هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

”نو فلائی زو ن ” عذابوں کی دستک ؟

شیخ عبدالمجید جرمنی

Sunday, June 27, 2010, 12:08

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

آفات سماوی جیسے زلازل ‘ سونامی ‘ علاقائی جنگیں ‘ بد امنی اور آتش فشانی کے واقعات ‘ یعنی عذابوں کی اس زنجیر کا یہ سلسلہ دنیا میں ایسی کثرت وقوع میں آرہے ہیں ۔ اس کی مثال گزشتہ ایک ہزار سال میں نہیں ملتی ۔غیر معمولی زمین پر برپا ہونے والے تغیرات اور تحولات اور حدوثات کوہم عام موسمی قدرتی تغیرات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔قادر مطلق کی تقد یر خاص کے تحت دنیا میںآنیوالے عذابوں کا یہ سلسلہ ہے۔جبکہ مادہ پرست دانش ور اسے عام قدرتی آفات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔مگر اسلام کا فلسفہ عذاب سے جو ہمیں ادر ا ک ملتا ہے ۔یہ غیر معمولی قدرتی تغیرات اللہ تعالیٰ کے غضب ناراضگی کا اظہار ہے ۔بایں ہمہ عارف لوگ جانتے ہیں کہ ان اسباب کے نیچے اور اسباب بھی ہیں جو مدبر بالاِ رادہ ہیں جس کا دوسرے لفظوں میں نام ملائک ہے ۔جو قانون قدرت جیسے کام سر انجام دیتے ہیں ۔مگر ساتھ روحانی اغراض کو بھی مدنظر رکھتے ہیں’جو مولیٰ کریم نے ان کے سپرد کی ہیں ۔ یعنی قوم کے ایک طبقہ ( جو ناقابل اصلاح ہو) کی ہلاکت اور باقی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی قہری قدرت نمائی کے جلوے دکھاتا ہے ۔

مغربی قومیں جنگ عظیم اول ‘ جنگ عظیم دوم کی جنگوں کی تباہی بربادی کا شکار ہوچکی ہیں۔ ان جنگوں کی وجہ سے آسمان سے بھی آگ بر ستی تھی اور زمین پر بھی گویا ان جنگوں نے ساری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔آج بھی دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لینے والے قسم قسم کے عذابوں( زلزلوں ‘ سومانی طوفانوں ،فسق وفجور کی زیادتی کی وجہ سے ایڈز جیسی بیماریوں) کی ہلاکتوں کی ایک زنجیر ہے کہ جس کا سلسلہ دنیا دیکھ رہی ہے ۔جبکہ دور جدید کی سائنس ٹیکنالوجی آج بھی زلزلے ‘ سونامی طوفانوں غیر معمولی قدرتی آفات ‘ ایڈز جیسی مہلک بیماری کے سامنے لاچار بے بس نظر آتی ہے ۔

خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سے سُنت ہے کہ جو قومیں مامور زمانہ کے انکار اور مومنین جماعت سے عداوت ‘ان کی ایذاء رسانی سے باز نہیں آتیں ۔ یا ایمان لانے کے بعد اپنی آسمانی کتا ب کی تعلیم یا شریعت کی پیروی سے منہ موڑ کر جو قوم فسق فجور اخلاقی ابتری بداعمالیوں کو اپنے مسلک طور پر اختیار کرلیتی ہیں۔ تو خدا تعالیٰ کے عذاب کی مستحق بن جاتی ہیں۔ جیسے قوم نوح ،قوم عاد ،قوم لوط ،قوم بنی اسرائیل جن پر عذاب نازل ہو ئے ۔گویا خدا کے قانون شریعت کی باغی قوموں پر خدا کی طرف سے عذاب نازل ہوتے رہے ہیں ۔ الہٰی عذابوں کے سامنے جدید دور کی سپر پاور کی سائنس ٹیکنالوجی بھی غیر مئوثر ثابت ہو رہی ہے ۔جنوبی آئیس لینڈ کی وہ جگہ جہاں آتش فشاں پہاڑ ( volcano) ہے ۔یہ سارا علاقہ برف سے ڈھکا ہوا ہے اور 200 میٹر برف کی موٹی تہَ کے نیچے اس کا دہانہ (crater ) ایسی خوفناک آگ اُگل رہا ہے جو اب تک کروڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائڈ راکھ کے بادلوںکی صورت میں فضا بکھیر چکا ہے ۔برف کی موجودگی کی وجہ سے پانی بخارات بھی آسمان کی طرف اُٹھ رہے ہیں ۔آتش فشانی کا عمل اگرچہ پہلے سے کم ہوگیا ہے ۔لیکن ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے ۔اور خطرہ ہے کہ دوبارہ کسی وقت پہلے جیسی طاقت کے ساتھ لاوا نہ اگلنا شروع کردے ۔آغاز میں آگ کا خوفناک لاوا جب اُبلنا شروع ہوا ۔ اور اس سے راکھ کے بادل آسمان پر بلند ہوئے تو یورپ کی تمام پروازیں منسواخ کرنی پڑیں ۔یورپ کی فضا میں اُٹھنے والے راکھ کے بادلوں کی وجہ سے یورپ کے علاقوں کو” نو فلائی زون” بنا رکھا تھا ۔ ( کسی دشمن ملک نے نہیں بلکہ خود فضا کی آلودگی کی نے) انگلینڈ سمیت بہت سے یورپی ملکوں کی ٹیکنالوجی اس غیر معمولی قدرتی آفت کے سامنے بے بس نظر آرہی تھی ۔ ان ملکوں کی پروازیں منسوخ ہوجانے سے پچاس لاکھ مسافر جو آٹھ روز تک مختلف مقامات پر ائیر پورٹس پر بے یارو مددگار پڑے تھے ۔ائیر لائنوں کو کروڑوں ڈالروں کا روزانہ نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ اس انڈسٹری سے متعلقہ شعبے ہائے زندگی کا کا رو با ر بھی متاثر ہوا ۔آسمان پر وسیع پیمانے پر آتش فشانی کی راکھ چھا جانے سے جس قدر دنیا کے لوگ اور کاروباری زندگی متا ثر ہوئی اس کی مثال ماضی قریب میںنہیں ملتی ۔ آسٹریلیا اگر چہ دنیا کے پچھواڑے کا ایک ملک سمجھا جاتا ہے وہ بھی باوجود دور ہونے کے اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔وہاں کی Qantas ائیر لائن نے بھی تمام یورپ کی پروازیں منسوخ کردیں اور آسٹریلیا کے ہزاروں شہری یورپ کے مختلف مقامات پر بے یارو مدد گار پڑے رہے ۔

