یورپ ‘ثقافتی پابندیاں ‘ پس منظر ؟
شیخ عبدالمجید جرمنیTuesday, April 27, 2010, 20:48
سوئٹزر لینڈ اپنی خوبصورتی کے لئے مشہور ہے۔77لاکھ افراد پر مشتمل یہ ملک خوبصورت قدرتی مناظر کے علاوہ چاکلیٹ ،بینک ۔اور گھڑیوں کے لئے بھی دنیا بھر میں مقبول ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں قریباََ 3لاکھ دس ہزار مسلمان آباد ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے لئے،ان کیلئے اپنے نماز سینٹرز اورمساجد موجود ہیں۔جن کو یہ نماز کیلئے استعمال کرتے ہیں۔لیکن باقاعد ہ مسجد کے طور پر سارے ملک میں صرف 3مساجد ہیں جن میں ایک مسجد احمدیہ جماعت کی مسجد محمود بھی ہے جوکہ زیورچ میں واقع ہے ۔
یورپ کے مسلمانوں کیلئے برن شہر میں ایک ا علی شان سینٹر بنانے کا منصوبہ گورنمنٹ کو پیش کیا گیا اور جب عوام کے سامنے یہ منصوبے آئے تو کچھ لوگوں نے میناروں کی تعمیر کی مخالفت شروع کر دی ۔
چنانچہ یکم مئی 2007ء کو میناروں کی تعمیر کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہوا ۔29جولائی 2008ء تک اس( مینار پابندی) کی اس تحریک کے حق میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے دستخط اکٹھے کر لئے گئے تھے ۔جس کے بعد سوئس قانون کے مطابق اس موضوع پر ایک ریفرنڈم کرانا ضروری ہو گیا۔یہ ریفرنڈم 29نومبر 2009ء کو منعقد کیا گیا ۔مینارو ں کی مما نعت کے حق میں اکژیتی ووٹ دیا گیا۔سوئٹزر لینڈ کے قانون کے مطابق ایسے ریفرنڈم کو قانون کا حصہ بنانا ضروری ہے ۔لیکن اس قانون کو سوئٹزرلینڈ کے دستور جس میں آزادی مذہب کی ضمانت دی گئی ہے ،کے ساتھ تضاد میں ہونے کی بنا پر بعض مسلمان تنظیموں نے سوئس سپریم کورٹ اور اسی طرح یورپین عدالت برائے انسانی حقوق میں اس کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ اس کے متعلق ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔میناروں کی تعمیر کے خلاف تحریک چلانے والے اپنے نقطہ نظر کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ مساجد کی تعمیر کے خلاف نہیں بلکہ صرف میناروں کے بغیر مساجد تعمیر اور اسلام پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اور قرآن نیز دوسری اسلامی مقدس کتب میں میناروں کی ضرورت کا کوئی ذکر موجود نہیں ۔اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ میناردراصل اسلام کی مذہبی و سیاسی طاقت کا نشان ہیں اور اس لئے ان کی تعمیر کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔اس ضمن میں ترکی کے وزیر اعظم کی ایک تقریر کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے ایک نظم پڑھی تھی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ”مساجد ہماری بیرکس اور گنبد ہمارے ہیلمٹ اور مینا رہماری سنگینیں ہیں” اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میناروں کی تعمیر صرف ایک سیاسی چیز ہے۔اس کے مقابل پر سوئس مسلمانوں اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ 70ہجری ہی سے مساجد کے ساتھ مینار تعمیر کئے جا رہے ہیں اور 1500سال سے یہ مساجد کا ایک ضروری حصہ بن چکے ہیں ان کا سیاسی طاقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔دوسرے یہ کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ مساجد میں کیا چیز شامل ہے اور کیا نہیں یہ فیصلہ صرف مسلمان ہی خود کر سکتے ہیں۔تیسرے یہ کہ مسلمان لمبے عرصہ سے یہاں رہ رہے ہیں اور ان کی آئندہ نسلیں بھی یہیں رہیں گی ۔اس لئے آزادی مذہب کے اصول کے مطابق ان کو یہاں اپنی خواہشات کے مطابق مساجد تعمیر کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔
