هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

خیبر سے آگے جہاں اور بھی ہیں

محمدفاروق چوہان

Saturday, April 17, 2010, 0:07

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخواہ رکھ دیا گیا ہے ـ راقم کو ذاتی طور پر پختونستان کا نام پسند ہے لیکن یہ نام سابقہ ادوار میں ایک تحریک کی وجہ سے متنازعہ بن گیا ہے اور یہ نام لینے یا استعمال کرنے کی گنجائش ہی نہیں ـ اگرچہ قومیت اور لسانیت ہماری شناخت کی بنیاد نہیں اور بقول سیدنا عمر ‘ ‘ لا عزت لنا الا بالاسلام ‘ ‘ نظریہ اسلام ہی ہماری عزت اور پہچان کے لیے کافی ہے ـلیکن اگر تسلیم کرلیتے ہیں کہ یہ صوبے کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ تھا ـ تو مبارک ہو کہ یہ مطالبہ پورا ہواـ پختونخواہ کے نام کے لیے پشتونوں کی معلوم تاریخ میں احمد شاہ ابدالی کے قول سے استدلال کیا جاتا ہےـ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ احمد شاہ ابدالی نے پختونخواہ کا خواب دلی کے تخت پر قابض ہو کر دیکھا تھا یعنی پشتون قو م کو عملاً حکومت و اقتدارشان و شوکت اور ترقی و خوشحالی کی معراج تک پہنچانے کے بعدیہ اشعار کہے تھے ” کہ مجھے اپنی پختونخواہ کے پہاڑ دلی کے تخت سے زیادہ عزیز ہیں ‘ ‘ ـ لیکن اس کے برعکس آج ہماری شناخت اور ہمارا نام ہمیں اس حالت میں ملا ہے کہ پختونخواہ میں آگ و خون کا بازار گرم ہے ‘ خود کش دھماکے ‘ فوجی آپریشن ‘ ڈرون حملے ‘ اپنی زمین میںاپنے اختیارات اور اپنی نام اور شناخت کے باوجود بے گھر اور در بدر ـ اشیاء ضرورت کمیاب ‘ چینی و بجلی غائب امن و امان کی صورتحال بد تر اور اس حال میں
لوگوں کو ناچتے اور خوشیاں مناتے ہوئے دکھایا جارہا ہے جیسا کہ نام کی تبدیلی سے پشتونوں کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں اور بس یہ ایک ہی نام اور شناخت کا مسلہ باقی تھا جو خیر سے حل ہوا حالانکہ ـ

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
خیبر سے آگے جہاںاور بھی ہیں

ہم اکثر خوبصورت ناموں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں یا پھر ہمیں بچوں کی طرح ان کھلونوں سے بہلا دیا جاتا ہے ـ مثال کے طور پرمعذرت کی ساتھ عرض کرتا چلوں کہ نام کی حد تک تو ہم نے پاکستان کا بھی ایک خوبصورت نام مسلمانوں کی ملی وحدت کی علامت پاک سرزمین رکھا ہےـ لیکن کبھی یہاں ملی وحدت کا ثبوت بھی دیا ہے ؟ ـ پاکستان بھی ہم نے اسلام کے لیے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے ـ لیکن کیا کبھی یہاں ایک لمحے کے لیے بھی اسلامی نظام نافذ کیا ہے ؟ ـ بانی پاکستان نے ایک آزاد اور خود مختار جمہوری ملک کے لیے جدوجہد کی تھی تو کیا ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہیں ؟ یا یہاں حقیقی معنوں میں جمہوری روایات پرواں چڑھیں ؟ ـ ہمیشہ طرح طرح کے حکمرانوں نے ان ناموں کو اپنے اقتدار کے طول کے لیے استعمال کیا ہے اور عوام کو اندھیروں میں رکھا ہے بالکل اسی طرح موجودہ صوبہ پختونخواہ کا بھی یہی حال ہے ـنفسیاتی اور تاریخی حیثیت سے قومیت کی جذباتی سیاست نہایت آسان اور سہل سیاست ہے اور ان خوشنما نعروں سے عوام کو آسانی سے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اور ہمیشہ بنایا گیا ہے ـ اسلام کے خلاف قومیت ‘ لسانیت اور علاقائیت کی سیاست اور تقسیم در تقسیم اغیار کا کارگرحربہ ہے جسے جذباتی لوگ نہیں بلکہ اہل علم و فکر ہی اچھی طرح سمجھتے ہیں ـ

