سول ایٹمی پروگرام تک رسائی
شمائلہ جاویدMonday, April 19, 2010, 23:21
پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کا پہلا ختم ہو چکا ہے اور آئندہ مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہوگا۔
بنیادی طور پر پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات مثبت قدم ہے ۔ پاکستان نے پہلی دفعہ سول ایٹمی ڈیل کے مطالبے کو بڑے واضح انداز میں امریکہ کے سامنے رکھا ہے۔ اس سے پہلے کبھی بھی پاکستان نے امریکہ کے سامنے سول ایٹمی معاہدے کا معاملہ ایجنڈے کے طور پر نہیں رکھا تھا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات سے آگاہ ہے اور وہ چاہیں گے کہ اس ضمن میں پاکستان کی مدد کریں۔ امریکہ کا یہ رویہ ماضی میں پاکستان سے روا رکھے جانے والے برتائو سے مختلف اور مثبت ہے۔ امریکہ کا پہلے موقف یہ تھا کہ پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی ایٹمی ڈیل نہیں ہوسکتی۔
ڈائریکٹر جنرل سائوتھ ایشین سٹریٹجک سٹبیلٹی انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے حق سچ بات کہی ہے کہ پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات میں سب سے زیادہ اہمیت سول ایٹمی پروگرام تک رسائی ہے جس کے لئے پاکستان امریکہ سے سول ایٹمی پروگرام کے ضمن میں اسی طرح کی ڈیل چاہتا ہے جس طرح امریکہ نے بھارت سے کی ہے چونکہ اس مقصد کے لئے پہلے ہی امریکہ بھارت کے درمیان این پی ٹی پر غیر دستخطی ہونے کے باوجود ایک ماڈل موجود ہے۔ اس لئے یہ بات کہنا کہ پاک امریکہ سول ایٹمی ڈیل بالکل ناممکن ہے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ سامنا بجلی کے بحران کا ہے جس سے نمبنے کیلئے توانائی کی شدید ضرورت ہے جبکہ ایٹمی توانائی کا شمار دنیا میں اس توانائی کے طور پر ہوتا ہے جو صفر کاربن رکھتی ہے یعنی ماحول دوست ہے۔
اس لحاظ سے پاکستان امریکہ کے مابین سول ایٹمی ڈیل نہ صرف ضرورت ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایٹمی عدم پھیلائو کے مقاصد کو اس وقت تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک پاکستان، اسرائیل اور ہندوستان کو جو کہ این پی ٹی کی ممبر نہیں ہیں کو مساوی طور پر ایٹمی مارکیٹ اورٹیکنالوجی تک رسائی نہیں دی جاتی۔ اگرچہ تیکنیکی طور پر پاکستان کی بطور ایٹمی طاقت حیثیت مسلمہ ہے یہ حیثیت پاکستان نے 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرکے حاصل کرلی تھی۔ تاہم اس حقیقت کا بھی اعتراف ضروری ہے کہ پاکستان ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں صلاحیت رکھتا ہے بلکہ دنیا کے اندر اس وقت جو توانائی کا بحران ہے اس پر قابو پانے کے لئے پاکستانی ایٹمی سائنسدان اور سائنسی اسٹیبلشمنٹ بہت بڑا اور اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ان ممالک میں اپنی ضروریات ایٹمی توانائی سے پورا کرنا چاہتے ہیں مگر صلاحیت نہیں رکھتے اس صورتحال میں پاکستانی سائنسدان عالمی نگہداشت میں بھی اپنا مطلوبہ کردار ادا اور کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ایٹمی سپلائرز ممالک کی تعداد دس بارہ سے زیادہ نہیں ہے۔ ان ممالک کی طرح پاکستان بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے ضروری استعداد کار اور صلاحیت کار رکھتا ہے لہٰذا پاکستان کو بھی برابری کی بنیاد پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ تک رسائی دی جائے بصورت دیگر اس کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔ ایک تو پاکستان کی اپنی صنعت متاثر ہوگی دوسری بات یہ ہے کہ دیگر ممالک کی صنعتوں میں توانائی جو بہتری لاتی ہے اس کے اعتبار سے پاکستانی صنعت میں کمی آ جائے گی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ پاکستان سے امتیازی سلوک اور بھارت سے ترجیحاتی معاہدے کے نتیجے میں ایٹمی طاقت کا توازن بھارت کے حق میں چلا جائے گا جس سے بھارت کی پاکستان پر ایٹمی بالادستی قائم ہو سکتی ہے۔ لہٰذا خطے میں ایٹمی طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان پر عالمی ایٹمی مارکیٹ کے بند دروازے کھولے جائیں تاکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو بھی پتہ چلے کہ امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اول کے اتحادی کے طور پر جو قربانیاں دے رہا ہے امریکہ کو اس کا احساس اور پاس بھی ہے۔
اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اعلانیہ سول ایٹمی ڈیل کرے ورنہ اس کے بغیر کیری لوگر ایکٹ کی طرح اگر کسی خفیہ انداز میں کوئی اور ڈیل یا معاہدہ کر بھی لیا گیا تو پاکستانی عوام اس کو برداشت نہیں کرینگے جس کے نتیجے میں عسکری قیادت اور حکومت پاکستان خود مختار پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کے منافی کسی معاہدے یا ڈیل پر عملدرآمد نہیں کرا سکے گی۔ پاکستانی عوام امریکہ سے سول ایٹمی ڈیل اس لئے بھی چاہتے ہیں کیونکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شرکت سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان کی اپنی صنعت اور معیشت کو ہوا ہے جس کی تلافی سول ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے ہوسکتی ہے تاہم اس سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول ایک لمبی جدوجہد اور اندرون ملک مکمل ہوم ورک کا متقاضی ہے تاکہ مکمل پیکج کی بجائے صرف ایک دو چیزوں پرہی قناعت نہ کرلی جائے جس سے اصل اور مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہوسکیں کیونکہ اب تک پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اپنی بساط سے بڑھ کر بہت کچھ کرچکا ہے لہٰذا اب امریکہ کو پاکستان کے ساتھ سٹریجٹک مذاکرات کے نتیجے میں عملی طور پر ”ڈو مور” کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ دوہرا معیار اور دو عملی کا رویہ ختم کرکے شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر پاکستان کو صرف اور صرف ایک اتحادی اور دوست ملک کی حیثیت سے دیکھے، سمجھے اور مدد کرے ورنہ کبھی دوست اور کبھی دشمن کی نظر سے دیکھنے، دبائو میں لانے یا صرف طاقت کے استعمال سے امریکہ کو نہ پہلے کامیابی حاصل ہوئی ہے نہ آئندہ ہوگی۔
شمائلہ جاوید کے تازہ ترین مضامین
- لندن سکول آف اکنامکس کے آئی ایس آئی پر بے بنیاد الزامات - June 15th, 2010
- پاک چین تعلقات ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال - May 26th, 2010
- امریکا''را'' کی آنکھ سے پاکستان کو دیکھنا بند کرے - May 11th, 2010
- پاکستانی بیکنی طالبات کے دنیائے نفسیات و اقتصادیات میں کمالات - April 29th, 2010
- عظیم پبلک سکولز سسٹم کہوٹہ کا اعزاز - April 7th, 2010
پرنٹ کریں


