پاکستان سرمایہ کاری کے لئے بہترین جگہ ہے،پاکستان میں تیونس کے سفیر مراد بوراہلا سے خصوصی انٹرویو
راجہ عامر محمود بھٹیTuesday, March 16, 2010, 10:06
جمہوریہ تیونس بحیرہ روم کے بیسن کے مرکز میں واقع ہونے کے ساتھ ساتھ یورپ ، افریقہ اور عرب دنیا کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے انتہائی منفرد اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ تین مختلف تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی بناء پر تیونس کا معاشرہ خصوصی امتزاج کا حامل ہے۔ جمہوریہ تیونس کا کل رقبہ 162,155مربع کلومیٹر ہے ۔ یہ شمالی افریقی ریاست اٹلی سے صرف 140کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ بحیرہ روم کیساتھ اس کے ساحل کی لمبائی 1300کلو میٹر کے لگ بھگ ہے ۔ ملک کی سرحدیں ایک طرف لیبیا اوردوسری طرف الجزائر سے ملتی ہیں ۔ سرکاری زبان عربی ہے اور فرانسیسی وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ ملک میں بہت بڑی اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے۔ ان کے علاوہ عیسائی اور یہودی بھی یہاں آباد ہیں۔ ملک میں جغرافیائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کو موجودہ دور کے ان مسائل کا سامنا نہیں جن سے بیشتر مسلمان ممالک دوچار ہیں۔ تیونس میں پاکستان کے سرگرم سفیر مراد بوراہلا دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تیونس کے سفارتخانے میں آپ سے خصوصی انٹرویو کیا گیا جو نذر قارئین ہے ۔
سوال: یہاں آنے سے پہلے پاکستان کے متعلق آپ کے نظریات کیا تھے؟ کیا پاکستان ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے سوچا تھا ؟
جواب: یہ حقیقت ہے کہ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے پاکستان کے متعلق بہت سے غلط تصورات دنیا اور خاص کر مغربی ممالک میں پھیل رہے ہیں حالانکہ زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ میں نے پاکستان کو مختلف موسمی علاقوں والا خوبصورت ملک پایا ہے۔ یہاں کے لوگ بہت دوستانہ مزاج رکھتے ہیں۔ پاکستان آنے کے بعد سے اب تک میں نے بہت سے شہروں کا دورہ کیا ہے اور مجھے کبھی کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔
سوال: پاکستان اور تیونس کے سفارتخانوں کا دونوں ملکوں کو قریب لانے میں کیا کردار ہے؟
جواب: اسلام آباد میں تیونس کا سفارت خانہ دونوں ملکوںکے ثقافتی روابط، تیونس کی روایات اور تمام شعبوں میں وفود کے تبادلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے پُرعزم ہے۔ آج کل جغرافیائی صورتحال کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے میںکوئی رکاوٹ درپیش ہے۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ باہمی تعلقات کو نئی بلندیاں دینے کے لئے بہت سے نئے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ میری پاکستان کی سیاسی ، معاشی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں میں اور باہمی گفتگو سے ان کے تیونس کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے اور وسیع کرنے کے مضبوط ارادوں کا اظہار ہوا۔ ان کے مدمقابل تیونس کے متعلقہ لوگوں نے بھی ایسے ہی عزم کا اظہار کیا ہے۔
سوال: آ پ کے خیال میں وہ کون سے بڑے شعبے ہیں جن میں دونوں ممالک تعاون کرسکتے ہیں؟
جواب: تبدیلیوں کے نئے دور میں تیونس کے صدر بن علی کی قیادت کی وجہ سے تیونس مائیکرواکنامک اعداد و شمار کو بہتر بنانے اور مصدقہ اقتصادی ترقی کی شرح برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ ملک کے جدید انفراسٹریکچر سودمند قوانین، سلامتی اور استحکام کی بہترین فضاء نے اسے بحیرہ روم کے جنوبی ساحل کا پہلا ملک بنا دیاہے۔ جس نے 1995ء میں یورپی یونین کے ساتھ باہمی تعاون کے سمجھوتے پر دستخط کئے۔ تیونس یورپی یونین کے ساتھ فری ٹریڈ ایریا لاگو کرنے میں بہت ممتاز مقام رکھتا ہے۔ تیونس کی تجارت کا 80فیصد یورپی مارکیٹ میں بغیر ٹیکس کے جاتا ہے اور اس میں بہت سی اشیاء شامل ہیں۔آج کل تیونس یورپی یونین کو سلے سلائے کپڑے فراہم کرنے والا پانچواں بڑا ملک اور کیبل سے متعلقہ سازوسامان فراہم کرنے میں دسواں نمبر رکھتا ہے۔ان کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے اور یورپی یونین میں مقابلے کے لئے پاکستان و تیونس کوباہمی مفادات اور تعاون کو بڑھانا چاہئے۔ خاص طور پرزرعی اشیائ، خوراک، ٹیکسٹائل، زیتون کے تیل، کھجوروں، کھادوں، چمڑے اور آلاتِ جراحی وغیرہ میںتعاون کو وسعت دینی چاہئے۔
