مسئلے پر مذاکرات کے لئے آمادگی کا اظہار کیا کہ بھارت اس مسئلے کے حل کے لئے ایک باقاعدہ ٹائم فریم دے گا۔ یوں حالیہ مذاکرات میں کشن گنگا ڈیم کو بھی شامل کیا گیا لیکن بھارت نے ابھی تک کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا۔ بھارت کی طرف سے اس طرح کی چالوں کا استعمال کوئی نیا نہیں۔ بھارت ہمیشہ معاملات کو مذاکرات میں لٹکا کر اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ کشن گنگا ڈیم کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے اور اب بھارت نے کھلے کھلا اعلان کیا ہے کہ کشن گنگا ڈیم منصوبے پر کام جاری رکھا جائے گا۔ بھارت کی طرف سے یہی چال بازی بگلیہاڑ ڈیم میں بھی استعمال میں لائی گئی تھی جب بھارت نے پاکستان کی ٹیم کو سکیورٹی کے بہانے بگلیہاڑ ڈیم کی جگہ کا معائنہ کرنے سے روکے رکھا۔ اسی طرح جب پاکستان بگلیہاڑ ڈیم کے معاملے کو عالمی بینک کے سامنے رکھنا چاہتا تھا تو بھارت نے پاکستان سے درخواست کی کہ دونوں ممالک کے آپس کے مذاکرات کو مزید وقت دیا جانا چاہئے
خاص بات یہ ہے کہ جب بھارت وقت حاصل کرنے کے لئے یہ کھیل کھیل رہا تھا اس وقت بھی بگلیہاڑ ڈیم پر کام جاری تھا۔ کشن گنگا ڈیم کے معاملے میں بھی بھارت یہی چالیں استعمال کرکے وقت حاصل کررہا ہے۔
حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس دفعہ بھارت کی یہ چالیں کامیاب نہ ہونے دے۔ بین الاقوامی برادری کا بھی فرض ہے کہ وہ بھارت کو معاملات کے حل کے لئے مجبور کرے تاکہ جنوب ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں کسی بدمزگی کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔
نائلہ جوزف دیال کے تازہ ترین مضامین
- اُٹھ کھڑے ہونگے عوام اور لیں گے انتقام - June 25th, 2010
- کشمیر کشمیریوں کا ہے - June 14th, 2010
- امریکی پالیسی میں تبدیلی - May 30th, 2010
- غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا - May 14th, 2010
- امریکہ سے وفاداری کے حلف بردار فیصل شہزاد کا نزلہ پاکستان پر کیوں؟ - May 11th, 2010
پرنٹ کریں


