تلاش ہے مسلم قیادت کو نئی سیاسی حکمت عملی کی

damiایک ایسے وقت جب اترپردیش کے غیر متوقع انتخابی نتائج کے بعد ریاست کی تقریباً 20 فیصد مسلم آبادی سیاسی طور پر غیر متعلق یا ارّیلوینٹ بن گئی ہے، مسلم کمیونٹی کی سیاسی قیادتیں کنفیوژن کی شکار محسوس ہوتی ہیں۔ نیز ان میں زبردست طور پر عدم اتحاد بھی پایا جاتاہے۔ لہٰذا مسلم کمیونٹی کو تلاش ہے کہ کسی نئی ٹھوس حکمت عملی کی۔
اس کا اندازہ گزشتہ 29مارچ کو اترپردیش کے انتخابی نتائج کے تناظر میں 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے لئے روڈ میپ تیار کرنے اور مسلمانوں میں اخلاقی ہمت افزائی کے مقصد سے مسلم تنظیموں ، اداروں اور شخصیات کی وفاقی تنظیم سمجھی جانے والی 53سالہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مشاورتی میٹنگ یا چنتن بیٹھک میں تفصیلی تبادلہ خیال کو سن کر ہوا ۔اس چنتن بیٹھک میںشرکاء کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کرسکے اور پھر جولائی کے پہلے ہفتہ میں ایک اور بڑی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چار گھنٹے کی اس اہم و غیرمعمولی میٹنگ میں تین سیاسی پارٹیوں کے 5 مسلم ارکان پارلیمنٹ، 4 مسلم سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران اور ایک معروف دینی تنظیم کے نمائندہ و دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شرکاء کی تفصیلات دیکھ کر یہ بھی محسوس ہوا کہ قیادت کی صف میں عدم اتحاد اور اختلاف زبردست طور پر پایا جاتاہے۔ مشاورت کے اندرونی ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کل 26 شخصیات بشمول 15 مسلم ارکان پارلیمنٹ مدعو کئے گئے تھے۔ مشاورت کا یہ الزام ہے کہ ان ارکان پارلیمنٹ کو بعض دیگر مسلم تنظیموں اور شخصیات کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کرنے سے روکنے کی بھی کوشش کی گئی اور ان میں سے کچھ اس لئے وہاں نہیں پہنچے۔
اس اہم میٹنگ میں تبادلہ خیال کے دوران مسلمانوں کے سیاسی امپاورمنٹ کے تعلق سے دو طرح کی سوچ سامنے آئی۔ ایک سوچ یہ ہے کہ غیر بی جے پی سیاسی پارٹیوں کی صف میں اتفاق و اتحاد اور استحکام پیدا کرتے ہوئے سیاسی طور پر حکمت عملی بنائی جائے جبکہ دوسری سوچ مسلم کمیونٹی کے ذریعے سیاست کو اپنے ہاتھ میں لینے یعنی قومی سطح پر مسلمانوں کی اپنی پارٹی کے ذریعے سیاست کرنے کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ غیر بی جے پی پارٹیوں کے حق میں ان پارٹیوں کے مسلم نمائندے ہیں جبکہ مسلمانوں کی اپنی پارٹی کی وکالت مسلم پارٹیوں کے قائدین کررہے ہیں۔آئیے ایک نمونہ یا سیمپل کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ ان سوچ گروپس کے دلائل کیا کیا ہیں؟
اس جنتن بیٹھک میں عام سیاسی پارٹیوں میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے 4 ارکان پارلیمنٹ بشمول 2 کانگریس اور 2 ترنمول کانگریس کے لیڈران تھے۔ کانگریس کے معروف مسلم لیڈر کے رحمن خاں جو کہ مرکز میں برسرقتدار یو پی اے حکومت کے وزیر برائے اقلیتی امور رہ چکے ہیں، کا خیال ہے کہ تقسیم وطن کے وقت ہندوستان میں بچے ہوئے مسلمانوں کے لئے کوئی سیاسی حکمت عملی نہیں بنائی گئی جبکہ جمہوریت میں سیاست کے بغیر کسی قوم کا کوئی مقام نہیں ہوتا ہے۔ مولانا آزاد کی ایسی بڑی اور مؤثر شخصیت تھی کہ اگر وہ اس سلسلے میں سوچتے اور اقدام کرتے تو کچھ ہوسکتا تھا اور مسلمانوں کی اپنی سیاسی حکمت عملی بن سکتی تھی، مگر یہ اس وقت نہیں ہوا ۔جماعت اسلامی ہند کے اندر تنظیمیت تھی مگر یہ بہت دنوں تک سیاست سے دور رہی۔ بہر حال حکمت عملی بنانے کی اب بھی ضرورت تو ہے ہی۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس ملک کے 20کروڑ مسلمان ابھی تک اپنی ترجیحات طے نہیں کرسکے ۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ مسلم پرسنل لاء ، بابری مسجد، تعلیمی پسماندگی یا معاشی بدحالی میں ان کی ترجیحات کیا ہونی چاہئے اور انہیں کون طے کرے گا؟ہم لوگ 20 برس سے مسلم ارکان پارلیمنٹ کو جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہنوز ناکام ہیں جبکہ مسلمانوں کی طرح پسماندگی کے شکار دلتوں کے ارکان پارلیمنٹ خواہ وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، کسی نہ کسی فورم کے تحت دلتوں کے مفاد کے پیش نظر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے شروع سے سیاسی آبجیکٹیو نہیں بنایا ۔ہمارا مزاج یہ ہے کہ ہم انفرادی زیادہ ہیں، اجتماعی نہیں ہیں۔ ہمارے ہر لیڈر میں انا ہے۔ قربانی کا جذبہ آر ایس ایس کی طرح نہیں ہے جس نے اپنے آبجیکٹیو کے پیش نظر تقسیم وطن اور آئین دونوں کو قبول نہیں کیا کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ لہٰذا پاکستان میں مسلمانوں کی حکومت بنتی ہے تو یہاں ہندوئوں کی حکومت ہونی چاہئے۔
کے رحمن خاں کے نزدیک فی الحال غیر بی جے پی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کوئی واضح حکمت عملی بننی چاہئے اور ترجیحات طے ہونی چاہئے۔ ہماری سب سے پہلی ترجیح آئین کا تحفظ ہونا چاہئے اور اس کے لئے ان پارٹیوں اور لوگوں کا ساتھ دینا چاہئے جو اسے بچا سکتے ہیں۔کیونکہ آئین کو بدلنے کی کوشش مستقل چل رہی ہے۔واجپئی کی این ڈی اے حکومت کے وقت بھی آئین ریویو کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ آئین کا تحفظ ہے،سیکولرزم، مسلم پرسنل لاء اور بابری مسجد،یہ سب اس کے بعد کے مسائل ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم ارکان پارلیمنٹ میں بیشتر مسلم عائلی و دیگر ایشوز سے واقف نہیں ہیں۔ لہٰذا انہیں اس سلسلے میں واقف کرایا جانا چاہئے۔
کانگریس ہی کے رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی جو کہ حکومت مہاراشٹر میں لیبر اور وقف کے وزیر رہ چکے ہیں اور مسلم ایم پی فورم کے کنوینر ہیں، کا بھی خیال کم و بیش کے رحمن خاں جیسا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے حالات کا صحیح تجزیہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ واجپئی کی نہیں بلکہ فاشسزم کی سرکار ہے۔وہ کہتے ہیں کہ’’ میں تو ایک کانگریسی مسلمان ہوں۔ہم اگر صرف مسلمان ،مسلمان کرتے رہیں گے تو کام نہیں چلے گا۔ہندوستان جیسے ملک میں کوئی مسلم سیاسی پارٹی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ہمیں عام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اپنی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ سچر کمیٹی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مسئلہ یہ ہے کہ سچر کمیٹی پر عمل ہوا اور اس کا فائدہ بھی مسلمانوں کو مل رہا ہے۔‘‘ بعد میں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ فائدے کیا ہیں تو انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
اسی طرح ترنمول کانگریس کی بردھمان (مغربی بنگال) سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ممتاز سنگھا میتا اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ مسلمانوں کو سیاسی پارٹیاں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی ہیں مگر اس کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی میں پناہ تلاش کریں کیونکہ اس سے غیر مسلم ووٹوں کا پولرائزیشن ہوگا جو کہ ملک اور مسلمانوں کے حق میں نہیں ہوگا۔وہ کہتی ہیں کہ مسلمان اپنی کمیونٹی کے ایشوز خصوصاً تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔نیز عمومی و اقلیتوں کے لئے سرکاری اسکیموں سے ناواقف ہیں جس کے سبب ان سے خود کو امپاور کرنے کے لئے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں، لہٰذا اس جانب توجہ کی سخت ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں اگر یہ کمیونٹی تعلیمی اور معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو سیکولر پارٹیاں انہیں محض ووٹ بینک نہیں سمجھیں گی اور انہیں اہمیت دیں گی اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لیں گی۔
