امریکی پالیسی میں تبدیلی
نائلہ جوزف دیالSunday, May 30, 2010, 1:21
دوسری عالمی جنگ میں نازیوں کے خلاف اتحادیوں کی فتح سے امریکہ جس نشے میں مبتلا ہوا تھا اس کا خمار خاصی حد تک ویت نام میں شکست سے اتر گیا تھا مگر امریکی قیادت نے اس سے کوئی سبق نہ سیکھا اور صدر بش کے دور میں نیو ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا کے معاملات بلاشرکت غیرے اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی لیکن یہ غیر معقول نظریہ اپنی موت آپ مرتا نظر آنے لگا۔ امریکیوں نے اس سے مثبت تاثر لینے کی بجائے غیر ضروری اشتعال کے زیر اثر آ کر دفاع کے لئے پیشگی حملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ناقابل قبول تصورات کو عملی شکل دینا شروع کردی اور اس کا ہدف طے شدہ منصوبے کے تحت مسلمانوں کو بنایا گیا۔
اس ضمن میں مسلمانوں کے خلاف امریکی کارروائیوں کو صدر بش نے صلیبی جنگ قرار دیا تھا،اس ہولناک نظریے کے تحت پوری دنیا میں امریکی بندوقوں کا رُخ مسلمانوں کی طرف رہا جس سے دنیا میں مذاہب کے درمیان تصادم کا تاثر پیدا ہو گیا۔
باراک اوباما کے صدر بننے پر لوگوں کو توقع تھی کہ وہ اپنے پیش رو کی منفی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں گے مگر انہوں نے اس حوالے سے اپنی جو پہلی پالیسی دی تھی اس نے صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے مزید بگاڑ دیا۔ اس میں جہاں 2011ء میں افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا گیا وہاں مزید تیس ہزار فوجی وہاں بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جس سے کم از کم افغانستان اور پاکستان کی حد تک حالات سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گئے۔ اس سے پوری دنیا میں امریکہ کے خلاف منفی رائے بنی جبکہ پاکستان کے معاملات میں امریکہ کی سفاکانہ مداخلت، اس کے علاقوں پر میزائلوں سے حملوں اور ہر موضوع پر ڈکٹیشن سے پاکستان کی خود مختاری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ، عراق و افغانستان پر غاصبانہ قبضے اور وہاں کا نظام خود چلانے سے متعلق امریکی اقدامات کے باعث امریکہ کو جہاں پوری دنیا میں نفرت و بدنامی کا سامنا کرنا پڑا وہاں شدید مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا، یہ صورتحال عالمی مالیاتی بحران کا سبب بھی بنی۔
امریکہ کی نئی قومی سلامتی پالیسی میں اوباما انتظامیہ نے سابق صدر بش دور کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری جنگ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ القاعدہ کے خلاف ہے اور القاعدہ کے خلاف جنگ کو کسی مذہب کے خلاف تصور نہ کیا جائے ،جہاد اسلام کا جزو ہے جو معاشرے کو برائی سے پاک کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح امریکہ کی نئی قومی سلامتی پالیسی کا یہ پہلو خوش آئند ہے کہ اس میں مسلمانوں کے تصور جہاد کی حمایت کی گئی ہے اور اسے مقدس قرار دیا گیا ہے۔
نئی قومی پالیسی میں صدر اوباما نے کہا ہے کہ دنیا کی رہنمائی کیلئے امریکہ کو اپنی معیشت اخلاقی اقدار اور قوت کو جلا دینی ہوگی۔
آئندہ کیلئے پالیسی کا محور سفارت کاری، معاشی بحالی ترقیاتی امداد اور تعلیم کو قرار دیا گیا ہے سابق صدر بش کی طرف سے جب عراق اور افغانستان کی جنگ کو صلیبی جنگ کا نام دیا گیا تو اس سے عالمی سطح پر اور بالخصوص مسلمان ممالک میں جن خدشات و تحفظات نے جنم لیا صدر بش نے بعد میں اسے زبان کی لغزش قرار دے کر ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی لیکن عملی صورتحال اس سے مختلف رہی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ متعدد ذمہ دار امریکی حلقوں کی طرف سے بالخصوص افغان جنگ میں امریکہ کی ناکامی کا تاثر دیتے ہوئے نیٹو افواج کی واپسی اور تمام معاملات افغان فوج کے حوالے کرنے کا عندیہ کھل کر سامنے آ رہا ہے اور یہ حلقے امریکی حکمرانوں کو یہ مشورے بھی دے رہے ہیں کہ وہ افغان عوام کے مزاج اور قبائلی روایات کا بھی تجزیہ کریں اور اس کی روشنی میں مثبت اقدام کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ امریکی افواج کو اسی صورتحال کا عراق میں بھی سامنا ہے جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ واشنگٹن فوجی قوت پر انحصار کرنے کی پالیسی اختیار نہ کرے اور ہر علاقائی اور عالمی تنازعے میں اپنے آپ کو الجھانے سے باز رہے۔ مناسب اور بہتر صورت یہی ہے کہ وائٹ ہائوس اپنے اتحادیوں سے مشورہ کر کے ان کے اعتماد سے راہ عمل متعین کرے۔
افغانستان اور عراق کی جنگ نے امریکی معیشت کو ہی متزلزل کر کے نہیں رکھ دیا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوجی افسر، اہلکار اور اس کے اتحادی ملکوں کے فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔ عراق کے عوام پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے 30 لاکھ سے زائد افراد اتحادی افواج کے حملوں سے ہلاک ہو چکے ہیں 15 لاکھ بچے دودھ، ادویات اور طبی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے یہی صورتحال افغانستان میں بھی درپیش ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ شہری نیٹو فورسز کی کارروائی اور ڈرون حملوں میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔
نائلہ جوزف دیال کے تازہ ترین مضامین
- بدلو گے تو بچ جائو گے تم قہر خدا سے - August 17th, 2010
- برہمن بھارت کا اصل روپ بے نقاب - August 16th, 2010
- اُٹھ کھڑے ہونگے عوام اور لیں گے انتقام - June 25th, 2010
- کشمیر کشمیریوں کا ہے - June 14th, 2010
- غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا - May 14th, 2010
پرنٹ کریں


