پاک چین ”فرینڈشپ” جنگی مشقوں کا آغاز
راجہ آفتاب عالمThursday, July 1, 2010, 13:49
جمعرات کے روز مغربی چین میں پاکستان اور چین کی بارہ روزہ جنگی مشقوں کا آغاز ہو گیا۔ ان جنگی مشقوں کو ”فرینڈشپ 2010ئ” کا نام دیا گیا ہے۔ پاک چین فرینڈشپ 2010ء میں پاکستان اور چین کی افواج کی خصوصی دستے حصہ لے رہے ہیں۔ مشقوں کے دوران دونوں ممالک انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرسکیں گے۔ خاص طور پر افواج پاکستان نے سوات وزیرستان میں امریکہ کے مقبوضہ افغانستان سے ”را، سی آئی اے، موساداور رام” کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کیخلاف ریکارڈ مدت میں وہ تاریخی کامیابی حاصل کی جو افغانستان میں امریکہ نیٹو کی افواج دس سالوں میں بھی نہیں کرسکیں۔ ان مشقوںکامقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینا، خطے میں امن و استحکام کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی کیلئے صلاحیت بڑھانا ہے۔ ان مشقوں میں دونوں ممالک کی مسلح افواج کے خصوصی یونٹس کے 200سے زائداہلکارحصہ لیں گے۔ فرینڈشپ 2010ء کے کوڈ نام کی انسداد دہشت گردی تربیت کی یہ تیسری مشق ہے۔ مشقوں کا مقصد دونوں مسلح افواج کے ماہرین کے مابین تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ان کی دہشت گردی کیخلاف صلاحیتوں کو بڑھانا اور علاقائی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک کی پہلی مشترکہ فوجی مشق فرینڈشپ 2004ء میں چین کے علاقے سنکیانگ، دوسری فوجی مشق فرینڈشپ 2006ء ایبٹ آباد میں ہوئی تھی۔
چینی نائب وزیر اعظم ژیانگ ڈی جیانگ دورہ پاکستان کے موقع پر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور چین میں پانچ معاہدے ہو چکے ہیں، مزید ہر ممکن مدد کرتے رہیں گے۔ چین ہی پاکستان کا ایسا دوست ہے جو ہر شعبے میں اسے بنیادی مدد فراہم کررہا ہے۔ تعمیر و ترقی کے زیادہ تر منصوبے چین کی اعانت ہی سے چل رہے ہیں۔ ایٹمی فیلڈ سے لے کر صنعت و تجارت کے ہر شعبے میں چین پاکستان کے دوش بدوش کھڑا ہے جبکہ امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان امریکہ ڈومور کے تقاضوں کے آگے بچھا ہوا ہے اور دینے کے معاملے میں امریکہ خالی ہاتھ ہماری طرف بڑھاتا ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ چین کا فرنٹ لائن اتحادی بنے کیونکہ سٹریٹجک سطح پر چین نے ہمیشہ پاکستان سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ طیارہ سازی کی صنعت میں چین نے پاکستان کو اس قابل بنا دیا ہے کہ آج وطن عزیز میں تھنڈر اور ایف چھ طیارے بنائے جارہے ہیں۔ ایٹمی شعبے اور زراعت کے میدان میں بھی دونوں دوست ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ اس وقت خطے میں امریکہ اسرائیل اور بھارت کی مثلث روبہ عمل ہے اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں نقصانات ہو رہے ہیں بلکہ عملاً یہ کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان کو بیمار ریاست بنا دیا جائے۔چشمہ نیو کلیئر پلانٹ کے لئے کریڈٹ کی سہولت بھی فراہم کی ہے جو کہ ایک قابل ستائش قدم ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان کو اب امریکہ کے دائرہ اثر سے نکل کر چین کی طرف مزید متوبہ ہوجانا چاہئے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عوامی جمہوریہ چین ہمارا اچھا ہمسایہ ہی نہیں، ہمارا قابل اعتماد دوست بھی ہے جو آزمائش کے ہر مرحلہ میں دوستی کے معیار پر پورا بھی اترا ہے اور اس نے پاکستان کے لئے جو کہا وہ کرکے بھی دکھایا۔ پاک چین دوستی کے ہمالیہ سے بلند ہونے اور شہد سے میٹھے ہونے کی مثالیں دی جاتی ہیں تو وہ غلط ہر گز نہیں۔ اس کی دوستی بے لوث بھی ہے اور ٹھوس و پائیدار بھی مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے اپنی مصلحتوں اور مجبوری کے تحت امریکہ کی جانب جھکائو کے باعث پاک پاک چین دوستی کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے اور اپنے ازلی مکار دشمن بھارت کی بدنیتی کے خلاف چین سے دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون حاصل کرنے کے لئے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا حالانکہ چین ہی وہ ملک ہے جو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور علاقائی امن و سلامتی کیخلاف اس کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے اور بھارت چین کے علاقے ارونا چل پردیش پر کشمیر کی طرح غاصبانہ قبضہ جمانے کی کوشش میں اس کے ہاتھوں منہ کی کھا بھی چکا ہے۔ اس تناظر میں تو بھارتی جارحانہ عزائم کا مقابلہ اور توڑ کرنے کے لئے ہمیں چین کے تعاون پر مکمل انحصار کرنا چاہئے جبکہ چین ہمیشہ ہمارے لئے اپنی باہیں کھلی رکھتا ہے اور سول ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت جدید ہتھیاروں اور دفاعی تعاون کے لئے مخلصانہ پیشکش کرتے ہوئے چین نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ پاک فضائیہ کے فلیٹ میں جدید تھنڈر جہازوں کی موجودگی دفاعی شعبہ میں چین کے ہمارے ساتھ مخلصانہ تعاون کا بین ثبوت ہے۔ پھر نہ جانے کیوں ہمارے حکمران سول ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لئے امریکہ کی جانب سے دھتکارے جانے کے باوجود اسی کا دامن تھامے رکھنے کی مجبوری میں جکڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ہمارے روایتی دشمن بھارت کے مقابلہ میں نہ صرف ہمارے ساتھ کسی دفاعی تعاون کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دے کر اسے ہر قسم کی ایٹمی ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیار فراہم کررہا ہے جس کے لئے اب تک امریکہ بھارت 130 کے قریب معاہدے ہو چکے ہیں اور دو ماہ قبل ہماری سرحدوں سے ملحقہ علاقوں میں امریکہ اور بھارت کی مشترکہ جنگی مشقیں بھی ہو چکی ہیں جو اس خطہ میں ہونے والی سب سے بڑی جنگی مشقیں تھیں۔
چین کو بھی یقیناً احساس ہے کہ امریکہ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی دوستی اور ایک دوسرے کے تعاون سے جنگی جنونیت کا فروغ اس خطہ میں امن و سلامتی کے لئے مزید خطرے کا باعث بن سکتا ہے جو عالمی ایٹمی جنگ پر بھی منتج ہوسکتا ہے۔ اس لئے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں اور استعداد کا توڑ کرنا ضروری ہے جو پاکستان چین دفاعی تعاون کو فروغ دے کر ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال میں چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کے مضبوط بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو یہ صرف ہماری سلامتی کے لئے ہی نہیں علاقائی امن و سلامتی کے لئے بھی مددگار ہوگا جس کی امریکہ کو اپنے مفادات کی جنگ اپنے ملک میں واپس لے جانے پر مجبور کرنے کے لئے بھی اشد ضرورت ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اور چین کے مابین طے پانے والے دفاعی تعاون کے سمجھوتے کو وقت کی ضرورت سمجھ کر مزید آگے بڑھانا چاہئے۔ پاکستان چین دفاعی تعاون کا سمجھوتہ بروقت بھی ہے اور بہترین حکمت عملی بھی ہے۔ اس تعاون کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اسے ہمہ جہت بنا کر پاک چین دوستی کی گرہیں مزید مضبوط بنا لی جائیں۔ فرنٹ لائن اتحادی کے بھیس میں امریکہ ہمارا بھارت جیسا ہی مکار دشمن ہے جو ہنود و یہود و نصاری کے مسلم کش ایجنڈے کے تحت ہماری سلامتی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے درپے ہے۔
راجہ آفتاب عالم کے تازہ ترین مضامین
- متاثرین سیلاب اور ایمان، اتحاد ،تنظیم کی ضرورت - August 21st, 2010
- وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر پر جوتا حملہ - August 15th, 2010
- حامد کرزئی کی ہرزہ سرائی اور ''را'' کی دہشت گردی - July 30th, 2010
- کشمیریوں کا حق رائے شماری مسئلہ کشمیر کا حل - June 14th, 2010
- جرمنی کی پاکستان دوست متبادل توانائی پالیسی - April 23rd, 2010
پرنٹ کریں


