هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

روہر یورپین کیپیٹل آف کلچر2010ء

راجہ عامر محمود بھٹی

Thursday, June 17, 2010, 11:29

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

2010ء کے لئے یورپی ثقافت کا دارالحکومت چننے میں جیوری نے بڑی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور ایک ساتھ تین شہروں کو یورپ کا ثقافتی کا دارالحکومت قرار دیا۔ اس طرح ایسن روہر جرمنی، پکس ہنگری اور استنبول ترکی ثقافتی دارالحکومت قرار دیئے گئے۔ استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ دنیا کا واحد میٹرو پولیٹن شہر ہے جو دو اہم براعظموں یورپ اور ایشیا میں واقع ہے۔ پکس جنوبی ہنگری کا قدیم یونیورسٹی ٹائون ہے جس کی آبادی ایک لاکھ 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ ہنگری کا پانچواں بڑا اور سب سے خوبصورت شہر ہے۔ پکس اور استنبول دونوں میں عمارتوں کی تعمیر کو مرکزی اہمیت دی گئی۔ دونوں شہروں میں قدیم عمارتوں کو محفوظ کرنے کا کام خوبصورتی سے کیا گیا۔ استنبول میں پرانی بازنطینی دور کی یادگار عمارتوں اور عثمانی سلاطین کے دور کی خوبصورت عمارتوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ان میں ایاصوفیہ کا عجائب خانہ اور توپ کاپی میوزیم قابل ذکر ہیں۔ ایسن اور روہر ڈسٹرکٹ استنبول اور پکس کے ساتھ کئی مشترکہ منصوبوں پر کام کررہے ہیں جن کی اکثریت جڑواں شہروں کے پروگرام کے تحت ہے۔ دنیا میں قریباً 200 شہر بین الاقوامی طور پر جڑواں قرار دیئے گئے ہیں۔ ان مشترکہ منصوبوں میں سے ایک تھیٹر پروجیکٹ ہے جو رواں سال گرمیوں میں استنبول اور ایسن میں پیش کیا جائے گا۔ ایک اور پروگرام 2010ء چیئرزکے نام سے جو شہری منصوبہ بندی کا پراجیکٹ ہے جس کے لئے ایک جرمن ٹیم سٹولز پکس میں نصب کرے گی تاکہ شہر کے مختلف کوارٹرز کو منسلک کیا جاسکے۔

پہلی دفعہ ایک پورا علاقہ روہر ڈسٹرکٹ یورپین کلچرل کیپیٹل قرار دیا گیا ہے۔ اس کی 53 میونسپلٹیز 300 منصوبے اور 2500 ایونٹس پیش کریں گی۔ یہ تقریبات سارا سال جاری رہیں گی۔ روہر ریجن کے 53 لاکھ لوگ مختلف اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ غیر ملکیوں میں ترکوں کے علاوہ سابقہ یوگو سلاویہ کے ملکوں کے باشندے، پولینڈ، اٹلی، یونان اور مراکش کے لوگوں کی قابل ذکر تعداد روہر میں رہائش پذیر ہے۔ روہر ڈسٹرکٹ میں پانچ ملین سے زیادہ لوگ رہتے ہیں جو یورپ میں پیرس اور لندن کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ انیسویںصدی کے وسط میں ایسن میں صرف دس ہزار لوگ رہتے تھے۔ اب اس کی آبادی پانچ لاکھ اسی ہزار ہے۔ روہر ڈسٹرکٹ کی کل آبادی کا 1/3 حصہ پولش ہے۔ ان کی زیادہ تر تعداد انیسویں صدی کے آخر میں مقامی کانوں میں کام کرنے کے لئے آئی۔ یہاں پانچ جنرل یونیورسٹیاں اور دس اپلائیڈ سائنسز کی یونیورسٹیاں ایک لاکھ اسی ہزار طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے تحقیقاتی اور ٹیکنیکل ادارے بھی روہر میں کام کرتے ہیں۔ یہ تعلیمی سہولیات روہر کو یورپ کا سب سے گنجان ترین تعلیمی اور تحقیقاتی علاقہ بناتی ہیں۔ اس میں جرمنی کی پہلی اور واحد فاصلاتی تعلیم دینے والی ہیگن یونیورسٹی شامل ہے۔

