آئی ٹی اور سیاست

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پہلا الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پیش کرنے والے معروف آئی ٹی انجینئر اور این اے 48 اسلام آباد سے نامزد آزاد امیدوار آصف نواز سے انٹرویو:

سوال- سب سے پہلے یہ بتائیے کہ آئی ٹی کی دنیا میں رہنے والے شخص کو اچانک سیاست کی دنیا میں آنے کی کیسے سوجھی؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آپکا درست فیصلہ ہے؟

جواب- جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پہلا الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پیش کیا جسے کہ میں اپنے نظام کے مطابق حتمی تصور کرتا ہوں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسے بہت سراہا مگر ساتھ میں اس سسٹم کو لاگو کرنے میں درپیش چیلنجز بھی بتائے۔ جن میں سے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کہ کیا عوام اس الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کہ قبول کرے گی یا نہیں؟ میں نے اپنے پیش کردہ ووٹنگ کے نظام پر عوام کے ردِعمل کو جانچنے کے لئےاسلام آباد میں اس نظام کی تشہیر کی اور عوام سے اس نظام پر رائے مانگی۔ جس پر ہزاروں لوگوں نے مجھے اپنا فیڈبیک دیا جو کہ 99 فیصد مثبت تھا اور بہت ساروں نے مجھے عملی طور پر خود سیاست میں آنے کا مشورہ دیا۔ جس کے نتیجے میں، میں آج سیاست میں ہوں۔ اور گو کہ میرا اور ہماری ملکی سیاست کا مزاج بہت مختلف ہے مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب چیزوں اور رویوں کو تبدیل ہونا چاہیئے اور پریکٹیکل لوگوں کو سیاست میں آنا چاہیئے۔ اس لئے میرے خیال میں میرا فیصلہ درست ہے۔

سوال- آپ ظاہر ہے اب این اے 48 سے نامزد ہو چکے ہیں مگر آپ کے علاوہ اور بہت ساری سیاسی پارٹیوں کے اور آزاد امیدوار بھی نامزد ہوئے ہیں ان کے ساتھ آپکا مقابلہ ہے۔ آپ کیا جواز پیش کرتے ہیں کے عوام آپ ہی کو کیں منتخب کریں؟

جواب- دیکھیئے ایک پارلیمانی رکن کے دو بنیادی فرائض ہیں جن کی بنیاد پر اسے پرکھا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ملکی منصوبہ بندی اور عوام کی فلاح کے لئے قانون سازی میں وہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ جس عوام نے اسے منتخب کیا ہے اسے وہ کیا اور کیسے ڈیلیور کرتا ہے؟ میرے یہ خواہش بھی ہے اور علان بھی کہ این اے 48 کے تمام امیدواران کو میڈیا پر عوام کے سامنے بٹھایا جائے اور ان دونوں فرائض کی ادائگی کے حوالے سے بحث کرائی جائے۔ اگر کوئی دوسرا امیدوار یہ ثابت کر دے کے ان دونوں حوالوں سے یا کسے ایک حوالے سے بھی مجھ سے بہتر پرفارمنس دے سکتا ہے تو میں خود اس کے حق میں بیٹھ جائوں گا۔ میں اپنی تعلیم، تجربے، تحقیقات، صلاحیت اور سب سے بڑی بات کہ نیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ سمجھتا اور دعوی کرتا ہوں کہ میں باقی تمام امیدواران سے بہتر ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہوں۔

سوال- آپ نے کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت کی بجائے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ کیوں لیا؟ آپ کچھ عرصہ بطور سیاسی کارکن کے کام کرنے کے، کسی سیاسی پارٹی کی نمائندگی بھی تو کر سکتے تھے-

جواب- اس کی کچھ وجوہات ہیں، ایک تو یہ میں میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے موئقف سے 100 فیصد متفق نہیں ہوں۔ ہر جگہ مجھے غیر ضروری روایتیں اور مفاد پرستیاں نظر آتی ہیں- آیک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اگر میں کسی پارٹی کے ٹکٹ پر جیت حی جائوں اور وہ پارٹی اقتدار میں نہ آ سکے تو اس میں ان لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہے گا جنہوں نے مھے ووٹ دے کر کامیاب کرایا۔ کیو کہ حکومتوں کا اپنی پارٹی سے جیتنے والے پارلیمانی ارکان کے ساتھ سلوک نسبتاّ بہتر ہوتا ہے۔

سوال- ملکی نظام کی کوئی سی ایک بڑی خامی بتائیے اور اس کا حل آپکی نظر میں کیا ہے؟

جواب- ویسے تو ایک لمبی فہرست ہے مگر ایک بہت بڑا مسئلہ وزارتوں کے نظام میں NON PROFESSIONALIZM ہے- بہترین صورت یہ ہے کہ متعلقہ شعبے میں تعلیم یافتہ پارلیمانی رکن کو متعلقہ وزارت دی جائے۔ مثلاّ صحت کی وزارت کسی ایسے پارلیمانی رکن کو دینی چاہئے جس کی تعلیم اور تجربہ شعبہ صحت کا ہو۔

سوال- آپ ایک معروف شاعر بھی ہیں اور موسیقی سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ یہ امراض آپ کو کب سے لاحق ہیں؟

جواب- یہ امراض مجھے پیدائشی طور پر تھے- نسبتاّ ایک حساس انسان ہوں- شاعری اور موسیقی سے اپنے اندر کے تخلیقی انسان کو طقویت اور تسکین فراہم کرتا ہوں۔

سوال- اپنا کوئی کلام سنائیے-

جواب- دو اشعار
فصیلِ قلب پر ہے نقش اک مُکھڑا، نہیں جاتا
جُڑا ہوں اس قدر اک شام سے، اُکھڑا نہیں جاتا
بہت چیخی، سمندر کو اچھالا، زلزلے پیٹے
زمیں کے قلب سے یہ کونسا دُکھڑا نہیں جاتا؟

