اجمل قصاب مجرم قرار،حافظ سعید کو راحت
Tuesday, May 4, 2010, 9:01
(اخبارِکشمیر نیوز)
ممبئی حملوں سے متعلق زائد از ڈیڑھ سال سے جاری مقدمے کو سمیٹتے ہوئے ممبئی کی خصوصی عدالت نے زندہ بچنے والے واحد پاکستانی حملہ آور اجمل عامر قصاب کو مجرم ٹھہرایا ہے جبکہ لشکرطیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور ذکی الرحمان لکھوی کو بلاواسطی مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔عدالت نے دو بھارتی ملزموں کو بری کر دیا ہے۔قصاب اور دیگر ملزمین کی سزا کے تعین کے لئے عدالت نے آج کا دن مقرر کیا ہے۔
خصوصی عدالت کے جج مسٹر تہیلیانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جس انداز میں دس ملزمان کشتی میں بحری راستے کے ذریعے اے کے 47 رائفل ، بڑی مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز اشیاءاوربم لے کر آئے، منصوبہ بند طریقے سے انہوں نے پہلے ہی وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کی سروسز حاصل کی، جی پی ایس انسٹرومنٹ کا استعمال کیا، یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی معمولی جرم یا قتل کی سازش نہیں تھی بلکہ ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش تھی۔جج نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اوبیرائے ہوٹل اور ناریمان ہاوس میں جس طرح حملہ آوروں کوفون پر دوسری جانب سے ہدایت مل رہی تھی وہ بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ملک میں جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی تھی۔حکومت کو حملہ آوروں سے مقابلہ کرنے کے لئے این ایس جی کمانڈوز کو بلانا پڑا۔ جج نے اس موقع پر ٹیلی فون پر ریکارڈ کی گئی گفتگو کو پڑھ کر بھی سنایا۔جج تہیلیانی نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سازش کا الزام ثابت کرنا بہت ہی مشکل امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا عام طور پر کوئی عینی شاہد نہیں ہوتا لیکن اس کیس میں سازش کافی عرصہ پہلے سے بنائی جا رہی تھی اور ممبئی پر حملہ کرنے تک یہ سازش جاری رہی۔
قصاب نے پولیس حراست کے دوران ایڈیشنل چیف مجسٹریٹ آر وی ساونت واہولے کے سامنے جو اقبالیہ بیان دیا ،اس کے بیشتر حصے کو عدالت نے قبول کر لیا۔ جج نے جواز دیا کہ مجسٹریٹ نے ملزم کو پولیس دباو سے نکلنے کے لئے کافی وقت دیا تھا اس لئے یہ بیان آزادانہ بیان کہا جا سکتا ہے۔جج نے سی ایس ٹی اور گرگام چوپاٹی پر ہونے والے سات قتل کے لئے قصاب کو براہ راست مجرم قرار دیا لیکن ساتھ ہی سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن کے علاوہ شہر کے دیگر ان تمام مقامات پر، جہاں حملے ہوئے تھے، عدالت نے قصاب کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ عدالت کے مطابق قصاب قتل کے لئے اکسانے جیسے الزام کے تحت مجرم ہے۔
جج تہیلیانی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اشوک کامٹے کے بدن سے نکلی گولی قصاب کے ساتھی مجرم ابو اسماعیل کی رائفل سے نکلی تھی ،یہ بات بلسٹک رپورٹ سے ثابت ہوئی ہے لیکن جج نے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے اور انسپکٹر وجے سالکر کے بدن میں لگی گولیوں کے بارے میں کہا کہ وہ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس کی رائفل سے نکلی تھیں،شاید دونوں مجرمین میں سے کسی ایک کی رائفل سے۔سرکاری وکیل اجول نکم نے جج کے اس فیصلے پر کھڑے ہو کر سوال کیا کہ کیا عدالت قصاب کو ان کے قتل کا ذمہ دار مانتی ہے ؟ جج نے کہا’بالکل‘۔جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ عدالت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ حملہ آوروں کو ہدایت دینے والے کہاں تھے ؟لیکن کشتی میں ملنے والے سامان اور واقعاتی شواہد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان میں تھے اور وہیں سے ہدایت دی جارہی تھیں۔
جج کے فیصلہ سنائے جانے کے عمل کے دوران اجمل قصاب سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا تاہم بعد ازاں جج نے اسے کٹہرے میں کھڑا رہنے کے لئے کہا۔
فہیم اور صباح کےلئے جج کا فیصلہ
عدالت نے قصاب کا فیصلہ سنانے کے بعد فہیم انصاری اور صباح الدین کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دونوں کےخلاف استغاثہ نے ثبوت اکٹھے نہیں کئے ۔ جو ثبوت عدالت میں پیش کئے گئے ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ۔استغاثہ کے کیس کے مطابق فہیم انصاری نے ممبئی کے ان مقامات کا ہاتھ سے نقشہ بنایا تھا جہاں حملے کئے جانے والے تھے اور یہ نقشہ انہوں نے نیپال جا کر دیا تھا۔اس کے لئے استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا تھا جس کی گواہی پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انہیں تو شبہ ہے کہ گواہ کبھی نیپال گیا بھی ہو گا یا نہیں؟جج نے کہا کہ دونوں کے خلاف ممبئی میں حملہ کرنے کے مقامات کا نقشہ تیار کرنے کا الزام تھا لیکن ہاتھ سے بنائے گئے نقشے کی بجائے مجرمین کو انٹرنیٹ سے اس سے زیادہ معقول نقشے دستیاب ہو سکتے تھے لہٰذا مجرمین کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ کسی مقامی شخص کو نقشہ بنانے کےلئے استعمال میں لاتے جبکہ گوگل پر یہ نقشے پہلے ہی دستیاب ہیں۔
مدیر القمرآن لائن کے تازہ ترین مضامین
- مسلم لیگ ق کے تمام ممبران اسمبلی و سینیٹر اپنی تعلیمی اسناد مسلم لیگ ہاؤس میں جمع کروائیں ، چوہدری شجاعت حسین - July 12th, 2010
- فٹبال ورلڈ کپ ختم ، یوروگوائے کے ڈیاگوفورلان کو بہترین کھلاڑی اور جرمنی کے تھامس مولو کو گولڈن بوٹ ایوارڈ دیا گیا - July 12th, 2010
- پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ کل ( منگل ) سے شروع ہوگا - July 12th, 2010
- آرمی چیف جنرل کیانی سے امریکی سفیر پیٹرسن کی ملاقات - July 12th, 2010
- ایران جیسی نا معقول حکومت کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو - July 12th, 2010
پرنٹ کریں