روہر ڈسٹرکٹ کی مغرب سے مشرق تک لمبائی 116 کلو میٹر اور چوڑائی شمال سے جنوب تک 67 کلو میٹر ہے۔ روہر دریا کی لمبائی 219 کلو میٹر ہے۔ یہ ونٹربرگ سائوار ڈسٹرکٹ سے نکلتا ہے اور دریائے رائن میں شامل ہونے سے پہلے روہر ڈسٹرکٹ میں 124 کلو میٹر تک بہتا ہے۔ علاقے کی مقامی ڈشوں میں مٹر اور آلوئوں کی مختلف ذائقوں والی اشیاء بکثرت ملتی ہیں۔ روہر ڈسٹرکٹ کی کوئلے کی 140 کانوں میں جوبن کے دنوں میں 4 لاکھ 85 ہزار لوگ کام کرتے تھے۔ 2008ء کے آخر میں چار کانوں میں صرف 21 ہزار لوگ کام کررہے تھے ۔ باقی کانوں میں کام بند کرکے علاقے کو نئے انداز اور نئے ڈھانچے میں ڈھالا جارہا ہے۔ الڈی نورڈ اور الڈی سڈ کی رعائتی نرخوں والی سپر مارکیٹ (چَین )سالانہ 50 ارب یورو کا کاروبار کرتی ہیں۔ الڈی روہر ڈسٹرکٹ میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والا سب سے بڑا تجارتی انٹرپرائز ہے۔ الڈی کا شمار ڈوئچے بی پی اور آر ڈبلیو ای سے زیادہ بڑے اداروں میں ہے۔ تھیو اور کارل البرشٹ برادران نے ڈسکائونٹ مارکیٹ چَین سے 40ارب امریکی ڈالر کمائے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے دس امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے ۔

روہر ریجن جرمنی کا سابقہ مرکزی صنعتی علاقہ تھا۔ یہ کوئلے کی کان کنی اور فولاد سازی کا مرکز تھا۔ اس کی زولو میرین کی کوئلے کی کان کو 2001ء میں یونیسکو کی ورلڈ ہیرٹیج فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ 53 قصبے اور ایسن شہر رکھنے والا روہر ریجن ہالینڈ کی سرحد پر واقع ہے۔ 1000 صنعتی یادگاریں، 200 عجائب گھر، 100 آرٹ سنٹر، 120 تھیٹرز، 100 کنسرٹ وینیوز اور 250 میلوں اور تہواروںکے علاوہ دیگر مشاغل کی طویل فہرست روہر کی خاصیت ہے۔ روہر میں 170 ممالک کے افراد پر مشتمل سوسائٹی یقیناً دنیا کی منفرد ترین سوسائٹیز میں سے ایک ہے۔ ماضی قریب کا جرمنی کا صنعتی دل آج 2010ء میں یورپ کی ثقافت کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ آج یہ علاقہ پورے یورپ کا دل ہے۔ چند سال پہلے جہاں مشینوں کا شور اور دھوئیں کے بادل نظر آتے تھے۔ جہاں مزدوروں کی لمبی قطاریں آتی جاتی نظر آتی تھیں۔ وہاں آج تفریح گاہیں، پارک اور نمائشیں لوگوں کو ماضی کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تفریح طبع کا سامان فراہم کررہی ہیں۔

