هذا الخيار سيقوم بإعادة تعيين الصفحة الرئيسية لهذا الموقع.

إعادة

جعلی ڈگری ہولڈر، میڈیا مذمت؟

شیخ عبدالمجید جرمنی

Tuesday, July 20, 2010, 15:26

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

ہر درد مند دل سوچنے پر مجبور ہے کہ اکیسوی صدی میں ہمار ا معاشرہ اخلاقیات سے تہی دامن کیوں ہے؟ ۔ ایک تو جو چیز ظاہر باہر ہے کہ ہمارے ہاں چونکہ تھاٹ پرو سیس ( thought process ) اور نئی فکر کے ارتقاء کا مستقل بحران ہے ۔ اور یہ بھی ہے کہ ہم نے دین کے ظاہر ی پہلو یعنی عقائد پر اور اس کے اختلاف پرزور دے رہے ہیں ۔ دین کی اصل حقیقت تقوی ‘ اخلاقی پاکیزگی خدا خوفی سے کسی قدر نظریںپھیریں ہوئی ہیں۔ ہماری نصابی کتب میں جہادی مواد کے مطالعہ سے ا یسا معلوم ہوتا ہے ہمار ے آبائو اجداد کی اخلاقی اور روحانی قوتوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے ۔اس کی جگہ ہمارے آبائو اجداد کے ہاتھ میں بس تلوار لہراتی نظر آتی ہیں۔۔

عوام کا ایک بڑا طبقہ غربت ‘ جہالت ‘ کم علمی ‘ کم مائیگی پسما ند گی محرومی کا شکار ہے ۔ مذہبی مافیا نے احساس محرومی کو جہادی بیساکھیوں کا سہارا دیا ہوا ہے ۔ ان کو جنت کے شارٹ کٹ رستہ یعنی جہادی دہشت گردی کے لئے تیار کیاجارہا ہے ۔ جبکہ عوام کی جہالت کم علمی کو علم کی روشنی مہیا کرنا حکومت کا اولین فرض ہے ۔ ماضی میں علم ‘عقل ‘ ہنر ‘ سائنس’ اقتصادی ترقی یعنی تعلیم کی جنگ لڑنے کی بجائے جنرل ضیاء الحق اور مذہبی جماعتوں سے مل کر قوم کو جہاد افغانستان کا درس دیا ۔آج بھی مسلکی مدرسوں میں دینی تعلیم میں نام نہاد جہاد پر زور دیا جارہا ہے۔ جو تعلیم دی جاتی یہ تعلیم اخلاقی تہذیبی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے کیونکہ آئے دن ہمارے مذہبی راہنما اپنے مدارس کی افرادی قوتوں کو مختلف قسم کے احتجاجوں کے ذریعہ قانون شکنی کو روا رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ اسلام نے زمین پر فساد برپا کرنے کی سخت مذمت کی ہے ۔تعلیم یافتہ مہذب معاشرے قانون کی پاسداری کرتے ہیں ،قانون کی پامالی صرف جاہل معاشروں میں ہی ہوتی ہے ۔نہایت قلیل ،ادھوری ،غیر میعاری ،اور لولی لنگڑی تعلیم سے معاشرہ کو کیا فیض مل سکتا ہے ۔ہم اپنی اور دنیا کی نظروں میں عزت صرف تعلیم یافتہ بن کر ہی حاصل کر سکتے ہیں،ہمارے تمام روحانی ،نفسیاتی ،سماجی اور سیاسی مسائل کا علاج صرف اور صرف تعلیم میں مضمر ہے ،ہمیں تعلیم سے زیادہ عزیز کوئی شعبہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہماری عز ت ،زندگی اور سلامتی تعلیم سے وابستہ ہے ۔تعلیم ہو گی تو ہم ترقی کریں گے،ترقی ہوگی تو دولت میں اضافہ ہو گا ملک میں سچی خوشحالی آئیگی ۔

قوم کے راہنمائوں ( قوم کو رستہ دکھانے والے) قومی ”و صوبائی اراکین اسمبلی اورکچھ سینٹ کے ممبران نے بھی جعلی ڈگریوں پر تکیہ کیا ہوا ہے ۔جعلی ڈگری ہولڈر کو احساس ندامت کی بجائے۔ جمشید دستی کی طرح دوسرے جعلی ڈگری یا فتہ ضمنی انتخاب کے ذریعہ رقص اقتدار کے متمنی ہیں۔اخلاقی زوال کا اس سے اور کوئی روشن پہلو ہوسکتا ہے کہ ملک کے آئین قانون کے ضابطہ کے سایہ میں ملک کا صدر جعلی ڈگری کی حمایت میں قائداعظم کو بھی نا ن گریجو ایٹ ثابت کرکے جعلی ڈگری یافتہ اراکین پارلیمنٹ ‘ جعلسازوں کو داد تحسین پیش کر رہا ہے ۔ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کھلے عام ملک میں تعلیم کا جنازہ نکال رہے ہیں کہ ڈگری ‘ ڈگری ہوتی ہے کہ جعلی ہو یا اصلی ۔ یہاں کرپشن میں ملوث جعلی ڈگری یافتہ اراکین اسمبلی میں سے کوئی بھی ضمیر کی آواز سُننے کیلئے تیار نہیں۔ کب تک ضمیر کی آواز اور سچ کے خلق کو پامال کیا جاتا رہے گا ۔ ۔

