هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

فوجی افسران کی مدت ملازمت میں توسیع

روف عامر

Monday, March 15, 2010, 23:26

پاکستان کے چیف اف ارمی سٹاف جنرل پرویز کیانی نے حال ہی میں چار جرنیلوں کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکم جاری کیا ہے جس پر رنگ برنگی خامہ فرسائی کی جارہی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور خود کش بمباری کے خلاف صف ارا افواج پاکستان پر تنقید سے گریز کیا جاتا تاکہ فوجیوں کے مورال پر منفی اثرات غالب نہ ہوسکیں تاہم دل جلوں نے کیانی کے فیصلے پر زہریلے نشتر داغ دئیے۔ فوج کے نکتہ چیں توسیع کو ارمی کی تنزلی سے تعبیر کرتے ہیں۔

دوسری طرف فوج کے سپورٹرز نے موجودہ عالمی سنیاریو خطے کی سیاسی و جنگی صورتحال اور تکنیکی بنیادوں کی روشنی میں کیانی صاحب کے فیصلے کی حمایت کی ہے جسکی رو سے جرنیل حضرات مدت ملازمت میں اضافے سے لطف اندوز ہونگے۔ان فیصلوں کی اہمیت اور مضمرات کی روشنی میں متضاد خیالات کا اظہار ہورہا ہے جن وجوہات کی بنا پر یہ فیصلے بہت اہم ہیں اس سے پورے ادارے کو ایک سگنل مل چکا ہے۔ کیانی نے اپنے پیش رو جرنیلوں کے برعکس پاکستان میں قائم لولی لنگڑی جمہوری حکومت کے قیام میں تاریخ ساز کردار انجام دیا۔

پچھلے دو سالوں میں ہمیں کئی بحرانوں کی پل صراط سے گزرنا پڑا۔ اگر کیانی صاحب چاہتے تو وہ ایوب خان ضیاالحق اور مشرف کی طرح امریت کے سنگھاسن پر جلوہ گر ہوکر میرے پیارے ہم وطنو کا راگ سناچکے ہوتے تاہم انہوں نے افواج کو کارسیاست سے دور کرکے پاک فوج کے امیج کو بہتر بنایا۔کیانی کی نگرانی میں سیکیورٹی فورسز نے سوات فاٹا اور وزیرستان میں شدت پسندوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ پوری قوم پاک فوج کی پشت پر موجود ہے مگر چیف کے ساتھیوں کو دی جانے والی توسیع پر پر انگلیاں کھڑی کی جارہی ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جنرل کیانی جنرل مشرف کی قائم کردہ غلط روایات کو ختم کردیتے۔افواج کے تمام شعبوں میں میرٹ کی حکمرانی قائم کردی جاتی یوں کیانی مشرف کی شرم ناک روایات سے چھٹکارہ پاسکتے تھے جو سیزر دور کے امروں کی طرح اپنی مرضی سے اصول و ضوابط بنالیا کرتے۔ موجوزہ فیصلے نے ماضی کی تلخ یادیں زندہ کردیں جنہیں فراموش شدہ تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے کیانی نے کڑی کاوشیں کیں۔اب سوال تو یہ بھی ہے کہ جرنیلوں کو توسیع دیتے ہوئے یہ دقیق نکتہ کس طرح فراموش ہوگیا؟

اب یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مشرف کی طرح کیانی نے بھی اپنے پسندیدہ رجال کاروں کو نوازا مگر چند نکات ایسے بھی ہیں جنکی رو سے توسیع بہت ضروری ہے۔ فوج میں بعض افیسرز پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔انہیں اپنے شعبوں کا ماہر بنانے کے لئے وقت پیسہ اور قومی وسائل خرچ کئے جاتے ہیں۔وہ مطلوبہ مہارت کی لائن پر پہنچتے ہیں تو انکی مدت ملازمت کا عرصہ ختم ہوجاتا ہے اسی لئے ایسے افراد کو کھویا نہیں جاسکتا۔

