هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

پاکستانی پانیوں پر بھارتی ڈاکہ

شاہین اختر

Sunday, March 14, 2010, 14:53

14 مارچ ویسے تو ہر سال دریائوں کی آگاہی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز برازیل سے کیا گیا تھا۔ 14 مارچ 2010ء کو دریائوں کی آگاہی کے عالمی دن کو ”دریائی پانی کے بچائو” کے دن کے طور پر منایا جارہا ہے لیکن پاکستان میں ہر دن دریائوں کے پانی کے بچائو کے لئے سرکاری اور عوامی سطح پر پاکستانی پانیوں پر بھارتی ڈاکہ زنی کے تناظر میں صدائے احتجاج بلند کرنے کا سلسلہ تیز تر ہوتا جارہا ہے۔

ریاستی دہشت گرد بھارت نے پاکستان کے احتجاج پر کان دھرنے کے بجائے ایک طرف پاکستان کے پانی پر دریائے جہلم اور چناب میں ڈاکہ زنی جاری رکھی ہوئی ہے دوسری طرف اعتراف جرم کی بجائے انکاری رویہ اپناتے ہوئے الٹا یہ کہہ دیا ہے کہ پاکستان کو پہلے ہی اس کے حصے سے زیادہ پانی بھارت دے رہاہے جیسے بھارت پاکستان کو ایک اچھا ہمسایہ ہونے کے ناطے پانی عطیہ کررہا ہولیکن بھارت کو عزت راس نہیں آ رہی اور ایٹمی پاکستان کے ساتھ بھارت کا پانی کا پنگا چنگا نہیں رہے گا۔

احسن اقبال ایم این اے، مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ایم ایل این ، سابق ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق بھارتی آبی جارحیت پاکستان کے آبی وسائل کو تباہ کرکے اسے بنجر اور ریگستان بنانے کی گھنائونی سازش ہے جو کہ پاکستان کی غذائی سلامتی اور ملکی تحفظ کے حوالے سے انتہائی تشویش کی بات ہے لیکن سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان بھارتی آبی جارحیت کی گھنائونی سازش کا توڑ کرنے کی بجائے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ قومی اسمبلی کے سیشن کے آغاز پر ہی پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی نے بھارتی آبی جارحیت کیخلاف آواز بند کی تھی مگر وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے جس طرح آمر پرویز مشرف کے خلاف بل لانے سے صاف انکار کردیا تھا جس پرویز مشرف کے دور میں بھارتی آبی جارحیت میں اضافہ ہوا اور بھارتی آبی جارحیت کا یہ تسلسل آج بھی جاری ہے مگر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو کہہ رہے ہیں کہ آپ اس ضمن میں کوئی بل لائیں تو ہم تعاون کرینگے گویا حکومت کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں اگر سب کام اپوزیشن نے کرنے ہیں تو پھر حکومت گھر چلی جائے۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کشمیر سے نکلنے والے دریائوں کا پانی ہی پاکستان کو بنجر بننے سے روک سکتا ہے کیونکہ پانی کو زمین میں وہی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو انسانی جسم میں خون کو۔ بھارتی حکمرانوں کے توسیع پسندانہ عزائم اور اس علاقے میں بالادستی کی خواہش بے تاب ہی کا یہ شاخسانہ ہے کہ وہ کشمیر پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے کے لئے ایک طرف پاکستان پر مداخلت کاری کے بے جا الزامات لگا رہا ہے تو دوسری طرف کشمیر سے پاکستان کی جانب آنے والے دریائو پر فر خا بیراج، بگلیہاڑ ڈیم، نیلم بیراج اور اس نوع کے قریباً 62 ڈیم بنا کر پورے پاکستان کو ایک صحرا میں تبدیل کرنے کے ناپاک خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے ہی کی خلاف ورزی نہیں مسلمہ بین الاقوامی آداب کے بھی منافی ہے۔