پچھلی پانچ دہائیوں میں روہر اپنے وجود میں بہت سی تبدیلیاں لا چکا ہے۔ 1950ء کے وسط میں 4 لاکھ 70 ہزار لوگ کانوں میں کام کرتے تھے جبکہ موجودہ وقت ان کی تعداد صرف 30ہزار ہے۔ آج کل فولاد کی صنعت میں 57ہزار لوگ کام کررہے ہیں جبکہ ماضی میں ان کی تعداد 3لاکھ تھی۔ اس وقت صرف خدمات سرانجام دینے والی صنعت علاقے کی واحد بڑی صنعت ہے جو 14 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کررہی ہے۔ اب ترقی کرنے والے شعبے آئی ٹی، لاجسٹک اور توانائی ہیں۔ ڈورٹمنڈ اس وقت آئی ٹی انڈسٹری کا مرکز ہے اور یہ روہر کا ایسا مثالی شہر ہے جس کو دیکھ کر اپنے وجود کو نئی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کا حوصلہ ملتا ہے پہلے یہاں ڈویلپمنٹ کی گئی اور آخر میں ڈورٹمنڈ ٹیکنالوجی پارک نے اپنے کام دکھایا۔ ایسن اس وقت جرمنی کی توانائی کی صنعت کا دل ہے۔ یہاں آر ڈبلیو ای، ایوونک اور روہر گیس جیسے دیو قامت ادارے اور جوائنٹ وینچر کام کررہے ہیں۔ جرمنی کی توانائی کی ساٹھ فیصد کھپت یہاں ہوتی ہے۔ ڈیوس برگ یورپ میں سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا شہر ہے جو زمینی نقل و حمل میں اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ اس کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا ٹرانسپورٹ کا نظام سب سے بڑا اور وسیع ہے۔ جرمنی کا کوئی دوسرا علاقہ اس قدر وسیع پیمانے پر نقل و حمل سے عہدہ برا نہیں ہوتا۔ مقامی رجحان میں ایک بڑی تبدیلی مقامی یونیورسٹی اور ریسرچ سنٹر کے قیام سے ہوئی۔1960ء کے وسط میں علاقے میں پہلی یونیورسٹی دی روہر یونیورسٹی بوکم قائم ہوئی۔ تبدیلیوں کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ علاقے میں بے روزگاری کی شرح اب بھی جرمنی کے معیار سے تین فیصد زیادہ ہے۔

یورپی دارالحکومت برائے ثقافت روہر کا افتتاح 9 اور 10 جنوری 2010ء کو زولویرین کان کے دھانے پر قائم یادگار سے ہوا۔ یہ دو روزہ ثقافتی میلہ روہر کے ثقافی مرکز برائے یورپ کے سلسلے میں منعقدہ ہوا تھا۔ پہلے دن کی افتتاحی تقریبات کا آغاز جرمن فیڈرل پریذیڈنٹ ہورسٹ کوہلر، یورپی کمیشن کے صدر جوزے مینوئل بروسو اور شمالی رائن ویسٹ فالیا کے وزیر صدر جرگن رنگرز کی تقاریر سے ہوا۔ تقریبات کا نکتہ عروج رات کو آتش بازی کا شاندار مظاہرہ تھا۔ 10 جنوری کو روہر کے نئے عجائب گھر کے دروازے کھولے گئے جو کہ زولویرین کے کوئلہ دھونے کے سابق پلانٹ میں قائم کیا گیا ہے۔ اس کی مستقل نمائش دنیا کے اس عظیم صنعتی علاقے کی متاثر کن تاریخ کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے دو دنوں میں 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں کا نظارہ کیا۔

روہر کے متعلق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی شہر یا قصبہ نہیں بلکہ ایک خاص علاقہ ہے۔ 53 لاکھ افراد کا یہ مسکن جہاں پانچ اوپیرا ہائوس اور پانچ یونیورسٹیاں ہیں۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی شہر کے بجائے پورے علاقے کو یورپی ثقافت کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ روہر کی 53 لاکھ کی آبادی برلن سے ڈیڑھ گنا اور رقبہ 5000 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ برلن سے پانچ گنا بڑا ہے۔ روہر میں پانچ اوپیرا ہائوس ہیں جبکہ برلن میں تین ہیں۔ فضاء سے دیکھنے پر روہر ایک روشن و منور علاقہ نظر آتا ہے۔ یورپ کی رات کے وقت لی گئی سیٹلائٹ امیجز سے پورا روہر ریجن ایک بڑے روشن فانوس کی مانند نظر آتا ہے۔ یورپ میں صرف لندن اور پیرس کے میٹرو پولیٹن اس سطح کی روشنیاں بکھیرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار شہر اور علاقائی مارکیٹنگ ٹیکنیک کا حصہ تھا۔ قریب سے دیکھنے پر حقیقت قدرے مختلف نظر آتی ہے۔