یورپی سیاستدان اسلامی اقدار اور ثقافت سے اس لئے خوف ذدہ ہیں کہ انہیں مستقبل میں یورپ میں اسلام کے عروج کاخطرہ نظر آرہا ہے۔ اس خطرہ کو انہوں نے بھانپ لیا ہے ۔ اس کے پیش نظر یہ مسلم خواتین اور مسلمانوں کی اسلامی اقدار اور ثقافتی نشانات کے مٹانے کے د رپہ ہیں۔ انہوں نے اسلام کے خلاف وسیع پروپیگنڈا کا محاز قائم کیا ہوا ہے ۔ اسلامی ثقافت کے خلاف میناروں پرپابندی حجاب نقاب پر قدغن کے قانون بنائے جا رہے ہیں ۔جبکہ ایک سیکولر ریاست کے قانون کے مطابق نہ کسی مذہب کی ثقافت یا اس کی اقدار قابل اعتراض ٹھہرتی ہیں اور نہ ہی وہ سیکولر ریاست میںکسی مذہب کی ثقافت اس کے قانون کی زد میں آسکتی ہیں ۔ جو بھی چاہیے سیکولر ریاست کے قانون کے مطابق اپنی ثقافت اپنی اقدار کے تحت یا جس طرح بھی زندگی گزارنا چاہیے زندگی گزار ے ۔مگر اسلام دشمنی میں یورپ اپنے سیکولر ریاست نظریات کو تیاگ رہے ہیں ۔ حجاب نقاب پر پابندی کے لئے قانون بنائے جا رہے ہیں۔ کیونکہ اسلامی ثقافت اور اس کی اقدار یورپی سیاستدانوں کی تعصب کی آنکھ میں کھٹک رہی ہیں اور قانون کی زد میں آرہی ہیں ۔ ؟بقول حکومت فرانس اسلامی سکارف یا حجاب ان کی اقدار کے خلاف ہیں ۔اور ان کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔ مگر جب ان کے لباس کا معاملہ آتا ہے تو یہ جیسے چاہیں کپڑے پہنیں یا نہ پہنیں ‘ بازا ر و ں میں ۔۔ ننگے پھریں ۔ اور جبکہ چرچ کی پادری عورتیں باقاعدہ باپردہ لباس سر پر چادر نما اسکارف استعمال کرتی ہیں، ان کے لئے کوئی قانونی قدغن نہیں ہے ۔
دراصل میناروں کی تعمیر کے خلاف یہ تحریک ہو یا مسلمان عورتوں کے سکولوں اور کالجوں میں اسکارف لینے پر فرانس میں پابندی یا جرمنی میں مسلمان اُستانیوں کو سر ڈھانپنے کی مما نعت ‘ان تمام اُمور کے پیچھے ایک ہی چیز کام کررہی ہے ‘یعنی اسلام اور مسلمانوں کا خوف اور ان سے گہری نفرت ۔یہ خوف اور نفرت یورپ کے مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کی 1500 ء سو سالہ تاریخ کا نتیجہ ہیں۔اسلام کے آغاز کے جلد بعد ہی بازطینی سلطنت کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکرائو شروع ہو گیا تھا ۔اس کے نتیجہ میں تیرہ سو سال تک مسلسل یورپ کو ہزیمت اُٹھانی پڑی ۔پہلے مصر و شام اور پھر افریقہ وسپین مسلمانوں کے قبضہ میں آئے اور قبرص و سسلی اور اٹلی فرانس کے کچھ علاقوں تک مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی ۔بعد میں صلیبی جنگوں میںیورپ کی متحدہ طاقتوںکو جس بُری طرح صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں شکست سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اہل یورپ کے اکابرین ‘ سیاستدانوں’ حکمرانوں کے دل ود ما غ پر دوسو سالہ تک صلیبی لڑی جانے والی لڑائیوںکی شکست کا اثر باقی ہے ۔
پس آج اگر یورپ میں مقیم مسلمان کی ثقافت ان کے ناروا سکوک اور قانون کی زد میں ہے ۔تو ظاہر ہے کہ جب انسان یا کسی معاشرہ میں مذہبی و نسلی تنگ نظری پر مبنی تعصب کے رحجا ن فروغ پانا شروع کردیں تو پھر مذہبی نسلی عدم رواداری کا یہ سلسلہ روکے نہیں رُکتا اور رفتہ رفتہ سختی ‘تشدد ‘ غیر مفاہمتی رویہ اور عدم برداشت جیسی بیماریاں ایسے معاشروں میں جڑ پکڑ تی ہیں ۔ آج اگر مسلمان ان کے ناروا رویوں قانونی قدغنوںکا نشانہ ہیں تو کل معاشرہ کا کوئی اور طبقہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ایسے افراد اور معاشرے بہت جلد اخلاقی اقدا ر کو کھو کر حیوانی سطح پر لوٹ جاتے ہیں۔پس مسلمانوں کی نسبت خود مغربی تہذیب کو اس ( تنگ نظر مذہبی نسلی تعصب )رحجان سے خطرہ ہے ۔ ان کے غیر منصفانہ رویوںامتیازی قوانین کے ردعمل میں مسلمانوں اپنی مذہبی رواداری کی تعلیم کو ہرگز نظر انداز نہ ہونے دیں۔ اور آئندہ بھی ان کے امتیازی قوانین کا مسلمانوں کا سامنا کرنا ہوگا ۔مگرکوئی ایسا قدم اُٹھانا یورپ میں مقیم مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس غیر منصفانہ رویہ کا اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر اپنے حیوانی جذبہ کی تسکین کریں ۔پس پہلے کی نسبت آج بھی یورپ میں مقیم مسلما نو ں کو زیادہ برداشت سے کام لینا ہوگا اور انہیں زیادہ ہمت اورمحنت کے ساتھ مغربی معاشرہ میں اپنا مقام منوانے کی ضرورت ہے
شیخ عبدالمجید جرمنی کے تازہ ترین مضامین
- یورپ میں برقعہ 'حقوق نسواں پر حملہ؟ - September 1st, 2010
- سیلاب' طوفان نوح 'آزمائش یاعذاب؟ - August 28th, 2010
- کرپشن' دہشت گردی ' لاقانونیت؟ - August 22nd, 2010
- قیامت خیز بارشیں ' زمین تہہ و بالا ؟ - August 17th, 2010
- بھٹو رقص اقتدار عروج زوال ( قسط 2) - August 4th, 2010
پرنٹ کریں