سوال: پاکستان اور تیونس کے درمیان تجارت کے کیا امکانات ہیں اور کس شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے؟
جواب: 2007ء میں اسلام آباد میں ہونے والی چھٹی مشترکہ وزارتی کمیشن کی میٹنگ نے دونوں اطراف سے سانجھے داری کو جامع انداز میں وسعت دینے اور آگے بڑھانے کے مصمم ارادے کا اعادہ کیا تاکہ باہمی تعلقات اور تبادلوں کے فروغ کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچا جائے۔ دونوں ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سوتی اشیائ، زرعی اشیاء و خوراک، سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، صحت، سیاحت اور زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی بہت گنجائش موجود ہے ہماری کوشش ہے کہ 2010ء میں باہمی تجارت کا 300 ملین امریکی ڈالر کے حجم کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔
سوال: پاکستان میں سرمایہ کاری کے شعبے کے متعلق آپ کے خیالات کیا ہیں اور آپ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب: پاکستان اقتصادی لحاظ سے 170ملین صارفین کے ساتھ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جو اہم قدرتی اور زرعی وسائل سے مالامال ہے ۔ہنر مند افرادی قوت جیسی خوبیوں کی وجہ سے ہی پاکستان نے بین الاقوامی اقتصادی بحران کا مقابلہ کیا ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں مسلسل بہتری اور ملک کی اسٹاک مارکیٹوں کی مسلسل بڑھوتری دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کے مالیاتی شعبے کی مضبوطی اور استحکام پر دنیا حیران رہ گئی کیونکہ عالمی بحران میں پاکستان کا کوئی بھی معاشی شعبہ یا ادارہ تباہ نہیں ہوا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہوگئے ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات بھی 6 ارب ڈالرسالانہ تک جاپہنچی ہیں۔ اس طرح پاکستان کی بہت سی موجودہ کامیابیوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کیا ہے جو پاکستان کو آئندہ آنے والے سالوں میں سرمایہ کاری کے لئے ایک بہترین وباصلاحیت مارکیٹ سمجھ رہے ہیں۔
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہماری ویزہ پالیسیاں دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کے لئے مددگار ہیں یا ان کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے؟
جواب: کاروباری افراد کے تبادلوں اور باہمی تجارت کو 300 ملین ڈالر تک لے جانے کے لئے ضرورت کے مطابق نئی ویزہ پالیسی اختیار کرنی ہوگی خاص طور پر کاروباری دوروں کے لئے ویزہ پالیسی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
سوال: تعلیم کسی قوم کی تعمیر کے لئے اہم ستون کا درجہ رکھتی ہے۔ پاکستانی طلباء کے لئے تیونس میں تعلیم حاصل کرنے کے کس قسم کے امکانات موجود ہیں؟
جواب: چھٹی مشترکہ وزارتی کمیشن منعقدہ اسلام آباد میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کا مقصد دوروں کے ذریعے سائنسی رابطوں کی حوصلہ افزائی کرنا، سائنسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور بائیوٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، بنجر زمینوں کی بحالی اور زرعی صنعت کے قیام کے لئے مشترکہ سائنسی منصوبوں کا قیام تھا۔تیونس مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم دینے میں مہارت رکھتا ہے جس سے پاکستانی طلباء فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سوال: کیا آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر پاکستان کی حمایت کرتے ہیں؟
جواب: قانون کی حکمرانی اور ریاست کی اقدار کے سلسلے میں تیونس نے بڑی کامیابی سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے بین الاقوامی برادری کو ان برائیوں کے خلاف متحرک کرکے نپٹنا ہے۔ تیونس نے اپنی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی اور بحران پیدا کرنے والے عناصر کو محدود کرنے کے اصولوں پر مرتب کی ہے اور دنیا میں امن، تحفظ اور سلامتی کے فروغ کے لئے ماحول کو سازگار بنانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ تیونس بین الاقوامی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف دنیا بھر کی سطح پر صاف ستھرے اور جامع انداز میں ان کی سیاسی، سماجی و ثقافتی اور اقتصادی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کے لئے پُرعزم ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے کردار کو سراہتا اور ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔
سوال: آپ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں کیارائے رکھتے ہیں؟
جواب: بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں تیونس اعتدال اور وسیع النظری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی بہت سے اصولوں پر مشتمل ہے جو تیونس کے بین الاقوامی طور پر جائز اور صحیح موقف سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اس پالیسی کا مقصد لوگوں اور ریاستوں کے درمیان خودمختاری اور برداشت کے ماحول کے لئے حالات کو بہتر کرنا ہے تاکہ زیادہ انصاف، جمہوریت اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن پیدا ہو اور انسانیت کی بھلائی، ترقی، فائدے کے لئے تحفظ اور استحکام کو فروغ دیا جائے۔اس طرح تیونس اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے تاکہ تمام شعبوں میں مفادات سے بالاتر ہو کر قریبی تعلقات کو مزید ترقی دی جاسکے۔
سوال: تیونس کی سیاحت کی صنعت کی ترقی کا کیا راز ہے اور آپ کے ملک میں سیاحوں کی دلچسپی کے اہم مقامات کون سے ہیں؟
جواب: تیونس کی تاریخ تین ہزار سال سے زیادہ قدیم ہے جو مختلف تہذیبوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ تیونس بحیرہ روم کے مرکز میں واقع ہے۔ اس نے بہت سی شاندار تہذیبوں کا نظارہ کیا ہے۔ خاص طور پر کارتھیج کی شہری ریاست و رومن و وینڈل بازنطینی، عرب و قیرووان کا مقدس شہر عثمانی ترک اور فرانسیسی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ ان تمام تہذیبوں نے تیونس کے پُرامن وسیع القلب، بُردبار اور جدت پسند لوگوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ان وجوہات کی بناء پر اور اپنے اس قیمتی ورثے کی وجہ سے تیونس نے 1950ء کے شروع میں سیاحت کی صنعت کا آغاز کیا اور آج تیونس بحیرہ روم کے جنوبی ساحل کا پہلا سیاحتی مقام ہے جہاں سالانہ سات ملین سیاح سیر کے لئے آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں سیاحوں کی دلچسپی کے لئے متعدد دلکش مقامات موجود ہیں۔شمال سے جنوب تک کا 1200 کلو میٹر طویل ساحل، خوبصورت ساحلی تفریح گاہوں، رومنوں اور پونک دور کی منفرد عمارتوں نے تبارکہ، بظرتا، حمامت اور سوسی کے شہروں کو بحیرہ روم کے سمندر کا موتی بنا دیا ہے۔ دجربا کا جزیرہ خوابوں کی سرزمین اور کہانیوں و افسانوں کا مسکن ہے۔
تیونس مکمل طور پر ایک اعلیٰ تفریح مقام ہے۔ قیرووان کا مقدس شہر اپنے اندر شاندار عرب اسلامی ورثہ سمیٹے ہوئے ہے جس میں عظیم عقبہ مسجد اور باربر کا مقبرہ جیسی تاریخی عمارت موجود ہیں۔ قیرووان کو 2009ء کے لئے اسلامی تہذیب کا مرکز قرار دیا گیا تھا۔ تیونس کے شہر مدینہ کا سفر سیاحوں کے لئے ایک منفرد تجربہ ہوگا۔ یہ سفر آپ کو تیرہ صدیوں سے بھی قدیم دور میں لے جائے گا۔ اس کا تجربہ آپ کو شہر کے تاریخی مرکز میں واقع غلام گردشوں کی سیر سے ہوگا جہاں آپ روشنی اور سایوں کی کیفیت کا تجربہ حاصل کرینگے۔ جنوب کے نخلستانی شہر توزیور اور نیفتا اپنے مخصوص نظاروں، مارکیٹ لائف اور عظیم سہارا (صحرائے اعظم) کی سنہری ریت کی وجہ سے آزادی کا عجیب سا احساس پیدا کرتے ہیں۔ بہت سے فلم ساز تیونس کے سہارا کو فلموں کی عکس بندی کے لئے پسند کرتے ہیں جیسے سٹار وارز وغیرہ۔تیونس بہت سی سرگرمیوں اور تفریح کے دلچسپ مقامات فراہم کرتا ہے۔ یہ دنیا میں گالف کے لئے چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ سپاس اور تھیلاسو تھراپی کے لئے دوسرے نمبر پر ہے۔ ہیلتھ ٹورازم یہاں کی سیاحتی صنعت کو ایک الگ تھلگ اور مخصوص مقام عطاء کرتی ہے۔
راجہ عامر محمود بھٹی کے تازہ ترین مضامین
- پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات - June 27th, 2010
- شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے صدر آصف علی زرداری کا خطاب - June 22nd, 2010
- روہر یورپین کیپیٹل آف کلچر2010ء - June 17th, 2010
- سمندر سے ایک قطرہ - June 9th, 2010
- ڈوئچے ویلے - June 7th, 2010
پرنٹ کریں


