هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

پاکستان میں جمہوری ثقافت کے قیام کی جدوجہد

ثنا سلیم

Saturday, July 3, 2010, 17:12

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے واقعات صحیح معنوں میں آنکھیں کھولنے والے ہیں۔ فیس بک پر پابندی لگانے کا واقعہ ہو یا لاہور میں احمدیوں کا قتل، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے اس طرح کے واقعات پر ردعمل نے مجھے نارواداری کو سمجھنے کے بارے میں بہت کچھ سکھایا ہے۔

جب میں نے فیس بک کے تنازعہ کے بارے میں لکھا جس میں حکومتِ پاکستان نے فیس بک تک رسائی حاصل کرنے پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ کی اس سایٹ پر ایک گروپ نے حضرت محمد ۖ کے خاکے بنانے پر اکسایا تھا، تو مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کا کیا اثر ہوگا۔ درحقیقت میں نے پابندی سے پہلے کی نارواداری کے بارے میں لکھا تھا اور پابندی عائد کیے جانے کے بعد انٹرنیٹ سنسرشِپ کے حوالے سے بھی میں نے کافی سخت مقف اپنایا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اس مقف کی بنا پر مجھے “توہینِ رسالت کا مرتکب”، “آزاد خیال معذرت خواہ” اور ، میرا پسندیدہ خطاب، ” (ہیڈ سکارف پہنے ہوئے) سی آئی اے، را، موساد کی ایجنٹ” قرار دے دیا جائے گا۔

اس سے بھی زیادہ بری یہ بات تھی کہ جن لوگوں کے ساتھ میں عام طور پر آن لائن رابطے میں رہتی ہوں، وہ بھی اس بینڈ ویگن میں سوار ہوگئے اور میرے عقیدے کے بارے میں سوال کرنے لگے۔ صورتحال ایک ایسے نقطے پر آگئی جہاں سنسر شِپ کے خلاف مقف اپنانے کو نبی ۖ کے خلاف ہونے کے مترادف قرار دیا جانے لگا۔

ایک سے زیادہ مرتبہ مجھ سے یہ وضاحت کرنے کو کہا گیا کہ میں ” نبی ۖ کے ساتھ ہوں یا فیس بک کے”۔ اس طرح کے رد عمل اس انتہاپسند نظریے کی عکاسی کرتے ہیں جو بعض پاکستانیوں کے اندر برسوں سے پک رہا ہے، جو ایک ایسا نظریہ ہے جو ویسے تو دبا رہتا ہے لیکن ذرا سا مسئلہ بھی کھڑا ہو تو یکدم ابل پڑتا ہے۔

احمدیوں کی اموات کے بعد جو رد عمل سامنے آئے جن میں سے بہت سے انکار کی صورت میں تھے، وہ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والے تھے۔ اس حقیقت کو جھٹلانا کہ اس واقعے میں بدسلوکی کا شکار ایک اقلیتی طبقے کو نشانہ بنایا گیا تھا صرف یہ نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں نارواداری کی موجودگی کو تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتے۔

اب سے کئی سال پہلے ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت پر بات چل رہی تھی جہاں لوگ بالخصوص نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ گفت وشنید کریں اور پاکستان کی تاریخ، اس کی متنوع ثقافتوں اور مذاہب کے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ حاصل کر سکیں۔ کئی برسوں کے دوران ہم نے ایسی بہت سی اصلاح پسند تحریکیں دیکھی ہیں جو یا تو سیاسی طور پر ہائی جیک ہوگئیں یا پھر اپنی موت آپ مر گئیں۔

اگرچہ اصلاح پسند تحریکوں کی اس تاریخ کی بنا پر میں ذرا مایوس تھی لیکن پھر بھی میں نے پاکستان میں انتہاپسند نظریات کی روک تھام اور ملک بھر میں جمہوری ثقافت کو فروغ دینے کے ارادے سے شروع ہونے والی سماجی تحریک “خودی” کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

