ترکی کے لئے ہندوستان ہی پہلی پسند کیوں؟

گزشتہ 16 اپریل کو ترکی میں صدارتی نظام کے ایشو پر کرائے گئے غیر معمولی ریفرنڈم میں دو فیصد ووٹ سے کامیابی کے محض 15 دنوں بعد 63 سالہ صدر رجب طیب اردگان کا ابھی حال میں دو روزہ سفر ہند پہلا غیر ملکی سرکاری دورہ تھا۔ اس موقع پرکسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری تھا کہ آخر ہندوستان ان کی ترجیحات میں سرفہرست کیوں رہا؟یہی وجہ تھی کہ یکم مئی کو نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر مختار احمد انصاری آڈیٹوریم میں صدر ترکی کو ڈاکٹریٹ آف لیٹرس کی دی گئی اعزازی ڈگری ،سپاس نامہ اور اس موقع پر کی گئی تقریر کو کور کرنے کے لئے جاتے وقت راقم الحروف کے ذہن میں مذکورہ بالا سوال کے نتیجے میں بے شمار حقائق گونجتے رہے۔ اردوگان کو شیخ الجامعہ طلعت احمد کی طرف سے پیش کئے گئے سپاس نامہ اور خود صدر ترکی کی تقریر کے متعدد نکات سے بھی مذکورہ سوال کے تعلق سے پیدا ہوئی تشنگی کو دور کرنے میں مدد ملی اور پھر یہ اندازہ ہوا کہ صدر ترکی کا یہ دورہ بروقت، ہندو ترکی روایتی تعلقات میں مزید گرمی پیدا کرنے، ایک دوسرے ملک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لئے ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ ہندوستان اورترکی اس وقت دنیا کی ابھرتی ہوئی دو اقتصادی قوت ہیں۔ان دونوں ممالک میں تاریخی، تمدنی، تہذیبی اور لسانی طور پر جو مماثلت ہے، اس کے تناظر میں ان دونوں کا ایک دوسرے سے مختلف شعبوںمیں مزید قریب ہونا ضرورت بھی ہے اور وقت کا تقاضہ بھی۔یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی میں صدر ترکی رجب طیب اردوگان اور وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے اس نکتہ پر پوری گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔
اردوگان کا یہ ہندوستان کا دوسرا دورہ تھا۔ پہلی بار یہ 2008 میں یہاں اس وقت آئے تھے ،جب یہ ترکی کے وزیر اعظم تھے اور ہندوستان میں ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے۔ اس بار ان کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب یہ پارلیمانی نظام کے تحت صدر ہیں اور ترکی صدارتی نظام میں تبدیل ہونے کے لئے انگڑائی لینے ہی والا ہے۔ یعنی وہ وقت جب ترکی کے یہ سب سے طاقتور حکمراں بن جائیںگے اور پہلے کی طرح سربراہ مملکت کے سرپر فوج سوار نہیں ہوگی۔ ان سب باتوں کے باوجود رجب طیب اردوگان کو ماہر اقتصادیات کے طور پر ہمیشہ یہ فکر رہتی ہے کہ کس طرح ترکی کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جائے۔ ان کی مستقل کوشش کا نتیجہ ہی تو ہے کہ کل کا ’مرد بیمار یوروپ‘ آج دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت بنتا جارہا ہے۔ ان کو یہ فکر فطری ہوگی کہ وہ ریفرنڈم میں صرف دو فیصد ووٹ سے اپنے ایجنڈے میں کامیاب ہوئے ہیں۔لہٰذا انہیں ترکی کی معیشت مزید مستحکم کرنا ہے، غربت کا خاتمہ کرنا ہے اور بے روزگاری دور کرنی ہے تاکہ یہ باقی 49 فیصد افراد کو بھی اعتماد میں اپنے مثبت کام کے سبب لاسکیں۔ ان کے لئے ترک کردوں کی علاحدگی پسندی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اسے حل کرنے کے لئے انہیں ان ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پڑے گی جو دوستی نبھانے کے نام پر اپنے مفاد کا کھیل نہیں کھیلتے ہیں۔
