هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

کشمیریوں کے انسانی حقوق اور حق رائے شماری

شاہین اختر

Wednesday, June 16, 2010, 21:44

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق یا انسانی حقوق کی آزادی اور ضمانت فراہم کی گئی ہے لیکن بھارتی مقبوضہ کشمیر کی حد تک ایسا ہر گز نہیں بلکہ بھارتی فوج زیر قبضہ کشمیر میں تو آج تک نہ کشمیریوں کی زندگیاں محفوظ ہیں اور نہ عزتیں جبکہ قاتل بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں اب روز کا معمول بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ان فائلوں پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے جو گرد سے اَٹ چکی ہیں اور یہی گرد اقوام متحدہ اور بڑے ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں کے دلوں پر بھی پڑ چکی ہے۔

اقوام متحدہ نے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت کی تھی مگر ابھی تک نہ جانے وہ کون سے عوامل ہیں جو اس پر عملدرآمد کرانے سے اسے روکے ہوئے ہیں۔ کشمیریوں کا خون جس تیزی سے بہہ رہا ہے اور جو ظلم و جبر اور ریاستی دہشت گردی کے پہاڑ مظلوم کشمیریوں پر توڑے جارہے ہیں۔ اس کو تمام دنیا بے رحمی سے دیکھ بھی رہی ہے اور برداشت بھی کررہی ہے جبکہ افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ شروع کی گئی مگر بھارت کے معاملے میں اقوام متحدہ اور ترقی یافتہ انسانی حقوق کے محافظ ممالک خاموش بیٹھے ہیں ان کے ضمیر کشمیری مسلمانوں کے خون اور آگ میں فریادیں کرنے سے کیوں نہیں جاگ رہے یہ دوہرا معیار آخر کیوں ہے؟۔”کشمیر امن کے راستے” عنوان ہے

اس رپورٹ کا جسے گذشتہ دنوں لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے ڈاکٹر سیف الاسلام قذافی نے ایک برطانوی ادارے (چیتھم ہاؤس ) کے سینئر ریسرچ سکالر ڈاکٹر رابرٹ بریڈناک کے ذریعے کشمیر کے حوالے سے اپنی نوعیت کی پہلی سروے رپورٹ کا۔ چیتھم ہائوس رائل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز نامی ادارے نے اس رپورٹ کو شائع کرتے وقت اس میں شامل کی گئی آراء کی ذمہ داری خود قبول نہیں کی بلکہ مصنف پر ڈالی ہے۔ اسی طرح میں بھی اس رپورٹ کے مندرجات سے اتفاق کرنے یا نہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے اس رپورٹ کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لئے ان کی نذر کرتا ہوں ۔ سروے رپورٹ میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے علاقوں میں 3 ہزار 7سو کشمیریوں کے انٹرویو کئے گئے۔ بہرحال ڈاکٹر سیف الاسلام قذافی کی مسئلہ کشمیر میں دلچسپی قابل ذکر ہے۔

80 فیصد کشمیری کہتے ہیں کہ کشمیر کا تنازعہ ان کے لئے ذاتی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔فائر بندی لائن پر گولہ باری بند ہونے اور 2003 ء میں انڈیا اور پاکستان کے مابین ہونے والے مذاکرات سے فوجی تشدد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔اس کے باوجودانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کے اعدادوشمار نمایاں ہیں(19 فیصد آزاد جموں و کشمیر ، 43 فیصد جموں و کشمیر )تنازعے پر تشویش کے علاوہ کئی اور مسائل سروے میں سامنے آئے ہیں۔ 81 فیصدافراد(66 فیصدآزاد جموں و کشمیر اور 87 فیصد جموں و کشمیر)کے نزدیک ان کی پریشانی کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔آزاد جموں و کشمیرکے 22 فیصد ،جبکہ جموں و کشمیر کے68 فیصدرائے دہندگان حکومتی بدعنوانی ،42 فیصد آزاد جموں و کشمیر اور43 فیصد جموں و کشمیر کے عوام کمزور اقتصادی ترقی کو بڑے مسائل قرار دیتے ہیں۔اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات بارے86 فیصد آزاد جموں و کشمیر اور71 فیصد جموں و کشمیر کے لوگوں میں آگاہی پائی جاتی ہے ، آزاد جموں و کشمیر میں 27 فیصد، جبکہ جموں و کشمیر میں 57 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ مذاکرات سے امن کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔یہ دبی دبی سی پرامیدی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات پرپیش رفت سست روی سے جاری ہے۔ کل آبادی کے 70 فیصد کا کہنا ہے کہ تشدد سے امن کے حصول میں کم ہی مدد ملے گی یا اس سے کو ئی فرق نہیں پڑنے والا(61 فیصد آزاد جموں وکشمیر ،75 فیصد جموں و کشمیر) سب سے حیرت انگیز نتائج سیاسی حوالے سے آرا ء ہیں۔رائے دہندگان سے پوچھا گیا کہ انہیں اگر کل کوووٹ ڈالنے کا موقع ملے،تووہ کشمیر کو بھارت یاپاکستان کس کے ساتھ شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیں گے یا کہ وہ مشترکہ خودمختاری یا جوں کی توں پوزیشن رکھنے سمیت دیگر آپشنز کے حق میں رائے دینا چاہیں گے۔آزادی، آزاد جموں و کشمیر کے 44 فیصد ،جبکہ جموں و کشمیر میں 43 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ آزاد ی کے حق میں استعمال کریں گے۔ یہ سب سے زیادہ مقبول عام رائے ہے،تاہم اس سے عوام کی اکثریت کی خواہش کا پتہ نہیں چلتا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں رائے عامہ بری طرح تقسیم ہے۔کشمیر کی وادی میں ،جسے بالعموم کشمیری شناخت اور سیاسی حیثیت کے مطالبات منوانے کا مرکز قرار دیا جاتا ہے،74 سے95 فیصد کے درمیان لوگ آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔اس کے برعکس جموں و کشمیر ڈویژ ن میں آزدی کے خواہشمندوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔لیہہ میں یہ تناسب 30 فیصد جبکہ کارگل میں 20 فیصد ہے۔بھارت کے حق میںمجموعی طور پر 21 فیصد رائے دہندگان نے انڈیا کے ساتھ شامل ہونے کی حمایت کی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 28 فیصد کے برعکسکنٹرول لائن کی دوسری جانب صرف ایک فیصد افراد نے بھارت کے ساتھ ملاپ کا اظہار کیا۔

کشمیر کی وادی میں بھارت کے حامیوں کا تناسب اس سے بھی کم ہے۔بارہ مولا میں یہ 2 فیصد ہے۔صرف جموں اور لداخ ڈویژن میں عوام کی اکثریت بھارت کے ساتھ شمولیت کی چاہتی ہے۔کارگل میں ان کا تناسب 80 فیصد تک ہے۔

شاہین اختر کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1