ا غلباََ سچ بولنے کے بعد قول کا پاس ہے ۔ الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی ڈگری اور اثاثوں کی ڈیکلریش پیش کیا تھا۔ ان کا وہ قول نادرست ثابت ہو رہاہے ۔ ایسے اراکین اسمبلی نے جو اپنی قدرو منزلت اپنی ناجائز جائز دولت کے ذریعہ بنائی ہے ۔اور اقتدار کے ذریعہ جو ان کی قدرومنزلت میں بڑھاوا انہیں ملا ہے مگر ان کی ڈگری کی جعل سازی کا پول کھل جانے سے اور میڈیا کی تنقید اور میڈیا کی طر ف سے آئینہ دکھانے کے بعد اراکین اسمبلی نہ اپنی ضمیر کی آواز سُنے کے لئے تیارہیں اور نہ اصلاح کے لئے تیار ہیں۔بلکہ ایسے اراکین اسمبلی، سب نے مل کر پنجاب اسمبلی میں قرارداد کا سہارا لیا ہے کہ میڈیا پر قدغن لگائی جائے کہ میڈیا جعلسازوں پر تنقید کرنے والا کون ہوتا ہے ۔؟ جبکہ ہمارے صدر مملکت کا کردار اور ان کی قومی قدرو منزلت بھی کرپشن کی زد میں ہے ۔ اور اراکین اسمبلی پر عوام بھی برہم ہیں کہ ان سے کئے گئے وعد ے اب تک ایفاء نہیں ہوئے۔ گویا عوام سے ان کے قول وقرار وعدے سب جھوٹ ثابت ہوئے ۔ بلکہ ان کی پیش کردہ تعلیمی ڈگریاں بھی ان کی طرح جعلی ثابت ہوئیں ۔

حسن نثار کالم نگار فرماتے ہیں”کب تک زہریلی سچائی اور تلخ حقائق سے فرار ۔۔ اس معاشرہ میں صرف” ایک ویلیو ”باقی رہ گئی ہے اور وہ ہے ” نیو سینس ولیو” زوال آئے تو پورے کمال سے آئے ۔” جبکہ سیاستدان و مذہبی عناصر دونوں ملک کی تباہی کے درپہ ہیں ۔ قومی دولت کو لوٹنے والے جعلی ڈگری یا کرپشن میں ملوث عنا صر کے خلاف جو میڈیا مہم چلی ہوئی ہے سپریم کورٹ نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ جعلی ڈگری ہولڈ یافتہ کے خلاف ضابطہ کی قانونی کاروا ئی کی جا ئے ۔ مگر ہماری اصلی سیاسی جمہوری کمائی یہ ہے کہ بہت سی ڈگریاں جعلی ثابت ہو جانے کے باوجود معاملات کو التوا میں ڈالنے کیلئے وزیر اعظم سمیت 200 ڈگریاں تصد یق کے لئے مختلف اندرونی و بیرو نی ممالک کی یونیورسٹیوں کے پاس تصدیق کے لئے بھیجی جا رہی ہیں ۔ اور اندرون خانہ آئینی ترامیم لانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح ان کی جعلسازی کو صدر کے صوابیدی حق کے استعمال سے اسے قانونی لبادہ پہنا دیا جائے تاکہ جعلی ڈگری ‘ ڈگری ثابت ہوسکے ۔ جبکہ جعلی ڈگری یافتہ یا کرپشن ذدہ اراکین نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعہ یہ مطالبہ پیش کیا ہے کہ میڈیا کی حق آزادی رائے پر قدغن لگا کر ہماری میڈیا کردارکشی کو روکا جائے ۔ بعض دانشور اور خود اراکین اسمبلی کا ایک حصہ ان کے غیر جمہوری غیر پارلیمانی رویے کا سنجیدہ نوٹس لے رہے ہیں۔اور ایسے اراکین اسمبلی اورسیاستدانوں کی اصلی جمہوری حکومت کی قومی اخلاقیات کا میڈیا پر مرثیہ پڑ ھا جا رہا ہے ۔ اخلاقی زوال کا اس زیادہ کونسا روشن پہلو ہے جو قوم کے دیکھنے کے لئے رہ گیا ہے ۔

شیخ عبدالمجید جرمنی کے تازہ ترین مضامین

اپنے دوستوں سے شئیر کیجئے :
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • FriendFeed
  • Live
  • Twitter
  • RSS
  • MSN Reporter
  • MyShare
  • MySpace
  • Add to favorites
  • email
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz
پرنٹ کریں پرنٹ کریں