جب پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں معاہدہ سندھ طاس طے پایا اس وقت یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ آج محسوس ہورہا ہے کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں تھا اس کی وجہ پانی کے وہ مسائل ہیں جو آئے دن دونوں ممالک کے درمیان سر اٹھاتے رہتے ہیں مثلاً سلال ڈیم، وولر بیراج اور بگلیہاڑ ڈیم وغیرہ۔ اس کے علاوہ بھارت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانستان حکومت کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ وہ دریائے کابل پر ایک ڈیم بنائے۔ بھارت کے تجویز کردہ ”کاما ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ” نامی اس منصوبے میں پاکستان کا ایم اے ایف 0.5 پانی استعمال ہوگا۔

بھارت نے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے افغانستان کو ہر قسم کی تکنیکی سہولت کے علاوہ مالی معاونت کا بھی یقین دلایا ہے۔ بھارت خود تو پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لئے ترسا رہا ہے لیکن اب وہ چاہتا ہے کہ مغرب کی جانب سے بھی پاکستان کا پانی روک دیا جائے تاکہ پاکستان ایک صحرا کی شکل اختیار کرجائے۔

بھارت دریائے سندھ پر بھی مزید تین ڈیم بنانے جارہا ہے اگر ان منصوبوں پر کام کیا گیا تو یہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ ان ڈیموں کے نام ”نموبازگو، دمکھڑ اور چوٹک” ڈیم ہیں۔ نموباز گو ڈیم بھارت کے علاقے لیہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر بنایا جائے گا بلکہ اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ چوٹک ڈیم دریائے سورد پر بنایا جائیگا۔ اگر ان ڈیموں میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی یا قصداً زیادہ مقدار میں پانی چھوڑا گیا تو یہ نہ صرف ہمارے مجوزہ بھاشا ڈیم کے لئے خطرناک ہوگا بلکہ سکردو شہر ، سکردو ائرپورٹ اور قراقرم ہائی وے کو بھی بہا لے جائیگا۔

بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب اور جہلم پر چالیس ڈیم اور ان دریائوں کے معاون ندی نالوں پر بارہ ڈیموں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے جن میں چار بڑے ڈیم اور سولہ چھوٹے ڈیم آپریشنل ہوچکے ہیں جبکہ 32 ڈیموں پر تعمیراتی کام برق رفتاری سے جاری ہے اور 2012ء تک ان ڈیموں کی تعمیر بھی مکمل ہو جائے گی۔ اسی طرح بھارت نے پاکستان کی تمام تر تشویش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے رواں برس ہی یکم جنوری 2009ء سے دریائے سندھ پر کارگل کے نام سے دنیا کے تیسرے بڑے آبی ذخیرے کی تعمیر کا بھی آغاز کردیا ہے جبکہ ایک آبی سرنگ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جس کے ذریعے بھارت ان دنوں دریائے سندھ کا 45 فیصد پانی کھینچ رہا ہے۔ اسی طرح حکومت بھارت نے دریائے سندھ پر لداغ کے مقام پر مزید تین ڈیموں کی تعمیر کے لئے بھی پیپر ورک شروع کردیا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت دریائے سندھ کا ایک لاکھ کیوسک پانی روک کر اپنے استعمال میں لا رہا ہے جبکہ دریائے چناب اور جہلم کا بھی کم و بیش ستر ہزار کیوسک پانی بھارت ہڑپ کررہا ہے لیکن اس سنگین صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ابھی تک بھارتی آبی جارحیت، دریائو ں کا رخ موڑنے اور پاکستان کو غذائی قحط کا شکار کرنے کے جو عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ مقام افسوس ہے کہ حکومت پاکستان ابھی تک بھارتی آبی جارحیت روکنے کے لئے کوئی دو ٹوک موقف اور واضح پالیسی اختیار نہیں کرسکی حالانکہ بھارتی آبی جارحیت پاکستان غذائی سلامتی کے لئے ہی خطرہ نہیں بلکہ بی آر بی جیسی نہر کی دفاعی اہمیت اپنی جگہ ہے یہ نہر چلتی رہے تو اس کے نیچے ٹینکوں کو روکنے کے لئے بم رکھے جاتے ہیں جبکہ بھارت کی طرف سے پانی کی بندش کی صورت میں نہر خشک ہو گئی تو اس کی دفاعی اہمیت بھی ختم ہو جائیگی۔

شاہین اختر کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1