ترنمول کانگریس کے ہی رکن پارلیمنٹ ادریس علی ایڈووکیٹ کا بھی خیا ل یہی ہے کہ مسلمانوں کی الگ پارٹی کے بارے میں سوچنا تو مشکل بات ہے لیکن ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اپنی صف میں اتحاد پیدا کریں اور پھر سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مل کر سیاسی طور پر قدم آگے بڑھائیں ۔
عام سیاسی پارٹیوں کے برعکس مسلم سیاسی پارٹی کے حق میں جو لوگ رائے رکھتے ہیں ، ان کی ترجمانی انڈین یونین مسلم لیگ، انڈین نیشنل لیگ، پیس پارٹی آف انڈیا ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف ) ، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا،مسلم مجلس یو پی اور راشٹریہ علماء کونسل جیسی مسلم پارٹیوں سے ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں پونّانی (کیرل ) پارلیمانی حلقہ سے 69سالہ رکن پارلیمنٹ ای ٹی محمد بشیر جو کہ سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ کے تعلق سے پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی اور پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں، واضح طور پر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی خصوصی سیاسی پارٹی بالکل ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں انڈین یونین مسلم لیگ زندہ جاوید مثال ہے۔ انہوں نے ’’چوتھی دنیا ‘‘ سے اپنی بات کی وضاحت میں یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ آج ایک ایسی سیاسی حقیقت ہے جس سے انکار کیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ تبھی تو کیرل کی ریاستی سیاست میں اس کے بغیر مسلم سیاست کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ نیز ریاست میں ماضی میں کبھی ایل ڈی ایف تو کبھی یو ڈی ایف اس کے ساتھ مل کر حکومت بناتی رہی ہے۔یہ کسی کے پاس نہیں جاتی ہے بلکہ عام سیاسی پارٹیاں یا فرنٹ اس کے پاس آتے ہیں۔نیز اس کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مرکز میں دس سال کانگریس قیادت والی یو پی اے سرکار میں بھی یہ شامل تھی اور مرحوم ای احمد وزیر مملکت تھے۔ جہاں تک ای ٹی محمد بشیر کے اس دعویٰ کا تعلق ہے تو ریاست کیرل کی حد تک آئی یو ایم ایل کی ایک مضبوط سیاسی قوت ہونے کی بات صحیح ہے مگر اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ مسلم پارٹی اس ریاست سے باہر اپنا حلقہ اثر نہیں بڑھا سکی۔ ماضی میں مہاراشٹر، تمل ناڈو، کرناٹک،مغربی بنگال ، بہار اور دہلی میں اس نے بہت ہاتھ پائوں مارے مگر اس کی کوششیں با ر آور نہیں ہوئیں۔
2006میں قائم پیس پارٹی آف انڈیا کے بانی اور چیئرپرسن ڈاکٹر محمد ایوب آئی یو ایم ایل لیڈر ای ٹی محمد بشیر سے اتفاق رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے امیدوار کو 2010 میں ڈومریا گنج اور لکھیم پور حلقوں کے ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس سے بھی زیادہ ووٹ ملے تھے اور 2012 میںپیس پارٹی کے چار امیدوار اسمبلی میں منتخب ہوکر پہنچ گئے تھے مگر یہ الگ بات ہے کہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں سیکولر کہلانے والی پارٹیوں خصوصاً ایس پی اور بی ایس پی میں مسلم ووٹ کی تقسیم سے اس کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا اور وہ خود بھی انتخاب ہار گئے۔
