ثانیہ مانیا
Tuesday, May 11, 2010, 12:50
“اب ثانیہ مرزا کے نام پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ اس کا نام ثانیہ مرزا کی بجائے ثانیہ شعیب ہونا چاہئے جبکہ ثانیہ مرزا اپنا نام تبدیل کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔اسلام میں لڑکی اپنے باپ کا نام رکھنے کی مجاز ہے۔ عرب رواج کے مطابق عورت اپنی کنیت سے پہچانی جاتی تھی۔عرب میں آج بھی یہ رواج قائم ہے۔ حضرت فاطمہ آج بھی ”فاطمہ بنت محمد ” کے نام سے پکاری جاتی ہیں البتہ شوہر کے نام کو پہچان بناناعورت کاذاتی فیصلہ ہے۔’ ‘ضیا ئ” میرے والد کا نام ہے اور میرے شوہر نے مجھے باپ کا نام ہٹانے کے لئے کبھی مجبور نہیں کیا۔ثانیہ کا نام تبدیل کرنا اگر پاکستان کی غیرت کا مسئلہ بن گیا ہے تو کشمیری کمیونٹی کا مشورہ ہے کہ اسکا نام ”ثانیہ کشمیر ” رکھ دیا جائے۔ثانیہ کو گھر لانے پر پاکستانی عوام اور میڈیا اس طرح جشن منا یا ہے جیسے کشمیر فتح کر لیا ہو۔ میڈیا اور لوگوں نے جو انداز محبت اپنا رکھا ہے اس کے بعد اب شاید ہی ثانیہ پاکستان کا رخ کرے۔ شوہر اور اس کے خاندان کا ”ناک” رکھنے کی خاطر ایکبارپاکستان آنا اسکی ”ثقافتی مجبوری” تھی وگرنہ اس شادی کو سیاسی رنگ دینے سے اسکی ساکھ کو نقصان پہنچاہے۔
ثانیہ کے قریبی ذرائع نے بتایاہے کہ ڈاکٹر فردوس اعوان کا ثانیہ کی شادی کو جواز بنا کر بھارتی دورہ تنقید کا نشانہ بناہوا ہے۔ثانیہ اور اسکے اہل خانہ نے بھی ڈاکٹر فردوس کی شادی پر آمد کو نا پسند کیا ہے جس کا اظہار ثانیہ نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کر دیا تھاکہ وہ پاکستان کی بہو ہے اور نہ ہی اس کی شادی کو بطور سیاسی ہتھکنڈا استعمال کیا جائے۔ثانیہ کے اس”خشک” بیان کے بعد بھی پاکستانیوں نے اسے ہیرو بناڈالا۔۔۔؟لاہور آمد پر دھکم پیل کے دوران اسکی ماں زخمی ہو گئی۔۔۔اور جس طرح ثانیہ رو دی۔۔۔اب شاید اپنے بچے کے عقیقے کے لئے بھی پاکستان آنے کا نام نہ لے۔ بہبود آبادی ” بچے دو ہی اچھے” کا پیغام لے کر بھارت گئیں اور نو بیاہتا جوڑے کو بچے کے عقیقہ کا بلاوا ”سدا ” بھی دے آئی ہیں۔بچے کا نام اہل سیالکوٹ تجویز کریں گے۔ماں کو سونے کا تاج پہنایا ہے تو بچے کو سونے کا ”بلا” پیش کیا جائے گا۔”پھوپھی بہبود آبادی”بچے کا ”جمنا” لے کر خود بھارت جائیں گی۔
پھوپھی صاحبہ نے بھارت سے واپسی پر اسلام آباد جا کر بچے کے”دادا ابو ” کو پاک بھارت خیر سگالی کا پیغام پہنچایا جبکہ لاہور والے”دادا ابو ” بہو رانی کو مبارکباد کے لئے ہوٹل تشریف لے گئے۔سارے چاچے تائے ولیمہ میں شرکت پر لڈیاں ڈال رہے ہیں۔پھوپھی صاحبہ نے”دادا ابو”کو یہ بھی نوید سنائی کہ بہو رانی کی وجہ سے کشمیر آزاد ہو جائے گا اور پانی کے تمام ”ڈکے” بھی کھل جائیں گے۔۔۔شادیوں میں ”نین” کا کردار بڑا اہم اور دلچسپ ہوتا ہے۔ہندوستانی کنجوس نکلے۔۔۔ ”نین” کو خالی ہاتھ بھیج دیا۔۔۔؟ ثانیہ شعیب کی شادی سے بھارتی عوام نا خوش ہے۔فردوس اعوان کو علم ہونا چاہئے کہ پاک بھارت کشیدگی شادیوں سے نہیں سربراہان کے مابین سنجیدہ مذاکرات سے کم ہو سکتی ہے۔ ثانیہ کو گھر لانے پر بھنگڑے۔۔۔ پاکستانیوں کے دلوں میں بھارت سے مخالفت روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔ثانیہ کو فتح کی علامت بنا لیا گیاہے۔یہ قربت نہیں عداوت کا مظاہرہ ہے۔ بھارتی میڈیا شعیب کے خلاف خبریں اور افواہیں پھیلانے کی تاک میں لگا رہتا ہے۔بھارتی اخبار میں لکھا ہے کہ” پاکستانی کرکٹرشعیب ملک ہندوستانی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کی شہرت کو کیش کر ا رہے ہیں۔اپنی ولیمہ تقریبات کی کوریج کے لئے میڈیا سے 3 کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں”۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے لوگ شعیب ملک کو کرکٹ کی وجہ سے جانتے ہیں جبکہ پاکستانیوں کی اکثریت کے لئے ثانیہ مرزا ایک غیر مقبول نام تھا۔پاکستانی میڈیا نے اس لڑکی کو شہرت دی اور خود بدنام ہوا۔