یہ کان کنی کی صنعت تھی جس نے انیسویں صدی کے اوائل میں اس علاقے کو واضح کیا اور زور دار انداز میں ہلچل مچائی اور آج بھی اس علاقے کا روپ سنوارنے میں مصروف ہے۔ روہر کی تاریخ صرف کوئلے سے وابستہ نہیں ہے بلکہ اس کا وجود اس سے پہلے بھی قرونِ وسطیٰ کے عہد میں موجود تھا جب علاقے پر دسترس کے لئے مذہبی قائدین اور لادین عناصر میں جنگ و جدل یا دوسرے الفاظ میں کم آبادی والے اس خطے کو اپنے زیر اثر لانے کے لئے زبردست جدوجہد ہوئی۔ ایسن شہر کی بنیاد 852ء کے لگ بھگ پڑی جب یہاں ایک عیسائی خانقاہ قائم ہوئی۔ ڈورٹمنڈ ماضی میں ایک طاقتور شہر تھا۔ ماضی کے جزائر کی طرح قلعے اور عیسائیوں کے راہب خانے صنعتی علاقوں کے وسط میں آج بھی قائم نظر آتے ہیں۔

درمیانے دور میں کوئلے کی معمولی کان کن کا عمل جاری تھا جب کوئلہ روہر کی وادی سے نکالا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں کان کنی کی صنعت کو زبردست ترقی ملی جس سے نہ صرف اس سے بھاپ بنانے کا عمل شروع ہوا بلکہ پروشیا کی اصلاحات نے بھی کا دکھایا۔ ہینیل، ہارکوٹ، سٹائنز اور کروپ جیسے رہنما ابھرے جنہوں نے ٹیکنالوجی کے نئے نظریات کو فوقیت دی اور آہستہ آہستہ بڑی بڑی کارپوریشنوں کو قائم کیا۔ انہیں کے راستے پر چل کر تھائسن اور ہوئش نے کامیابی حاصل کی۔ کوئلے کی کان کنی اور لوہے کی کچ دھات کے درمیان تعلق نے بہت بڑے صنعتی مرکز کو جنم دیا جس نے اپنے مواصلاتی نظام کی تشکیل ریل، روڈ ٹریکس اور آبی گزرگاہوں کی صورت میں کی تاکہ دنیا بھر کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل ہوسکے۔ انیسویں صدی کے آخر میں اس کی وسعت اپنی انتہاء تک پہنچ گئی جس کا نتیجہ بڑے بڑے کاروباری اداروں کی صورت میں نکلا جن کی کاروباری سرگرمیاں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھیں اور مشرق سے لاکھوں کارکنوں کا اس علاقے میں آنا ہوا۔ برسوں تک تخلیقی، تکنیکی تصورات اور عقل و فراست نے پیداواری سطح کو بہت بلند رکھا جس کی وجہ سے پہلی جنگِ عظیم کے دوران بھی بھاری صنعتیں سرفہرست رہیں۔ فرانسیسی قبضے، مزدوروں کی بے چینی، افراطِ زر و تیسری رائخ، دوسری جنگِ عظیم، جبراً کارخانوں کو کھول کر حصے بخرے کرنے و تعمیر نو کے لئے اصل قوت کی حیثیت اور جرمن صنعتی معجزے (انقلاب) تک بھاری صنعت سب سے بلند و بالا سطح پر موجود رہی۔ 1957ء میں کوئلے پر چھوٹ کے خاتمے اور معدنی تیل پر درآمدی ٹیکس سے بحران کا آغاز ہوا۔ جس سے کانوں کا زوال ہوا اور کمپنیاں آپس میں مدغم ہو گئیں۔ اس وقت ڈھانچے میں تبدیلی کا ایجنڈا طے کیا گیا۔ روہر کے علاقے کے کوئلے اور لوہے کی جوڑی کو کثیر المقاصد بنا دیا گیا ہے۔ ڈیوس برگ کو بدستور یورپ کا سب سے بڑا فولاد تیار کرنے کا مرکز رہنے دیا گیا ہے۔

تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد نے اس روہر ریجن کو ایک کندن بنا دیا ہے جہاں آج دنیا کی 170 قوموں کے افراد رہ رہے ہیں اور ایک منفرد زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اتنے عرصے سے اکٹھے رہنے کے باوجود یہ لوگ ایک ہونے سے دور رہے ہیں۔ ان میں اتحاد نہیں ہوا اور نہ یک جان ہو سکے ہیں۔ اس کو اب بھی باہر سے ایک کالونی کی طرح چلایا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح یور کے سٹیل کی صنعت کے نوابوں نے استعمال کی تھی۔ یہ تین انتظامی اضلاع اور دو مختلف علاقائی حکام کے ماتحت ہے۔ روہر کی علاقائی ایسوسی ایشن اپنے 53 قصبوں کی رکنیت کے باوجود بڑی انکسار پسند ہے۔ روہر کی نہ تو براہ راست منتخب پارلیمنٹ ہے اور نہ ہی ریجن کا اپنی مالیات پر کوئی اختیار ہے۔روہر کے ایک انتظامی یونٹ ہونے کے تصور کو یورپین ثقافتی دارالحکومت کی دوڑ کے دوران نیا جوش و ولولہ ملا۔ روہر ریجن نے اپنے آپ کو ”میٹر پولس” سمجھنا شروع کردیا اور اپنے لئے میٹرو پولس کی اصطلاح استعمال کرنے لگے۔ 2008ء کے آخر میں گلیسنکرچن کے مقام پر ایک علامتی (پتھر) فائونڈیشن سٹون کی نقاب کشائی ہوئی جس پر ”جرمنی کا سب سے بڑا پتھر” کندہ ہے۔ اس کی ابتداء کرنے والے اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کی پہچان کانوں کے بجائے ماضی ہے جس پر انہوں نے کامیابی سے ہاوی ہونا جان لیا ہے۔

اس علاقے کا دھواں مدتوں پہلے ختم ہو چکا ہے۔ کوئلے کی کان کنی شمال کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور 2012ء میں آخری کانیں بھی بند کردی جائیں گی لیکن روہر کے قصبے، گھریلو جائیدادیں، مواصلاتی رابطے اور ذرائع نقل و حمل روہر ریجن کے چہرے کا نکھار رہیں گے۔ بغیر ترتیب کے قصبوں کے سلسلے جن میں سے ہر ایک کا اپنا مرکز اور حدود ہیں۔ تجارتی جائیدادیں، گرین بیلٹس، صنعتی علاقے، کچرا ٹھکانے لگانے کی جگہیں، نئے اجزاء جو نئے رنگ روپ اور ڈھانچے کے ساتھ آنے کے خواہش مند ہیں۔ صنعتیں جو زمین کا بہت سا علاقہ استعمال کرتی تھیں اب منتقل ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے خالی جگہیں نئے مواقع کے لئے منتظر ہیں۔ یہ علاقہ اب نئی شہری سہولیات اور نئے تخلیقی مواقع پیش کررہا ہے۔ روہر ثقافتی تبدیلی کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ اکالوجیکل اور معاشی حکمت عملی کی وجہ سے یہاں 1989ء سے لیکر 2000ء کے درمیان 120 ماڈل پراجیکٹ مکمل ہوئے۔ سب سے بڑی کامیابی شاید صنعتی ورثے کو جمالیاتی شکل دینا تھا۔ ایسن میں زیچے زولویرین جس نے 1986ء سے اپنی سرگرمیاں منقطع کررکھی تھیں۔ 2001ء سے یونیسکو کی ورلڈ ہیرٹیج لسٹ میں شامل ہے۔ ڈیوس برگ میڈیرچ کی کان کا دھانہ ایک لینڈ سکیپ پار ک کا نشانِ راہ بن گیا ہے۔کسی اکیلے شہر کے لئے شہری نظریات کو عملی جامہ پہنانا یا اختیار کرنا اسی طرح مشکل ہے جیسے کسی ایک اکیلے شہر کے مسافروں کے لئے مقامی ٹرانسپورٹ کا نظام چلانا یا اپنے متعلق گلوبل لیول پر نام پیدا کرنا۔ کسی کے لئے بھی ایک سال میں سب کچھ حاصل کرنا ممکن نہیں لیکن یورپین دارالحکومت برائے ثقاقت روہر 2010ء اس کو بہتر پہچان کے ساتھ ملک کا سب سے عظیم الشان شہر بنا دے گا۔

روہر کی سات نشانیاں – روہر میں قائم صنعتی سٹریکچر کی یادگار (ٹاور) روہر کی نئی شناخت ہے۔ اب یہاں لوہا پگھلانے کا کام ختم ہو چکا ہے۔ پرانے دور کی طرح اب کوئی اپنے مخصوص لباس میں فولادی بھٹیوں میں کام کرنے کے لئے نہیں آتا اور نہ ہی کوئلے کی کن کنی کی جارہی ہے۔ اب لوگ یہاں نمائشیں دیکھنے، سیرو تفریح یا رقص و موسیقی اور ثقافتی میلوں کو دیکھنے آتے ہیں کیونکہ روہر کی مندرجہ ذیل سات نشانیاں بڑا منفرد منظر نامہ بیان کرتی ہیں۔

