هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے صدر آصف علی زرداری کا خطاب

راجہ عامر محمود بھٹی

Tuesday, June 22, 2010, 9:39

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

صدر آصف علی زرداری نے تاشقند میں 10ویں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے گا تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقائی ممالک تشدد ،انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وسیع تر تعاون کریں کیونکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے کوئی ایک ملک اس سے نہیں نمٹ سکتا۔ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں اپنی تجارت کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اجلاس سے چین، روس، کرغزستان، ازبکستان، قزاخستان اور تاجکستان کے صدور کے علاوہ ایران اور بھارت کے وزراء خارجہ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے اور آسیان سیکرٹری جنرل کے نمائندے نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک کے مابین زراعت کی ترقی اور جرائم کے خاتمے سے متعلق شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور اس تنظیم کا فطری اشتراک ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ ایس سی او ممالک کے مابین دہشتگردی کے خاتمے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو تیزی سے فروغ دیا جائے۔ پاکستان ایس سی او کے مقاصد کی بھرپور حمایت کرتا ہے جس میں خطے میں امن کا قیام، دہشتگردی کا خاتمہ اور ممبر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔ پاکستان اس وقت دہشتگردی کی لعنت کا شکار ہے اور ہم دہشتگردی کے خلاف عرصہ دراز سے جنگ کر رہے ہیں۔ اس خطے کو دہشتگردی اور انتہا پسندی کے علاوہ منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت کا بھی سامنا ہے اور منشیات کا پیسہ بڑے پیمانے پر دہشتگردی کی کارروائیوں میںاستعمال ہورہا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ ایس سی او جو کہ خطے کی بڑی تنظیم ہے وہ بزنس کونسل اور انٹر بنک کنسورشیم کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تعاون کرے اور پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجوں اور خطے میں امن کی کوششوں کو فروغ حاصل ہو۔ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اپنا علاقائی اور عالمی تعاون بھرپور انداز میں جاری رکھے گا۔ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی جانب سے امن اور استحکام کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اس خطے میں گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو جو چیلنج درپیش ہیں اس میں سب سے بڑا چیلنج توانائی کی قلت ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے میں وسطی ایشیائی ریاستیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ممبر ممالک کے درمیان مواصلات کے نظام کو فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اس کے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قدیم تہذیبی اور ثقافتی رشتے قائم ہیں لہٰذا پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بنایا جائے۔

چین کے صدر ہوجن تائو نے کانفرنس سے خطاب میں چھ نکاتی پروگرام پیش کیا اورکہا کہ چین ایس سی او ممالک میں 10 ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے پر قائم ہے۔ دنیا آج یک قطبی ہوگئی ہے اوراس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ اور مواصلات کو فعال بنانا اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ روسی صدر دمتری میدویدوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس سی او تنظیم دو ممالک افغانستان اور کرغزستان میں امن اور ترقی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو دہشتگردی، انتہا پسندی اور منشیات کے پھیلائو جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان قوم دہشتگردی کی لعنت کے ساتھ بڑی بہادری اور جرات مندی سے مقابلہ کر رہی ہے اور افغان معاشرے میں اب یہ سوچ پیدا ہوچکی ہے کہ دہشتگردی کا کاروبار اب ختم ہوجانا چاہئے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی کی آڑ میں سیاست کی جارہی ہے اور دہشتگرد گروپوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ایران کے خلاف پابندیاں غیر قانونی ہیں اور اقوام متحدہ نے ان ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے غزہ کے محصور فلسطینیوں کیلئے امداد لے جانے والے پرامن قافلوں کے خلاف کارروائی کی اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ ایران اپنے پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دریں اثناء صدر زرداری نے ازبکستان کے صدر اسلام کریموف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔ ملاقات میںد ونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 40 ملین ڈالر ہے جو کہ بہت کم ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرنے کی بھی تجویز پیش کی جس پر ازبک صدر نے کہا کہ اس تجویز پر پاک ازبک اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں غور کیا جائے گا جس کا اجلاس رواں سال ہو گا۔ صدر نے اس موقع پر توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ازبک تعاون پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان ازبکستان سے ایل این جی درآمد کرنے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کو کھاد اور سریمکس کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی بھی تجویز دی۔ صدر نے دونوں ممالک کے درمیان فضائی سروس کو وسعت دینے پر بھی زور دیااور ازبک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ صدر آصف علی زرداری نے ازبک صدر اسلام کریموف کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔علاوہ ازیں صدر آصف علی زرداری اور چین کے صدر ہوجن تائو کے درمیان تاشقند میں دو دن کے دوران دوسری ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا۔ صدر زرداری نے صدر ہوجن تائو کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ صدر زرداری کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمایہ سے بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کو مبصر کی جگہ مکمل رکنیت دینے کی حمایت کرے گا۔

اجلاس کے اختتام اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن’ استحکام اور ترقی کیلئے تنظیم کثیر الملکی اور موثر اقدامات اٹھائے گی۔ مبصر ممالک’ پاکستان’ بھارت’ ایران اور منگولیا کو ایس سی او میں نئے ممبران کے طور پر شامل کرنے کے ضابطہ کی بھی منظوری دی گئی ہے اور مبصر ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ ایس سی او نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے مسئلے پر اپنا کردار ادا کرے۔ ایس سی او کے اجلاس میں ممبر ممالک چین’ روس’ کرغزستان’ قازقستان’ تاجکستان’ ازبکستان کے علاوہ’ پاکستان’ ایران’ افغانستان’ بھارت’ منگولیا’ سری لنکا اور بیلا روس کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر ممبر ممالک کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ’ علیحدگی کی تحریکوں’ انتہا پسندی اور دیگر ممالک کو غیر مستحکم کرنے والے عناصر کی بیخ کنی کے لئے تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ وسطی ایشیاء کو نیو کلیئر فری خطہ بنانے کیلئے خطے میں امن اور سلامتی کو فروغ دیا جائے بلکہ عالمی امن اور سلامتی کے لئے بھی کردار ادا کیا جائے۔ اعلامیہ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اینٹی میزائل نظام کی تنصیب سے عالمی سلامتی کو خطرہ اور میزائل ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ عالمی مالیاتی بحران کے بعد کی صورتحال سے نکالنے کیلئے تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ممبر ممالک کے مابین ٹرانسپورٹیشن’ کمیونیکیشن’ تجارت’ سرمایہ کاری کے شعبوں میں مشترکہ پروگرامز شروع کئے جائیں گے۔ اعلامیے میں کرغزستان میں سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے ممبر ممالک نے فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ۔

راجہ عامر محمود بھٹی کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1