لوگوں نے کسی سُپر پاور کا لگایا ہوا ”نو فلائی زون (noflyzone ) تو سُنا تھا لیکن یہ نہ سوچا ہوگا کہ جب خدا چاہیے وہ ان کے اپنے ملکوں کو بھی خود ان کے لئے ” نوفلائی زون” بنا سکتا ہے ۔گویا دنیا کا خالق مالک دنیا کو اپنی صفت مالکیت( یعنی دنیا خدا کی ملکیت سے باہر نہیں ) کی قہری تجلی دکھا سکتا ہے ۔رب العالمین خدا کی( بلا امتیاز مذہب ملت بلا امتیاز کافر مومن ) بے بہا نعمتوں عنایتوں اور اس کی رحمتوں کا سلسلہ دنیا میں جار ی ساری ہے ۔علاوہ اس کے فاسق فاجر خدا کے قانون شریعت کی باغی سرکش قوموں کو عذاب دینا بھی اس کی قدیم سنت میں ہے۔ زلزلوں ‘ سومانی طوفانوں ‘ آتش فشانی کی قہری تجلیاں دنیا کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لئے ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ تقریباََ دو سو سال پہلے بھی جنوبی آئس لینڈ کے پہاڑ کا آتش فشانی لاوا مسلسل چھ ماہ تک لاوا اُگلتا رہا تھا ۔تقریباََ دو صدیوں تک خوابیدہ رہنے کے بعد اب پھر یہ پہاڑ فعال ہے ۔خدا ہی جانے کب تک اور کس طاقت سے کے ساتھ یہ لاوا اُگلتا رہے گا۔اسکے بعد گوئٹے مالا کے بارے میں خبریں نشر ہو رہی ہیں کہ وہاں پر اسی قسم کی آتش فشانی کا لاوا بھی پوری طاقت سے ا ُبل رہا وہاں کے آسمان کے حصے پر سیاہ راکھ کے بادل چھائے ہوئے ہیں آتش فشانی کے لاوے نے شہریوں کی زندگی اور ان کی کاروبار کو تباہ کیا ہوا ہے گویا اس قدرتی آفت نے ان کے امن کو تباہ کرکے رکھدیا ہے ۔آج سے ایک صدی قبل دسمبر 1906ء میں ایک بہت بڑی قدرتی آفت نے مغربی دنیا کو ہلاکر رکھ دیا جس میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کا پُر رونق شہر سان فرانسسکو شدید تباہی سے دو چار ہوا ۔ایک بہت بڑے زلزلے سے سان اینڈ ریسفالٹ کے ساتھ سخت زمینی سطح (Earths crust) میں ایک بہت لمبی اور گہری کھائی بنادی ۔سان فرانسسکو میں ہزاروں بلند و بالا عمارتیں زمین بوس ہو گئی تھیںجس کے نتیجہ میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے یہ زلزلہ اس سال آنے والی واحد قد ر تی آفت نہیں تھی اس دوران تسلسل سے کئی زلزلے آئے جنکے نتیجے میں تائیوان ،سینٹ لوسیا کے کریبین جزائر اور ایکوارڈور تک کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے،بعد ازاں ایک اور زلزلے کے نتیجے میں 30فٹ بلند سونامی طوفان نے ایکوارڈر کے ساحلی علاقوں میں شدید تباہی پھیلائی ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے لاکھوں لوگ در بدر ہو گئے ۔ قدرتی آفات یہیں پر ختم نہیں ہوئیں ،ویسوئیس ( Vesuvius)،دنیا کا مشہور ترین آتش فشاں ہے،جب یہ اچانک پھٹ پڑا تو اس کے اطراف رہنے والے سینکڑوں بد نصیب اطالوی باشند ے اس کے گرم لاوے اور آگ سے بھسم ہو کر کوئلہ بن گئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض لوگ ان قدرتی آفات کو فقط ارضیاتی کشمکش کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔جبکہ وہ ان حواد ث کے درپردہ خداتعالیٰ کی ناراضگی ‘ کے نتیجہ میں قہرالہٰی غضب ناک عذاب کو نظر انداز کررہے ہیں۔

آزادکشمیر کے قیامت خیز زلزلہ( جو آٹھ اکتوبر 2005 ء میںآیا)نے بھی کو ہمالیہ کے خطے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا اس تباہ کن زلزلے نے کشمیر کی جنت نظیر خوبصورت وادیوں میں ہولنا ک تباہی پھیلائی جس کے نتیجے میں بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے ۔تقریباََ پوراآزاد کشمیر زلزلے کے بعد تباہی ‘ بربادی ‘ موتا موتی’ قبرستان کی شکل پیش کر رہاتھا۔