اس تحریک کے روحِ رواں ماجِد نواز ہیں جو پہلے حزب التحریر کے رکن تھے جو ایک ایسا گروپ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک واحد خلافت پر متحد کرنے کے مقصد سے سرگرمِ عمل ہے۔ اس گروپ کے نظریات اگرچہ انتہا پسندانہ ہیں لیکن بہرحال یہ کوئی دہشت گرد گروپ نہیں ہے۔

لیکن جو چیز ‘خودی’ کو زیادہ پسندیدہ بناتی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ نواز کی کوششوں کی بنیاد ان کے انتہاپسندی کے دور کے تجربات پر ہے۔

یہ ایک نو عمر لڑکے کا ایسا سفر تھا جو اسے اصلاح پسندی کی طرف لے گیا۔ انہوں نے برطانیہ میں نسل پرستی کا سامنا کیا جہاں وہ پلے بڑھے تھے اور پھر حزب التحریر میں شمولیت اختیار کی اور اس کے پیغام کی تشہیر کی۔ لیکن اس کے نتیجے میں آخرِ کار مصر میں انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑی جہاں اس تنظیم پر پابندی عائد ہے۔

جیل میں نواز نے اسلام کا گہری نظر کے ساتھ مطالعہ شروع کیا اور انہیں احساس ہوا کہ وہ دوسروں کو پرے ہٹانے کے جس پیغام کی ترویج کر رہے تھے وہ کتنا غلط تھا۔ نواز کے اپنے تجربات نے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی ان کی خواہش کو زیادہ قابلِ عمل بنا دیا ہے: اگر یہ شخص جو اس طرح کے مصائب سے بچ نکلا ہے، اب انتہا پسندی کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونے کے لئے تیار ہے تو پھر دوسرے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں جو عناصر نارواداری اور نفرت آمیز تقریروں پر اکساتے ہیں وہ خود کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر منظرِ عام پر نہیں آنے پاتے۔ ان عناصر کی نشاندہی بہت ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ‘خودی’ جیسی سماجی تحریکیں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

نواز کی “خودی” تحریک پاکستان میں جمہوری ثقافت کو فروغ دینے کا عزم کیے ہوئے ہے اور یہ انتہا پسندی کے زہر کا تریاق ثابت ہو سکتی ہے۔ امید ہے کہ ایسی مزید تحریکیں بھی وجود میں آئیں گی جو پاکستان میں انتہا پسند نظریات کا سدباب کریں گی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں جمہوری ثقافت کو، ایک ایسی ثقافت کو جس میں فرد کے حقوق اور متنوع آر کا احترام کیا جاتا ہو، فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ آخر جمہوریت سیاسی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق تک ہی تو محدود نہیں ہے؛ اس کا تعلق رواداری اور بقائے باہمی سے بھی ہے؛ اس کا تعلق اپنی نامور شخصیات کو یاد رکھنے سے بھی ہے؛ اس کا تعلق مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے لئے کھڑے ہونے سے بھی ہے، چاہے ان کا عقیدہ کچھ بھی ہو؛ اور اس کا تعلق انسان دوست ہونے سے بھی ہے۔

نواز کا کہنا ہے ” جمہوریت کو ہمیشہ انسانی حقوق کا قیدی رہنا چاہیے۔ جمہوری ثقافت کا مطلب ہی انسانی حقوق، آزادیِ تقریر اور انفرادی انتخاب کے حق کا احترام کرنا ہے۔”

ثنا سلیم کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں
ثنا سلیم "بی میگزین" کی فیچر ایڈیٹر ہیں اور گلوبل وائسز، پرو پاکستان اور اپنے ذاتی بلاگ "مِسٹِفائیڈ جسٹس" پر بلاگنگ کرتی ہیں۔

1 تبصرہ

  1. [...] } Special Thanks to alqamar.info for republishing my piece and translating it in [...]

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1