جنرل احمد شجاع کا معاملہ اسی ضمن میں اتا ہے وہ کیانی کے بااعتماد ساتھی ہیں وہ ائی ایس ائی کے سرخیل اور ڈی جی ملٹری اپریشن تھے۔احمد شجاع نے دوران ملازمت واشنگٹن لندن ،ریاض اور کئی یورپی ممالک میں اپنے ہم منصبوں سے تعلقات بنائے۔اگر اب انکے منصب پر کوئی اور فروکش ہوتاہے تو وہ موجودہ مقام تک پہنچنے میں کافی وقت لے سکتا ہے۔دہشت گردی نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔پاکستان حالت جنگ میں ہے جسکی زمام کار کیانی کے ہاتھوں میں ہے جو پورے اطمینان کے ساتھ اپنی زمہ داری نبھا رہے ہیں۔دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لئے جنرل کیانی جو اسی سال ریٹائر ہونے والے ہیں انہیں بھی ایک سال کی توسیع ملنی چاہیے ورنہ محاز جنگ پر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گو کہ توسیع کے فیصلے اس سنہری حروف کی نفی کرتے ہیں کہ ادارے نہایت سختی کے ساتھ بہترین حکمت عملی اور ڈسپلن کے ساتھ ہی پروان چڑھتے ہیں تاہم جنگوں کے ادوار میں بہترین نتائج پانے کے لئے کڑوی گولیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی خارجی اور داخلی صورتحال کے تناظر میں نئے ارمی چیف کی سلیکشن ملکی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ ہوگا جو سیاسی حکومت نے نہایت باریک بینی اور فراست کے بل پر کرنا ہے۔ مدت ملازمت میں اضافہ خوش کن تو مگر دہشت گردی کی طوفانی لہروں کا مقابلہ کرنے اور ریاستی سلامتی کے لئے جنرل کیانی کی مدت میں 1 تا3 سالہ اضافہ وقت کی لازم ضرورت ہے۔

پاک فوج دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہے مگر چند لابیاں اور گروہ ایسے ہیں جو پاک فوج کے امیج کو مسخ کرنے کی قابل مذمت دھن میں گرفتار ہیں۔پاک فوج پر کبھی بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام لگایا جا تاہے تو کبھی افسران کی مدت میں اضافے کا ایشو اٹھا کر تنقید کی جاتی ہے۔ کبھی عسکریت پسندوں پر تشدد کے قصے سنائے جاتے ہیں تو کبھی فوجیوں کو اپنے ہم وطنوں کو قتل کرنے کا کوسنا دیا جاتا ہے ۔حالت جنگ میں بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی فوج کو عالمی سطح پر بدنام کرنا شروع کردیں۔

جہاں تک پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے مندرجہ بلا حیلوں اور افسانوں کا تعلق ہے تو کیا کوئی نکتہ چین اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ کیا ایسے درندے رحم کے قابل ہوسکتے ہیں جو بچوں بوڑھوں ماوں اور بہنوں کو بڑی سنگدلی سے قتل کررہے ہیں جو اسکولوں کو بموں سے اڑا رہے ہیں جو سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر خود کش حملے کرتے ہیں جو مساجد میں گھس کر نماز جمعہ ادا کرنے والے پاکباز نمازیوں پر گولیاں برساتے ہیں جو ایک گھنٹے میں چھ دھماکے کرکے لاکھوں شہریوں کو نفسیاتی مریض بنادیتے ہیں جو فوجیوں کو اغوا کرکے سرعام پھانسی دیتے ہیں جو عورتوں پر کوڑے برساتے ہیں جو معصوم بچوں کو اغوا کرکے خود کش بمبار بننے پر مجبور کرتے ہیں جو احکامات خدا اور دین محمدی کا تشخص پامال کرتے ہوں؟

اس وقت ایک لاکھ فوجی جنگ میں مصروف ہیں۔اب تک 30 ہزار ہلاکتیں ہوچکیں۔ پاک فوج کے 2 ہزار جوان وطن کے لئے جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں اور6 ہزار زخموں سے چور ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔یہ پاک فوج کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اج باجوڑ میں سبز ہلالی پر چم لہرا رہا ہے۔دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی۔اکثر مرکھپ گئے دیگر مختلف شہروں میں روپوش ہیں۔پاک فوج کا مقابلہ صرف عسکریت پسندوں سے نہیں بلکہ یہود و ہنود سے منسلک غیر ملکی ایجنسیوں اور انکے ایجنٹوں سے ہے۔ پاک فوج کی کارکردگی کا موازنہ ناٹو سے کیا جائے تو پاک فورسز کی کارگزاری پر دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔امریکہ نے 30 ہزار فوجیوں کے ساتھ افغان صوبے ہلمند میں اپریشن مشترک شروع کررکھا ہے مگر جدید ترین اسلحے سے لیس ناٹو فورس اپنے جنگی مقاصد کا ایک فیصد حاصل کرنے میں ناکام ہے مگر پاکستان ارمی نے راہ نجات اپریشن صرف5 ماہ میں مکمل کرلیا ۔

پاکستان کی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمیں فوج ایسے باوقار ادارے کے کردار کو متنازعہ بنانے کی دریدہ دہنی سے دور رہنا چاہیے۔۔ ہمیں باوقار قوم کی طرح قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔زندہ اور تہذیب یافتہ لوگ اپنی افواج کی عزت سادات کو بازاروں و چوراہوں میں نہ تو ہدف تنقید بناتے ہیں اور نہ ہی انکے وقار و اعجاز پر انچ انے دیتے ہیں۔موجودہ حالات میں پاک فوج پر کسی بھی حوالے سے تنقید کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔

روف عامر کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1