ہنزہ جھیل میں مسلسل پانی کا اضافہ گلگت کے علاقوں کی حسین خوبصورت جنت نظیر وادیوں کو دلدل کی شکل میںتبدیل کرکے ”نو فلائی زون” کا منظر پیش کر رہا ہے۔جبکہ ہنزہ جھیل کا زور آور پانی طوفان نوح کی شکل اختیار کر رہا ہے ۔وسیع پیمانے پر تباہی بربادی پھیلا رہا ہے ۔اور گلکت میں پانی کا عذاب بھی علاقائی رابطے منقطع ہوجانے سے نو فلائی زون ” میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ ہنزہ جھیل کے پھٹ جانے سے پانی کا طوفان گلگت کے علاقوں کی حدود پار کر کے پاکستان کے دیگر علاقوں میںیہ پانی کا طوفان تباہی بربادی ہلاکتوں کے سامان پیدا کر سکتا ہے ۔ پاکستان پر پہلے ہی دہشت گردی کی موجودگی میں قسم قسم کی معاشی اقتصادی بدحالی اور دیگر بجلی ‘پانی کی کمی جیسی بلائیں ‘ اور ہنزہ جھیل کے پانی کے عذاب کی دستک ہے۔ جبکہ قدرت کی قیامت خیز بعض آفات کے سامنے انسان کی سائنس ٹیکنالوجی بے بس نظر آتی ہے ۔

قائداعظم نے اپنی فلاحی جمہوری قومی ریاست ( نہ کہ مذہبی ریاست )کے جو سیکولر اصول متعین کئے تھے ۔آپ نے اپنی تقاریر میں بار بار قوم کے لفظ دہرائے ۔اورفرمایا کہ مذہب کا کاروبار مملکت سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف فرد کے ذاتی ایقان ایمان کا معاملہ ہے فرمایا ” آج تم آزاد ہو ۔اس مملکت میں تم مندروں میں آزادنہ جا سکتے ہو اور مساجد اور دوسری عبا د ت گاہوں میں جانے میں آزاد ہو ۔تمہارا مذہب تمہاری ذات ۔تمہارا عقیدہ کچھ بھی ہو ‘ کاروبار مملکت سے اُسکا کوئی تعلق نہیں۔۔۔( خطاب گیارہ اگست کراچی ) جبکہ قائداعظم کی وفات کے چندسال بعد مسلم لیگی جاگیرداروں کے ٹولہ اور مذہبی جماعتوں کے گٹھ جوڑ سے ‘ جمہوریہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کی ریاست بنا دیا ۔گویا مذہبی جماعتوں کی ریا ست اور سیاست میں اجارہ داری کا رستہ ہموار کردیا۔ آئین میں آرٹیکل 20 کی شق کی موجودگی میں ( کہ ہر شہری کے انسانی بنیادی حقو ق ضمیر عقیدہ کی آزادی یعنی مذہبی حقوق محفوظ ہیں ) مگر 1974 کے سال میں تاریخ کا ایک انوکھا واقع رونما ہوا ۔یعنی پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ احمدیوں کو آئین اور قانون کی اغراض کیلئے غیر مسلم قرار د ے دیا ۔جبکہ اس فیصلہ سے قبل جماعت احمدیہ نے اپنا جو موقف پیش کیا تھا کہ مذہبی معامالات پر یہ بحث کہ کون مسلمان ہے ۔یہ مذہبی ایمانیات میں دخل اندازی کے مترادف ہے ۔ آئین کی بنیادی روح ( آرٹیکل 20 ) یعنی بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے ۔اقوام متحدہ کے منشور ( جس پر ممکت پاکستان کے دستخط ہیں ) اور پاکستا ن کے دستو اسا سی کے بھی خلاف ہے ۔اور سب سے بڑھ کر قرآ ن کریم کی تعلیم اور ارشادات نبی ۖ کے بھی سراسر منافی ہے ۔ گویا اگر ایسا فیصلہ دیا گیا تو یہ ریاست اور سیاست میں مذہبی بنیاد پرست قوتوں کے عمل دخل کو یقینی بنانا ہے ۔اور یہ فیصلہ اور بہت سی خرابیوں اور فساد کی دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔گویا یہ فیصلہ قائداعظم کے سیکولر متعین کردہ اصولوں اور اسلام کی تعلیم سے صر یحاََ انحراف اور سرکشی کا نتیجہ ہے ۔ جنرل ضیاء الحق اور مذہبی قوتوں نے اس فیصلہ سے فائدہ اُٹھا کر آئین میں فرقہ وارانہ مزید ترامیم کیں اور انہیں آئین کا حصہ بنا دیا۔ آج ملک میں فرقہ واریت زوروں پر ہے ۔ مسلمان ‘ مسلمان کے ہاتھوں غیر محفوظ ہیں غیر مسلم شہری مذہبی بنیاد پرستی انتہا پسندی جہادی قو توں کی ظلم و تعدی قتل و غارت گری کا شکار ہیں۔ اختلاف مذہب ‘ اختلاف عقیدہ یا نسلی لسانی بنیادپر بالخصوص کراچی میں ایک دوسرے کی گردن ذدنی کا سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لیتا ۔ ملک میں ایک عرصہ سے کلمہ گو جماعت احمدیہ کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت احمدیہ کی مساجد پر مذہبی دہشت گردوں کے حالیہ حملوں نے جمعتہ المبارک کے دن تقریباََ سو نمازیوں کی ہلا کت اور ڈیڑھ سو نمازیوں کو زخمی کرکے پولیس کی موجودگی میں ہولی کھیلی گئی ہے۔ مذہبی انتہا پسند قوتوں نے شیعہ اقلیت کو بھی بالخصوص ضیاء الحق کے دور میں زیر عتاب لانا شروع کر دیا تھا ۔ ان کی ٹارکٹ کلنگ اور امام بارگاہوں کو بم دھماکوں سے اُڑانے کا سلسلہ جاری ہے جو رُکنے کا نام نہیں لیتا ہے ۔ گویا اسلام کی محبت اخوت رواداری کی تعلیم کو ملاں ازم نے مسلکی تنگ نظری میں تبدیل کردیاہے ۔ مسلمان ‘ مسلمان کی گردن زدنی کر رہاہے مسلم اور غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے ہی ملک میںکوئی جائے پناہ دکھائی نہیں دیتی ۔ تو ایسی جاری دہشت گر د ی پاکستان کی بیرون تجارت کے لئے ”نو فلائی زون” کی شکل اختیار کررہی ہے ۔ اگر یہ دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا’ تو انسانیت کے خلاف سفاکا نہ و حشیا نہ اقدا م حد سے بڑھ جائیں تو اس کی پاداش میں ۔ پھر قہر الہٰی کا نازل ہونا قوم پرمقدر ہے۔ اور یہی خدا تعالیٰ کی قدیم سُنت ہے ۔

شیخ عبدالمجید جرمنی کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

3 تبصرے

  1. khola says:

    aap ke mazameen per ker behad khoshi hoi k aap ki aalmana frasat ne hamain bohat se haqaiq se agah kia he or khoufe khuda main mubtla bhi kia he .bud kismati yahi he ab tuk dunia itne aazab daikhne k bad bhi is ko hadsati farist main shamil ker deti he masalsal qahre ilahi se bhi hosh k nakhun nai lie jarahe allah tala hum sub ko aqal ata fermae

  2. usama says:

    aap k mazmoon main qahr e ilahi ka zikar he is se sirf wahi ba shaoor log sabaq hasil ker sakte hen jin ko khof e khuda he baqi sub logo ne apni aankhon or kano per perde dal rakhe hen or zuban haqeeqat e hal bian kerne se qasir he

  3. zafar ul islam says:

    sheikh sahib aap k mazmoon perhne ki aadat ho gai he. in se kam se kam sochne ka moqa milta he or siah or safaid main ferq pta chalta he.maherbani ker k aap ye silsla jari rakhain or jald mazameen arsal kia karain

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1