خیبرپختونخواہ میںچونکہ آزادی سے قبل اور صدیوں سے قبائلی اور جرگوں کا نظام تھا ـقبیلے کا سربراہ یا عرف عام میں ملک ہی مختار کل ہوتا تھا ـ پاکستان کی آزادی کے بعدفاٹا میں تو وہی قوانین برقرار رہے جبکہ دیگر علاقوں میں سیاسی عمل کا آغاز ہوا ـ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پشتون قوم کے لیے خوشحالی اور ترقی کی منصوبہ بندی کی جاتی اسی کے لیے جرگے منعقد ہوتے لیکن بدقسمتی سے یہاں سستی شہرت حاصل کرنے اور سیاست کا کاروبارچمکانے کے لیے حقوق ‘ حقائق اور محرومیوںکے راگ الاپنے شروع کردیے گئے ـ اور قبائلی ملکوں ‘دیر کے نواب شاہ جہاں اور سوات کے والی جان زیب سے لے کر موجودہ

سیاست دانوںتک کسی نے بھی اس قوم کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ـ قومیت کے نام پر سیاست کرنے والوں کا حال تو یہ ہے خود خان ِخانان اور جاگیر دار ہوکر خان ازم کی مخالفت کا شوشہ چھوڑتے رہےـاستعمار ی قوتوں اور سامراجیت کے خلاف نعرے لگوائے حالانکہ پہلے سرخ سامراج کی گود میں کھیلتے رہے اور آج مغربی استعمار کے چرنوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں ـپشتو اور پشتون روایات کی بات کرتے ہیں لیکن خود پشتوکے ایک حرف پر کبھی عمل نہیں کیاـ فرنگی سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں لیکن آباء و اجداد سمیت خیبراورپختونخواہ کے پہاڑوں کی بجائے لندن کی آب وہوا ان کو راس آتی ہے اور بات بات پر لندن یاترا کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کے آنکھ اور دانت جیسے معمولی امراض کی تکالیف بھی فرنگی ظالم کے علاج کے بغیر دور نہیں ہوتیں ـ عوام کو دکھانے کی لیے روکھی سوکھی کھانے کی بات کرتے ہیں لیکن ان بے چارے پچکے گالوں اور زرد رنگت کے پشتونوں کو روکھی سوکھی کھانے سے یہ گورا چٹا رنگ بنانے کا گُر کبھی نہیں بتلاتے ـ سنا ہے کہ قوم پرستوں کی آنکھوں میں نقص ہوتا ہے اور اسے اس حقیقت سے بھی تقویت مل رہی ہے کہ آج انہیں خیبر سے کراچی تک اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر چورنگی اور ہر سڑک پر بیلچہ و کدال بردار رزق کی تلاش میں سرگرداں پشتون نظر نہیں آتا ـ اس حقیقت سے انکار کی گنجائش ہی نہیں کہ غربت ‘بے روزگاری ‘ وسائل کی کمی ‘ تعلیم و علاج کا فقدان ‘ عدم برداشت ‘ آپس کی دشمنیاں ‘ منشیات ‘ اور قبائلی چپقلشیںہی پشتون قوم کے بنیادی مسائل ہیں ـ

امید ہے کہ پختونخواہ کے ارباب اقتدار نام کے بعد اب کام کی طرف آئیں گے اور پختونخواہی کا ثبوت دے کرپختونوں کو پختونخواری جیسے مسائل سے نکالنے کی منصوبہ بندی کریں گے ـ

محمدفاروق چوہان کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1