ڈاکٹر محمد ایوب صاف طور پر کہتے ہیں کہ ہمیں دوسری پارٹیوں بشمول ایس پی اور بی ایس پی جو کہ یادوئوں اور دلتوں کے مفادات ہی دیکھتی ہیں ،کی فکر کرنے کے بجائے اپنے اوپر مرکوز ہونا چاہئے اور اپنی سیاست کرنی چاہئے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اپنی سیاست اور حکومت میں حصہ داری کے بجائے دوسری پارٹیوں کے پیچھے چلتے رہے۔ ہمیں اس حکمت عملی کو بدلنا پڑے گا۔ ویسے یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اگر ایس پی اور بی ایس پی میں سمجھوتہ ہوا ہوتا تو 2017 کے انتخابا ت میں نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ ڈاکٹر ایوب کو یہ بھی شکایت ہے کہ اللہ اور رسول کی اہمیت کو سمجھنے والے مسلمان نے اپنے ووٹ کی اہمیت کو نہیں سمجھا جبکہ دوسری کمیونیٹیوں نے اسے خوب سمجھا۔ ان کے مطابق 70 برس کے تجربات نے مسلمانوں کو بتادیا ہے کہ عام سیاسی پاپرٹیوں کے یہاں ان کے مسائل کا حل نہیں ہے اور انہیں الگ الگ ریاستوں یا علاقوں میں موجود مسلم سیاسی پارٹیوں کو مضبوط و مستحکم کرکے ان سبھی کا ایک سیاسی وفاق بنانا پڑے گا۔ ان کے خیال میں یہ وفاق مسلم مفادات کے پیش نظر ان تمام مسلم سیاسی پارٹیوں کو جوڑ کر رکھے گا اور پھر مشترکہ طور پر انتخابات کے وقت کسی ایک پارٹی کے حق میں مسلم ووٹ کا فیصلہ کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں مسلم سیاسی پارٹیاں موجود نہیں ہوں گی، وہاں کسی ایک عام سیاسی پارٹی خواہ وہ کانگریس ہو یا ایس پی یا بی ایس پی یا کوئی اور، ان میں سے کسی ایک کے حق میں مسلمانوں کو ووٹ دینے کے لئے کہے گا۔
ڈاکٹر ایوب پسماندگی دور کرنے کے لئے مسلمانوں کے عمومی امپاورمنٹ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں مگر ان کا یہ بھی صاف طور پر کہنا ہے کہ تعلیمی، فلاحی یا معاشی مسائل کی جانب توجہ دینا ضروری ہے مگر صرف انہی پر توجہ دینے سے سیاسی ضرورت پوری نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کا سیاسی امپاورمنٹ تبھی ہوگا جب اس جانب خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انڈین یونین مسلم لیگ سے بابری مسجد ایشو پر اختلاف کرکے نکلنے کے بعد مرحوم ابراہیم سلیمان سیٹھ کی 1994 میں قائم کردہ انڈین نیشنل لیگ کے قومی صدر پروفیسر محمد سلیمان بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں مسلمانوں کی سیاست کے حق میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ غیر بی جے پی پارٹیاں ہمارا استحصال کرتی ہیں اور ہمارے ووٹ لیتے وقت ہمیں ’’ کنگ میکر ‘‘ تک بنا کر پیش کردیتی ہیں مگر جیتنے کے بعد ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کرتی ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اپنی سیاسی پارٹی کے ذریعے ہی سیاست کرنی پڑے گی اور یہ کیسے ہو، کس طرح ہو، یہ سب مل بیٹھ کر طے کرنے کی بات ہے۔ ویسے ان کی نظر میں مسلمانوں کی پارٹیوں کی مختلف ریاستوں میں موجودگی کے باوجود انہیں دیگر عام سیاسی پارٹیوں کو ان حلقوں میں جہاں مسلمان 15فیصد سے کم آبادی میں ہیں، ووٹ دیتے وقت کسی ایک غیر بی جے پی پارٹی پر متفق ہونا ہوگا۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ایک ایسی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے جو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ کمزور طبقات کے مفادات کا بھی خیال رکھتی ہو اور اسی غرض سے چند برس قبل ویلفیئر پارٹی قائم کی گئی تھی۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کی مخصوص پارٹی کا قبول کیا جانا اور کامیاب ہونا مشکل ہے اور یہ مناسب بھی نہیں ہے۔لہٰذا ایسے سیاسی تجربہ کی ضرورت ہے جس میں ایک تعمیری اور صحت مندی کے ساتھ ساتھ آبجیکٹیویٹی بھی ہو۔