شعیب اور ثانیہ کے رویہ سے نالاں میڈیا اور سیالکوٹی اپنے رویہ پر بھی غور فرمائیں۔ جوڑی دنیامیں کہیں سکھ اور چین کی زندگی نہ گزار سکے گی۔میڈیا ان کے کمروں کے نمبر تلاش کرتا پھرے گا۔ ثانیہ اور اس کے گھر والے اس پروپیگنڈا سے بے حد پریشان ہیں۔اس”سیاسی ڈرامہ بازی” نے ان کے لئے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ثانیہ ہندوستان کی طرف سے کھیلے گی مگر اسے اپنے لوگوں کی طرف اب وہ پذیرائی اور حمایت حاصل نہ ہوسکے گی۔ اگر اس شادی کو اسقدر ہائی لائٹ اور ”بہو رانی” کو ”فتح” کی علامت بنا کر پیش نہ کیا جاتا تو ہندوستانیوںکا رد عمل نارمل ہوتا۔ہم نے اپنے لڑکے کے لئے مشکلات خودپیدا کی ہیں۔پاک بھارت میں شادیاں کوئی انہونی بات نہیں مگر ثانیہ کی شادی کو جیت ہار اور غیرت کا مسئلہ بنا دیا گیاہے۔ ثانیہ اور مریم کے استقبال کا منظر نہایت تکلیف دہ تھا۔ مریم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدہ بیٹی ہے جس کی بازیابی کے بارے میں من گھڑت افواہیں پھیلائی گئی تھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ مریم کو اس کے گھر کے باہر چھوڑنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
مریم نے سات برس قید کے دوران اتنے لوگ نہیں دیکھے جتنے اس نے ایک گھنٹے میں ہوائی اڈے پر دیکھے۔وہ سہم گئی تھی۔مسلسل روتی رہی مگر میڈیا نے اس کی خالہ کی جان بخشی کی اور نہ ہی اس معصوم بچی کی حالت پر رحم کیا۔ مریم گھر سے باہر جاتے ہوئے گھبراتی ہے۔ میڈ یا گھر کے باہر نقب لگائے بیٹھا رہتاہے۔ثانیہ بھی جب سے پاکستان آئی ہے اس کے چہرے کی مسکان غائب ہے۔سہمی ہوئی ہے۔پاکستان میں وہ صرف شعیب کو جانتی ہے۔نئی جگہ اور نئے لوگ ہیں۔غیر مہذب طریقہ استقبال سے شعیب شرمندگی اور پریشانی کا شکار ہے۔سیالکوٹ نے جس طرح دولت لٹائی ہے وہ خوشی نہیں دکھاوا ہے۔ کون کہتا ہے پاکستان میںافلاس ہے۔۔۔؟ لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں لوگ پریشان ہیں۔۔۔؟ دنیا کو یہی پیغام مل رہاہے کہ پاکستان میں جشن اور میلہ ہے۔کوئی فکرہے نہ فاقہ۔۔۔ بس اک”پتر دا” ولیمہ ہے۔۔۔ جوڑے کی آمد پر کراچی سے لاہور اور سیالکوٹ تک ثانیہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے دیوانے دور دراز شہروں سے آئے ہیں۔۔۔یہ کرائے کہاں سے لائے ہیں۔۔۔؟ایک طرف مہنگائی کا رونا ہے اور دوسری جانب تشویشناک اصراف۔۔۔ ؟ یہ قوم ہے یا ڈرامہ۔۔۔؟پاکستان میں لاکھوں لڑکیاں ہندوستان سے بیاہ کر آئی ہیں چونکہ وہ نامور کھلاڑی نہیں ہوتیں لہٰذا تماشہ بننے سے محفوظ رہتی ہیں۔ سکون کی زندگی گزار رہی ہیں۔ خدا یہ جوڑی سلامت رکھے وگرنہ بڑے کہتے ہیں کہ نظروں میں آئی چیز کو نظر لگ جاتی ہے۔پاکستانی ثانیہ کو کبھی اپنی بہو کہتے ہیں اور کبھی فتح۔۔۔کمزور لوگ اسی طرح خوشیاں منایاکرتے ہیں۔۔۔معتوب اعوام اسی طرح کمزوریاں چھپایا کرتے ہیں۔۔۔کشمیر آزاد کرا سکے ہیں اور نہ ہی خود پر دہشت گردی کا لیبل مٹا سکے ہیں۔۔۔سارا غصہ ثانیہ مرزا کے حصول کی صورت میں نکال رہے ہیں۔ دشمن ملک سے لڑکی بیاہ لائے اور اسے اپنی فتح قرار دے دیا۔۔۔؟شکر ہے لڑکی مسلمان ہے وگرنہ ہمارے کھلاڑی بڑے بڑے گل کھلاتے رہے ہیں۔ شعیب کی محبوبہ ہندو ہوتی تو اسے” میڈیا کی نوک پر ” کلمہ پڑھا لیا جاتا اور پھر پاکستانیوں کا جشن قابل دید ہوتا جیسے پوراہندوستان فتح کر لیا ہے۔
محمد اعظم کے تازہ ترین مضامین
- توہین آمیز خاکوں کی اشاعت۔۔امت مسلمہ کیلئے چیلنج - January 27th, 2010
پرنٹ کریں