-1ڈیوئس برگ کے لوہا پگھلانے کے کارخانوں میں 57 ملین ٹن کچے لوہے کو پگھلایا گیا۔پھر 1985ء میں اس کو دوبارہ بند کردیا گیا۔ آج یہ جگہ لینڈ سکیپ پارک کے بالکل مرکز میں واقع ہے اور اس کا گیسومیٹر یورپ کا سب سے بڑا مصنوعی غوطہ خوری کے کھیلوں کا مرکز ہے۔ چھٹیوں کے دنوں میں یا ہفتے کے آخری دنوں میں پورے پارک کو رنگ برنگی روشینوں سے منور کیا جاتا ہے۔

-2 1920ء سے اوبرہائوسن کے گیسو میٹر میں اردگرد کے پلانٹوں اور کارخانوں کے لئے گیس اکٹھی کی جاتی تھی۔ یہ یورپ کا سب سے بڑا گیس کا ذخیرہ رکھنے والا سٹوریج تھا۔ 1994ء سے اس 117 میٹر بلند مینار میں بہت سی نمائشیں، کنسرٹ اور تھیٹر کے پروگرام پیش کئے جاچکے ہیں۔

-3 ڈورٹمنڈ (U) کمپنی کا لوگو تھا۔ یہ یونین بریوری کی سابقہ بلڈنگ کے اوپر نصب میلوں دور سے نظر آنے والا نشان ہے جو 1960ء میں یورپ کا شراب کشید کرنے کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ آج سنہری یو (U) شہر سے 70 میٹر بلندی پر آب و تاب سے چمکتا نظر آتا ہے۔

-4 بیک سٹراسی کے فولادی کچرے اور میل کے ڈھیر 1980ء تک ہینیل کولٹری کی خوشحالی کا باعث بنے۔ آج 74میٹر بلند پہاڑی ایک چومکھے مجسمے سے سجی ہوئی ہے ایک 50 میٹر بلند سہ طرفی تکون کی شکل کا فولادی ڈھانچہ عوام کے دیکھنے کے لئے کھلا ہے۔ رات کو جب اسے روشنی سے منور کیا جاتا ہے تو یہ ہوا میں تیرتا محسوس ہوتا ہے۔

-5 ایسن کاکول مائن انڈسٹریل کمپلیکس 1986ء میں بند کردیا گیا تھا۔ اپنے آغاز کے تقریباً 135 سال بعد اس میں کام بند کردیا گیا۔ 2001ء میں یونیسکو نے اس کو ورلڈ ہیرٹیج لسٹ میں شامل کرلیا۔ اس کو روہر کی خاص پہچان تصور کیا جاتا رہا ہے۔ آج کل یہ ثقافتی اور تخلیقی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

-6 نورڈسٹرن کوئلے کی کان واقع گلیسنکرچن ہورسٹ میں آخری شفٹ نے 1993ء میں کام کیا تھا لیکن اس کی شفٹ نمبر 11 کا ٹاور ابھی تک قائم ہے۔ اس کو حال ہی میں میوزیم قرار دیدیا گیا ہے۔ ٹاور کے اوپر مزید چار منزلیں شیشے سے تعمیر کی گئیں ہیں۔ اس کے سر پر 25 میٹر بلند لیپرٹز کا یادگاری مجسمہ بنایا گیا ہے۔ اس کا افتتاح رواں سال ہوگا۔

-7 ایسن میں شورن باخ فولادی میل کچیل کے ڈھیر زولومیرین کوئلے کی کانوں کے استعمال میں ان کی بندش تک کام آتے رہے۔ 1998ء سے 45 میٹر بلند پہاڑی پر لوہے کی ایک سلیب نصب ہے۔ پندرہ میٹر بلند بریمی مجسمہ روہر ڈسٹرکٹ کے لئے ہے۔ دور سے دیکھنے سے یہ واضح نظر نہیں آتا لیکن قریب آکر دیکھنے سے یہ عمودی حالت میں کھڑا دیو قامت ڈھانچہ ہے۔

راجہ عامر محمود بھٹی کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1