ترکی کے لئے ہندوستان سے تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرنا فطری ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدر ترکی نے اپنے دورۂ ہند کے دوران ہندوستان کی اقوام متحدہ سلامی کونسل اور نیو کلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی ) میں رکنیت اور دہشت گردی کو ختم کرنے میں حمایت کا اعلان کیا۔ دہشت گردی کے حوالے سے اردوگان نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی ہندوستان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ دہشت گرد خون بہا رہے ہیں، وہ اسی میں ڈوب مریںگے‘‘۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ مسئلہ کشمیر پر وہ اپنے پرانے موقف پر جمے رہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کثیر الجہتی کوشش سے نکالا جانا چاہئے، جبکہ ہندوستان جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ مانتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
ترکی کے بارے میں یہ مان کرچلنا چاہئے کہ ترکی یوروپ اور جاپان سے ایک سو سالہ معاہدہ ’لوزانّے ٹریئٹی ‘ کے 2023 میں ختم ہونے کے بعد مکمل طور پر بہت سی پابندیوں سے آزاد ہوجائے گا اور یہ وقت ہوگا جب اردوگان صدارتی نظام کے تحت ترکی کے طاقتور ترین حکمراں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار 2023 میں بڑی اور انقلابی تبدیلی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ترکی نے یوروپی یونین میں شمولیت کی بہت کوشش کرلی۔اسی درمیان یوروپی یونین کی اہمیت بھی کم ہوتی گئی۔ بریکزیٹ کے بعد فریکزیٹ کے اندیشوں نے ترکی کی یوروپی یونین میں شمولیت کی دلچسپی اگر ختم نہیں کی تو کم ضرور کردی ہوگی۔ اب ترکی یہ دیکھتا ہے کہ جن ممالک کو وہ سامان ایکسپورٹ یا امپورٹ کرتا ہے، ان میں زیادہ تر وہ ممالک ہیں جن کی معیشتی حالت اچھی نہیں ہے اور ان سے ترکی کے تعلقات بھی بہت اچھے نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی 9.3 فیصد جرمنی، 7.3 فیصد برطانیہ، 4.8 فیصد اٹلی ، 4.5 فیصد امریکہ، 4.1 فیصد فرانس اور 5.9 فیصد عراق کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔ بریکزیٹ کا اثر برطانیہ کی معیشت پر پڑنا لازمی ہے ۔ اس صورت میں ترکی کی اس تجارت پر بھی اثر پڑے گا ہی، اٹلی کی بھی معیشتی حالت اچھی نہیں ہے۔ اس پر خام ملکی پیداوار کا 130 فیصد قرض ہے۔ امریکہ جس طرح کے تیور میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد دکھائی پڑ رہا ہے، اس سے ترکی کی مایوسی یقینی ہے۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ شام کے معاملے میں دونوں ملکوں کا موقف تقریبا ًایک ہی ہے۔ یوروپ کا ایک اور اہم ملک فرانس ہے جہاں ایک اہم صدارتی امیدوار ایمانوئیل میکروں نے فریکزیٹ کی بات چھیڑ کر اس اندیشے کو تقویت پہنچائی ہے کہ فرانس بھی آج نہ کل یوروپی یونین سے علاحدہ ہوجائے گا۔ جہاں تک عراق کا معاملہ ہے، وہاں آج بھی امن قائم نہیں ہے۔ اس کے شمالی حصہ کے کردوں کی ترک کردوں سے ساز باز کی بات ترکی کرتا رہا ہے۔ اس صورت میں عراق اس کا اچھا تجارتی پارٹنر نہیں بن سکتا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس لحاظ سے ترکی ان ممالک سے تجارتی تعلقات رکھنا چاہئے گا یا بڑھانا چاہے گا جو کہ ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت ہیں اور جن سے ترکی کے اچھے روابط رہے ہیں۔ دراصل اس تناظر میں ہندوستان ترکی کے لئے سب سے اہم ملک بن جاتا ہے۔ عیاں رہے کہ 2015 میں ہندوستان اور ترکی کے بیچ 6.26 ارب امریکی ڈالر کی تجارت ہوئی تھی۔ اب 2020 کا نشانہ 10ارب امریکی ڈالر کا ہے۔ اردوگان کے دورہ سے جو ماحول بنا ہے، اس سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ ایسا عین ممکن ہے۔ترکی میں 150 ہندوستانی کمپنیوں نے سرمایہ لگا رکھا ہے۔ فکی و دیگر تنظیموں کی طرف سے تاج پیلیس ہوٹل میں صدر ترکی اردوگان اور وزیر اعظم مودی نے ترک تاجروں، سرمایہ کاروں اور ترک چیمبر آف کامرس اور ماہرین اقتصادیات کے ساتھ ہندوستانی تاجروں ، سرمایہ کاروں، انڈین چیمبر آف کامرس اور ہندوستانی ماہرین اقتصادیات کی موجودگی میں جو اظہار خیال کئے ، وہ بہت ہی خوش آئند اور امید افزا ہیں۔ ماہر اقتصادیات اور معروف تھینک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد مظور عالم کے الفاظ میں ترکی اور ہندوستان دونوں کے رہنمائوں کی اس موقع پر پُر اعتماد تقریروں اور عزائم سے ہندو ترکی تجارتی تعلقات کے مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو موجودہ 21 ویں صدی میں ہندو ترکی دونوں کو عالمی اقتصادی قوت کے طور پرابھرنے سے کوئی روک نہیں سکتا ہے۔ ان حالات میں جہاں یہ امید بڑھتی ہے کہ مزید ہندوستانی کمپنیاں سرمایہ لگانے میں ترکی کا رُخ کریں گی،وہیں ترک کمپنیاں بھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی طرف بڑھیں گی۔