ایک آزاد نظم عنوان: ہمیں آغاز کرنا ہے

ہمیں آغاز کرنا ہے
وطن کو زہر کے موسم سے ہم نے پاک کرنا ہے
برے ماحول کی دہلیز سے باہر نکلنا ہے
ہماری آستینوں میں جو چھپ کر سانپ بیٹھے ہیں،
سبھی کے سر کچلنے ہیں

جو ان کی آنکھ سے آنسو بہے تو قیمتی ٹھہرا
ہماری قوم کا لیکن لہو بھی کتنا سستا ہے؟
لہو بھی اتنا سستا ہے کہ روٹی اس سے مہنگی ہے
ہمیں مہنگائی اور افلاس کے جادو سے لڑنا ہے
ہمیں آغاز کرنا ہے

ہمیں ناخواندہ افراد کو تعلیم دینی ہے
ہمیں بچوں کی دنیا سے مشقت کو مٹانا ہے کہ ان تتلی نماں معصوم پھولوں نے ابھی تہذیب کے موسم میں کھلنا ہے- جھلستی نگری کو پھر سے ہمیں گلشن بنانا ہے
وہاں سے ایڈ کی صورت یہاں جو ایڈز آئی ہے اسے واپس بھگانا ہے
وطن کو زہر کے موسم سے ہم نے پاک کرنا ہے
[ہمیں] آغاز کرنا ہے
ہمیں [آغاز] کرنا ہے

سوال- آپ کا منشور کیا ہے؟

جواب- میرا منشور درجِ ذیل 13 نقاط پر مشتمل ہے:

1۔ ایسا قانون منظور کرانا جس کے مطابق ترقیاتی فنڈز پارلیمانی ارکان کی بجائے ترقیاتی اداروں کو دئے جائیں اور ان کا باقاعدہ آڈٹ اور احتساب ہو۔

2- میں اس قانون کے منظور ہونے تک خود کو ایک مثال کے طور پر پیش کروں گا۔ اس امر کے لئے میں پارلیمانی رکن منتخب ہونے کے بعد ایک ویب سائیٹ بنائوں گا جس پر مجھے ملنے والے تمام ترقیاتی فنڈز کی تفصیل پیش کروں گا اور ان کا استعمال کس کس جگہ پر ہوا اور کیوں ہوا؟ کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر کس کس کمپنی نے quotations پیش کیں اور کیا قیمتیں پیش کی؟ کس کمپنی کو Contract دیا گیا اور کیوں؟ تمام تفصیل ویب سائیٹ پر پیش کروں گا تا کہ عوام خود میرا احتساب کر سکیں۔

3- میرے حلقہ کے تمام افراد کے پاس میرا زاتی موبائل نمبر ہو گا۔ تا کہ میں پورے حلقہ کے تمام علاقوں کے مسائل سے بروقت اور مکمل طور پر آگاہ رہ سکوں۔

4- میرے حلقہ میں موجود افراد کے لئے میرا سب سے بڑا تحفہ خود اعتمادی ہو گا۔ کسی بھی جائز کام میں میرے حلقہ کے عوام چوبیس گھنٹے میسر ہوں گا اور ایک فون کال پر کسی بھی مسئلہ کی صورت میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔

5- این اے 48 میں موجود دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور انکی ثقافتی انداز میں تجدید کر کے انہیں ماڈرن ولیج یا سی ڈی اے کے سیکٹرز کی ایکسٹینشنز کا درجہ دلوایا جائے گا۔

6- این اے 48 کے جن علاقوں میں سرکاری ڈسپینسریاں موجود نہیں وہاں پر جدید معیار کی 24/7 ڈسپینسریاں قائم کی جائیں گی جہاں کم از کم ہر وقت ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور باقی عملہ موجود ہو اور علاقہ مکینوں کو مفت طبی سہولیات مہیا کی جائیں۔ جن علاقوں میں پہلے سے ڈسپینسریاں موجود ہیں۔ ان کے معیار اور نظام کو نئی ڈسپینسریوں کے مطابق بنایا جائے گا۔

7- تمام سرکاری اسکولوں میں رات کی شفٹ میں مفت تعلیم ِ بالغاں کا احتمام کیا جائے گا تا کہ ان پڑھ اور کم تعلیم یافتہ افراد اپنی روزگار کی مصروفیات سے فراغت کے بعد اپنی تعلیم میں اضافے کو ممکن بنا سکیں۔

8- ملکی نظام میں میں بہتری، شفافیت اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے نظام میں ٹیکنالوجی شامل کرنے کی مفید تجاویز حکومت کو پیش کی جائیں گی۔

9- اسلام آباد میں موجود قدرتی خوبصورت مقامات جو کسی استعمال میں نہیں ہیں، ان کو تفریحی مقامات بنایا جائے گا۔ اور نوجوانوں کو ان کے شوق اور ذوق کے مطابق کھیلوں کی سہولت مہیا کی جائے گی جیسا کہ موٹرسائیکل اور کار ریسنگ کا مناسب انتظام۔

10- حکومتی وصائل اور بین الاقوامی فلاحی اداروں کے تعاون سے گداگروں کو تکنیکی کام سکھا کر کارآمد شہری بنایا جائے گا اور گداگری کا خاتمہ کیا جائے گا۔

11- تاجروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

12- پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لئے جدید کمپیوٹرائزڈ سیکیورٹی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

13- سب کے لئے یکساں اور معیاری نظامِ تعلیم رائج کرانے کیلئے کوشش کی اور جاری رکھی جائے گی۔

تعارف محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس قمر

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>