قومی راجدھانی میں ہوئی اس چنتن بیٹھک میں کانگریس سے وابستہ دہلی کی مشہور شخصیت چودھری متین احمد، لکھنو کے سبکدوش آئی اے ایس آفیسر اور سماجی کارکن انیس انصاری و دیگر افراد کی بھی آراء سامنے آئیں۔ زیادہ تر افراد عام سیکولر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر چلنے اور مسلمانوں کی اپنی سیاسی پارٹی کے ذریعے سیاست کرنے کے ارد گرد رہے۔ البتہ انیس انصاری کا یہ اظہار خیال رہا کہ مسلمانوں کو اپنا ایجنڈا بناتے ہوئے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں بشمول بی جے پی میں داخل ہوکر اپنا وجود بنانا چاہئے اور اس کام کے لئے ان کے پاس اپنا کوئی سیاسی فورم بھی ضرور رہے۔ ویسے ان کا اس بات پر زور تھا کہ صوفزم (تصوف ) اور بھکتی موومنٹ ملک میں قومی ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتاہے۔لہٰذا مسلمانوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہئے۔
مشاورت کی اس نشست میں صدر مشاورت نوید حامد، نائب صدر مولانااصغر علی امام مہدی سلفی مدنی جو کہ ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند بھی ہیں، جنرل سکریٹری مجتبیٰ فاروق اور جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری برائے ملکی و ملی مسائل محمد احمد بھی موجود تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کنفیوژن کی شکار مسلم سیاسی قیادتوں کا اونٹ آئندہ کس نشست میں کسی کروٹ بیٹھتا بھی ہے یا نہیں ؟ ویسے اس نشست میں ملت کی دیگر اہم تنظیموں اور مکاتب فکر کی نمائندگی نہیں تھی جن میں جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑے اور آل انڈیا ملی کونسل قابل ذکر ہیں۔ شیعہ اور بوہرا برادریوں کے بھی نمائندے نہیں تھے۔
قابل ذکر ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابی نتائج کے بعد ملک کے متعدد ریاستوں میں مسلمانوں کے درمیان گفت و شنید کا سلسلہ کم و بیش چل رہاہے۔ اس سلسلے میں بہار میں بھی ایک اہم نشست ہوئی ہے۔ (تفصیلات اسی شمارے میں دی جارہی ہیں)۔آئندہ 18اپریل کو ملی کونسل بھی نئی دہلی میں اپنی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اپنی 21سالہ پرانے ملی سیاسی فورم کی تجویز کے اعادہ پر غور کرنے جارہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کنفیوژن میں مبتلا سیاسی قیادت اسمبلی انتخابی نتائج کے جھٹکے سے فائدہ اٹھا کر اس بار کوئی حکمت عملی بنا پاتی ہے یا نہیں ؟اور بناتی ہے بھی ہے تو وہ کیا ہے؟

تعارف وسیم راشد

اردو دنیا اور اردو صحافت میں وسیم راشد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دہلی سے تعلق رکھنے والی وسیم راشد کو نہ صرف 20سالہ درس وتدریس کا تجربہ ہے بلکہ تقریباً اتنے ہی سال سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بھی وابستہ رہی ہیں ۔اپنے اس طویل صحافتی سفر میں انہوں نے بے شمار پروگرام ریڈیو اور ٹی وی کے لئے کئے اور لاتعداد سیاسی ، سماجی ، ادبی شخصیات کے انٹر ویوز کئے ہیں۔اس دوران ملک کے اہم اردو اخبارات ، رسائل اور مختلف جرائد کے لئے آپ کے آرٹکلس بھی برابر شائع ہوتے رہے ہیں ۔ادب اور سیاست پر آپ کی گہری نظر ہے۔ اپنے تدریسی سفر میں جب کہ آپ ایک سینئر سیکنڈری انگلش میڈیم اسکول کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہی صحافت کو بھی اپنے کیریئر کاحصہ بنایا ۔ اب تک بے شمار قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کرچکی ہیں ۔ کئی سال تک راشٹریہ سہارا اردو اخبارکی ایڈیٹوریل ٹیم سے بھی منسلک رہی ہیں۔

أضف تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *

يمكنك استخدام أكواد HTML والخصائص التالية: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>