تاج پیلیس میں اس قت خاص جوش دیکھا گیا جب نریندر مودی نے ترک سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لئے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ حکومت نئے ہندوستان کی تعمیر میں مصروف ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہکاروں کے لئے یہ بے حد اچھا موقع ہے، بالخصوص ترکی کی تعمیراتی کمپنیوں کو یہاں سرمایہ لگانا چاہئے، کیونکہ دنیا بھر میں ان کا نام ہے اور ہندوستان میں اس صنعت کے لئے کافی امکانات ہیں‘‘۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان سے سینکڑوں برس کے روایتی روابط اور تعلقات اور اس کے اقتصادی قوت کے طور پر ابھرنے کے امکانات ترکی کے ہندوستان میں دلچسپی کے محرک ہیں اور اسلحاظ سے ہندوستان اس کی پہلی پسند بن جاتا ہے۔
صدیوں پرانے ہیں ہندو ترکی تعلقات
ہندوستان اور ترکی صدیوں سے ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ تہذیب و تمدن ، فن و ثقافت،زبان و ادب، کھان پان اور لباس کے معاملے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر زبردست اثر ڈالا ہے۔ چونکئے نہیں، ہندوستان کی شیریں زبان اردو کا نام بھی ترک لفظ ’اوردو ‘ (Ordu)سے مستعار ہے۔ معروف کام نویس خاور حسن کے مطابق تقریباً 9 ہزار الفاظ ترک اور ہندوستانی زبانوں میں مشترک ہیں۔ خاور حسن کی یہ تحقیق بہت ہی دلچسپ ہے کہ ’سیخ کباب ‘ترکوں کا ہی تحفہ ہے۔ ترکی میں اسے ’وشیش کباب ‘کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح ’’ پلائو ‘ بھی ترکوں نے ہی ہندوستانیوں کو بنانااور کھانا سکھایا ہے۔ ہندوستان میں ’ترکی ٹوپی ‘ بہت ہی مشہور ہے۔
ہندوستان کی ترکی میں کشش کا سبب
63سالہ رجب طیب اردوگان ماہر اقتصادیات ہیں۔ انہوں نے ترکی کو اقتصادی طور پر جس طرح مستحکم اور مضبوط کیا، دراصل اس نے بھی ہندوستان کو اس کی جانب متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تبھی تو اردوگان اور مودی دونوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ترکی اور ہندوستان دونوں عالمی اقتصادی مندی سے متاثر نہیں ہوئے اور اسی لئے ان دونوں ممالک کی معیشت مضبوط ہے۔ لہٰذا یہ جاننا بروقت ہوگا کہ ترکی کس طرح اقتصادی طور پر مضبوط ملک بنا؟
طیب اردوگان اپنی طالبعلمی کے دور ہی میں پروفیسر نجم الدین اربکان کی اسلام پسند تحریک ملی سلامت پارٹی جوائن کرلیا تھا۔ 1994 میں اس کے ٹکٹ پر استنبول کے میئر بنے۔ ان کی محنت،لگن اور زبردست خدمات کے سبب عوام میں ان کی بے پناہ مقبولیت ہوگئی۔انہوں نے میئر کے طور پر ایسی حکمت عملی تیار کی کہ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر استنبول شہر پر جو 2 ارب ڈالر کا قرضہ تھا، وہ ختم ہوا اور مزید 4 ارب ڈالر شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے فراہم کئے۔ 1996 میں استنبول کے ہر گھر میں شفاف اور میٹھا پانی پہنچانے کے لئے سینکڑوں کلو میٹر لمبی پائپ لائنیں بچھوائیں۔اپنے عوام کو کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لئے دنیا کی بڑی ری سائیکلنگ سہولت میسر کرائی۔ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے گیس سے چلنے والی بس سروس کا آغاز کیا ۔