1 تبصرہ

  1. وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا تھا کہ جعلی ڈگری ملک توڑنے اور کارگل جنگ کی پسپائی سے بڑا جرم نہیں ہے۔ یہ کہ کر انہوں نے تعلیم کی افادیت کا مذاق اڑایا ہے۔ ان کی یہ بات غلط ہے اور جعلی ڈگری سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر جعلی ڈگری بڑا جرم نہ ہوتی تو شریف خاندان کے بچے سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں نہ پڑھ رہے ہوتے بلکہ گھر بیٹھے ڈگریاں اکٹھی کر رہے ہوتے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ شریف خاندان کے ڈگری یافتہ افراد کاروبار کے اہم ادارے سنبھالے ہوئے تھے اور جو میڑک فیل ہوتا تھا وہ فیکڑی میں آوارہ گردی کر رہا ہوتا تھا۔

    جعلی ڈگری سے بھی بڑا جرم جھوٹ مکر اور فریب ہے یعنی اسمبلی ارکان نے جس طرح دھوکے، فراڈ اور بے ایمانی سے جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پر اسمبلیوں کی رکنیت حاصل کی وہ بہت بڑا جرم ہے۔ اگر یہ جرم یورپ میں سرزد ہوتا یا نبی پاک صلعم کے دور میں ہوا ہوتا تو مجرم کو ایسی عبرت ناک سزا ملتی کہ دنیا اس کی مثال دیا کرتی۔

    اگر ملک توڑنے والے یحی خان اور کارگل جنگ میں پسپائی اختیار کرنے والے جنرل مشرف ڈگری یافتہ ہوتے تو نہ یہ مسائل پیدا ہوتے اور نہ ملک ٹوٹتا اور کارگل جنگ میں شکست ہوتی۔ ڈگری کی اہمیت کا اندازہ آپ انڈیا کے وزیراعظم اور ہمارے صدر کا موازنہ کر کے لگا سکتے ہیں۔ انڈیا امریکہ کا ایٹمی معاہدہ ہونے میں سال لگ گیا مگر ہمیں کیری لوگر بل کی شرائط تسلیم کرنے میں ایک ماہ بھی نہ لگا۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم آدمی کو شعور عطا کرتی ہے، اچھے برے کی تمیز شکھاتی ہے اور آدمی کو اپنے نفع نقصان پر غور و فکر کی ترغیب دیتی ہے۔ اب اگر آپ نوجوانوں کو ہی جعلی ڈگری کی اہمیت جتلانا شروع کر دیں گے تو کیا وہ خاک تعلیم کی طرف توجہ دیں گے۔

    جعلی ڈگریوں والے ممران پارلیمنٹ کو گنجا کرکے اور جعلی ڈگری ہاتھ میں دیکر بمعہ انتخابی نشان کے کھوتے پر بٹھایاجائے اور بازار میں پھرایا جائے ہر بندے کو درخواست کی جائے کہ وہ اسے دو جوتے مارے، تین دن کے بعد انکو گھر میں نظر بندکردیا جائے اور یہ کہ یہ لوگ ایک برس کےلئے محلے کی نالیاں صاف کیا کریں، ساری زندگی کےلئے ان پر سرکاری، نیم سرکاری ملازمت بند، کاروبار کی اجازت نہیں، پاسپورٹ ضبط اور بیرون ملک سفر پر پابندی۔ سیاست سے ہمیشہ کےلئے بلیک لسٹ، بلکل جس طرح چائنا میں جعل سازی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے کچھ لوگ ٹی وی پر نیہایت بے شرمانا انداز میں کہتے ہیں کہ وہ قانون ہی کالا تھا اور میں اس کو نہیں مانتا، میاں نا ں مانو مگر جھوٹ بولنے والوں اور جعل سازوں کو ہم اپنا رہنما کیسے مان لیں۔؟؟؟؟ مگر پارٹیاں ہیں کہ پھر انہیں لوگوں کو ٹکٹ دے رہی ہیں بلکہ انکو مشیران خاص بھی مقرر کیا جارہا ہے۔ کہ میاں کوئی بات نیہیں ڈگری جعلی ہے تو کیا ہوا حکومت کے مزے تو لوٹو، پنجابی کا محاورہ بے شرماں دے ٹہوے تے اک جمیاں، تے کہن لگے کہ کیی ہویا یاراں نے تے چھاویں ہی بہنا ہے، یعنی بے شرموں کی پیٹھ پر آک اگا تو کہنے لگے کہ کیا ہوا یاورو کو تو سائے میں ہی بیٹھنا ہے، در فٹے منہہ ہت تیری کسے کتا رکھن والے دی

اس تحریر پر آپ اپنی قیمتی رائے بھیجنے کے لئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہمیں مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ، تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمارے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔



Google Analytics integration offered by Wordpress Google Analytics Plugin
UA-2099718-1