ٹریفک جام کا مسئلہ حل کرنے کے لئے صرف استنبول میں 50 کے قریب فلائی اوور بنوائے، نئی شاہراہوں کا جال بچھایا اور اپنی محنت اور حکمت عملی سے استنبول جیسے گندے شہر کو دنیا کے خوبصورت شہروں کے مد مقابل لاکھڑا کیا۔ ان کے دور اقتدار میں ترکی میں معاشرتی جرائم کی شرح بہت کم ہوئی۔ لوٹ کھسوٹ اور رشوت ستانی کرنے والوں کو بلا تفریق کڑی سزائیں ملیں۔ انہوں نے 2001 میں ملی سلامت پارٹی کے پروفیسر اربکان کا ساتھ چھوڑ کر جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ( اے کے پی ) بنائی اور اس کے دستور میں اعلان کیا کہ ’’ ہم جمہوری نظام کو تحفظ دیں گے۔چونکہ ملک کے شہریوں کی واضح اکثریت 99فیصد مسلمانوں کی ہے، اس لئے جمہوری اصولوں کے مطابق اپنی پالیسیوںمیں اکثریت اور اقلیت کی مذہبی آزادی کاخیال رکھیں گے۔ 2001 میں ترکی کو اقتصادی حوالے سے تقریباً دیوالیہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ اردوگان کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا۔ لہٰذا دیوالیہ پن کے خاتمہ اور ملک کے اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے اردوگان نے منصوبہ بندی کی۔10 برس کی محنت کے سبب بالآخر 2011 میں وہی ترکی معاشی استحکام کے حوالے سے دنیا میں اولین ممالک کی صف میں آگیا۔یہ افراط زر کی شرح میں کمی لائے اور صحت اور تعلیم کے مردہ ڈھانچوں میں جان پھونکی ۔بلا سودی قرض کی اسکیم جاری کی۔ اس طرح بہت کم مدت میں ترکی معاشی طور پر مستحکم ہونے لگا۔ 2002 میں ترکی آئی ایم ایف کا 124 ارب ڈالر مقروض تھا لیکن اب ترکی نہ صرف یہ قرضہ اتار چکا ہے بلکہ بقول اردوگان اس کی معیشت اب اتنی مستحکم ہوچکی ہے کہ اب وہ آئی ایم ایف سمیت مختلف اداروں اور ممالک کو قرض دے سکتا ہے۔ اسی طرح 2002 میں ترکی کے زر مبادلہ کے ذخائر 25ارب ڈالر تھے جو اب ایک کھرب 35ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔جب اردو گان اقتدار میں آئے تھے تب ترکی میں 26 ہوائی اڈے تھے جو اب 50 ہوچکے ہیں۔2002 میں ترکی میں تعلیم پر 5.7 ملین لیرا خرچ کیا جاتا تھا جو اب بڑھ کر 36 ملین لیرا سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ 2002 میں ترکی میں صرف 88 یونیورسٹیاں تھیں جن کی تعداداب 200 کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ 2002 میں 222 لیرا کے عوض ایک ڈالر ملتا تھا جبکہ آج کل ایک ڈالر کی قیمت 75.2 لیرا کے برابر ہے۔اردو گان نے ملک کی خارجہ پالیسی کو بہتر بنانے کی زبردست کوششیں کیں۔آرمینیا سے تاریخی دشمنی ختم کرکے صلح کی۔ یونان، مصر اور عراق سے تعلقات مضبوط کئے۔ عرب ممالک سے ویزے کی شرط ختم کی۔اس وقت 76ملکوں میں ترکی کے لئے ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح داخلی اور خارجی تمام امور میں ترکی اردوگان کی قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

تعارف وسیم راشد

اردو دنیا اور اردو صحافت میں وسیم راشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی وسیم راشد کو نہ صرف 20سالہ درس وتدریس کا تجربہ ہے بلکہ تقریباً اتنے ہی سال سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں ۔اپنے اس طویل صحافتی سفر میں انہوں نے بے شمار پروگرام ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئے اور لاتعداد سیاسی ، سماجی ، ادبی شخصیات کے انٹر ویوز کئے ہیں۔اس دوران ملک کے اہم اردو اخبارات ، رسائل اور مختلف جرائد کے لئے آپ کے آرٹکلس بھی برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ادب اور سیاست پر آپ کی گہری نظر ہے۔ اپنے تدریسی سفر میں جب کہ آپ ایک سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہی صحافت کو بھی اپنے کیریئر کاحصہ بنایا ۔ اب تک بے شمار قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرچکی ہیں ۔ کئی سال تک راشٹریہ سہارا اردو اخبارکی ایڈیٹوریل ٹیم سے بھی منسلک رہی ہیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>